کشمیر کے ایشو پر مسلم اُمہ کیوں بیدار نہیں ہو رہی؟

کشمیر کا ایشو جو اب عالمگیر ایشو بن چکا ہے اور جس پر پاکستان اپنے اُصولی موقف کے ساتھ پوری شد و مد کے ساتھ دُنیا کے ساتھ رابطوں میں مصروف ہے۔ اس ضمن میں پاکستان سلامتی کونسل میں بھی اپنا احتجاج ریکارڈ کروا چکا بلکہ دیگر عالمی فورمز پربھی کشمیر کے مسئلے کو اُجا…

Read more

خدارا اس قوم پر رحم کیجیئے

کسی بھی ملک کی ترقی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ملک میں تعلیم یافتہ افراد کی تعدادکتنی ہے۔ گریجویٹ کتنے ہیں، پروفیسرز کتنے ہیں، ڈاکٹرز کتنے ہیں، انجینئرز کتنے ہیں۔ اس ملک کی تعلیمی شرح کتنے فیصد ہے۔ ملک میں سرکاری سکولوں کی صورتھال کیسی ہے۔ اُن میں پڑھائی کا معیار کیسا ہے؟…

Read more

عوام کو احتجاج کا راستہ حکومت نے خود دکھایا ہے

لیجیے ملک میں موجودہ حکومت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ احتجاج کا موجودہ سلسلہ ایک دم ہی نہیں شروع ہوا بلکہ اس کے پیچھے عوام کا کم و بیش ایک سال کا صبر ہے جو حکومت کے دعوؤں، وعدو ں کے بعد اب یقینا لبریز ہو چکا ہے۔ اس کا سلسلہ…

Read more

پنچایتی نظام کو کیوں تسلیم نہیں کیا جاتا؟

پنچایتی نظام کا تصور نیا نہیں بلکہ اس کی تاریخ صدیوں پرانی ہے اور حیرت انگیز طور پر آج بھی دُنیا بھر میں یہ کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ آپ دُنیا کی جنگ و جدل کی تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں اُن کے فیصلے بھی بالآخر انسانوں کے باہم مل بیٹھنے سے ہی ہوئے۔ اگر ہم دُنیا کی دو عالمی جنگوں کا احاطہ کریں تو دیکھیں گے کہ دونوں عالمی جنگوں کا اختتام بھی دُنیا کے مل بیٹھنے اور ڈائیلاگ سے ہی ہوا۔ آپ یہ دیکھیں کہ گاؤں کی چوری سے لے کر دُنیا کے بڑے مسائل کے حل کے لئے بھی انسانوں کا مل بیٹھ کر فیصلہ کرنا ہی اہم ہوتا ہے اور اسی طرح انسانی مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ آپ چاہے اسے کوئی بھی نام دے دیں لیکن یہ تو طے ہے کہ انسانوں کی مشاورت کے بغیر دُنیا کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔

Read more

پہلا سالانہ جنوبی پنجاب ادبی میلہ

گزشتہ دنوں ملتان کے معروف ادیب شاکر حسین شاکر اور رضی الدین رضی نے ”کارنیلین“ کے زیر اہتما م 2۔ 3 مئی کو دو روزہ ”پہلا سالانہ جنوبی پنجاب ادبی میلہ“ کا انعقاد کیا۔ ادبی میلے کی انفرادیت یہ تھی کہ اس میں جنوبی پنجاب سے ہر مکتبہ فکر کو اپنا حصہ ڈالنے کا موقع…

Read more

پائیدار ترقی کے مقاصد 2030 کا حصول اور این جی اوز پر پابندی

کسی بھی معاشرے کی خوشحالی کے لئے ضروری ہے کہ اُس کے تمام شعبوں کو ساتھ لے کر چلا جائے تا کہ معاشرے کو یقینی طور پر خوشحال بنایا جا سکے۔ دُنیا کے اعلیٰ دماغ رکھنے والے پالیسی میکرز نے ترقی پذیر ممالک کو خوشحال بنانے کے لئے پائیدا ر ترقی کے مقاصد 2030 کے اہداف مقرر کیے ہیں جن کے مقصد 2030 ء کے تحت ترقی پذیر ملکوں کو ترقی یافتہ بنانے کے لئے عملی طور پر کام کرنا ہے تا کہ 2030 ء تک دُنیا کے ترقی پذیر ممالک بھی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہو سکیں۔

ان دیرپا مقاصد میں ”ہرطرح کی غربت کا خاتمہ، خوراک، سلامتی اور بہتر غذائیت کا حصول، دیرپا زراعت کا فروغ، صحت مند زندگی کو یقینی بنانا، ہر عمر کے ہر فرد کی فلاح کو فروغ دینا، سب کی شمولیت اور برابری پر مبنی معیاری تعلیم کو یقینی بنانا، برابری کی سطح پر سیکھنے کے مواقع کو فروغ دینا،

Read more

سیاسی جماعتوں کے درمیان مفاہمت ہی ملکی معاملات بہتر کر سکتی ہے

موجودہ حکومت کی حالیہ کارکردگی کو جہاں اپوزیشن ماننے کو تیار نہیں وہاں خود بھی ایسے بیانات اور عمل کرتی دکھائی دیتی ہے جس سے اُن پر کی گئی تنقید دُرست ہی لگتی ہے ۔ مثال کے طور پر یوٹرن پر حکومت کا بیان جس میں وزیر اعظم صاحب یوٹرن کو دُرست قرار دے رہے…

Read more

مزدورکے مسائل میں اضافہ کرنے کا ذمہ دار کون؟

جب سے موجودہ حکومت نے قیادت سنبھالی ہے لگتا ہے کہ عام آدمی کے مسائل میں قدرے اضافہ ہوا ہے بالخصو ص مزدور کے مسائل مزید بڑھے ہیں۔ اس حوالے سے جب مختلف شعبہ جات کے مزدوروں سے بات چیت کی گئی تو محسوس ہوا کہ ان کو نمایاں کرنے کی ضرورت ہے۔ راقم کو…

Read more

کیا اقلیتی نمائندے اسمبلیوں میں اپنی موجودگی کا احسا س دلا سکیں گے؟

اقلیتوں میں یہ سوال اب زیر بحث ہے کہ کیا موجودہ اسمبلیوں میں" سلیکٹ "ہو نے والے اقلیتی نمائندے کیا اپنی موجودگی کا احسا س دلا سکیں گے ؟کیا وہ اقلیتوں کے تحفظ کے لئے قانون سازی کروا سکیں گے ؟ کیا وہ اقلیتی کوٹے پر عملدرآمد کروا سکیں گے؟ کیا وہ مردم شماری میں…

Read more

اخلاقیات سے عاری عام انتخابات 2018ء

ایسا لگتا ہے الیکشن 2018ء، اخلاقیات سے عاری الیکشن ہیں، جیسے جیسے پولنگ ڈے قریب آرہا ہے، ویسے ہی سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں میں بھی تیزی دکھائی دینے لگی ہے؛ لیکن الیکشن کمپین کے دوران جو زبان استعمال کی جا رہی ہے، وہ کسی بھی لحاظ سے ایک مہذب معاشرے کی عکاسی نہیں کرتی۔ حکومت بنانے…

Read more