کیا کراچی اپنے شہریوں کے لئے ایک قبرستان بن چکا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک زمانہ تھا کراچی، دانشوروں، سیاستدانوں، سائنسدانوں، صحافیوں، پروفیسروں، شاعروں، اور ان جیسے ان گنت نگینوں کی تجوری تھا، تجوری کھولو ایک سے ایک نگینہ برآمد ہوتا تھا۔ چٹکی بجاتے ہی مسئلے ایسے حل ہوتے تھے جیسے مسئلہ نام کی کوئی چیز تھی ہی نہیں، پاکستان کے سب سے بڑے شہر کاہر سسٹم جدید اور فُل پروف تھا۔ پانی، بجلی، گیس، ٹیلی فون کا نظام قابلِ رشک تھا۔ کراچی سرکلر ریلوے نے پبلک ٹرانسپورٹ کے بوجھ کو کندھوں پر اُٹھا رکھا تھا، اُس وقت کی بیوروکریسی کا ایک معیار تھا پڑھے لکھے، محب وطن، ملنسار اور کواپریٹیو تھے۔

کراچی کے صلاحیتوں سے مالا مال شہریوں کوپاکستان اور غیر ممالک میں انتہائی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ کراچی کے ساحل کا شمار دُنیا کے شاندار ساحلوں میں ہوتا تھا۔ ان سچائیوں کا اعتراف ایک تقریب کے ڈائس پر کھڑے سابق بزرگ امریکی سفارت کار نے کیا، قابل ذکربات یہ تھی کہ کراچی کی موجودہ صورتحال سن کروہ ٹھنڈی آہیں بھی بھرتے رہے جس سے وہاں موجود ہر فرد کو اُن کے شدید دکھی ہونے کا اندازہ ہو رہا تھا۔

واقعی آج کراچی کی صورتحال انتہائی کربناک ہے جسے سُن کر انسانیت کادردمند دل رکھنے والا ہر شخص کراچی کے شہریوں کی مشکلات سے نجات کے لئے موت کی دعا ہی کرتا ہوگا۔ کراچی اب کراچی نہیں رہا لحد کراچی بن چکا ہے، روشنیوں کا شہر کہلانے والا کراچی پتھروں کی دُنیا کا کراچی نظر آرہا ہے، کیونکہ کراچی کے نام نہاد خدمت گاروں اورسیاست سے وابستہ سخت گیروپتھر دل خوفناک دیوتاوں نے اس شہر کو مسائل کی آماجگاہ بنا دیا ہے۔

انہی نا اہل خوفناک دیوتاوں نے کراچی والوں سے ووٹ لئے اور کراچی کو موت کی آماجگاہ میں تبدیل کردیا۔ کچھ عرصے قبل کراچی کو لسانی ومذہبی دہشت گردی اور کرمنل ایکٹیویٹی کا سامنا تھا اور اب معاشی دہشت گردی اور بد انتظامی کا سامنا ہے صورتحال بدلی نہیں ہے دونوں صورتوں میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا چلا آرہا ہے ایک مخصوص ٹولا یا طبقہ ہے جو مسلسل اس صورتحال کا فائدہ اُٹھا رہا ہے اور اکثریتی طبقے کو موت کی وادی کی جانب دھکیل رہا ہے۔

کے الیکٹرک کراچی میں ادارہ کے طورپر نہیں مافیا کے طور پر کام کررہا ہے جو صرف کراچی والوں کے لئے عذاب کی علامت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ کے الیکٹرک کے پاس جانے کون سی جادوگری ہے کہ ہر قسم کی ستم گری و نا اہلی کے باوجود اس کی باز پرسی تک نہیں کی جاتی، کراچی میں بیس میں سے سترہ افراد کی کرنٹ لگنے سے امواتیں بھی وفاقی و صوبائی حکومتوں کے اراکین کو کے الیکٹرک کے خلاف نہیں ہلا سکیں۔ وزیر بلدیات سعید غنی صاحب فرماتے ہیں کہ ”انسانی جانوں کا ضیاع کے الیکٹرک کی نا اہلی ہے لیکن ہم کے الیکٹرک کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے“

اس بیان میں وزیر بلدیات واضح طور پرکے الیکٹرک کی نا اہلی کے ساتھ ساتھ اپنی نا اہلی کا بھی اعتراف کر رہے ہیں اور اس بیان کا دوسرا اشارہ یہ بھی ہے کہ کراچی والے لاشیں اُٹھاتے رہیں ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ پھر اُن والدین کا کیا ہو جن کے بچے کرنٹ کے باعث کھمبوں سے چپک کر حمد و نعتیں پڑھتے ہوئے اس فانی دُنیا اور اپنے چاہنے والوں کو خیر باد کہہ گئے؟

ا فسوس ہے کہ ہم کراچی کو معاشی ہب کہتے نہیں تھکتے لیکن حیرا نگی ہے کہ کراچی کے پاس گندگی کی صفائی کے لئے ایک پیسہ نہیں ہے۔ حیرانگی ہے کہ کے الیکٹرک شہریوں کی جیبوں اور گریبانوں تک دسترس تو رکھتا ہے لیکن بجلی فراہم کرنے اور عوام کی جان کی حفاظت کی اہلیت نہیں رکھتا ہے مگر اس کے باوجود انتظامیہ کی آنکھ کا تارہ ہے، حیرانگی ہے کہ جب انتظامیہ سے سوال پوچھا جائے تو مسائل کے حل کے بجائے ایک دوسرے پر لامتناہی الزامات کا سلسلہ شروع کردیتے ہیں پھرفرسودہ فارمولے کے تحت بتایا اورجتایا جاتا ہے کہ ہم نے یہ قربانی دی ہے اور فلاں نے یہ چوری کی ہے اس طرح بے چارہ مسئلہ حالتِ بے چارگی میں دامن پھیلائے اپنے حل کے لئے دُہائی دیتا رہ جاتا ہے اور پھر کراچی کے لوگ اپنے زخم کھجاتے رہ جاتے ہیں۔ حیرانگی ہے کہ کراچی کے شہری اتناپوچھنے کا بھی حق نہیں رکھتے ہیں کہ جن کو انھوں نے اپناقیمتی ووٹ دے کر صدر، گورنر، میئر اور وزراء ہونے کا خطاب دلایا توکیا وہ بارش میں حلوہ پوری کھا کر شہریوں کے زخموں پر مرہم رکھ رہے تھے یا مسائل کا حل کھوج رہے تھے؟

کراچی کی نمائندہ تنظیم ایم کیو ایم لسانی اور فاشسٹ سیاست سے باہر نہیں نکل سکی اور اپنی ہی قوم کی تباہ حالی کا سامان کرتی رہی فاشسٹ ازم کا عروج انسانیت کا زوال ہوا کرتا ہے۔ گزشتہ پندرہ سال سے ہی نہیں بلکہ سقوط ڈھاکہ کے بعد سے نام نہاد جمہوریت کے نام پر پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کی حکومت پر قابض رہی لیکن تمام تر اختیارات کے باوجود کراچی کو بے توجہی کا نشانہ بناتی رہی نتیجے میں دن بدن دیہی سندھ کے ساتھ شہری سندھ کی صورتحال بد سے بد تر ہوتی چلی گئی۔

بد قسمت کراچی کے باسی کس کس بات کا رونا روئیں، کچروں کے ڈھیر کا، پانی وگیس کی عدم فراہمی کا، ٹینکر مافیا کا، لوڈ شیڈنگ کا، مافیاز کی مجرمانہ سرگرمیوں کا، بے روزگاری کا، حکومتی و اپوزیشن کی نا اہلیوں کا۔ کراچی والوں نے مسائل کے حل کی آس لگائے تبدیلی کے دعوے دار پی ٹی آئی کو چودہ سیٹوں سے نوازا لیکن افسوس کہ صدر، گورنر اور دیگرپی ٹی آئی کے رہنماؤں کا تعلق کراچی سے ہونے کے باوجود مسائل جوں کے توں ہیں بلکہ رواں سال کی مون سون نے متذکرہ بالا تمام نمائندوں کے جامے تک اُتار دیے مگر شرم ہے کہ تم کو نہیں آتی۔ ساٹھ کی دہائی میں دُنیا کا بہترین شہر کہلانے والا کراچی اپنے ہی شہریوں کے لئے موت کی وادی یعنی قبرستان میں تبدیل ہو چکا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •