سینیٹ چیئرمین شپ جیت اپنی اپنی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں عام انتخابات سے سینیٹ چئرمین شپ کے انتخابات جیتنے والے کو اپنی جیت کا اور ہارنے والے کو اپنی ہار کا بھروسا بالکل نہیں ہوتا۔ جس طرح حکومتی صف کے ارکان میں سب نیک نیت لوگ نہیں ہیں اسی طرح اپوزیشن کی صف میں بھی ایسا ہی کچھ ہے۔ پاکستان میں سیاست سے لے کر ایک سیلف انکم انکریز جاب تک ہر کوئی پیسہ لگاتا ہے۔ اور اسی امید سے لگاتا ہے کہہ اس کا ڈبل ملے اور یقینا ایسا ہی کچھ یہاں دیکھنے کو مل رہا ہے۔

خبر کے مطابق 8 اپوزیشن جماعت کے سینیٹرز نے بھی حکومت کے حمایتی چئرمین سینیٹ کو ووٹ ڈالے یہ ہے آج کے سیاست دان سے پارٹی تک کا نظریہ جس کے بحث پر عوام سے ووٹ لینے کے بعد آگے کا کھیل شروع ہوتا ہے۔ اب یہ ناممکن کی سی بات ہے کہہ یہاں پر جان پہچان کے بعد پیسے کا کوئی رول نہیں تھا۔ جبکہ عام انتخابات پر عوام کو یقین نہیں رہا اور سینیٹ الیکشن پر ایوان بالا ممبران کو۔

حالانکہ مبارکباد دینے والوں کو بھی اب مبارکباد کے مستحق کا صحیح انتخاب کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ ہونے والے سینیٹ چئرمین کے الیکشن میں سمجھ نہیں آتا مبارک باد کا صحیح مستحق ہمارے فرنٹ مین ہیں، موجودہ حکومت، جہانگیر ترین صاحب یا پھر زرداری صاحب۔ بہرحال الیکشن میں شفافیت اور نظریہ میں جمہوریت کا عنصر سب دل کو بہلانے والی باتیں ہیں۔ پاکستان میں الیکشن اکثر وہی جیت جاتا ہے جس کو آخر تک باقاعدہ یقین نہیں رہتا۔

اب ایک دو دن یہ فضول چرچا بھی تو کرنا واجب ہوگیا ہے کہہ سینیٹ چئرمین بلوچستان سے ہیں۔ جبکہ مقابلہ کرنے والے دونوں بلوچستان سے ہیں۔ جو اتنے عرصے میں صادق سنجرانی کی سینیٹ چئرمین شپ میں بلوچستان کے لئے ہوا آگے بھی اس سے زیادہ توقع نہیں رکھی جاسکتی۔ اور اگر حاصل بزنجو صاحب جیت جاتے تو بھی ایسا ہی کچھ ہوتا۔

سینیٹ الیکشن میں صادق سنجرانی صاحب کی جیت کا مقصد کچھ بھی ہو مگر اگر اس پوزیشن کی پاور کی بات کی جائے تو سینیٹ یعنی ایوانِ بالا کا چیئرمین ہونا ایک طاقتور عہدہ ہے جس کے تحت وہ ایوان کے قوانین کے تحت اجلاس طلب کرتا/کرتی ہیں، حکومت اور حزبِ اختلاف کے ارکان کو بلا تفریق اجلاس کے دوران تقریر کرنے اور اپنی بات کہنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ صدر کی ملک میں غیر موجودگی میں بطور قائم مقام صدر بھی کام کرتے ہیں۔

سینیٹ الیکشن کے نتائج کے بعد حزبِ اختلاف کے لیڈر راجہ ظفرالحق کا تجریہ قابل غور ہے کہ چیئرمین سینیٹ منتخب نمائندوں کی اکثریت کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اگر اکثریتی جماعتوں کا اُس پر اعتماد ہی نہیں تو پھر اس کا سینیٹ میں ہونے کا کیا فائدہ؟

اُنکا کہنا مزید کہنا تھا ٹھیک ہے کہ ایک جماعت اِن کو لانے میں پیش پیش تھی اور پھر انھوں نے اپنا رویہ بدل لیا۔ اس جماعت کے 21 سینیٹرز ہیں جن کے ساتھ اب باقی ارکان بھی شامل ہیں اور آپ اُن کا اعتماد کھو چکے ہیں۔ اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ اب آپ اکثریت کے چیئرمین نہیں رہے۔ خیر اب عام حالت میں عام عوام کے سامنے اس تجزیے کی کوئی حیثیت نہیں ہے مگر اصولی طور پر اس بات سے اتفاق کرنا غیرضروری نہیں ہوگا۔

حالانکہ بلوچستان سے موجودہ وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان عالیانی صاحب کی سینیٹ الیکشن میں صادق سنجرانی صاحب کی جیت کے لئے اسلام آباد کے چکر کا بھی بڑا اثر رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •