چیخیں، چِلائیں لیکن ۔ ۔ ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ جانتے ہیں زندگی میں چیخنا، چلانا بہت ضروری ہے؟ ویسے بھی ہم چیختے تو ہیں۔ اپنے سے چھوٹوں پر، اپنی بیوی، بچوں پر رعب جماتے گلا پھاڑ کر چلاتے ہیں۔ بعض دفعہ والدین کی کسی بات کا چلا کر جواب دیتے ہیں۔ ویسے چیخنا، چلانا ضروری بھی تو ہے۔ ”اس لیے کہ چیخنے چلانے سے طبیعت کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے۔ ذہنی تناؤ میں کمی ہوتی ہے۔ ڈپریشن کم ہوتا ہے۔ ضرور چیخا کریں۔ گلا پھاڑ کر چلایا کریں۔ جینے کے لیے یہ بہت ضروری ہے۔ “ کتنی عجیب بات ہے نا؟ میں آپ کو چیخنے، چلانے کا مشورہ دے رہا ہوں۔ جی ہاں! ”آپ چیخیں، چلائیں۔ دل کی بھڑاس نکال دیں۔ لیکن موقع محل پر، بلاوجہ چیخنا، چلانا، منہ سے جھاگ نکالنا، کوسنا، بدتہذیبی کی علامت ہو گی۔ آپ کو بدتہذیب سمجھا جائے گا۔ “

آپ غصے میں ہیں۔ آپ کی طبیعت کسی پر دل کی بھڑاس نکالنے کو مچل رہی ہے۔ آپ کو گھر کے کسی فرد پر غصہ آرہا ہے۔ آپ کا ایک عدد بیٹا یا بھائی ہے، آپ کی طبیعت تاؤ کھا رہی ہے۔ آپ چاہتے ہیں کہ اسے دو کھری کھری سنا دیں یا تھپڑ جڑ دیں۔ لیکن آپ کا بس نہیں چل رہا اور اسے کچھ نہیں کہہ سکتے، وہ قد، بت، عمر، تجربے میں آپ سے بڑا ہے۔ آپ کو خوف لاحق ہے کہ کہیں آگے سے وہ جواب ہی نہ دے دے یا مجھے ہی نہ جڑ دے۔ تو آپ کو غصے پر قابو پاتے ہوئے پانی پی لینا چاہے ؛ نہ کہ وہ غصہ آپ اپنی بیٹی، اپنی بیوی، یا اپنے ماتحت پر نکال دیں۔ اوشو نے کہا تھا۔ ”جب آپ پر غصہ طاری ہو رہا ہو تو آپ دفعتاً چوکس ہو جائیں، غصہ ختم ہو جائے گا۔ “

خیر میں تو چیخنے کی بات کر رہا تھا۔ اچھا آپ کے ہاں کوئی مہمان آئے۔ میزبانی میں کوئی کسر باقی نہ رہے۔ آپ ان کی آؤ بھگت میں لگے ہیں۔ کھانا یا چائے بنانے میں گھر والوں کو دیر ہو گئی۔ آپ ان پر چیخیں نہیں بلکہ آپ حوصلہ رکھیں، ان کا ہاتھ بٹائیں۔ چنگھاڑنے سے نہ کام جلدی ہوگا نہ ہی کھانا اچھا بنے گا۔ مہمان کو خدا کی رحمت بنے رہنے دیں گھر والوں کے لیے زحمت نہ بنائیں۔ ایسے ہی آپ اصول پسند شخص ہیں۔ چاہتے ہیں کہ ہر کام اصول وضوابط، وضع داری سے ہو۔ گھر کا کوئی فرد کسی اصول کی روگردانی کر بیٹھا۔ تو اسے آرام سے سمجھائیے، چیخ چلا کر، غل مچا کر اپنا مقام مت گھٹائیے۔

آپ وقت کے بڑے پابند ہیں۔ صبح اٹھے تو تولیہ، پانی، کپڑے تیار نہیں تھے۔ بیوی تھکن سے چور تھیں، اٹھ نہ پائیں یا بچوں کے ساتھ لگی رہیں اور گھڑی نہ دیکھ پائیں۔ وقت کی خبر ہی نہ ہوئی اور ٹائم چپکے سے نکل گیا۔ اب آپ اٹھے ہیں تو چیخ چلا کر، شور غوغا کر کے اپنا اور گھر والوں کا من مت جلائیں۔ خود کپڑے استری کر لیں۔ اپنا کام خود کرنا بھی تو سنت ہے نا۔ اپنی زوجہ کا ہاتھ بٹانا بھی ضروری ہے۔ آپ نے موبائل چارج پر لگایا، کسی دوسرے نے آپ کا موبائل ہٹا کر اپنا لگا دیا۔ آپ غصے سے جل بھن گئے تو چاہیے یہ کہ آپ چیختے ہوئے اپنا موبائل دیوار پر مار دیں نہ کہ حوصلہ کھو دیں اور کہیں کا غصہ کہیں پر نکال دیں۔

آپ بڑے ہیں۔ اندر ہی اندر ایک خواہش، با اختیار سمجھے جانے کی خواہش ابل رہی ہے۔ آپ نے اپنے بیٹے یا بیٹی کو کسی کام کا کہا۔ وہ بھول گئی یا دیر ہو گئی۔ آپ کی طبیعت کو جھٹکا لگا۔ آپ تپتی دھوپ میں باہر سے آئے۔ بیٹی یا بیوی نے پانی پیش کرنے میں دیر کر دی۔ آپ نے اپنے بچوں کو نماز پڑھنے کا کہا۔ وہ کھیلتے رہے۔ دیر ہوگئی۔ آپ نے انہیں پڑھنے، ہوم ورک کرنے کا کہا۔ انہوں نے بے توجہی سے بات ان سنی کر دی۔ وہ گیم کھیلتے رہے۔ تو آپ پیار، شفقت، محبت کا لفظ مت بھولیے، ان پر چلاہٹ سے ان کے دل میں نفرت مت پیدا کیجیے بلکہ آرام سے سمجھا دیجیے۔ جیسے آپ اچھے ہیں آپ کے بچے بھی تو اتنے ہی اچھے ہوں گے۔ پیار کی زبان بہ آسانی سمجھ جائیں گے۔

آپ سفر یا دفتر سے تھکے ہارے آئے ہیں۔ یا گزشتہ دو راتوں سے سو نہیں پائے۔ نیند بہت قیمتی ہے اب آپ نیند لینے لیٹے ہیں۔ گھر کے کام کی وجہ سے کھٹ پٹ کی آواز آپ کی نیند میں خلل ڈال رہی ہے۔ یا چھوٹے بچے ہیں جن کی چہچہاہٹ آپ کی طبیعت پر بوجھ ڈال رہی ہے اور آپ سو نہیں پائے۔ تو براہ کرم ان پر چیخ چلا کر رعب مت ڈالیے۔ ان کے گلے گھونٹنے سے بہتر ہے آپ جگہ بدل دیں یا نہایت پیار سے بہلا کر بچوں کو دوسری جگہ کھیلنے کے لیے منتقل کر دیں۔

پھر خود آرام سے سو جائیں۔ آپ کے یہ بچے چھوٹے ہیں۔ آپ ان میں نظم و ضبط کی خصوصیت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اور پھر آپ کو خبر ہی نہیں ہوتی۔ آداب سکھاتے ہوئے خود دہلیز پار کر بیٹھتے ہیں۔ آپ ان پر چیختے چلاتے ہیں۔ تو یاد رکھیں کہ یہ نقصان کا سبب ہے۔ آپ کا زور زور سے چلانا بچے کے ذہن میں یہ تاثر پیدا نہیں کرتا کہ آپ با اختیار شخصیت ہیں بلکہ اُن کے ذہن میں آپ کی بے بسی اور کمزوری کا تاثر ابھرتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ آپ سے متاثر ہونا بالکل ہی چھوڑ دیتے ہیں اور ایک وقت ایسا بھی آجاتا ہے کہ والدین جتنا مرضی چیختے چلاتے رہیں بچے ان کی بات کا کوئی اثر نہیں لیتے۔

بات وہی کہ چیخنا بہت ضروری سہی لیکن موقع کی نزاکت کا خیال رکھتے ہوئے۔ آپ نے موویز میں دیکھا ہوگا۔ عاشق نامراد اپنی محبوبہ کو کھو کر اس کی یاد میں مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہوئے دوست کے ساتھ ساحل سمندر، پارک وغیرہ جاتا ہے۔ وہاں وہ چیختا ہے۔ اونچی اونچی آواز میں چلاتا ہے۔ سارا غم ہواؤں کے سپرد کر کے واپسی کی راہ لیتا ہے۔ اسی طرح فلم کا کوئی کردار چھت پر چڑھ کر منہ آسمان کی طرف اٹھا کر چلاتا ہے۔ دونوں ہاتھوں کو گولائی سے منہ کے آگے رکھ کر آواز کو دور تک پہنچانا چاہتا ہے۔

وہ ایسا کیوں کرتا ہے؟ اس لیے کہ غم ہلکا ہو۔ طبیعت بحال ہو۔ آپ بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ بچوں پر چیخنے، والدین پر چلانے، بیوی کو اذیت دینے سے بہتر ہے آپ وہ غصہ، وہ بوجھ، وہ غم، ہواؤں کے سپرد کر دیں۔ ایسی کوئی جگہ میسر نہیں تو گھر کے کسی گوشے میں یہ کام سرانجام دیا جا سکتا ہے۔ واش روم کا ایک استعمال یہ بھی تو ہو سکتا ہے۔ جب طبیعت تاؤ کھا رہی ہو تو واش روم کا رخ کریں۔ وہاں چلائیں اور سکون نہ ملے تو ایک مگ پانی بھی سر پر انڈھیل دیں۔ طمانیت ملے گی۔ لیکن اپنے سے چھوٹوں، کمزوروں پر چلا کر غیر مہذب ہونے کا ثبوت نہ دیں۔

یاد آیا چیخنا چلانا ایک رسم بھی تو ہے۔ وہ رسم آپ بھی نبھا سکتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک ویب سائٹ ٹٹولتے، ”سویڈن میں رات دس بجے چیخنے“ کی ایک خبر پر نظر پڑی تھی۔ وہاں کے شہر اپسالا میں لوگ رات دس بجے کھڑکیاں کھول کر زور سے چیخ مارتے، چلاتے ہیں۔ ’فلوگسٹا اسکریم‘ باقاعدہ ایک لفظ بن گیا ہے۔ وہاں تقریباً دس بجے لوگ چیخیں مارتے ہیں۔ عام حالات میں رات کے اس پہر چیخ کی آواز سن کر لوگ خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ لیکن اپسالا کا یہ منظر عام ہے۔ جو گزشتہ چالیس برس سے جاری ہے۔

وہیں ایک جامعہ ہے جہاں کے طلباء بھی اس رسم کو بخوبی نبھاتے ہیں۔ اور کہا جاتا ہے کہ 1970 ء میں اسی جامعہ کے کچھ طلبا نے ڈپریشن کم کرنے کے لیے چیخنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ جو 2006 ء تک جاری رہا۔ پھر اچانک رک گیا۔ کچھ طلبا نے اس رسم کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی اور اب پھر لوگوں کی کچھ تعداد رات دس بجے چیختی ہے۔ کھڑکیاں کھول سر باہر نکال کر چلاتی ہے۔ اپنا غم ہلکا کرتی ہے۔ آپ بھی اس رسم کو نبھا سکتے ہیں۔ چیخ سکتے ہیں۔ چلا سکتے ہیں۔ تیز آواز خارج کر کے دل کا بوجھ ہلکا کر سکتے ہیں۔ چیخیے، چلائیے یہ بہت ضروری ہے لیکن خیال رہے اپنا غم ہلکا کرنے کی فکر میں دوسروں کو غمزدہ ہونے سے بچایئے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •