سماج کی روح کا بہترین عکس کیا ہے؟

بچے کی پہلی درسگاہ اس کے والدین کی گود ہے۔ اور مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ یہ درسگاہیں ہی معصوم ذہن کو متشدد بنا کر معاشرے میں ایک گندے دانے کا اضافہ کرتی ہیں۔ بچہ جوں جوں بڑا ہوتا ہے اس کے ذہن کے کینوس پر بنائے نقش اپنا رنگ چھوڑنا شروع…

Read more

اور پھر عذاب ٹل گیا

چنار روڈ پر گاڑیوں کا جم غفیر تھا۔ ٹریفک جام، تیز ہارن اور سڑک پر قیامت کا ریہرسل۔ ہم نے گامی اڈا جانا تھا۔ کچھوے کی سی رفتار سے ہم بند کھو پہنچے تو بری حالت ہو چکی تھی۔ کانوں کی مہیب گہرائی تک پاں پاں کی گونج اتر کر دماغ کا رخ کر چکی…

Read more

چیخیں، چِلائیں لیکن ۔ ۔ ۔

آپ جانتے ہیں زندگی میں چیخنا، چلانا بہت ضروری ہے؟ ویسے بھی ہم چیختے تو ہیں۔ اپنے سے چھوٹوں پر، اپنی بیوی، بچوں پر رعب جماتے گلا پھاڑ کر چلاتے ہیں۔ بعض دفعہ والدین کی کسی بات کا چلا کر جواب دیتے ہیں۔ ویسے چیخنا، چلانا ضروری بھی تو ہے۔ ”اس لیے کہ چیخنے چلانے…

Read more

کیا پاس لحاظ صرف چھوٹوں پر لازم ہے؟

کیا پاس لحاظ صرف چھوٹوں پر لازم ہے؟ بڑے اس سے ماوراء ہوتے ہیں؟ پہلی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ بڑوں پر کہ وہ چھوٹوں پر شفقت کریں یا چھوٹوں پر کہ وہ بڑوں کا احترام کریں؟ میں نے بہت سے بڑوں کو چھوٹوں پر رعب جماتے دیکھا ہے۔ لعن طعن کرتے بزرگ…

Read more

آسانیاں بانٹیں، اطمینان ملے گا

وہ روزانہ صبح سات بجے ماسوائے اتوار راستے پر گزرتی نظر آتی تھیں۔ جاڑے کی دھندلی صبح، جب چہار سو کہرے کا بسیرا ہوتا، پتوں پر پھوار جمی ہوتی تھی۔ کہرا نہ ہو تو یخ بستہ، برفیلی ہوا کے تھپیڑے چلتے تھے۔ سردی کا یہ عالم ہوتا کہ دانتوں بھرے خانے میں دانت کھنک رہے ہوتے اور منہ سے دھواں ایسے نکل رہا ہوتا جیسے چولہے کی چمنی سے دھویں کے مرغولے لہراتے ہوئے نکل رہے ہوں۔ شدید ٹھنڈ میں وہ بلاناغہ دو چادریں لپیٹے، مشکل سے چلتی ہوئی یا یوں کہیے پاؤں گھسیٹی ہوئی مجھے جب بھی نظر آتیں، سوچنے پر مجبور کر دیتی تھیں۔

Read more

اب تک ہماری عمر کا بچپن نہیں گیا

کچھ دنوں سے پے در پے چند ایسے مضامین پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ جن میں بچپن کے قصے، سہانے دنوں کی یادیں تھیں۔ جب شام بھی ہوا کرتی تھی اور اب تو صبح کے بعد سیدھی رات ہو جاتی ہے۔ تہذیب سے جڑے خوبصورت، روایتی کھیلوں کا ذکر تھا۔ جن سے تقریباً ہر شخص کو جذباتی لگاؤ ہے۔ لکھنے والے گریہ کناں تھے۔ بچپن چھن جانے، کھیل مر جانے کا نوحہ تھا۔ بچوں کے پاس وقت نہ ہونے کی آہ و زاریاں تھیں۔ سائنسی ترقی میں رشتوں کی مضبوطی کے لیے براہ راست ملنے کے بجائے جیسے ہم ٹیکنالوجی کا سہارا لیتے ہیں کھیلوں میں بھی وہی ٹیکنالوجی ٹانگ اڑائے نظر آتی رہی۔ خیر کیا کیا جائے کہ انسان علم و فن اور ایجادات کی ارتقائی دوڑ میں جس کامیابی سے دوڑ رہا ہے اس سے کھیلوں میں بھی تو بتدریج ترقی ہی ہو گی۔ اور وقت کے ساتھ طور طریقے بھی تو بدل گئے۔

Read more

توپ کے سامنے تمہیں باندھ کرا گر پھینک دیا جائے تو؟

معلوم نہیں مجھے ہند یاترا کا شوق کیوں ہے۔ شاید میرے اجداد وہیں سے ہجرت کر آئے تھے تب، یا شاید وہاں کے مختلف شہروں سے دلی لگاؤ ہے جو وہاں کے شہروں میں گھومنے کا اشتیاق ہے۔ دہلی، بنارس، ممبئی، کلکتہ، علی گڑھ، آگرہ، اجمیر، امرتسر، بنگلور، چندی گڑھ وہاں کے چند شہروں کے بے ترتیب سے نام ہیں جو دماغ کی تختی پر رقم ہیں۔ مجھے گوا کے ساحلوں پر ہوا خوری کی آرزو ہے۔ ایسے ہی مہران گڑھ پورٹ جودھپور، مودھرا سن ٹمپل، جے پور میں امبر پورٹ، چتوڑ فورٹ، دھنکر موناسٹری، کونارک کا سن ٹمپل، اجنتا اور ایلورا کے بتانِ برہنہ کی دید کا بھی اشتیاق ہے۔ لال قلعہ، ہمایوں کا مقبرہ، جامعہ مسجد دہلی، خواجہ نظام الدین اولیاء ؒ کے مزار پر حاضری کو دل مچلتا ہے۔ لیکن یہ امنگ کب پوری ہوگی؟ کچھ نہیں کہا جا سکتا قریب قریب تو پورا ہونے کا امکان بھی نہیں ہے۔

Read more

چپکے سے محبت کا ورق موڑ دیا

سردی کی ہلاکت خیزی عروج پر تھی جب یخ بستہ رات کے دوسرے پہر نے کروٹ لی۔ گھپ اندھیرے میں خاموشی کا راج تھا۔ ہاں مگر گھڑی کی ٹک ٹک صاف سنائی دے رہی تھی۔ باہر شاید بارش برس رہی تھی۔ وہ بولی: کل کے بارے کیا وچار ہیں؟ آدرش بتائیں گے اپنے؟ ”آنے والے کل یا گزرے ہوئے کل؟ “ میں نے استفسار کیا۔ وہ مسکرائی اور بولی: ”آنے والے کل“۔ میں نے گہرا سانس لیا تو وہ موبائل میں دیکھتے ہوئے گویا ہوئی: ”14 فروری اسٹارٹ ہو گیا“۔ میں نے اپنے موبائل کی سکرین پر انگلی پھیری، دھیمی سی روشنی میں اس کا چہرہ پیار کی تپش سے جلتا معلوم ہو رہا تھا۔ جب کہ بارہ کا ہندسہ اپنے بعد والے ہندسے کو بدل چکا تھا۔ کافی دیر میں چپ کا روزہ رکھے اسے دیکھتا رہا۔ وہ خاموشی کے لبادے میں گھات کھا رہی تھی۔

Read more

جس کا وارث ہوں اسی خاک سے خوف آتا ہے

عجیب سانحہ مجھ پر گزر گیا۔ ایک سفر درپیش تھا لیکن ہیبت اس قدر تھی کہ قدم باہر رکھنے سے ہچکچا رہا تھا۔ دماغ میں پولیس موبائل اور ایمبولینس کے سائرن کی ملی جلی آوازوں کی بھنبھناہٹ تھی۔ ہچکچاہٹ بھی کیوں نہ ہوتی ساتھ میں والدہ اور بہنوں نے سفر کرنا تھا۔ بہت کوشش کی، بہانے بنائے کہ سفر ٹل جائے، ہم رک جائیں مگر مجبوری ایسی کہ نکلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ چار پانچ گھنٹے کا سفر، لیکن ڈر اور خوف کی تلوار تھی کہ سر پر لٹک رہی تھی۔

سب خو ف زدہ تھے۔ وحشت سی پھیلی ہوئی تھی۔ کیا خبر ملکی سلامتی کے ادارے کے تربیت یافتہ اہلکار؛ ملک کے وسیع تر مفاد میں ہمیں بھی مار گرائیں۔ کون ہے پوچھنے والا؟ خیر مقدر اور نصیب کا سہارا لیتے گاڑی کا بندوست کیا۔ لیکن شرط یہ تھی کہ کسی قسم کا کوئی سامان ساتھ نہیں رکھیں گے۔ حتی کہ والدہ اور بہنوں نے اپنے پرس بھی گھر چھوڑ دیے۔ ہاں مگر شناختی علامت کے ٹکڑے ساتھ رکھے تھے۔ اگر ٹپکا دیے گئے تو پہچاننے میں مصروف اداروں کو مشکل تو نہ ہو۔ کہاں ڈھونڈتے پھریں گے کہ کون تھے یہ ”دہشت گرد“۔ کہاں سے تھے؟ آخر نعشیں بھی تو حوالے کرنی ہوں گی۔ ہاں تھوڑے سے پیسے ساتھ رکھے تھے کہ اگر ضرورت مندوں نے ہاتھ ڈال دیا تو خالی نہ لوٹیں۔

Read more

ریل کہانی: رضا علی عابدی کی زبانی

ریل کہانی محترم رضا علی عابدی کی تصنیف ہے۔ رضا علی عابدی براڈ کاسٹر، صحافی اور ادیب ہیں۔ اہل علم و فن کی دنیا میں بڑا نام و مقام۔ پہلی مرتبہ جن کے نام سے میں اس وقت متعارف ہوا جب دوران لیکچر میرے محترم استاد نے مطالعہ کی اہمیت بتاتے ہوئے ان کا ذکر کیا اور بتایا کیسے انہوں نے کراچی سے پشاور تک دریائے سندھ کنارے سفر کیا اور کتب کی کتب پی گئے۔ مختصر ترین سامان کے ساتھ زاد راہ میں کتابیں تھیں جب وہ ختم ہو جاتیں تو اور منگوا لیتے۔

دریا میں پانی بہتا رہا جب کہ علم کا دریا، سندھ کنارے مشعل تھامے آگے چلے جا رہا تھا۔ فرمایا کرتے ہیں کہ مجھے نئی نسل اپنے باپ دادا کے حوالے سے جانتی ہے اور کہتی ہے کہ ہمارے آباء ریڈیو پر آپ کا پروگرام سنا کرتے تھے۔ بدبختی کا گمان ہوتا ہے کہ میرے باپ دادا نے مجھے ان کے بارے میں کیوں نہیں بتایا، نہ سنا ہو گا۔

دوسرے لمحے خوشی کی انتہا ہوتی ہے کہ میں ان سے بات کر سکتا ہوں۔ ان کی کتابوں کے طفیل ہی سہی ان سے مل سکتا ہوں۔ خوش بختی ہی تو ہے کہ ہم ان کو دیکھ، سن، اور سب سے بڑھ کر پڑھ رہے ہیں۔ خدا ان کا سایہ ہمارے سروں پر قائم دائم رکھے۔ ان کا یہ سفرنامہ جسے کہنے کو ہم ریل کی کہانی تو کہہ سکتے ہیں لیکن وہ حقیقت میں انسان کی داستان ہے، جذبات کے قصے اور احساسات کی حکایتیں ہیں۔ 1996 کے اوائل میں کیا گیا سفر، بی بی سی پر نشر ہونے والا دستاویزی پروگرام؛ غالباً سفر کی تیسری داستان جو کتابی شکل میں شائع ہوئی۔ یہ دستاویز ریلوے کے ہنستے بستے خوشگوار دنوں کی یاد ہے۔ بقول شخصے برصغیر کی ہتھیلی پر زندگی کی لکیر کی طرح دوڑنے والی ریلوے لائن کی کہانی کلکتہ سے کوئٹہ تک انگریز کے فہم کا بچھایا ہوا جال جو آج اپنوں کی بے حسی اور ناقدری کی یاد دلاتا ہے۔

Read more