میونسپل لائبریری اور بدذوق لائبریرین (2)

             باہر معمول کی چہل پہل جاری تھی۔ دماغ کے کسی گوشے سے کوئی شاعر گنگنائے تھے۔ ”قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو“ اور قوم کتابوں میں کیا اترتی وہ تو شکم سیری کو خورش گاہوں میں گوڈے گوڈے پھنسی ہوئیٴ تھی۔ باقی رہ جانے والی نیلام گھروں کی رونق بڑھا رہی تھی۔ کشمیر روڈ پر لنڈے کی دکانوں پر ہجوم بتا رہا تھا کہ لنڈے کتاب میلوں پر بھاری ہیں۔ نیلام گھروں پر خوب گہما گہمی تھی۔

Read more

پھس پھسا کتاب میلہ اور نامانوس لوگ

             سال 2022ء کا آخری دن تھا جب برقی دیوار کا ایک رابطہ ملا کہ جی مانسہرہ میں کتاب میلہ کا انعقاد ہے۔ یہ ایک خوش کن خبر تھی۔ فوراً دوست سے وعدہ لیا کہ سال نو کے پہلے دن چوں کہ پانچ بجے تک کتاب میلہ ہے چل میلے کو چلیے۔ وہ بھی انگریزی ادب کا آدمی میری باتوں میں آ گیا اور یوں ہم یخ بستگی میں اپنی چھٹی کافور کرتے ہوئے مانسہرہ روانہ ہوئے۔ دماغ کی تختی

Read more

اب تو بہت سہولت ہوگئی صاحب

سال دو قبل جب بقر عید کا دوسرا دن تھا پہاڑوں کو عبور کرتے ہم پسو کونز کے سائے تلے خیبر گوجال گلگت کی وادی پہنچے۔ ایک مہمان خانے میں ٹھہرے تو رات ہونے کو تھی۔ تب میزبان نے پوچھا ”تو آپ کے لیے پھر مرغی بنوا لوں؟“ یعنی گوشت خور ہیں تو ٹرخا دیا جائے۔ تب مجھے حیرت ہوئی تھی کہ فارمی مرغی کی کیا اڑان ہے بھئی۔ یہاں بھی پہنچ گئی۔ میزبان نے فخر سے بتایا تھا کہ

Read more

اسیر فیس بک کا گریہ

رات کافی بیت گئی تھی جب میری آنکھ کھلی۔ دماغ کی تختی پر کچھ ابھر رہا تھا اور پھر یک دم مولانا اکبر الہ آبادی کا شعر کوندا۔ جسے میں نے دیوار مہرباں پر چپکایا اور آنکھیں موند کر خواب خرگوش میں چلا گیا۔ صبح کو جب کار جہاں سے فرصت ہوئی تو حیرت کا گھونسا لگا۔ دیوار مہرباں کا نام تھا نہ نشان تھا۔ جیسے میری برقی دیوار کا کوئی ٹھور ٹھکانہ ہی نہ ہو۔ جانے کیوں زنگر چاچا

Read more

کیا تشدد تعلیم کے لیے ضروری ہے؟

گزشتہ دنوں ایک متحرک تصویر موصول ہوئی پابہ زنجیر بچے کو دیکھا تو مجھے لگا شاید کسی جیل قید خانے کی تصویر ہے جس میں پا بہ قفل ایک بچہ درد کی تصویر بنا ہے۔ جس کے سامنے تپائی پر اک کتاب ہے اور رسی یا زنجیر سے پاؤں باندھ رکھا ہے جیسے کسی بپھرے جانور کو باندھ کر تالا ڈالا جاتا ہے۔ کیا جیل، قید خانوں میں یوں پاؤں پر تالے ڈال کر تعلیم دی جاتی ہے؟ غور کرنے

Read more

شیشے کی دیوار اور باپ، بیٹا

ہمارے ہاں باپ بیٹے کے درمیان ایک دیوار حائل ہوتی ہے۔ شاید احترام کی قبض ہوتی ہے۔ بیٹیاں باپ کے قریب مگر بیٹے ایک طویل فاصلہ رکھتے ہیں۔ ابا حضور سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ میرا احترام ہو رہا ہے۔ حد درجہ احترام کی وجہ سے دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ضرور ہیں مگر دوستانہ ماحول میں نہ بات ہوتی ہے نہ ہی بیٹے کو باپ کے ساتھ کھیلتے، یا گلے میں لٹکتے دیکھا جائے گا۔ ابا اس خوف نما احترام کو سمجھتے ہیں اور جان بوجھ کر یا سمجھتے ہی نہیں اور بغیر جانے دوام بخشتے ہیں۔ انہیں فکر نہیں ہوتی کہ بیٹا دور ہے تو کیوں؟

Read more

اب بچے شرارتیں کیوں نہیں کرتے؟

میں جب چھوٹا تھا تو دادا کے ساتھ نماز تراویح میں شرکت کے لیے مسجد جاتا تھا۔ روزانہ وہاں جا کر پچھلی صف کے ایک کونے میں سو جاتا تھا۔ محلے کی مسجد میں نماز کے لیے آئے لڑکے اٹھا کر گھر لاتے اور اماں کے حوالے کر جاتے تھے۔ یہی روٹین تھی۔ جب تک جاگتا رہتا ان لڑکوں کی شرارتوں سے محظوظ ہوتا۔

پچھلی صف تو انہی لڑکوں کے لیے خاص تھی جن کو محلے کے بزرگ شیطان کہہ کر بلاتے تھے۔ ”یہ انسان نہیں شیطان ہیں شیطان۔ مجال کہ انہیں پتا ہو آگے نماز ہو رہی۔ پچھلی صفوں میں اودھم مچا رکھا ہوتا ہے۔“ میں ان بزرگوں کی جھاڑ سن کر سہم جاتا تھا۔ تب پچھلی صف میں بیٹھے لڑکوں کے چہروں پر شرافت رقص کر رہی ہوتی تھی۔ مگر پھر کیا امام کا اللہ اکبر کہنا اور حس مذاق کا پھڑک اٹھنا۔ ایک لڑکا دوسرے کے کان میں کھسر پھسر کرتا اور پھر یہ لوگ اپنے کام میں لگ جاتے تھے۔

Read more

قاری صاحب اور ماسٹر صاحب مجھ سے کیوں خفا ہوئے؟

”ہر بڑا چھوٹے سے خراج لیتا ہے“ ۔ ”اوپر والا نیچے والے سے خراج لیتا ہے“ ۔ یہ میرا ماننا ہے۔ ایسے ہی کچھ لوگ اپنے عہدے کا خراج لیتے ہیں۔ یہ بھی سچ ہے۔ جیسے ہمارے بھائی صاحب کے ایک استاد ہیں۔ غالباً بھائی صاحب جب پہلی جماعتوں میں تھے تب وہ ماسٹر صاحب اس اسکول کے پرنسپل ہوا کرتے تھے۔ ان کی عادت ہے کہ جب بھی آئیں گے بھرپور اعتماد کے ساتھ بھائی کا پوچھیں گے پھر

Read more

ڈی موٹیویشنل منجن

انہوں نے چند منٹ کی ویڈیو میں کوئی اتنے کام، ان میں کامیابیاں گنوائیں کہ مجھے لگا بس اب یہ کہیں گے اور پھر میں حاملہ ہوگیا۔ پھر روداد حمل سنائیں گے لیکن نہیں وہ اب اپنے ساتھ گزرے مزید واقعات بتا رہے تھے۔ جس سے پتا چلا کہ حاملہ ہونے کے علاوہ دنیا کا ہر واقعہ ان صاحب کے ساتھ پیش آ چکا ہے۔ میرے تو ارمانوں پر پانی کیا کیچڑ پڑ گیا۔ ناکامی کا سایہ چہرے پر پھیلا

Read more

دستور نبھاؤں گا تو دستار گرے گی

دو چار روز قبل ہمارے محلے کے آخری بزرگ بھی آخرت سدھار گئے۔ بزرگ رحمت ہوتے ہیں یہ بات ہم نے سن رکھی ہے لیکن عملاً دیکھ لیں تو کیا ہی بات ہوگی۔ مجھے یاد ہے یہ سب بزرگ شام کے وقت مسجد کے باہر سیمنٹ کی بنی چھوٹی سی دیوار پر بیٹھتے تھے۔ مسجد کے دروازے کے بالکل سامنے دیوار پر، عصا پاس رکھے ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے۔ بڑا سا رومال گود میں رکھے، ٹوپی کو گھٹنے سے لٹکائے۔ دو سامنے کی طرف گھاس پر چوکڑی مارے، انہوں نے عصا قریب لٹا رکھے ہوتے تھے۔

ایک دو اور لوگ ان سے چھوٹی عمر کے لیکن محفل کے جز لازم۔ ہر روز، پھر ان کی محفل جمتی اور آپس میں بھی خوب جمتی تھی۔ گفتگو کا آغاز کسی سیاسی بات سے ہوتے ہوئے مذہب، سماج، خاندان کے مدار میں گھومتے ہوئے ذات پر مکمل ہوتا۔ سیاست کے بازار کا ذکر چھڑتا اور پھر پانچ چھ بوڑھے اپنی پسند، سوچ، فکر، نظر کے مطابق اس گفتگو میں حصہ لیتے۔ کوئی بے نظیر کی نظیر ڈھونڈتے کہتا کون ہے اس جیسا، واحد لیڈر ہے جو خدا کی عطا کردہ ہے تو دوسرا بزرگ ضیا الحق صاحب کو جناح کیپ پہنا رہا ہوتا اصل انعام تو وہ ہے۔ کوئی میاں صاحب کے والد صاحب کو خدا کی رحمت گردانتا تو کوئی بھٹو کے دور میں جا کھڑا ہوتا۔ کوئی مشرف صاحب کے گن گاتا اور کوئی سب کو حرف غلط قرار دے دیتا۔

Read more

میں کیوں لکھوں؟

انہوں نے مجھ سے سوال کیا تھا۔ ہمیں کیوں کر لکھنا چاہیے؟ لکھنا کیوں ضروری ہے؟ میں لکھوں، تو کیوں؟ ایک لمبی فہرست ہے جو لکھتی ہے انہیں کوئی پڑھتا بھی ہے یا نہیں، میں نے لکھا تو کون پڑھے گا؟ آخر بڑے بڑے لکھاری موجود ہیں۔ ان کی موجودگی میں ہمارے لکھنے کا فائدہ؟ بات درست تھی۔ دماغ کے دریچے میں سوال سر اٹھاتا ہی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ لکھاریوں کی ایک طویل فہرست ہے۔ وہ بھی لکھ

Read more

سماج کی روح کا بہترین عکس کیا ہے؟

بچے کی پہلی درسگاہ اس کے والدین کی گود ہے۔ اور مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ یہ درسگاہیں ہی معصوم ذہن کو متشدد بنا کر معاشرے میں ایک گندے دانے کا اضافہ کرتی ہیں۔ بچہ جوں جوں بڑا ہوتا ہے اس کے ذہن کے کینوس پر بنائے نقش اپنا رنگ چھوڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ وہ نفسیاتی مریض سا بنا دکھتا ہے۔ ادب آداب، رکھ رکھاؤ، تہذیب، شائستگی کا اس سے کوئی علاقہ نہیں ہوتا۔ اس میں

Read more

اور پھر عذاب ٹل گیا

چنار روڈ پر گاڑیوں کا جم غفیر تھا۔ ٹریفک جام، تیز ہارن اور سڑک پر قیامت کا ریہرسل۔ ہم نے گامی اڈا جانا تھا۔ کچھوے کی سی رفتار سے ہم بند کھو پہنچے تو بری حالت ہو چکی تھی۔ کانوں کی مہیب گہرائی تک پاں پاں کی گونج اتر کر دماغ کا رخ کر چکی تھی۔ وہیں سے ٹرن لیا اور واپس آ کر لنک روڈ پر ہو لیے۔ افراتفری، ہارن، شور غوغا اور قیامت کی تصویر وہیں چھوڑ کر

Read more

چیخیں، چِلائیں لیکن ۔ ۔ ۔

آپ جانتے ہیں زندگی میں چیخنا، چلانا بہت ضروری ہے؟ ویسے بھی ہم چیختے تو ہیں۔ اپنے سے چھوٹوں پر، اپنی بیوی، بچوں پر رعب جماتے گلا پھاڑ کر چلاتے ہیں۔ بعض دفعہ والدین کی کسی بات کا چلا کر جواب دیتے ہیں۔ ویسے چیخنا، چلانا ضروری بھی تو ہے۔ ”اس لیے کہ چیخنے چلانے سے طبیعت کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے۔ ذہنی تناؤ میں کمی ہوتی ہے۔ ڈپریشن کم ہوتا ہے۔ ضرور چیخا کریں۔ گلا پھاڑ کر چلایا کریں۔

Read more

کیا پاس لحاظ صرف چھوٹوں پر لازم ہے؟

کیا پاس لحاظ صرف چھوٹوں پر لازم ہے؟ بڑے اس سے ماوراء ہوتے ہیں؟ پہلی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ بڑوں پر کہ وہ چھوٹوں پر شفقت کریں یا چھوٹوں پر کہ وہ بڑوں کا احترام کریں؟ میں نے بہت سے بڑوں کو چھوٹوں پر رعب جماتے دیکھا ہے۔ لعن طعن کرتے بزرگ دیکھے ہیں۔ اپنے بڑے، چھوٹوں کو کوستے دیکھے ہیں۔ میں نے کم ظرف، چیختے، چلاتے، شور مچاتے، احترام کا بھاشن دیتے وڈیرے دیکھے ہیں۔ ایک

Read more

آسانیاں بانٹیں، اطمینان ملے گا

وہ روزانہ صبح سات بجے ماسوائے اتوار راستے پر گزرتی نظر آتی تھیں۔ جاڑے کی دھندلی صبح، جب چہار سو کہرے کا بسیرا ہوتا، پتوں پر پھوار جمی ہوتی تھی۔ کہرا نہ ہو تو یخ بستہ، برفیلی ہوا کے تھپیڑے چلتے تھے۔ سردی کا یہ عالم ہوتا کہ دانتوں بھرے خانے میں دانت کھنک رہے ہوتے اور منہ سے دھواں ایسے نکل رہا ہوتا جیسے چولہے کی چمنی سے دھویں کے مرغولے لہراتے ہوئے نکل رہے ہوں۔ شدید ٹھنڈ میں وہ بلاناغہ دو چادریں لپیٹے، مشکل سے چلتی ہوئی یا یوں کہیے پاؤں گھسیٹی ہوئی مجھے جب بھی نظر آتیں، سوچنے پر مجبور کر دیتی تھیں۔

Read more

اب تک ہماری عمر کا بچپن نہیں گیا

کچھ دنوں سے پے در پے چند ایسے مضامین پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ جن میں بچپن کے قصے، سہانے دنوں کی یادیں تھیں۔ جب شام بھی ہوا کرتی تھی اور اب تو صبح کے بعد سیدھی رات ہو جاتی ہے۔ تہذیب سے جڑے خوبصورت، روایتی کھیلوں کا ذکر تھا۔ جن سے تقریباً ہر شخص کو جذباتی لگاؤ ہے۔ لکھنے والے گریہ کناں تھے۔ بچپن چھن جانے، کھیل مر جانے کا نوحہ تھا۔ بچوں کے پاس وقت نہ ہونے کی آہ و زاریاں تھیں۔ سائنسی ترقی میں رشتوں کی مضبوطی کے لیے براہ راست ملنے کے بجائے جیسے ہم ٹیکنالوجی کا سہارا لیتے ہیں کھیلوں میں بھی وہی ٹیکنالوجی ٹانگ اڑائے نظر آتی رہی۔ خیر کیا کیا جائے کہ انسان علم و فن اور ایجادات کی ارتقائی دوڑ میں جس کامیابی سے دوڑ رہا ہے اس سے کھیلوں میں بھی تو بتدریج ترقی ہی ہو گی۔ اور وقت کے ساتھ طور طریقے بھی تو بدل گئے۔

Read more

توپ کے سامنے تمہیں باندھ کرا گر پھینک دیا جائے تو؟

معلوم نہیں مجھے ہند یاترا کا شوق کیوں ہے۔ شاید میرے اجداد وہیں سے ہجرت کر آئے تھے تب، یا شاید وہاں کے مختلف شہروں سے دلی لگاؤ ہے جو وہاں کے شہروں میں گھومنے کا اشتیاق ہے۔ دہلی، بنارس، ممبئی، کلکتہ، علی گڑھ، آگرہ، اجمیر، امرتسر، بنگلور، چندی گڑھ وہاں کے چند شہروں کے بے ترتیب سے نام ہیں جو دماغ کی تختی پر رقم ہیں۔ مجھے گوا کے ساحلوں پر ہوا خوری کی آرزو ہے۔ ایسے ہی مہران گڑھ پورٹ جودھپور، مودھرا سن ٹمپل، جے پور میں امبر پورٹ، چتوڑ فورٹ، دھنکر موناسٹری، کونارک کا سن ٹمپل، اجنتا اور ایلورا کے بتانِ برہنہ کی دید کا بھی اشتیاق ہے۔ لال قلعہ، ہمایوں کا مقبرہ، جامعہ مسجد دہلی، خواجہ نظام الدین اولیاء ؒ کے مزار پر حاضری کو دل مچلتا ہے۔ لیکن یہ امنگ کب پوری ہوگی؟ کچھ نہیں کہا جا سکتا قریب قریب تو پورا ہونے کا امکان بھی نہیں ہے۔

Read more

چپکے سے محبت کا ورق موڑ دیا

سردی کی ہلاکت خیزی عروج پر تھی جب یخ بستہ رات کے دوسرے پہر نے کروٹ لی۔ گھپ اندھیرے میں خاموشی کا راج تھا۔ ہاں مگر گھڑی کی ٹک ٹک صاف سنائی دے رہی تھی۔ باہر شاید بارش برس رہی تھی۔ وہ بولی: کل کے بارے کیا وچار ہیں؟ آدرش بتائیں گے اپنے؟ ”آنے والے کل یا گزرے ہوئے کل؟ “ میں نے استفسار کیا۔ وہ مسکرائی اور بولی: ”آنے والے کل“۔ میں نے گہرا سانس لیا تو وہ موبائل میں دیکھتے ہوئے گویا ہوئی: ”14 فروری اسٹارٹ ہو گیا“۔ میں نے اپنے موبائل کی سکرین پر انگلی پھیری، دھیمی سی روشنی میں اس کا چہرہ پیار کی تپش سے جلتا معلوم ہو رہا تھا۔ جب کہ بارہ کا ہندسہ اپنے بعد والے ہندسے کو بدل چکا تھا۔ کافی دیر میں چپ کا روزہ رکھے اسے دیکھتا رہا۔ وہ خاموشی کے لبادے میں گھات کھا رہی تھی۔

Read more

جس کا وارث ہوں اسی خاک سے خوف آتا ہے

عجیب سانحہ مجھ پر گزر گیا۔ ایک سفر درپیش تھا لیکن ہیبت اس قدر تھی کہ قدم باہر رکھنے سے ہچکچا رہا تھا۔ دماغ میں پولیس موبائل اور ایمبولینس کے سائرن کی ملی جلی آوازوں کی بھنبھناہٹ تھی۔ ہچکچاہٹ بھی کیوں نہ ہوتی ساتھ میں والدہ اور بہنوں نے سفر کرنا تھا۔ بہت کوشش کی، بہانے بنائے کہ سفر ٹل جائے، ہم رک جائیں مگر مجبوری ایسی کہ نکلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ چار پانچ گھنٹے کا سفر، لیکن ڈر اور خوف کی تلوار تھی کہ سر پر لٹک رہی تھی۔

سب خو ف زدہ تھے۔ وحشت سی پھیلی ہوئی تھی۔ کیا خبر ملکی سلامتی کے ادارے کے تربیت یافتہ اہلکار؛ ملک کے وسیع تر مفاد میں ہمیں بھی مار گرائیں۔ کون ہے پوچھنے والا؟ خیر مقدر اور نصیب کا سہارا لیتے گاڑی کا بندوست کیا۔ لیکن شرط یہ تھی کہ کسی قسم کا کوئی سامان ساتھ نہیں رکھیں گے۔ حتی کہ والدہ اور بہنوں نے اپنے پرس بھی گھر چھوڑ دیے۔ ہاں مگر شناختی علامت کے ٹکڑے ساتھ رکھے تھے۔ اگر ٹپکا دیے گئے تو پہچاننے میں مصروف اداروں کو مشکل تو نہ ہو۔ کہاں ڈھونڈتے پھریں گے کہ کون تھے یہ ”دہشت گرد“۔ کہاں سے تھے؟ آخر نعشیں بھی تو حوالے کرنی ہوں گی۔ ہاں تھوڑے سے پیسے ساتھ رکھے تھے کہ اگر ضرورت مندوں نے ہاتھ ڈال دیا تو خالی نہ لوٹیں۔

Read more

ریل کہانی: رضا علی عابدی کی زبانی

ریل کہانی محترم رضا علی عابدی کی تصنیف ہے۔ رضا علی عابدی براڈ کاسٹر، صحافی اور ادیب ہیں۔ اہل علم و فن کی دنیا میں بڑا نام و مقام۔ پہلی مرتبہ جن کے نام سے میں اس وقت متعارف ہوا جب دوران لیکچر میرے محترم استاد نے مطالعہ کی اہمیت بتاتے ہوئے ان کا ذکر کیا اور بتایا کیسے انہوں نے کراچی سے پشاور تک دریائے سندھ کنارے سفر کیا اور کتب کی کتب پی گئے۔ مختصر ترین سامان کے ساتھ زاد راہ میں کتابیں تھیں جب وہ ختم ہو جاتیں تو اور منگوا لیتے۔

دریا میں پانی بہتا رہا جب کہ علم کا دریا، سندھ کنارے مشعل تھامے آگے چلے جا رہا تھا۔ فرمایا کرتے ہیں کہ مجھے نئی نسل اپنے باپ دادا کے حوالے سے جانتی ہے اور کہتی ہے کہ ہمارے آباء ریڈیو پر آپ کا پروگرام سنا کرتے تھے۔ بدبختی کا گمان ہوتا ہے کہ میرے باپ دادا نے مجھے ان کے بارے میں کیوں نہیں بتایا، نہ سنا ہو گا۔

دوسرے لمحے خوشی کی انتہا ہوتی ہے کہ میں ان سے بات کر سکتا ہوں۔ ان کی کتابوں کے طفیل ہی سہی ان سے مل سکتا ہوں۔ خوش بختی ہی تو ہے کہ ہم ان کو دیکھ، سن، اور سب سے بڑھ کر پڑھ رہے ہیں۔ خدا ان کا سایہ ہمارے سروں پر قائم دائم رکھے۔ ان کا یہ سفرنامہ جسے کہنے کو ہم ریل کی کہانی تو کہہ سکتے ہیں لیکن وہ حقیقت میں انسان کی داستان ہے، جذبات کے قصے اور احساسات کی حکایتیں ہیں۔ 1996 کے اوائل میں کیا گیا سفر، بی بی سی پر نشر ہونے والا دستاویزی پروگرام؛ غالباً سفر کی تیسری داستان جو کتابی شکل میں شائع ہوئی۔ یہ دستاویز ریلوے کے ہنستے بستے خوشگوار دنوں کی یاد ہے۔ بقول شخصے برصغیر کی ہتھیلی پر زندگی کی لکیر کی طرح دوڑنے والی ریلوے لائن کی کہانی کلکتہ سے کوئٹہ تک انگریز کے فہم کا بچھایا ہوا جال جو آج اپنوں کی بے حسی اور ناقدری کی یاد دلاتا ہے۔

Read more

تہذیب کے دائرے

سب اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھے گپیں ہانک رہے تھے کہ گھنٹی بجی۔ یہ میرے لیے بالکل انہونی بات تھی۔ کیونکہ اس سے پہلے ایسا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ اگرچہ گزشتہ کچھ عرصہ سے یہ روایت ہمارے ہاں بھی چل پڑی تھی اور ایسی جگہوں پر جانے کا اتفاق بھی ہو چکا تھا۔ مگر ہر ہی بار بھوکے واپس آنا پڑا، کیوں کہ قطار میں لگنے کی خواہش تو یوٹیلٹی سٹور کے سامنے کھڑے ہو کرپوری ہو چکی تھی، اور

Read more

خوشیاں کشید کریں!

ایک ویب سائٹ کھنگالنے کے دوران ایک تصویر پر نظر جا رکی۔ ایک ڈاکٹر آپریشن تھیٹر میں اوزار لیے کھڑے ہیں، سامنے اسٹریچر پر ایک بھالو لِٹا رکھا ہے۔ تعجب ہوا کھلونے کا آپریشن؟ پھر نظر جا کر ایک خبر پر رکی، جس کی تفصیل کچھ یوں تھی؛ ”ایک بچہ کینیڈا کے ہیلتھ سینٹر پہنچا اور ڈاکٹر سے اپنی معصوم خواہش کا اظہار کیا کہ میرے بھالو کا آپریشن کر دیں، یہ ٹھیک سے سو نہیں پاتا۔ “ انہوں نے بھالو کو ہسپتال داخل کیا پھر باقاعدہ بیہوشی کی دوا دے کر، اوزار اٹھا کر آپریشن کیا۔

ننھا مریض آپریشن مکمل ہونے کے بعد بھالو کو گھر لے گیا اور اب وہ سکون سے سونے لگا ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں : ”بچے کو خوش کرنے کے لیے اس کی ضد پوری کی۔ “ انہوں نے ڈرامائی سرجری کی تصاویر شیئر کی تھیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر تصویریں خاصی پسند کی گئیں۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا ”بچے کو خوشی دے کر وہ بہت سکون محسوس کر رہے تھے۔ “

Read more

اردو کی غلطیاں کیسے دور کریں؟

کسی بھی تحریر میں ذکر کیا گیا واقعہ جتنا اہم ہوتا ہے، اتنی ہی اہمیت اس میں استعمال کیے گئے الفاظ کی بھی ہوتی ہے۔ یعنی تحریر کی خوبصورتی الفاظ کے انتخاب؛ اور اس کے بعد صحیح اور برمحل استعمال میں ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ تحریر تو بہت شاندار ہوتی ہے لیکن دو چار الفاظ اس کا مزا کِرکرا کردیتے ہیں۔ نادانی یا نادانستگی میں ہم الفاظ کو صحیح طور ادا نہیں کر پاتے۔ کبھی مذکر و مونث کی چھوٹی سی غلطی تحریر کو پھیکا کردیتی ہے تو کبھی ”کا، کے، کی، ہے، ہیں اور نون غنہ، ہوتا، ہوتی“ وغیرہ کا غلط استعمال تحریر کو اڑان بھرنے سے روک لیتا ہے۔

اب یہ مسئلہ تو زبان کا ہوتا ہے۔ مادری زبان کا اثر اردو پر ظاہر ہونے لگتا ہے۔ بولیے یا لکھیے، صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اظہارِ خیال فرمانے والے شخص کی مادری زبان اُردو نہیں، کچھ اور ہے۔ سوشل میڈیا پر بہت سے دانشور دیکھے جن کے گرد لوگوں کا ایک ہجوم رہتا ہے۔ ان کی تحریر منٹوں میں سیکڑوں لائیکس اور کمنٹس اکٹھا کرلیتی ہے، لیکن جب تحریر پڑھیں تو وہی زبان کا مسئلہ، مذکر مؤنث کی خبر ہی نہیں ہوتی۔ کون سا لفظ کہاں اور کیسے لکھنا ہے، معلوم ہی نہیں۔ داد و تحسین کے شور و غوغا میں ایسی غلطیوں کی نشاندہی ممکن نہیں رہتی اور یوں قلمکار اپنی غلطیوں میں بھی پختہ سے پختہ تر ہوتا جاتا ہے۔

Read more

بجلی کی یاد میں

بجلی کی آنکھ مچولی جاری تھی بالآخر آنکھیں جھپکاتی ہوئی چلی گئی۔ خاصے انتظار کے باوجود نہ آئی، ہمت فین جھلتے جھلتے کلائی دُکھنے لگی تو میں تنگ آ کر باہر نکل گیا۔ کیا دیکھتا ہوں ”میرا دوست باغیچے میں اکیلا بیٹھا ہے، وہ بھی سیگرٹ سلگائے بغیر”۔ اول تو میں نے آنکھیں پھاڑ کر خوب غور سے اسے دیکھا، جگہ بدل کر، جھک کر، بیٹھ کر سیگرٹ تلاشا، جب دونوں ہاتھوں کی انگلیاں خالی دِکھیں تو پوچھ بیٹھا۔ ”مرزا!

Read more

زندہ رہنے کو بہت زہر پیا جاتا ہے

امریکی کہاوت ہے ’دنیا میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ کیسے زندہ رہا جائے؟ ‘ کب تک زندہ رہنا ہے یہ تو اللہ ہی جانتا ہے لیکن ہمیں فی زمانہ یہ سوال درپیش ہے کہ ’کیسے زندہ رہا جائے؟ ‘ وہاں جہاں ہر سو موت تقسیم ہوتی ہو، موت بک رہی ہو، موت کا رقص جاری ہو۔ اور متعلقہ ادارے فقط تماش بین کا کردار ادا کریں۔ موت کیسے، کہاں سے مل رہی، کہاں بک رہی ہے؟ تو

Read more

پختونخوا میں کب نظر آئے گی تبدیلی کی بہار

”تعلیم و تربیت ایک سنجیدہ کام ہے، تعلیمی معیار پر سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ صوبے میں تعلیم کے ساتھ مذاق برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بہترین تعلیمی سہولیات کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے حکومت کام کر رہی ہے۔ ‘ یہ کاغذی باتیں تھیں جو گزشتہ دنوں صوبائی سپیکر ایک وفد سے گفتگو میں کر رہے تھے۔ یہ وہی باتیں ہیں جو پچھلے پنج سالے میں بھی سنائی جاتی رہیں۔ میں

Read more

الجھن کی سلجھن

گالم گلوچ سے تر زبان کٹر کٹر چلی جا رہی تھی۔ تیز آواز سے وہ اپنے بیٹے کو کوس رہے تھے۔ راہ گیر رک رک کر دیکھتے، کون ہے وہ عظیم انسان جس پر مغلظات کی بارش ہو رہی ہے۔ وہ سر جھکائے بیٹھا تھا۔ سر اٹھاتا بھی کیسے؟ تماش بین تھے کہ دکان کے باہر جمگھٹا  لگائے کھڑے تھے جیسے کرتب کی ندیا بہہ رہی ہو۔ ”غلطی ہو گئی” اس نے سر اٹھا کر اتنا ہی کہا تھا کہ

Read more

گُل فردوس

وہ مجھے ہی گھور رہی تھی۔ میں اس پر پہلی نظر ڈالتے ہی لڑکھڑا گیا تھا۔ اس کی مخروطی آنکھوں میں عجب معصومیت رچی تھی۔ میں پوری محویت سے اسے دیکھتا رہا۔ انہی لمحات میں مجھے احساس ہوا، کچھ بھی ہو، ہے تو میرے پڑوس میں، مجھے اخلاقی تقاضے سے خیال رکھنا چاہیے، کوئی دیکھ لے تو کیا سوچے؟ میں اندر آگیا۔ اگلی صبح فضا میں قدم رکھتے ہی میری نگاہیں اس سے ٹکرائیں، وہ کل والی جگہ پر اس

Read more

گُل فردوس

وہ مجھے ہی گھور رہی تھی ۔ میں اس پر پہلی نظر ڈالتے ہی لڑکھڑا گیا تھا۔ اس کی مخروطی آنکھوں میں عجب معصومیت رچی تھی۔ میں پوری محویت سے اسے دیکھتا رہا۔ انہی لمحات میں مجھے احساس ہوا ، کچھ بھی ہو ، ہے تو میرے پڑوس میں ،مجھے اخلاقی تقاضے سے خیال رکھنا چاہئے، کوئی دیکھ لے تو کیا سوچے؟ میں اندر آگیا۔ اگلی صبح فضا میں قدم رکھتے ہی میری نگاہیں اس سے ٹکرائیں ، وہ کل

Read more

جب الفاظ اپنی حرارت کھو بیٹھے

ملک کے بائیسویں وزیراعظم کے حلف اٹھاتے وقت پورا مجمع دم سادھے بیٹھا تھا۔ خاموشی کا یہ عالم تھا کہ اڑتی ہوئی مکھی کی بھنبھناہٹ بھی صاف سنائی دیتی۔ جب وہ حلف کے الفاظ دہراتے ہوئے اٹکے اور ہنس کر گزر گئے۔ جب سے ملک کے نو منتخب وزیر اعظم کے حلف اٹھانے کی تقریب دیکھی تب سے داغستانی شاعر رسول حمزہ توف کا ایک قول سامنے آرہا ہے۔ ’بیٹا ماں کی زبان بھول جائے یہ ایک بددعا سمجھی جاتی

Read more

اپنے وطن کو برگ و شجر کا تحفہ دیں

ماہِ اگست شروع ہوتے ہی چہار سو ہریالی نظر آتی ہے۔ گلی محلوں سے گزر ہو یا پھر بازاروں، مارکیٹوں سے، گردو نواح پر نظر ڈالیں تو ہریالی ہی ہریالی دکھائی دیتی ہے۔ برقی قمقمے، روشنیاں، جھنڈیاں۔ جی خوش ہو جاتا ہے کہیں سبز ہلالی پرچم لہرا رہا ہے تو کہیں سبز و سفید رنگ کا تقرب جی خوش کرنے کو کافی ہوتا ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ یہ سب مصنوعی ہوتا ہے۔ جو ماہ اگست کے گزرتے

Read more

خبردار! ووٹ مانگ کر شرمندہ نہ کریں

خبردار! ”ووٹ مانگ کر شرمندہ نہ کریں“۔ یہ چند حرفی اعلان ان سب سیاسی پنڈتوں، سیاسی مداریوں کے لیے ہے جو دہائیوں سے کرسی اقتدار پر رہ چکے ہیں، لیکن علاقے کی پس ماندگی ختم کر سکے، نہ ہی کوئی اعلی پائے کا ترقیاتی کام کروا پائے۔ اگر کہیں کنواں نکلوایا، گلی پختہ کروائی، روڈ پر کنکریٹ ڈال دی یا ٹرانسفارمر لگوا دیا تو حضور! اپنی ذمہ داری یا قوم کی بھلائی کے لیے تو نہیں کیا ناں! ووٹ کے

Read more