ریل کہانی محترم رضا علی عابدی کی تصنیف ہے۔ رضا علی عابدی براڈ کاسٹر، صحافی اور ادیب ہیں۔ اہل علم و فن کی دنیا میں بڑا نام و مقام۔ پہلی مرتبہ جن کے نام سے میں اس وقت متعارف ہوا جب دوران لیکچر میرے محترم استاد نے مطالعہ کی اہمیت بتاتے ہوئے ان کا ذکر کیا اور بتایا کیسے انہوں نے کراچی سے پشاور تک دریائے سندھ کنارے سفر کیا اور کتب کی کتب پی گئے۔ مختصر ترین سامان کے ساتھ زاد راہ میں کتابیں تھیں جب وہ ختم ہو جاتیں تو اور منگوا لیتے۔
دریا میں پانی بہتا رہا جب کہ علم کا دریا، سندھ کنارے مشعل تھامے آگے چلے جا رہا تھا۔ فرمایا کرتے ہیں کہ مجھے نئی نسل اپنے باپ دادا کے حوالے سے جانتی ہے اور کہتی ہے کہ ہمارے آباء ریڈیو پر آپ کا پروگرام سنا کرتے تھے۔ بدبختی کا گمان ہوتا ہے کہ میرے باپ دادا نے مجھے ان کے بارے میں کیوں نہیں بتایا، نہ سنا ہو گا۔
دوسرے لمحے خوشی کی انتہا ہوتی ہے کہ میں ان سے بات کر سکتا ہوں۔ ان کی کتابوں کے طفیل ہی سہی ان سے مل سکتا ہوں۔ خوش بختی ہی تو ہے کہ ہم ان کو دیکھ، سن، اور سب سے بڑھ کر پڑھ رہے ہیں۔ خدا ان کا سایہ ہمارے سروں پر قائم دائم رکھے۔ ان کا یہ سفرنامہ جسے کہنے کو ہم ریل کی کہانی تو کہہ سکتے ہیں لیکن وہ حقیقت میں انسان کی داستان ہے، جذبات کے قصے اور احساسات کی حکایتیں ہیں۔ 1996 کے اوائل میں کیا گیا سفر، بی بی سی پر نشر ہونے والا دستاویزی پروگرام؛ غالباً سفر کی تیسری داستان جو کتابی شکل میں شائع ہوئی۔ یہ دستاویز ریلوے کے ہنستے بستے خوشگوار دنوں کی یاد ہے۔ بقول شخصے برصغیر کی ہتھیلی پر زندگی کی لکیر کی طرح دوڑنے والی ریلوے لائن کی کہانی کلکتہ سے کوئٹہ تک انگریز کے فہم کا بچھایا ہوا جال جو آج اپنوں کی بے حسی اور ناقدری کی یاد دلاتا ہے۔
Read more