بکرا منڈی سے لے کر مجرا منڈی تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ”ملک“ میں نئے تہوار کی آمد آمد ہے۔ کسی فینسی بکرا منڈی چلیں! آئیے موڈ بھی ذرا خوشگوار ہو جائے گا تھوڑی دل و دماغ کی آب و ہوا بھی تبدیل ہو جائے گی۔ دور سے ہی Honey sing کے عجیب و غریب منطق والے گانے فل آواز میں بج رہے ہیں جانور بچارے شور سے آنکھیں پھاڑے انسانی پلس حیوانی مخلوق کو دیکھ کر اللہ جانے دل میں کیا سوچتے ہوں گے۔ گول دائرے کے درمیان تنگ کپڑوں میں میک اپ تھوپے عورت ناچ رہی ہے۔ جی ہاں یہ سب بکرا منڈی میں ہوتا ہے۔ بکرا منڈی میں ہونے والے مجرے۔

ہم گھر سے سنت ابراہیمی کی نیت سے نکلے تھے کہ ایک آدھ تگڑا جانور لے کر اس کی رسی تھامے گھر آئیں گے پر یہاں تو جی رونقیں لگی ہیں رونقیں۔ پہلی سوچ اس ناچی عورت کو دیکھ کر یہی دماغ میں آئی کہ اس کو کیا چیز اس چوک میں ننگی نظروں والے مردوں کے سامنے نچا رہی ہے۔ انسانی جسم کا ایک حصہ جس کو پیٹ کہا جاتا ہے۔ سچ پوچھیں تو دنیا کا اصل فساد ہی یہ پیٹ ہے۔

ہم نے لاکھ مجرے سے آنکھیں چرانے کی کوشش کی پر۔ خیر ایک جانور لے کر گھر پہنچے۔ ساتھ والے کھوکھر صاحب کے چھوٹے بچے نے ہمارے معصوم سے جانور کے لمبے کان کھینچ کر کہا۔ ہمارے ابا تو دس لاکھ کا بیل لینے گئے ہیں۔ ہم نے سوچا بچہ ہے کیوں نہ بچے کو قربانی کا اصل مقصد بتایا جائے۔

پر ہم اپنے اور اپنے بکرے کے کان بچا کر گھر کے اندر تشریف لے گئے۔ اونہہ جس کا جو دل چاہے وہ کرئے اور کہے ہم نے کسی کی تربیت کرنے کا ٹھیکہ تھوڑی لے رکھا ہے۔ ہم سب بس اپنے بارے میں سوچتے کے عادی ہیں۔ اور نہ ہی ہماری تعلق کسی تبلغی جماعت سے تھا۔ توخاموش ہو گئے۔ ہمیں یاد آیا کہ۔

محلے کے گھر میں ایک کام والی کی جوان بیٹی کسی لڑکے کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی تھی۔ حلال کام یعنی کہ نکاح کرنے کی غرض سے۔ تب سب محلے والوں نے کیا دھماکے دار تبلیغ کی تھی ایسے ایسے فتوی ایجاد کیے گئے تھے کہ خدا کی پناہ۔

اصل میں کھوکھر صاحب کا بچہ کھاتے پیتے گھر کا ہے اور کام والی مائی کی بیٹی بچاری غریب۔

جی ہاں میں تہوار والے موضوع سے ہٹ چکی ہوں معلوم ہے مجھے۔

چلیں میری طرف راستوں میں پڑی ہوئی اوجڑی۔ بد بو دار کوڑے اور نمائشی جانوروں سے بھری بکرا عید مبارک۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •