کل وہی تعویز استعمال ہوا، جو اپوزیشن نے سنجرانی کو لانے کیلئے کیا تھا: فردوس عاشق اعوان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ کل وہی تعویز بروئے کار لایا گیا جو اپوزیشن نے سنجرانی کو لانے کیلئے استعمال کیا تھا۔ کیا کسی نے دیکھا کہ حکومت نے لوگوں کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ٹھپے لگوائے ہوں؟ سینیٹرز کو آئین کے تحت خفیہ رائے شماری کا موقع ملا تو انہوں نے وہ غلامی کی زنجیریں توڑیں اور کھل کر اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ جب تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا عمل شروع ہوا، تو کیمرے لگے ہوئے تھے۔ آپ لوگوں نے کہاں دیکھا کہ حکومت نے کس کو پکڑ پکڑ مہریں لگوائیں؟ لوگوں کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ٹھپے لگوائے؟ دیکھیں یہ ضمیر کے اندر جکڑے ہوئے قیدی ہیں جن کو ان جماعتوں نے یرغمال بنایا ہوا تھا۔ لیکن اب ان سینیٹرز کو آئین کے تحت خفیہ رائے شماری کا موقع ملا تو انہوں نے وہ غلامی کی زنجیریں توڑیں اور کھل کر اظہار کیا۔

فردوس اعوان نے ایک سوال پر کہا کہ پاکستان کے ادارے آئین اور قانون کے تابع ہیں، خواہشات یا ارمانوں کے تابع نہیں ہیں، اگر اخلاقیات کی بات کی جائے تو پھر سنجرانی نے ظل سبحانی کی شان میں کون سی گستاخی کی تھی، کہ ان کو جیل میں ہی حکم جاری کرنا پڑا کہ سنجرانی کو ہٹا دیا جائے۔

ظل سبحانی کو معلوم ہونا چاہیے کہ اب نیا پاکستان ہے، اب ادارے ان کے تابع نہیں ہیں۔ فردوس عاشق اعوان نے ایک سوال پر کہا کہ اس تعویز کا نام ضمیر ہے، ضمیر ہر انسان کو حق دیتا ہے ، یہ تعویز باہر سے نہیں آیا انسان کے اندر سے تعویز نے عملداری کی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •