اور جمہوریت کا حسن مزید نکھر گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں ہم 1958 سے جمہوریت کا ”حسن“ دیکھتے آرہے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ انسانوں کے حسین سے حسین چہرے عمر کے ساتھ ساتھ نہ صرف اپنا حسن کھوتے چلے جاتے ہیں بلکہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب نہ تو وہ چہرے ان کے ”سگوں“ کو اچھے لگتے ہیں، نہ غیروں کو اور نہ خود ان کو جن کے وہ اپنے چہرے ہوتے ہیں۔ نوبت یہاں تک آن پہنچتی ہے کہ بوڑھی گھوڑی کو لاکھ لال لگام ڈالو وہ اچھی لگ کر ہی نہیں دیتی لیکن پاکستان کی جمہوریت کے چہرے کا حسن ہر بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ چاند کی طرح نکھرتا جارہا ہے اور اب تو بقول شاعر یہ عالم ہوگیا ہے کہ

تاب نظارہ کہاں دیکھیں جو یک جنبش تجھے
اک نظر ہے خال کی جانب تو اک خد کی طرف

سینیٹ میں چیئرمین سینیٹ کے خلاف ایک مہم چلی اور جوقرارداد منظور ہوئی اس کی گواہی کے لئے 64 افراد نے ہاتھ اٹھائے لیکن جب خفیہ رائے شماری ہوئی تو ان میں سے 50 افراد نے حمایت میں ہاتھ گرادیئے اور 14 افراد نے حمایت کے سر سے ہاتھ اٹھا لئے اور یوں سینیٹ کے چیئرمین نے 104 کے ایوان میں اپنی مخالفت میں 53 ووٹ نہ آنے کی وجہ سے اپنے مخالف کے مقابلے میں 5 ووٹ کم لینے کے باوجود اپنی سیٹ برقرار رکھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ 50 ووٹوں کے مقابلے میں 45 ووٹ لینے والا کامیاب قراردیا گیا لیکن جس کے سارے حمایتی بڑی مشکل سے 36 ہی بنتے تھے اس کو پاکستان کی جمہوریت کے سب سے بڑے ایوان میں 36 ووٹوں کی بجائے 45 ووٹ مل جانا اور جن کے حمایتیوں کی تعداد 64 ہو اس کو صرف 50 ووٹ ملنا اگر جمہوریت کا حسن نہیں تو پھر اس کو کیا نام دیا جاسکتا ہے۔

104 کے ایوان میں 100 افراد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ دو (جماعت اسلامی کے ) ارکان نے بہت پہلے ہی ووٹ نہ دینے کا اعلان کردیا تھا، اس طرح یہ تعداد بنی 102، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باقی 2 ارکان کون تھے جنھوں نے اپنا حق استعمال نہیں کیا۔ ویسے بھی وہ تمام سیاسی پارٹیاں اور ان کے اکابرین جو عوام سے یہ فرماتے نہیں تھکتے کہ رائے کا استعمال قومی فریضہ ہے، اب وہ اس بات کا کیا جواب رکھتے ہیں کہ انھوں نے ان ووٹوں کو خود اپنے ہی حق میں بھی کیوں استعمال نہیں کیا؟

کیا سینیٹ کے چیئرمین کے لئے ایک سے زائد امیدواروں کا کھڑا ہونا خلافِ آئین و قانون تھا؟ اگر ان کے نزدیک کوئی امیدوار بھی چیئرمین بننے کا اہل نہیں تھا تو وہ خود بھی اپنے آپ کو ایوان کے سامنے پیش کر سکتے تھے۔ ووٹنگ میں شریک نہ ہوکر آخر انھوں نے قوم کو کیا پیغام دیا، یہی کہ پاکستان کے سب سے بڑے جمہوری ایوان میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں جو اس معیار کا ہو جسے پاکستان کے ایوان میں سب سے بڑے مرتبے پر بٹھایا جا سکے۔ یہ ایک افسوسناک امر ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے اس لئے کہ اگر پاکستان کے سب سے بڑے جمہوری ایوان میں سب ناقابل اعتبار و نا اہل ہیں تو پھر ایسے ایوان میں ”نیک“ اور ”پارسا“ افراد کا بیٹھنا دین کا کون سا فریضہ قرار دیا جاسکتا ہے؟

سینیٹ کا الیکشن ہارنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں کا کیا ردعمل ہوا، یہ ایک الگ بحث ہے اس لئے کہ صدمات دماغی کیفیت کو ہمیشہ بری طرح متاثر کردیا کرتے ہیں۔ لیکن جیت کی خوشی بھی دل و دماغ پر کوئی اچھا اثر نہیں چھوڑا کرتی اور اکثر شادی مرگ جیسے سانحات بھی ہوجایا کرتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ پی ٹی آئی کے ساتھ بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سینیٹ میں قائد ایوان اور تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز کا کہنا ہے کہ ’مولانا فضل الرحمن کے گھر جا کر ان سے ملاقات کی مگر انہیں عزت راس نہیں آئی اورانہوں نے عوام میں جا کر یہ پیغام دیا جیسے حکومت ان سے مدد مانگنے آئی ہے۔‘

میں اس بیان پر پر اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ کوئی ایسی خوشی جس کے حاصل ہوجانے کا کوئی امکان دور دور تک نہ ہو، وہ اگر مل جائے اور وہ بھی اچانک، تو کسی بھی نارمل انسان کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پی ٹی آئی فضل الرحمن کے در پر ووٹ کی بھیک لینے نہیں گئی تھی تو کیا ”ناؤنوش“ کے لئے گئی تھی۔ جس کے پاس سیٹیں ہی 36 ہوں اور اس کے سینیٹ کے چیئرمین کو خود اپنی شکست اتنے واضح اور صاف نظر آرہی ہو کہ وہ آخری لمحوں میں مستعفی ہونے کے لئے بھی تیار ہوگیا ہو، اس کی پارٹی ”بھیک“ مانگنے اگر نہیں بھی گئی تھی تو ہاتھ پاؤں تو ضرور جوڑنے گئی ہوگی لیکن پاؤں میں گرجانے کے بعد سخت ناکامی اور ”این آر او“ سے انکار ہوا تو پھر ناک کٹتے دیکھ کر وہی کیا جو ہردور میں ہوتا رہا یعنی ”چہ روٹی کھاؤ چہ گولی کھاؤ“ اور اس کا سب سے بڑا ثبوت 64 میں 14 ہاتھوں کو ”گولی“ یا ”روٹی“ سے قلم کردیا گیا۔

اگر کوئی یہ کہے کہ یہ محض الزام ہے تو پھر ایوب خان کا الیکشن کرانا اور جیت جانا، ضیا کے دور میں محمد خان جنیجو کو وزیر اعظم بنانا، پرویز مشرف کے دور میں مسلم لیگ ”ق“ سے بھی کام نہ چلنے کے بعد ”پی پی پی پی“، یعنی ”چار پی“ کا وجود میں آنا، چار مرتبہ ”دوتہائی“ سے بھی زیادہ اکثریت حاصل کرنے والی پارٹیوں کی حکومت کو بیک جنبش ”ابرو“ توڑ دینا اور ایک ایسی پارٹی جس کی ایوان میں نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی اس کو 126 دنوں تک دارالحکومت کے ریڈ زون میں ہر قسم کی خلاف ریاست کارروائیاں جس میں قبریں کھودنا اور سروں سے عملاً کفن باندھ کر ریاستی اداروں اور عمارتوں پر حملہ آور ہونے پر خاموش تماشائی بنے رہنے کو کس کھاتے میں فٹ کیا جائے گا۔ اصغر خان کے کیس میں ساری خرید و فروخت کا ذکر ہونا اور نجی ٹی وی چینلوں پر کئی بڑے اعلیٰ عسکری عہدیداروں کا مبینہ بیان کہ کس کس طرح پاکستان میں پارٹیاں بنائی گئیں، مہمات چلائی گئیں، روپے پیسے کا بے دریغ استعمال ہوا اور پارٹیاں توڑی گئیں کو، کس میں شمار کیا جائے گا۔

شبلی فراز نے مزید فرمایا کہ فضل الرحمن نے اس عدم اعتماد کی تحریک کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جبکہ باقی بڑی سیاسی جماعتیں اس تمام عمل میں استعمال ہوئی ہیں، تو جواباً عرض ہے کہ سیاست میں اپوزیشن یا کوئی بھی سیاسی جماعت کسی دوسرے کی حوصلہ افزائی تو کیا نہیں کرتیں، ہر جماعت اپنے ہی مفاد کے لئے جدوجہد کیا کرتی ہے۔ رہی دیگر سیاسی جماعتوں کے استعمال ہونے کی بات تو کیا وہ استعمال نہیں ہو رہے؟ بقول جوش ملیح آبادی

آدمی بزم میں دم تقریر
جب کوئی حرف لب پہ لاتا ہے
درحقیقت خود اپنے ہی حق میں
کچھ نہ کچھ فیصلہ سناتا ہے

یہ اتنی سچی بات ہے جس سے کھرا سچ شاید ہی کوئی اور ہو۔ چور چور کا شور سب سے زیادہ چور کو مچاتے سنا، کرپٹ کرپٹ کی بہت چیخ و پکار ہے لیکن پاکستان ہی کیا دنیا پھر کے سارے بدعنوانوں کو اپنی چھتری تلے جمع کیا گیا، دوسروں پر چھانگا مانگا کا الزام لگانے والے جہانگیر ترین کے جہازوں اور ہیلی کاپٹروں میں فیول بھر واتے دیکھے گئے، پوری 22 سالہ زندگی میں دنیا کے ہر فورم کو آئی ایس آئی کو شدید تنقید کا نشانہ بنانے والے آج ان ہی کے حق میں بولتے نہیں تھک رہے ہیں، امریکہ کی مخالفت کرنے والے، ان کی نیٹو سپلائی روکنے والے اور ان کی جنگ میں کبھی شریک نہ ہونے کا دعویٰ کرنے والے آج اسی کے آگے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں اور ہر وہ کام کرنے کے لئے تیار ہیں جو ماضی میں ان کے لئے سور سے بھی زیادہ حرام شمار ہوتا تھا۔ یہ وہ ساری سچائیاں ہیں جو جوش ملیح آبادی نے صرف چار مصرعوں میں بیان کر کے رکھ دی ہیں۔

پاکستان میں جمہوریت کے اس حسن کے سلسلے میں ہر غور و فکر کرنے والے کے لئے صرف اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ غیر منقسم ہندوستان کی اس مغربی پٹی، جس کو ماضی میں مغربی پاکستان اور آج پاکستان کہا جاتا ہے، سے گزرکر نہ جانے کتنے فاتحین وسط ہندوستان میں داخل ہوکر حملہ آور ہوتے رہے، جس میں محمود غزنوی کے 17 حملے بھی شامل ہیں، لیکن کیا تاریخ یہ بتاسکتتی ہے کہ افغانستان سے داخل ہونے والے کسی بھی حملہ آور کو اس پوری پٹی میں کبھی کوئی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •