ایک ٹی وی سیریز جسے فحش قرار دے کر کوئی سرمایہ کاری نہیں کر رہا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے اس ٹی وی سیریز کا مرکزی خیال جس جس پروڈکشن ہاوس کو دکھایا، اُس نے چھوٹتے ہی انکار کر دیا، کہ یہ ٹی وی سیریز ہمارے یہاں نہیں بن سکتی، کیوں کہ ہماری اقدار کے خلاف ہے۔ مجھے نہیں سمجھ آتا جہاں ہم ایسے ایسے لغو ٹی وی سیریز بنا رہے ہیں، وہاں میرا یہ اچھوتا خیال کیوں کسی پروڈکشن ہاوس کی توجہ نہیں حاصل کر پا رہا۔ میں یہاں اس ٹی وی سیریز کا مرکزی خیال، آپ کے سامنے رکھتا ہوں، آپ بتائیے، کیا یہ فحش ہے؟ اس اُمید پر سناتا ہوں، کہ آپ میں سے کوئی ایسا ہو، جو اس ٹی وی سیریز کی پروڈکشن میں سرمایہ کاری کرنے میں دل چسپی رکھتا ہو۔

کہانی کا آغاز یوں ہوتا ہے: چودھریوں کے خاندان کی پریشانی ہے، کِہ مخدوم اُن کے ہاتھوں کا بچہ، اُس کے فیصلوں کی مخالفت کرنے لگا تھا۔ کھلایا پلایا، پروان چڑھایا، گاوں کی جمہوری کونسل کا سربراہ بنوایا، لیکن پھر بھی وہ چودھریوں ہی کے منہ کو آیا۔ چودھریوں کے چمچوں کا کہنا ہے، ’’مخدوم کو جانتا ہی کون تھا، اپنے طور پہ کوشش کرتا، تو نچلی کمیٹی کی نشست بھی نہ جیت پاتا‘‘۔ ٹی وی سیریز میں ہم یہ سب تفصیل سے دکھائیں گے، کہ کیسے چودھریوں نے مخدوم کو اپنے سب سے بڑے حریف کی بیٹی بے مثال کے مقابلے میں لاکھڑا کیا تھا، تا کہ اُس کا حریف چودھریوں کے اختیارات کو چیلنج نہ کر سکے۔

اس گاوں جس کی یہ کہانی ہے، اس گاوں کی حد بہت پھیلی ہوئی ہے (گاوں کی لوکیشن سستے میں مل جائے گی)۔ یہاں ہر ذات برادری کے لوگ بستے ہیں۔ گاوں کا انتظام چلانے کے لیے مرکزی کونسل ہے۔ کونسل ممبر منتخب ہونے کے لیے گاوں کے ان پڑھ، پڑھے لکھے مرد و زن، چوہڑے چمار، مِراسی، موچی، مولوی، استاد، طالب علم، جولاہے، تیلی، کلرک، چودھری، الغرض ہر ذات کے ہر بالغ فرد کے ووٹ کی ایک سی حیثیت ہے۔ یہ نظام چودھریوں کو پسند نہیں، لیکن کچھ کارن ہیں، کِہ اس جمہوری نظام کو جاری رکھنا اُن کی مجبوری ہے۔ یہ سب کارن مختلف اقساط میں، تفصیل سے بیان ہوں گے۔

اس ٹی وی سیریز میں دکھایا جاتا ہے، کہ چودھریوں کے ذمے گاوں کی سرحد کی نگرانی ہے۔ یہ نگران اور دیگر انتظامی ادارے، نیز مقننہ یعنی جرگہ جمہوری کونسل کے آئین کے ما تحت ہیں۔ سب کے سب ایک قانون کے تابع ہیں، لیکن یہاں کے قوانین کم زور کے مقابلے میں طاقت ور کے گھر کی لونڈی ہیں (یہ لونڈیاں ڈھانپ کے دکھائی جائیں گی)۔ گاوں میں چودھری سب سے طاقت ور ہیں، کیوں کہ بندوقیں اُن کے پاس ہیں (نقلی بندوقیں ہوں گی، جنھیں سستے میں کرائے پر لیا جائے گا)۔ گاوں کے آئین کے تحت جمہوری کونسل کی تعظیم افضل ہے، لیکن بس آئین کی کتاب کی حد تک۔ تقدیس کی محراب چودھریوں نے اپنے ماتھے پر سجا رکھی ہے۔ ایک زمانے میں چودھریوں نے بندوق کے زور پہ جمہوری کونسل کی بلڈنگ پر قبضہ کر لیا تھا (پرانا دور فلیش بیک میں دکھایا جائے گا)، پھر انھوں نے زبر دستی ایسے قوانین لاگو کیے، کہ تمام عوامی نمایندوں کو نا اہل قرار دے کر، نئے سرے سے عوامی نمایندوں کا بیج بویا۔ سیاست کی نرسری لگائی (یہ فلیش بیک میں ہے، اور میرے جاننے والے کی نرسری میں مفت میں رِکارڈ ہو سکے گا)، نرسریوں میں پروان چڑھے عوامی نمایندوں کو ووٹ حاصل کرنے کے لیے فیلڈ میں بھیجا گیا (یہ سب بھی فلیش بیک میں دکھاتے چلے جائیں گے)۔ دکھاتے ہیں کہ یہ عوامی نمایندے عوام کے حقوق کی حفاظت کی قسمیں کھاتے ہیں، اور چودھریوں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ جب جب یہ عوامی نمایندے چودھریوں سے بغاوت کا سوچتے ہیں، توچودھری جمہوری کونسل کی عمارت پر قبضہ کر لیتے ہیں (سیریز کے تھرلنگ سین ہیں، یہاں پروڈکشن کا خرچ، معمول سے زرا زیادہ ہوگا)۔ چودھری جمہوری عمارت کا تقدس مجروح کرتے،  آئین سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں (یہاں اینی میشن کے ذریعے دکھائیں گے، کہ آئین کا چہرہ کیسے مسخ ہوتا ہے)۔

چودھریوں کی اس زور آوری سے گاوں والوں کا، اور گاوں کی فصلوں کا بہت نقصان ہوتا ہے، لیکن چودھری اپنے جوڑ توڑ، سازشوں، اور زور آوری دکھانے سے باز نہیں آتے۔ ہم دکھائیں گے، کہ ایسے عوامی رہ نما جو واقعی میں عوام کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں، ان کا اُبھرنے سے پہلے ہی دبا دیا جاتا ہے، یا مروا دیا جاتا ہے (یہ سب فلیش بیک ہی میں دکھانا ممکن ہو گا)۔ ان کا یہ سب کیا دھرا، جب جب گاوں والوں کے سامنے آ جائے، تو چودھری یہ کہیں گے، ’’ہم نے جو بھی کیا، گاوں کے عظیم تر مفاد میں کیا‘‘۔ (اس بیان کے دوران میں، پسِ پردہ رزمیہ گیت بجے گا)۔ مختلف مناظر میں یہ نظر آئے گا، کہ  زیریں زیریں جمہوری کونسل کے ارکان کو بد کردار، گاوں دشمن کہا جا رہا ہے، گاوں کا مفادات کا سودا کرنے والے بتلا کر بد نام کیا جاتا ہے۔ یہ سب اس لیے، کہ چودھری نہیں چاہتے، عوامی نمایندوں میں کوئی ایسا ہو، جس پر گاوں کے ووٹر آنکھیں بند کر کے اعتبار کر سکیں۔ چودھریوں کا یہ احساس دکھایا جائے گا، کہ کسی کی عوامی مقبولیت، اُن کے ارادوں کی راہ میں حائل ہو سکتی ہے۔ اس سیریز میں ہم دکھائیں گے، کہ گاوں کا کون سا کاروبار ایسا ہے، جو چودھریوں نے اپنے ہاتھ میں نہ لے لیا ہو۔

ناظرین کے لیے یہاں اخلاقی سبق ہو گا، کہ ایک مدت تک جب طاقت کا کھیل کھیلا جاتا رہے، تو بستی والوں میں بد عنوانی فروغ پانے لگتی ہے۔ جہاں جرگے انصاف پر مبنی فیصلے نہ کرتے ہوں، سر پنج بکاو ہوں، تھانے دار رشوت لے کر پرچا کاٹتا ہو۔ یا کئی بار رشوت لے کر بھی چوروں کا ساتھ دیتا ہو، تو کیسے شہریوں کی نفسیات ترتیب پاتی ہے (یہ سین لکھتے عوامی شعور پہ جبر کے اثرات کے بارے میں ماہرین نفسیات سے مدد لی جائے گی)۔ چوں کہ اس ٹی وی سیریز کے گاوں میں طاقت ور کم زور کو دبا دیتا ہے، تو گاوں والوں کی تربیت یوں ہونے لگتی ہے، کہ جہاں کم زور دکھائی دے، اس کی جیب کاٹ لی جائے۔ نیچے سے لے کر اوپر تک، اوپر سے لے کر، نیچے تک، کوئی کردار ایسا نہیں بچے گا، جس کے ہاتھ صاف ہوں (فائدہ یہ ہو گا، کہ پروڈکشن کے بجٹ میں ٹشو پیپر کا خرچ نہیں ہو گا)۔ کہانی میں ہم دکھائیں گے، کہ کم یا زیادہ، گاوں کا ہر باشندہ بدعنوان ہوتا چلا گیا، اس لیے کہ گاوں میں ایمان داری سے جینا ممکن ہی نہیں رہا۔ جو ایمان داری پر چلتا ہے، اُسے ہم پاگل  دکھائیں گے۔ ہاں! ہم اس سیریز میں یہ ضرور دکھائیں گے، کہ ایمان اداری کے پاٹھ مسجدوں، مدرسوں، اسکولوں یا تقریروں کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ ہمارے اس خیالی گاوں میں جو جتنی طاقت حاصل کر لیتا ہے، وہ اتنا ہی بد عنوانی سے اپنے ہاتھ رنگتا ہے (رنگ خریدنے میں پروڈکشن کے اخراجات میں معمولی اضافہ ہو گا، جسے ہم عملے کے نچلے ارکان کے کھانے کے بجٹ سے کٹوتی کر کے مینیج کر لیں گے)۔

دکھائیں گے، کہ اس گاوں میں کوئی شے خالص نہیں رہی۔ نہ دودھ، نہ پانی، نہ رشتے، نہ ناتے۔ انتظامی کمیٹی دُکنداروں سے اپنا حصہ وصول کر کے انھیں بستی والوں کو لوٹنے کی کھلی چھوٹ دیتی ہے۔ اسپتال قصابوں کے حوالے ہیں۔ اسکول تاجروں کو تھما دیے گیے ہیں۔ سب سے طاقت ور یعنی چودھری ہر کاروبار میں ہاتھ ڈالے ہوئے ہیں، لیکن کسی کی مجال نہیں، کہ چودھریوں کے کاروبار کا احتساب کر سکے۔ کوئی اُن کے احتساب کی ندا دے، تو ڈانٹ دیا جاتا ہے، یہ کہتے کہ چودھریوں سے سوال مت کرو، وہ گاوں کی سر حد کے محافظ ہیں، اہل دیہ کے تحفظ کے لیے اپنا لہو بہاتے ہیں۔ جب ان کی بدعنوانی پر بات کرنے کی اجازت ہی نہیں، تو بستی والوں کو چودھریوں کی تعریفیں کرتے دکھائیں گے (بستی والوں کا کردار نباہنے کے لیے شوقیہ فن کاروں کو مفت لیں گے)۔ یہ شوقیہ فن کار ایسے مکالمے بولیں گے، کہ ایک چودھری ہی ہیں، جن کا ایمان سلامت ہے۔ پھر ایسے کردار بھی دکھائیں گے، جو چودھریوں کی دیانت داری سے انکاری ہیں (یہ مختصر کردار ادا کرنے والے نوجوان، ہم اسکول کالج سے فری ہائر کریں گے)۔ انھیں گاوں کا غدار اور چودھری دشمن بتلایا جائے گا۔ ٹی وی سیریز میں ان نوجوانوں کو نا معلوم کر دیا جاتا ہے، یا ماورائے عدالت قتل  کر کے کہیں دفنا دیا جاتا ہے (یہی وجہ ہے، ان کا کردار طویل نہیں ہوتا)۔ جو بچ رہیں گے، ان کے مکالمے نہیں ہیں، کیوں کہ وہ خاموش ہیں۔

دکھائیں گے، کہ مخدوم بھی اسی گاوں کا باشندہ ہے، تو جب گاوں میں بد عنوانی عام ہے، تو مخدوم بھی انھی جیسا ہے۔ وہ کبھی چودھریوں کا چہیتا ہوا کرتا تھا، پھر چودھریوں سے ان بن ہو گئی۔ اس ان بن کی بہت سی وجوہ ہیں، جنھیں مختلف اقساط میں تفصیل سے بیان کیا جائے گا۔ چودھریوں کو جب مخدوم ہاتھ سے نکلتا دکھائی دے گا، تو ایسے میں وہ کبڈی کے سابق کھلاڑی کی پیٹھ تھپتھپائیں گے، جو ایک عرصے سے جمہوری کونسل کا سربراہ بننے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ بد عنوانی کے خلاف جہاد اُس کا موٹو ہے، جب کہ نہ اسے کماتا دکھائیں گے، نہ ٹیکس ادا کرتے، لیکن اس کا طرز سکونت شاہانہ ہو گا۔ بس وہ مخالفین پر تنقید کرتا پایا جائے گا، جب تک کہ مخالف اس کی پارٹی نہ جوائن کر لے۔ کوئی اس کا حلیف بن جائے، تو اس کے پرستار اس حلیف کو دودھوں دھلا بتلانے لگیں گے (ماہرین نفسیات سے ایسے پرستاروں کی نفسیاتی حالت جان کر، ان کرداروں کے مکالمے لکھے جائیں گے)۔ کھلاڑی اس سے پہلی اقساط میں چودھریوں کی جوڑ توڑ کرنے، جمہوری کونسل میں پسند کے نمایندوں کی پشت پناہی کا ناقد دکھایا جائے گا، لیکن اب دکھائیں گے کہ وہ تھک گیا ہے، وہ سوچنے لگا ہے، گاوں کی جمہوری کونسل کی سربراہی حاصل کرنی ہے، تو چودھریوں کے مفادات کے تحفظ کی قسم کھانی ہو گی۔ ورنہ اُس کا یہ خواب، محض خواب ہی رہے گا۔

ہم اس ٹی وی سیریز میں دکھائیں گے، کبڈی کے اس کھلاڑی کو جمہوری کونسل کی سربراہی مل گئی ہے، لیکن وہ گاوں والوں سے جو جو وعدے کر کے آیا تھا، انھی کو پورا کرنا نا ممکن ہوا جاتا ہے، اُلٹا گاوں کی اکانومی بد تر ہو گئی ہے۔ منہگائی کا جن آزاد ہو گیا ہے۔ اُس کے پرستار اندر ہی اندر اس کی کارکردگی سے مایوس ہیں، لیکن اپنے رہ نما کی خوب رُوئی کی تعریفیں کرتے نہ ہلکان ہوں گے۔ مخالفین کے سامنے ڈٹے ہذیان بکتے رہیں گے۔ یہ کھلاڑی کی ہر غلط چال کا دفاع کرتے ہیں، حتا کہ یہ کہنے پر آ جاتے ہیں، کہ ’’مخدوم بھی تو یہی کرتا تھا‘‘۔ ساتھ میں کھلاڑی کے یہ پرستار، چودھریوں کی مدح سرائی میں بانگیں دیتے نہیں تھکتے۔ (بانگیں رِکارڈ کرنے کا زیادہ خرچ نہیں، لیکن کھلاڑی کے پرستاروں کی اکثر مکالمے نا زیبا ہیں، جو سینسر کی قینچی کی زد پہ آ سکتے ہیں۔ وہاں ہم ٹوں ٹوں چلا دیں گے)۔

کہانی طویل ہے، ناظرین کے لیے اس میں دل چسپی کا بہت سامان ہے۔ سیریز میں آٹھ دس آئٹم سانگ ہیں، جن میں ناچتی لڑکیاں دکھائی جائیں گی۔ یہی وہ مقام ہے، جس کا سوچ کے کوئی سرمایہ کار تیار نہیں ہوتا۔ اُن کا اعتراض ہے، لڑکیوں کو ناچتے دکھانا، فحاشی کے زُمرے میں آتا ہے۔ دیکھیے صاحب! میں کہانی کے کسی اور حصے کی قطع برید پر راضی ہو سکتا ہوں، لیکن جن آئٹم سانگز پہ یہ سیریل  کھڑی ہے، وہی سین کاٹ دیے، تو اسے دیکھے گا کون؟ میری اس ٹی وی سیریز میں اس سے آگے کیا ہو گا، یہ میں اسی کو سناوں گا، جو اس سیریز کی پروڈکشن میں سرمایہ کاری کرے گا۔ اگر یہاں سب کو کہانی کا اگلا حصہ بتا دیا، تو خدشہ ہے، کوئی اور میرا یہ آئیڈیا نہ چرا لے جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 286 posts and counting.See all posts by zeffer-imran