پنجاب پولیس غنڈے کی بجائے محافظ کا کردار ادا کرے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماجد صاحب کا موبائل فون پر میسج آیا کہ فارغ ہوں تو مجھے کال کریں، دیر سے میسج دیکھا، تھوڑی کوفت ہوئی کہ ان کی کال اٹینڈ نہ کرسکا اور ان کو مسیج چھوڑنا پڑا، وقت ضائع کیے بغیر ان کو کال کی۔ ماجد صاحب کی کال بڑی مدت بعد آئی تھی، اس بات کا مجھے پتہ تھا کہ موصوف جھنگ کو پیارے ہوگئے ہیں، جی ماجد صاحب کا تعارف کروا دوں موصوف لیہ میں میرے استاد تھے، ان کا تعلق جھنگ سے تھا، ادھر لیہ چونکہ جھنگ سے جڑا ضلع ہے، ان کو قریبی کالج میں تعیناتی ملی تھی اور ہم کو ایک ذرا مختلف اسٹائل کے استاد یوں ملے تھے کہ جھنگوچی لہجہ میں بات کرتے تھے جوکہ ہمارے سیمت ان کے شاگردوں کو پسند تھا۔

ان دنوں میں کالجوں خاص طور ٹیکنکل کالج کا ماحول سٹوڈنٹس تنظمیوں کے آپس میں ٹکراؤ کی وجہ سے کشیدہ رہتا تھا، لیکن ماجد صاحب جیسے استاد اس صورتحال میں سٹوڈنٹس لیڈروں کو اپنے شاگرد کی حیثیت میں رکھنے کے گر سے واقف تھے۔ حمید ممتاز، منظر شگری، طارق ورک، ڈوگر، عبدالرحمانی، گلزار شاہ، بابر خان، تونسوی، عابدانوار علوی، بابر خان اور عصمت اللہ نیازی جیسے سٹوڈنٹس اپنے دھڑوں کے ساتھ کالجوں میں خاص پہچان رکھتے تھے۔

ادھر کالج انتظامیہ اور اساتذہ کی کوشش ہوتی تھی کہ کالج اور ہاسٹلوں میں ماحول کو ایسا رکھاجائے جوکہ تعلیم کے قریب اور لڑائی جھگڑوں سے دور رہے، ایسے اساتذہ میں ماجد صاحب سرفہرست تھے۔ اسوقت کی حکومتوں کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ راولپنڈی سے لے کر لیہ تک کوئی ٹیکنکل کالج نہ ہونے کی وجہ سے کشمیر کے طالب علم بھی لیہ میں پڑھنے آتے تھے۔ پھران دنوں اقتدار میں آنیوالی حکومتوں کی طرف سے طالبعلموں کو تنظمیو ں کے پلیٹ فارم پر اپنے مقاصد کے لئے یوں استعمال کیا جاتا تھاکہ رہے نام اللہ کا۔

ادھر مقامی طور پر بھی انہی حکومتوں کے سیاسی کردار جوکہ صوبائی اور قومی اسمبلی کے ارکان کی شکل میں تھے وہ ان طالبعملوں کو ذاتی مقاصد کے لئے بھی استعمال کرتے تھے، خاص طورپر اڈوں اور زمینوں کے قبضوں اور مخالفین کو دیوار کے ساتھ لگانے کے لئے استعمال کرتے تھے۔ میٹرک کے بعد کالجوں میں ڈپلومہ میں داخلہ لینے والے طالب علموں کی عمریں کتنی ہوتی ہیں؟ ان کو کتنا شعورہوتا تھا کہ ان کو کون کیسے تنظمیوں کے نام پر اپنے مقاصد استعمال کر رہا ہے۔

یہی نقط اہم تھا، جس کی طرف دھیان نہیں تھا۔ پھر معاملات یہاں تک بھی پہنچے کہ انہی کے ہاتھوں تیار ہونے والے طالب علم مخالفین کو دیوار کے ساتھ لگاتے لگاتے ان کو بھی رکن صوبائی اسمبلی ہونے کے باوجود ڈیرے پر ٹھکانے لگاگئے۔ یوں ان کی سیاست بھی گئی اور زندگی سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔ ادھر ان کو مالی معاملات پر ٹھکانے لگانے والے سٹوڈنٹ لیڈر تعلیم کے بل بوتے پر اپنے پیاروں کی زندگیوں میں تبدیلی لانے کی بجائے پنجاب پولیس کے مقابلے میں پار کر دیے گئے۔

بہر حال ماجد صاحب کو کال بیک کیا تاکہ جان سکوں کہ انہوں نے اتنے عرصے بعد کیسے یاد کرلیا ہے؟ اسلام آباد آئے ہوئے ہیں یا پھر جھنگ ہیں؟ اور کوئی کام ہے یا پھر ویسے ہی یاد کرلیاہے۔ کال اٹینڈ ہوئی تو وہی سٹائل تھا جوکہ برسوں پہلے ہوتاتھا، جھنگوچی میں بچوں کی خیر خیریت پوچھی کہ وہ کیسے ہیں؟ میں نے عرض کیاکہ اللہ کا شکر ہے، سب خیر ہے۔ کہا کبھی جھنگ بھی آتے جاتے ہوئے چکر لگاؤ۔ میں نے کہا بالکل سر ضرور آونگا، آپ سنائیں کیسے ہیں؟

گھر بار خیریت ہے؟ تو انہوں نے کہا خضر باقی تو ٹھیک ہے لیکن دو دن سے ڈسٹرب ہوں۔ میں نے کہا ماجد صاحب وہ کیسے؟ انہوں نے جواب میں افسردہ ہوکر کہاکہ یار میرے گھر پولیس گھس آئی تھی۔ میں نے حیرت سے کہا ماجد صاحب ایسے کیسے ہوسکتاہے تو انہوں نے کہا جی ایسا ہوا ہے۔ آپ کو ہمارے بارے میں پتہ ہے کہ ہم کیسے لوگ ہیں لیکن پولیس نے ایسا کیاہے۔ میں نے خیر ان سے پولیس کے اہلکاروں کے بارے میں پوچھنا شروع کردیا کہ کون سا تھانہ؟ کون سی چوکی وغیرہ وغیرہ لیکن اندر سے مجھے شاک لگا کہ ایک استاد کی عزت ہمارے معاشرہ میں یہ رہ گئی ہے اس کے گھر پولیس گھس گئی ہے۔ بہر حال ان کے مخالفین نے کوئی درخواست دی تھی۔ ان میں ماجد صاحب کا اپنا موقف تھا۔ پولیس کوان سے یا بھائی رشتہ دار سے کوئی مسئلہ تھا تو ان کو بلواسکتی تھی۔ پھر وہ بھی ایسے انسان نہیں ہیں کہ پولیس کا سامنا نہ کرسکیں۔ وہ ایک کالج میں لیکچرار ہیں، بہرحال میں نے انہیں تسلی دی کہ آپ ہمیں اپنے ساتھ سمجھیں اور میں آپ کے ساتھ رابطے میں ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہم خود بھی ڈسٹرکٹ پولیس افسر کو مل رہے ہیں تاکہ ایک اے ایس آئی کی اس واردات کو سامنے لایا جا سکے اور قانونی کارروائی کی جا سکے۔ بعدازاں ماجد صاحب کو انصاف ملا یا پھر ان کا معاملہ کھوکھاتے لگ گیا اور وہی کریمنل ذہینت کا پولیس اہلکار ابھی تک جھنگ کی اس چوکی یا تھانہ میں نہیں تو کسی دوسرے میں ایسی وارداتیں کر رہا ہے۔ ماجد صاحب کے ساتھ جو پولیس گردی ہوئی اس کی کہانی تو آپ نے جان لی ہے، اسی طرح کی ایک واردات لیہ میں تھانہ سٹی کی پولیس نے پچھلے ڈسٹرکٹ پولیس افسر رانا طاہر رحمان کی موجودگی میں لیہ میں یوں ڈالی کہ رات گئے سیٹرہیاں لگا کرشہری کے گھر میں گھس گئی۔

وہاں گھر میں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے تھے، پولیس جس طرح چادر چاردیواری کے تقدس سمیت خواتین اور دیگر معاملات پر جو پولیس گردی کرتی رہی وہ محفوظ ہوگئی۔ پولیس کے اس رویئے کی کہانی دوسرے دن سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج سمیت میڈیا میں آئی تو وہی اداکاری کی گئی کہ یہ منشیات کا دھندہ کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ مان لیتے ہیں کہ پولیس ٹھیک کہہ رہی ہوگی لیکن ملزم پکڑنے کا طریقہ کار کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔

اور پھر پولیس جوڈھونڈنے گئی تھی وہ کچھ بھی برآمد نہیں ہوا۔ بات دور تک چلی گئی۔ پولیس اہلکاروں کو معطل کردیاگیا۔ بڑی لے دے ہوئی، یوں لگاکہ نظام بدل گیاہے لیکن ڈسٹرکٹ پولیس افسر تبادلہ ہوکر لہور جانے لگے تو انہوں نے شہریوں کے گھروں کی دیواروں کے ساتھ سیٹرھیاں لگاکر چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرنیوالوں کو بحال کردیا، اطلاعات ہیں کہ یہ کارروائی ڈسٹرکٹ پولیس افسر کی ہدایت پر ڈالی گئی تھی کہ شہری کے گھر میں سیٹرھی لگا کر گھس جاؤ رام بھلی کرے گا، اب جاتے ہوئے انہوں نے ضروری سمجھا کہ ان تابعداروں کو انعام کے طورپر بحال کرکے جائیں تاکہ سند رہے۔

اب جب ڈسٹرکٹ پولیس بھی ایسے کام کرائے گا تو سپاہی یا دیگر چھوٹے پولیس اہلکاروں سے چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال نہ کرنے کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔ آج کل ایک اور پولیس گردی کا واقعہ ڈیرہ غازی خان مطلب وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے ضلع میں سامنے آیاہے جوکہ اوپر بیان کردہ پولیس گردی کے واقعات کو بہت پیچھے یوں چھوڑگیاہے کہ اس معاملے میں پولیس نے ایک زمین کے جھگڑے میں عبوری ضمانت خارج ہونے پر ایک ملزم فیاض کو گرفتارکیا، پھر راستہ میں اسی پولیس کے ساتھ معاملہ طے ہوگئے، مطلب چونچ گیلی ہوگئی اور ملزم فیاض کو فرار کروا دیا، پھر ریجنل پولیس افسر اور ڈسٹرکٹ پولیس افسر ڈیرہ غازی خان کے حکم پر ملزم فیاض کو فوری گرفتارکرنے کا حکم جاری ہوا۔

پولیس نے ملزم فیاض کی طرف سے گرفتاری نہ دینے پر اس کے گھر کی خواتین کو اٹھالیا، جس میں ملزم فیاض کی بیوی بھی شامل ہے۔ جن خواتین کو ملزم فیاض کو گرفتاری نہ دینے کے بدلے اٹھایاگیاہے، ان کے دو دودھ پیتے بچے گھروں میں تڑپ رہے تھے۔ لیکن ڈیرہ غازی خان پولیس سارے قانون اور ضابطے پیچھے چھوڑگئی اور خواتین کو جن کا کوئی جرم بھی نہیں تھا ان کو اٹھاکر لے گئی اور بہادری اور جرات کے جھنڈے گاڑھ دیے۔ اطلاعات ہیں کہ پولیس نے ان خواتین کو چار دن اپنے نامعلوم مقام پر رکھاہے۔

جس خاندان کی خواتین پولیس نے اٹھائی تھیں ان کے بڑے ریجنل پولیس افسر ڈیرہ غازی خان سے ملے لیکن انہوں نے پولیس کی طرف سے گھروں سے خواتین اٹھانے کے معاملے کو سنجیدہ ہی نہیں لیا۔ پنجاب پولیس کے چھوٹے اہلکاروں کے بارے میں تو ظلم کی داستانیں سننے کو ملتی تھیں لیکن اب سمجھ نہیں آرہی ہے کہ تبدیلی جوکہ تحریک انصاف کی طرف سے پنجاب میں وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی صورت میں دی گئی ہے، اس میں ایک سال کے دوران یہ ہواہے کہ اب پنجاب پولیس ڈسٹرکٹ پولیس افسر اور ریجینل پولیس آفسیر کے حکم پر چادر چاردیواری سے لے کر خواتین کو بلا جرم مطلب دوسرے مجرم کوگرفتارکرنے کے لئے خواتین کو اٹھارہی ہے اور چار دن اپنے نامعلوم مقام پر رکھ کر بیٹھی ہے۔

جئیے تبدیلی اور جیئے عثمان بزدار جس کے اپنے ضلع میں پنجاب پولیس جھنڈے گاڑ رہی ہے۔ آپ بھی میری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ پولیس میں سارے پولیس افسر اور اہلکار ایسے نہیں کہ لوگوں کے گھروں میں چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرکے گھس جائیں، اچھے بھی پولیس افسر ہیں جوکہ اپنے ایسے پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دیتے ہیں جوکہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک خبر سے پتہ چلاکہ ڈی آئی جی چودھری محمد سلیم نے وزرات داخلہ میں رپورٹ کردی ہے۔

چودھری سلیم سے میں یوں واقف تھاکہ موصوف لیہ میں ڈسٹرکٹ پولیس افسر رہے تھے۔ پھر ملتان اور پتہ نہیں کہاں کہاں سے ہوتے ہوئے اسلام آباد پہنچے ہیں۔ اب خبر آئی ہے کہ موصوف کو اسلام آباد میں ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر تعنیات کردیاگیاہے۔ ہوا یوں کہ تھانہ سٹی لیہ میں ایک ملزم پارٹی کو مدعی اور مدعی کو ملزم بنادیاگیا تھا۔ اور کہانی گول کردی گئی، تھانہ سٹی کی پولیس نے ایساکیوں کیاگیا ہوگا، اس کے لئے کوئی حساب کتاب کی ضرورت نہیں ہے، چونچ گیلی کی گئی تھی۔

چودھری محمد سلیم کو اوپر سے کہیں سے کال آئی یا پھر انہیں اپنی ہی پولیس کی سپیشل برانچ نے اطلاع کی تھی کہ صاحب تھانہ سٹی نے ملزم کو مدعی اور مدعی کو ملزم کے خانہ میں ڈال دیاہے۔ چودھری سلیم اپنے ڈی پی او آفس سے سیدھے تھانہ سٹی گئے، ایس ایچ او موجود تھا، ڈی پی او کا اچانک دورہ سب کے لئے حیران کن تھا۔ موصوف نے حوالات کے ملزمان کے بارے میں پوچھا، پولیس کا خوف اور تھانہ میں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جس کو مدعی سے ملزم بنایاگیا تھا، اس کو جرات نہیں ہوئی کہ وہ کہتا صاحب میرے ساتھ یہ ظلم ہوا ہے۔

پھر ریکارڈ چیک کیا اور پھر چودھری سلیم نے ایس ایچ او تھانہ سٹی خالد بلال کی بیلٹ اتروئی اور موصوف کو اسی تھانہ کی حوالات میں پرچہ دلواکر بند کروا دیا۔ ادھر مدعی سے ملزم ہونیوالے شہری کو ظلم سے چھٹکار دلوایا۔ اسی طرح ایک واقعہ تھانہ کوٹ سلطان میں ہوا کہ پیرجگی کے قریب غلام رسول کھرل کی دوبیٹیوں اور ایک نواسی کو ایک واردیتا کارروائی ڈال کر لے گیا۔ غلام رسول تھانہ گیا ادھر وہی روایتی کہانی الٹا غلام رسول پر ڈال دی گئی کہ تہماری بچیاں تو بھاگ گئیں، اب سوچنے کی بات تھی کہ ایک بندہ کے ساتھ دوبہنیں کیسے جاسکتی تھیں، ادھر سات اٹھ سال کی بھانجی کیوں جاتی وغیرہ وغیرہ۔

لیکن کوٹ سلطان کی پولیس یہ بات سننے کو تیارہی نہیں تھی۔ غلام رسول کھرل نے بہت بھاگ دوڑ کی لیکن پولیس تھی کہ ملزم کو گرفتارکرنے پر تیارنہیں تھی۔ اس دوران ایسا ہواکہ مجھے لیہ جانے کا اتفاق ہوا، اور غلام رسول کے ساتھ ایک صاحب نے میری ملاقات کروائی، پھر میں نے رانا اعجاز صاحب سے بات کی جوکہ لیہ میں تھے اور اب بہاولپور ہیں، انہوں نے چودھری محمد سلیم ڈسٹرکٹ پولیس افسر لیہ سے اس ایشو پر بات کی، انہوں نے کہا غلام رسول کو میرے پاس بھیجیں، اس دوران لڑکیوں اور ان کی بھانجی کے بارے میں پتہ چلاکہ بھکر پہنچ چکی ہیں۔ اور آگے منتقل کرنے پر کام جاری ہے۔ چودھری سلیم سے جیسے ہی غلام رسول کھرل کی ملاقات ہوئی، ایک دکھی باپ اور ماں کا احوال سنا، فورا بھکر کے ڈسٹرکٹ پولیس سے رابط کیا اور اس کو لڑکیوں کو ٹریس کروانے اور اپنی تحویل میں لینے کا کہا، یوں غلام رسول کی معصوم بیٹیوں اور نواسی کی واپسی مکمن ہوئی۔ ادھر ہمارے دوست توقیر خان جوکہ بھکر میں وکیل ہیں، انہوں نے بھی اس معاملے میں بچیوں کی واپسی کے لئے کردار اداکیا۔

غلام رسول کھرل کے مطابق اتنے بڑے سانحہ سے یوں گزرا تھاکہ ایک ملک صاحب کو موصوف نے الیکشن کے دوران دوسرے ملک صاحب کی سپورٹ کی وجہ سے چارپائی نہیں دی تھی اور کہا تھاکہ وہ ان کو ووٹ نہیں دیں گے، یوں اس ملک صاحب نے اپنی انا کی تسکین کے لئے اپنے سیکرٹری کے بھائی کے ذریعے غلام رسول کھرل کو اتنے بڑی کارروائی سے دوچارکیاتھا۔ ڈیرہ غازی خان کی حالیہ پولیس کارروائیوں کے پیچھے بھی کسی سردار کی انا کو تسکین پہچانے کے لئے بزدار حکومت میں ڈیرہ غازی خان پولیس کو ملزم فیاض کو سبق سکھانے کے لئے اس بات کا ٹاسک دیاگیا ہوگا کہ ان کی خواتین اٹھالیں رہے۔ نام اللہ کا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •