کرکٹ، سیاست اور پیسہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کھیلوں کی تاریخ انسان جتنی ہی پرانی ہے۔ دنیا کی تمام تہذیبوں میں مختلف قسم کے کھیل ملتے ہیں۔ ان میں زیادہ مقبول وہ ہیں جن میں افراد کے درمیان دو بدو لڑائیاں ہوتی تھیں۔ ان کھیلوں میں ایک دوسرے کو نقصان بھی پہنچ جاتا تھا اور بعض مرتبہ موت بھی واقع ہو جاتی تھی

 حضرت خالدؓ بن ولید سے بچپن میں ہونے والی کشتی میں حضرت عمر ؓ کی پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ ان کھیلوں میں پورے کا پورا قبیلہ اپنے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے موجود ہوتا تھا۔ ا ور کھیل ہی کھیل میں دشمنی اس حد تک بڑھ جاتی تھی کہ جنگ شروع ہو جاتی۔

جدید کھیلوں کا آغاز یونان سے ہوا۔ اولمپکس کے دوران جنگ بندی ہو جاتی تھی تاکہ کھلاڑی اور دیکھنے والے آسانی سے آ جا سکیں۔ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر سیاستداں ان مقابلوں کے دوران سیاسی اتحاد بناتے جو کہ دوران جنگ مدد گار ہوتے۔ ان کھیلوں کو بھی دشمن کے خلاف برتری جتانے کے لئے ایک سیاسی ہتھیار کو طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔

موجودہ دور میں باکسنگ، ریسلنگ، فٹ بال، رگبی اور دیگر کئی کھیلوں میں کھلاڑیوں کے درمیان شدید قسم کے جوش ورقابت کے جذبات پائے جاتے ہیں لیکن ان تمام میں کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جسے شرفاء کا کھیل کہا جاتا رہا ہے اور اس میں اس قسم کی کسی غیر مناسب حرکت سے اجتناب برتا جاتا رہا ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں بھی کئی قسم کے تنازعات نے گھر کرلیا۔ 1932۔ 33 میں انگلینڈ کے دورہ آسٹریلیا کو نام ہی ”باڈی لائن سیریز“ کا دیا جاتا ہے کیونکہ اِس میں انگلش بالروں نے بریڈ مین سمیت مختلف بلے بازوں کے سر کو نشانہ بنا کر گیند بازی کی۔ آسٹریلیا اس سیریزکا بائیکاٹ کرنے پر تل گیا تھا لیکن وزیر اعظم نے سختی سے منع کردیا۔

1977۔ 78 کی کیری پیکر ”ورلڈ سیریزکرکٹ“ کے ایک میچ میں اینڈی رابرٹس نے مخالف آسڑیلوی بلے باز کا جبڑا توڑ دیا تواس کے بعد انگریز بلے باز کے سر پر پہلا ہیلمٹ نظر آیا۔ اس کھیل میں ایک غیرمطبوعہ اصول رہا ہے کہ آخری کھلاڑی چونکہ اچھے بلے باز نہیں ہوتے اس لئے ان کو بہت تیزباولنگ نہیں کروائی جاتی تھی۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کمزور ترین گیارویں کھلاڑی کو، ایمپا ئر کی باونسر کروانے پر وارننگ کے باوجود، ہمارے اپنے فاسٹ باولر پورے زور سے بالنگ کرواتے رہے ہیں۔ اب کرکٹ کو بالکل جنگ کی طرح کھیلا اور بیان کیا جاتا ہے۔ کرکٹ کے ہیرو کو یوں پیش کیا جاتا ہے جیسے وہ بہت بڑا جنگجو ہے اور کہا جاتا ہے، ”اس نے دشمن کے سات کھلاڑیوں کو شکار کیا۔ ہمارے ہیرو نے دشمن کے چھکے چھڑا دیے۔ مار مار کر بھرکس نکال دیا۔ دشمن کی ٹیم ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ “

قدیم دور میں کھیلوں کو شغل کے ساتھ ساتھ مخالف پر دھاک بٹھانے کے لئے کھیلا جاتا رہا ہے۔ دور جدید میں ایک اور اہم تبدیلی یہ آئی کہ ان کو دولت کمانے کا ذریعہ بھی بنا لیا گیاہے۔ لیکن کرکٹ ایک لمبے عرصہ تک اس برائی سے بھی بچی رہی۔ کیری پیکر ایک آسٹریلین ٹی وی نیٹ ورک کا مالک تھا۔ وہ دور ٹی وی کے لئے برا تھا۔ اس کو کرکٹ کی نشریات کے حقوق نہ مل سکے تو اس نے اپنی سیریز کروانے کا سوچا اورخفیہ طور پر تمام ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک سے کھلاڑیوں کو خریدنا شروع کر دیا۔ اس وقت کرکٹ بورڈ کھلاڑیوں کوبہت زیادہ رقم نہیں دیا کرتا تھا۔

ان بکنے والے کھلاڑیوں میں پاکستان کے مشتاق محمد، ماجد خان، ظہیر عباس اور عمران خان بھی شامل تھے۔ جب بورڈز کو پتا چلا تو انہوں نے ان کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں۔ کلائیو لائیڈ جب ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو چھوڑ کر پیکر کے ساتھ شامل ہوا توکہا، ”میرا اپنی ٹیم کے ساتھ کوئی ذاتی اختلاف نہیں، میں صرف آسانی سے زیادہ دولت کمانے کے لئے اس میں شامل ہوا ہوں۔ “ ورلڈ کرکٹ سیریز صرف دو سیزن چل سکی اور کیری پیکر کا یہ جوا ناکام ہو گیا۔ لیکن کرکٹ میں پیسے کمانے کے جائز وناجائز ذرائع کے راستے ہموار کر گیا۔ کیری پیکر نے کھلاڑیوں کی ایسی خریداری شروع کی کہ اس کے اثرات جوا اور سپاٹ فکسنگ کی شکل میں آج تک دیکھے جا سکتے ہے۔

اس طرح شرفاء کا کھیل بدنام ہوگیا اور اس میں تمام برائیاں آگئیں۔

سیاست بھی دنیا بھر میں شرفا کا کام گنا جاتا ہے۔ سیاست کو عبادت کہا جاتا ہے۔ اس دور میں جب پیکر کھلاڑیوں کو خرید رہا تھا، پا کستان کی سیاست میں بھی خرید و فروخت کا رواج عام ہوا۔ ضیا الحق کے دور میں 79 کے بلدیاتی اور 85 کے عام الیکشن غیر جماعتی بنیادوں پر ہوے اور جیتنے والوں نے اپنی قیمت بڑھا چڑھا کر وصول کی۔ اس جرم میں علاقائی و مرکزی قیادت اور ریاستی ادارے سب شامل تھے۔ اس کے بعد تو ہر الیکشن سے پہلے اور بعد میں گھوڑوں کے اصطبل سج جاتے اور ہر کوئی ہوا کا رخ دیکھ کر اپنی استطاعت کے مطابق قیمت وصول کرتا۔

اس جرم میں اس پاک مملکت میں موجود ہر حکومتی حصہ دار کے ہاتھ رنگے ہوے ہیں۔ کیری پیکر ایک شخص تھا اور کسی بھی شخص میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ ریاستی اداروں کے مساوی اپنی ریاست قائم کر سکے اس لئے دو سیزن کے بعد ہی خریداری کے قابل نہیں رہا لیکن ہماری سیاست میں ریاست چونکہ خود اس گندگی کے کھیل میں شامل تھی اس لئے یہ کا م جاری رہا۔ اصغر خان کیس اس بات کی گواہی دیتا ہے۔

پھر دور آیا تبدیلی کا۔ نعرہ تھا سب سیاستدان چور، ڈاکو اور لٹیرے ہیں۔ اور صاف چلی شفاف چلی کا نعرہ گونج اٹھا۔

لیکن پچھلے ایک سال میں کچھ بھی نہ بدلا۔ اسی طرح ہانکا لگا کر گھوڑوں کو چراہ گاہوں کی طرف دھکیلا گیا۔ کہا گیا کہ سب اپنی مرضی سے جا رہے ہیں۔ لیکن پہلے والے بھی تو ایسی مرضی سے ہی جاتے تھے۔

ایوان بالا انگلینڈ کے ہاؤس آف لارڈز کی طرز پر سجایا گیا ہے۔ سینیٹرز کو پانچ سال کے بعد عوام میں واپس نہیں جانا ہوتا اور نہ ہی ان کو عوامی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس میں بیٹھے لوگوں کی عوامی مجبوریاں نہیں ہوتی ہیں۔ یہ ایک سو چار افراد ملک کی اشرافیہ کے نمائندہ ہوتے ہیں۔ کرکٹرز ملک کے سفیر اور سینیٹرز ملکی اعلیٰ روایات کی حامل اشرافیہ کی شان ہوتے ہیں۔ لیکن ان کو جب ملکی تاریخ کے پہلے امتحان سے گزرنا پڑا تووہ بھی کیری پیکر کے ہاتھوں بکنے والوں کی طرح کے ہی نکلے اورخریدار ان کی بولی لگا کر لے گئے۔ یا پھر ان بہادروں نے فاسٹ باولر کے باونسر ز سے جبڑا تڑوانے کے ڈر سے جھک کر آخری اوور کی پانچ گیندیں ضائع کردیں۔

اب اس ملک میں کوئی شفافیت کا دعویٰ دار پاک باز نہیں رہا۔ جس کو جب بھی موقع ملتا ہے وہ خود بھی اور اپنی ٹیم کے نا اہل ”ترین“ کھلاڑی کو براے فروخت کے اصطبل میں لے کر چلا جاتا ہے۔ اب کرکٹ، سیاست اور ایوان بالا کوئی بھی نہیں بچا جو کہہ سکے کہ ہم شرفا کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ اب سب گھوڑے یا ان کے خریدار ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •