حامد میر صاحب کے مضمون ’کلین شیو مولوی‘ پر تبصرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مضمون زیر تبصرہ محترم میر صاحب نے اپنی ہی تقریر پر کیے گئے تبصروں پروضاحتی تبصرے کی صورت میں لکھا تھا۔ ابتداء میں ہی عرض کرنا مناسب ہے کہ راقم کا تعلق جماعت احمدیہ سے ہے اور محبت کرنے والے ننھیال کا تعلق احرارِ اسلام سے۔ دونوں طرف کے موقف سے بخوبی آگاہ ہے پاکستانی قومی ترانہ کبھی بیٹھ کر نہیں سنا۔ اور ہر دن پاکستان کی بہبود کی فکر میں رہتا ہے۔ یہ حب الوطنی نہ کسی پر احسان ہے اور نہ کسی کے سرٹیفکیٹ پراس کا انحصار ہے۔

حامد میر صاحب اپنے مضمون میں لکھتے ہیں

”خاکسار نے عرض کیا تھا کہ 1973 ء کا آئین ختم نبوت کے منکرین کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔“
یہ بات واضح ہے کہ ’ختم نبوت کے منکرین‘ سے ان کی مراد احمدی ہی ہیں اور انہی کی طرف روئے سخن ہے۔

یہ ایک نظریاتی تنازعہ ہے جس میں اختلاف کوئی مجرمانہ فعل نہیں۔

آپ کے مطابق منکرین ختم نبوت یعنی احمدیوں کے ’دل میں 1973 کا آئین کانٹے کی طرح کھٹکنا‘ بے معنی بات ہے۔ کیونکہ اس سے احمدیوں کی ذہنی، علمی، اخلاقی اور روحانی ترقی پر کوئی ایسا اثر نہیں پڑتا جس کا مداوا ناممکن ہو۔ اس آئین میں سیاسی اغراض اور مجبوریوں کی بدولت کی گئی یہ تبدیلی مجھے اپنے آپ کو مسلمان کہنے سے نہیں روکتی۔ وہاں صاف لکھا ہے آئین اور قانون کی اغراض کے لئے احمدی مسلمان نہیں ہیں۔ آپ کی جانب سے ہمیں مسلمان قرار دیا جائے تو ہماری روحانیت پر کچھ فرق نہیں پڑے گا۔ آپ خود اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستان میں دین کا اظہار الگ بات ہے لیکن اس پر عمل الگ۔ صرف گناہ بخشوانے کے لئے حج کر لینا اور واپس آکر اس غلاظت میں پھر لتھڑے جانا الگ۔

حامد میر صاحب کا یہ فرمانا کہ
”یہ آئین اتنا طاقتور ہے کہ اسے توڑنے والا ہمیشہ ذلیل و خوار ہوتا ہے اور یہ آئین بار بار ٹوٹ کر بار بار بحال ہو جاتا ہے۔“ اسی تقریر میں یہ بھی عرض کیا تھا کہ ”کچھ طاقتیں چاہتی ہیں کہ پاکستان آنکھیں بند کرکے اسرائیل کو تسلیم کر لے لیکن 1973 ء کا آئین اسرائیل کو تسلیم کرنے کے راستے میں بھی رکاوٹ ہے۔ “

جناب عالی! بحیثیت قانون کے طالبعلم کے خاکسار کو اس آئین کی عظمت اور احترام کا بخوبی اندازہ ہے۔ یہی نہیں ہر قانون کا احترام لازم سمجھتا ہے لیکن کیا آپ کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ اسی آئین کو محترم ضیا الحق صاحب نے چند صفحوں کی کتاب جسے وہ جب چاہیں پھاڑ سکتے ہیں کہہ کر معطل کیا اگرچہ اس جرم کی سزا موت ہے جس سے وہ آگاہ تھے۔ اس کے بعد اِسی آئین میں آئین کی روح کے خلاف کتنی ترامیم کی گئی ہیں۔

آپکے معتوب جنرل مشرف صاحب نے آئین کے ساتھ جو کچھ کیا وہ آپ کے علم میں ہے۔ بادشاہ کے فوت شدہ گھوڑے کو البتہ فوت شدہ کہنے کی ہمت نہیں۔ علاوہ ازیں متعدد مذہبی جماعتیں اس آئین کو غیراسلامی سمجھتی ہیں اور آپ ہی نے ان کے انٹرویو لئے ہوئے ہیں۔ احمدی تو باقی پاکستانی اکثریت سے کہیں زیادہ بڑھ کر اس آئین کا اور ہر قانون کا احترام کرتے ہیں۔ سوا سو سال کی تاریخ میں کسی احمدی نے قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا۔

آپ کے پیارے لوگ ملک بھر میں جگہ جگہ احمدیوں پر قیامت ڈھاتے رہتے ہیں۔ لاہور میں دو سجدہ گاہوں پر خونریزی کے بعد۔ ”کھرا سچ“ پروگرام میں ایک بار جماعت کے نمائیندہ کو بلایا گیا تھا تو اس کا جواب یہی تھا کہ ”ہم اس کو اللہ پر چھوڑتے ہیں۔“

فلسطین کی تقسیم کے وقت محترم چوہدری ظفراللہ خاں نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندہ کے طور پر تقسیم کی ڈٹ کر مخالفت کی جس کا اندازہ عربوں کو نہیں تھا۔ اسرائیل کے قیام کے ریزولیوشن کی مخالفت میں حقائق اور دلائل سے کیس پیش کیا جس پر تمام عرب ممالک میں پاکستان کی قدر و منزلت ہوئی۔ امریکہ نے ووٹنگ مجوّزہ دن رکوا دی اور بعد میں حکومتوں پر ریزولیوشن کے حق میں ووٹ کے لئے دباؤ ڈالا جس پر بعض مندوبین نے چوہدری صاحب کے ساتھ روتے ہوئے معذرت کی۔

امام جماعت احمدیہ نے فلسطین کی کاز کے لئے ”الکفر ملۃ الواحدہ“ ایک کتاب لکھ کر مسلمانوں کو اور عربوں کو صیہونی یلغار کے خلاف متحد ہونے کی اپیل اس وقت کی جب باقی مسلمان خواب غفلت میں سو رہے تھے۔ جب اسرائیل بن گیا تو اس علاقہ میں فلسطینی احمدیوں کی آبادی تھی۔ جو باقی مسلمانوں کی طرح اب بھی وہیں ہیں۔ باکل اسی طرح جس طرح بھارت میں تمام پاکستانی مذہبی جماعتوں کے پارٹنر ہیں۔

1973 کا آئین اسرائیل کو تسلیم کرنے کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ ایسی باتیں نہ پھیلایا کریں۔ قران کا حکم ہے ”جس بات کا علم نہ ہو وہ نہ کیا کرو۔“ یہ ایک انتظامی معاملہ ہے اور حکومت وقت مناسب سمجھے تو ملکی مفاد کے لئے فیصلہ کر سکتی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی پالیسی چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کی ہی بنائی ہوئی ہے۔ جو عرب اتحاد کے قیام کی غرض سے اختیار کی گئی تھی۔

In 1952، Sir Zafarullah Khan، Pakistan ’s foreign minister promoted his hardline policies toward Israel، and pressed his policies toward the unity of Arab states۔ [ 4 ] Thus Khan‘ s policy had worked to build strategic ties with Arab states۔
Dr۔ Moshe Yegar، Jewish Political Studies Review

میر صاحب فرماتے ہیں
”توہین رسالت اور ختم نبوت صرف مولویوں کا نہیں بلکہ پاکستان کے ہر اُس شہری کا مسئلہ ہے جو علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کی سوچ پر یقین رکھتا ہے۔ 1973 ء کے آئین میں یہ معاملات طے کر دیے گئے ہیں لہٰذا جب بھی کوئی 1973 ء کے آئین کی مخالفت کرتا ہے تو اُس پر شک کیا جاتا ہے کہ یہ غیر ملکی قوتوں کا آلہ کار ہے کیونکہ وہ غیر ملکی قوتیں ڈھکی چھپی نہیں ہیں جو پاکستان میں توہین رسالت کے خلاف قوانین کا خاتمہ بھی چاہتی ہیں اور آئین میں سے ختم نبوت کے متعلق شق بھی نکلوانا چاہتی ہیں۔“

ختم نبوت کی اپنی تشریح کو درست سمجھتے ہوئے، جس کا انہیں پورا حق ہے، اور علماء سلف کی تشریح کو غلط سمجھتے ہوئے میر صاحب نے توہین رسالت جیسے گھناؤنے فعل کے ساتھ نتھی کرکے سخت نا انصافی کی ہے۔ یہ کہ 1973 کے آئین میں جب طے کردیا گیا ہے۔ پھر اب رونا کس بات کا ہے۔ کیوں احمدیوں پر ظلم ڈھا رہے ہو۔ 1973 کے آئین کی مخالفت کو جذباتی رنگ دینے کی کوشش بد اخلاقی کے دائرہ میں چلی جاتی ہے۔

احمدی اگر یہ خواہش کریں کہ وہ آئینی ترمیم جو ان کو ناٹ مسلم قرار دیتی ہے تبدیل کی جائے تو یہ آئین کی مخالفت کیسے قرار پاتی ہے؟ یہ ترمیم بھی تو کسی مطالبے کے نتیجے میں ہی کی گئی تھی۔ جو بھی اس کو اپنے حقوق کے لئے مضر سمجھے اس کا یہ آئینی حق ہے مطالبہ کرے کہ اس ترمیم کو ایک نئی ترمیم کے ذریعہ کالعدم قرار دیا جائے۔ احمدیوں نے پاکستان کے قیام اور استحکام کے لئے بڑی قربانیاں اور مخلصانہ قربانیاں دی ہیں۔ یہ پرلے درجے کی بددیانتی ہوگی کہ ان کو نظر انداز کرکے صفائی کا موقع دیے بغیر جھوٹے بہتان لگاتے چلے جائیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ”غیر ملکی قوتیں جو ڈھکی چھپی نہیں ہیں“ ان کا نام لینے سے کس خوف کی بدولت یہ بہادر صحافی گریزاں ہیں؟

محترم حامد میر صاحب اس بات پر نہایت سخت برہم ہیں کہ

”ماہ گزشتہ کے وسط میں ایک پاکستانی احمدی عبدالشکور نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی اور بتایا کہ میں اپنے آپ کو امریکہ میں مسلمان کہہ سکتا ہوں لیکن پاکستان میں مسلمان نہیں کہہ سکتا کیونکہ ہمیں 1974 ء میں غیر مسلم قرار دے دیا گیا تھا۔“

میرصاحب! کیا اس بیان میں کوئی ایک فی صد بھی جھوٹ یا مبالغہ ہے؟ ہاں آپ کو ہی سچ بولنا دُوبھر ہے اورسننا گوارا نہیں۔ یہ ملاقات بیس اور بھی ممالک کے ستم رسیدہ لوگوں سے کروائی گئی تھی۔ ایک بے ضرر انسان شکور بھائی کی دکان سرگودھا میں بوجہ احمدی ہونے کے 1974 میں جلادی گئی تھی۔ انہوں نے ربوہ میں عینکوں کی دکان دوبارہ کھولی جس میں سے سی ٹی ڈی نے پہاڑ کھود کر ایک کتاب نکالی جس میں نعتیں اور نظمیں تھیں۔ احمدی نعت پڑھیں یہ خالص مسلمانوں کو ہرگز گوارا نہیں وہ اب ساڑھے تین سال سے زائد شریفانہ انداز میں قید گزار کر رہا ہوئے تھے۔ حامد میر صاحب کیا ا آپ کی منطق میں اس قدر عوج واقع ہو گیا ہے۔ آپ مارتے چلے جا رہے ہیں اور ہمیں۔ اف کرنے پر بھی کوستے ہیں۔

پھر پاکستانیوں کو غیرت دلاتے ہوئے لکھتے ہیں۔

”اس ملاقات میں کچھ اور پاکستانی بھی موجود تھے۔ انہیں ٹرمپ کو بتانا چاہیے تھا کہ 1974 ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں کئی دن تک بحث ہوئی۔ اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے احمدیوں کے روحانی پیشوا مرزا ناصر پر تفصیلی جرح کی اور اس دوران مرزا ناصر احمد نے یہ تسلیم کیا کہ اسرائیل کے شہر حیفا میں اُن کی جماعت کا ایک مشن موجود ہے۔ اس بحث میں پیپلز پارٹی کے ایک وزیر ملک محمد جعفر خان نے بھی بھرپور حصہ لیا جو پہلے احمدی تھے۔“

سبحان اللہ۔ پاکستان کی پوری قومی اسمبلی پر مشتمل کمیٹی میں یہ بحث ہوئی تھی۔ اس بحث کو اب گذشتہ برس پبلک کیا گیا ہے اور اس دوران جھوٹ کا ایک انبار مخالفین نے پھیلایا ہے۔ موجودہ نسل کے لئے اب اس کارروائی کو تعصب کی حالت میں پڑھنا ممکن ہی نہیں رہا۔ جن کو شوق ہے وہ دیکھ لیں۔ جماعت کا موقف آج بھی وہی ہے۔

آپ جیسے دانشور کہلانے والے پر سخت افسوس اس بات پر ہوا ہے کہ یہ تسلیم کرنا کہ اسرائیل میں جماعت احمدیہ کا مشن یا مرکز ہے گویا کسی چوری کے فعل کا اقرار کرنا ہے۔ یہ بات تب بھی پبلک تھی اور اس میں اب تک کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ہاں اگر یہ بات چھپائی جاتی تو غلط ہوتی۔

جہاں تک ملک جعفر صاحب کا تعلق ہے اس پر صرف اتنا تبصرہ کافی ہے کہ جماعت کا قرآنی احکامات کی پابندی کے بارے میں کڑا معیار ہے اور جو ساتھ نہ نبھاہ سکے اس کو جماعت سے بالآخر نکلنا ہی پڑتا ہے۔ ملک جعفر صاحب کے بزرگ محترم مرزا شفیق انور میرے دوست تھے، وہ اگر خود نہ نکلتے تو نکال دیے جاتے۔ ان کے بھائیوں کو نکال دیا گیا تھا۔ ملک صاحب ایک پکے سوشلسٹ اور فیض احمد فیضؔ کے بہت قریبی دوست تھے۔

یہ بات درست بھی ہو سکتی ہے کہ وہ دوست تھے لیکن اس سے یہ لازم نہیں کہ وہ فیض کی طرح حق پرست بھی تھے اور اس ذکر سے مضمون میں ثقاہت پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔

جب بھٹو صاحب کو نام کا مسلمان کہا گیا تو چیخ اٹھے۔ جس گھات سے انہوں نے فائر کیا اسی گھات سے گولی کھائی۔ لہذا یہ گھات بند کرنے کے لائق ہے ورنہ احمدی تو صبر کے پہاڑ ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ربوہ کی لائبریری میں کوئی جماعتی کتاب نہیں؟ کوئی بدمعاش اٹھ کر پرچہ کٹوا دیتا ہے کہ یہ قران میں تحریف کر کے چھاپ رہے ہیں تو محکمہ اوقاف کی تحقیق کے باوجود کہ یہ جھوٹا کیس ہے مقدمہ چلا دیا جاتا ہے۔ آپ کو جومیڈیا پر پابندی چبھتی ہے یہ چبھن جائز ہے۔ احمدی پریس تو عرصہ دراز سے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

ربوہ کوئی چلا جائے تو زہر لگتا ہے۔ کیا آپ میں ہمت ہے کہ اپنے پروگرام میں احمدیوں کو بھی جواب دینے کا موقع دیں۔ احمدیو ں کے دلوں کی زمین پر جو ستم کے بیج بو ئے جا رہے ہیں لازم ہے کہ ان کے پھل بھی آپ کو ملیں۔

میر صاحب کی یہ بات

”جو لوگ توہین رسالت کا قانون اور ختم نبوت کی آئینی شق کے خلاف ہیں اُنہیں یاد رکھنا چاہیے کہ زور زبردستی سے ان قوانین کے خاتمے سے پاکستان میں احمدیوں سمیت دیگر غیر مسلموں کو فائدہ نہیں بلکہ بہت نقصان ہوگا۔ مسلم اور غیر مسلم پاکستانیوں کو مل جل کر ایک دوسرے کا تحفظ کرنا چاہیے اور اس کا بہترین راستہ یہ ہے کہ آئین پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ احمدیوں اور دیگر غیر مسلموں کو آئین میں جو حقوق حاصل ہیں وہ حقوق انہیں ہر قیمت پر دیے جائیں۔“

ان کا روئے سخن احمدیوں کی طرف تو ہو نہیں سکتا کیونکہ انہوں نے تو معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہوا ہے۔ البتہ جس نقصان کی جھوٹی پیش بندی کے لئے یہ لغو دھمکی بعض طبقوں کو مرعوب کرنے کے لئے دے رہے ہیں وہ نقصان اب بھی ہو رہا ہے۔ البتہ ان کی بصیرت میں یہ بات آ نہیں رہی۔ ملک میں جو افراتفری جاری ہے اور ملک سے شرفاء اور تعلیم یافتہ لوگ بیرون ملک جانے میں عافیت سمجھتے ہیں۔ کیا یہ کم نقصان ہے۔ ان کی صحافت کا کمال ملاحظہ کیجئے کہ ایک طرف احمدیوں سے بغض کی بلندیوں کو چُھو رہے ہیں اور دوسری جانب آئین میں مندرج حقوق ہر قیمت پر دیے جانے کی تاکید فرما رہے ہیں۔ مسیحی ایم این اے آسیہ ناصر کی تقریریں سن لیں۔ آنکھیں ہیں تو کھل جائیں گی۔

حامد میر صاحب۔ آپ مجھے مسلمان نہ سمجھیں،انسان بھی نہ سمجھیں، کتا سمجھیں، آپ آزاد ہیں۔ لیکن اگر آپ مجھے بھونکنے پر مجبور کریں تو میرا آئینی حق ہے کہ انکار کروں۔

لکھتے ہیں

”توہین رسالت کے قانون کا غلط استعمال غیر مسلموں سے زیادہ مسلمانوں کے خلاف ہوتا ہے۔ خود مجھ پر کچھ عرصہ قبل توہین رسالت کا ایک جھوٹا الزام لگایا گیا اور الزام لگانے والوں نے کچھ باریش مدعی عدالتوں میں بھیجے لیکن ملک کے جید علماء کرام نے اس الزام کو مسترد کر دیا۔ اسی طرح ملک کی دیگر اہم شخصیات کے خلاف بھی جھوٹا پراپیگنڈا کیا گیا لیکن کئی نامور علماء نے اس پراپیگنڈے کو مسترد کر دیا۔ “

حیرت دارم کہ من شکارِ کیستم

محترم جھوٹا الزام آپ پر لگا تو آپ کو سند مل گئی کہ کلین ہیں لیکن بیچارے مشعال خان، بہاولپور کے پروفیسرصاحب کو تو سند لانے کی فرصت بھی نہ مل سکی۔ آپ پاکستانی بہن آسیہ مسیح جس کو علمائے عظام آسیہ ملعونہ کہتے ہیں، جس نے کوئی توہین آمیز کلمہ نہیں کہا تھا، کیا حق دلا سکے ہیں؟ عافیہ صدیقی ایک امریکن شہری ہیں ان کے ساتھ زیادتی ہو تو تکلیف دہ بات ہے لیکن اس بدی کو کوئی مسلمان مقابلۃً بھی اختیار کرے تو یہ خدا کی راہ میں نیکی قرار نہیں پا سکتی۔

آپ اس بات میں کوئی بڑائی سمجھ رہے ہیں کہ توہین رسالت کے قانون کا غلط استعمال غیر مسلموں سے زیادہ مسلمانوں کے خلاف ہوتا ہے تو بے شک سمجھیں لیکن اس بڑائی کی بات کو دنیا کا کوئی معقول شخص قابل احترام نہیں سمجھ سکتا۔ ماشا اللہ عجیب انداز ہے آپ کے عرفان کا۔

یہ کمال کا فلسفہ ہے کہ”اصل مسئلہ ان قوانین کا غلط استعمال ہے، اس غلط استعمال کو روکنا ضروری ہے۔“ خوب رہی۔ بند رکے ہاتھ میں تلوار پکڑا کر ناک کو محفوظ سمجھنا حسین خام خیالی ہے۔

انکے خیال کے مطابق

”بدقسمتی سے ہمارے کچھ نام نہاد آئین پسند دانشور اور صحافی بھی ان قوانین کو انتہاء پسندانہ سمجھتے اور ان کا خاتمہ چاہتے ہیں لیکن جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ یہ قوانین پارلیمنٹ نے بنائے ہیں اور ان قوانین کو پارلیمنٹ ہی بدل سکتی ہے تو پھر وہ لاجواب ہو جاتے ہیں۔“

گویا ان قوانین کو انتہاپسندانہ سمجھنا اگر بد قسمتی قرار پائے۔ پھر خوش قسمتی تو ان قوانین کو مزید سخت کرنے میں ہوگی۔ اور ان نام نہاد دانشوروں کو لا جواب کرنے کے لئے آپ کامنہ توڑ۔ جواب۔ پارلیمنٹ ہی بدل سکتی ہے۔

حامد میر صاحب آپ نے فیض کا ذکر کیا تھا۔ یہ آپ کے لئے ہے

تجھ کو کتنوں کا لہو چاہیے اے ارضِ وطن
جو تیرے عارضِ بے رنگ کو گلنار کریں

کتنی آہوں سے کلیجہ تیرا ٹھنڈا ہو گا
کتنے آنسو تیرے صحراؤں کو گلزار کریں

تیرے ایوانوں میں پرزے ہوئے پیماں کتنے
کتنے وعدے جو نا آسودۂ اقرار ہوئے

کتنی آنکھوں کو نظر کھا گئی بد خواہوں کی
خواب کتنے تیری شاہراہوں میں سنگسار ہوئے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •