تھم گیا شورِ سلاسل کٹ گئی زنجیر پا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگست 1980 کے یہی اداس دن تھے جب نذیر عباسی کسی ٹارچر سیل میں اپنی آخری سانسیں گن رہا تھا۔ ان سے بہت پہلے حسن ناصر اس قافلے کے پہلے سالار تھے، جنہیں شاہی قلعے کے عقوبت خانے میں شہید کیا گیا۔ اگست کے دکھ، حسن ناصر کی زندگی کے سوکھتے پیڑ سے آیا، کہ اگست ہی میں بابڑہ کے مقام پر 600 نہتے کارکنوں کو شہید کیا گیا۔ ہماری سیاسی تاریخ دُکھوں سے مزین ہے۔

اس راہ میں جالب نے کوڑے کھائے، غفار خان کی آدھی زندگی عقوبت خانوں کی نذر ہوئی۔ عطا اللہ مینگل آج تک اپنے جوان بیٹے اسد اللہ کی لاش کے منتظر ہیں۔ عبدالصمد خان اچکزئی کا جسد ٹکڑوں میں ملا۔ لاکھوں بنگالی تہ تیغ ہوئے۔ کیا جی ایم سید، کیا اجمل خٹک، کیا فیض، کیا ولی خان، کیا بابا بزنجو، کیا فیض کے ساتھ وہ سیکڑوں ادیب، دانشور اور ٹریڈ یونینسٹ، ہماری سیاسی تاریخ پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں، کہ غلام علی تالپور کو سندھ اسمبلی کے اجلاس کی صدارت سے روکنے کے لئے اونٹ پر بٹھا کر دُور مِٹھی بھیج دیا گیا۔ بوڑھے جی ایم سید کی رسوائی کس کو یاد نہیں۔ قاضی حسین احمد کو بالوں سے گھسیٹتے پولیس والے کی تصویر کس نے نہیں دیکھی۔

غلام محمد، لالا منیر، شیر محمد بلوچ کی مسخ شدہ لاشیں کیا پرانی بات ہے؟ کیا ولی خان نے لیاقت باغ سے کارکنوں کی لاشیں اٹھا کر پر وقار خاموشی سے نہیں چلا؟ بلوچستان کا حبیب جالب، صبا دشتیاری اور رازق بگٹی کیا اسی راہ کی خاک نہیں بنے؟ دلائی کیمپ، اٹک قلعہ اور کوئٹہ قلی کیمپ کے دیواریں پر کتنے کارکنوں کے خون کی چھینٹیں پڑی ہیں اور نیپئر بیرکس سے لے کر مچھ جیل کے عقوبت خانوں تک کتنے سیاسی کارکنوں کی چیخیں دفن ہیں؟

کیا بھٹو، شاہنواز، مرتضی اور محترمہ کی لاشیں صرف کرپشن کے نعرے کی نذر کی جائیں گی؟ لیاقت وڑائچ، آغا نوید، عثمان غنی، علی حیدر شاہ، قادر جتوئی، صفدر ہمدانی، شاہدہ جبیں، محمد خان سولنگی، کس کس کا نام لکھا جائے؟ راحیلہ ٹوانہ شاید زندہ ہوں نہیں تو پرویز رشید سے پوچھ لیجیے کہ ان پر کیا بیتی؟

ایک عجب کھیل مچا رکھا ہے ان لونڈوں نے۔ ان نزدیک پاکستان کی سیاسی تاریخ لاہور کے جلسے سے شروع ہوتی ہے اور قائد اعظم کے بعد تمام سیاسی کارکن چور تھے۔ کرپشن سے انکار نہیں مگر یہ بھی تو دیکھ لیجیے کہ اس سے کون پاک ہے؟ یہاں قدسیوں کے قافلے کس گپت راستے سے گزرتے ہیں، جنہیں ہم عاصی دیکھ نہیں پاتے؟

سیاسی کارکنوں کی کردار کشی کی مہم شروع ہوئی ہے۔ نئی نسل کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس ملک کا سیاسی کارکن ہمیشہ سے چور ہے، تا کہ ان کو ڈی پولیٹسائز کیا جائے۔ اس ہاو ہو میں میاں افتخار کے اکلوتے بیٹے کی شہادت کو کرپشن کے نعرے کی نذر کیا جا رہا ہے۔ بلور خاندان کے پے درپے کٹتے بزرگوں کے لاشوں کی بے حرمتی کی جا رہی ہے۔ صمد خان اچکزئی کی لاش کو نوچا رہا ہے۔ حسن ناصر کی شہادت کو ٹھیکے کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اس ملک کی سیاسی تاریخ دنیا کے روشن سیاسی تاریخوں میں کم زور سہی، مگر یہاں رہنے والے سیاسی کارکنوں کی قربانی کسی سے کم نہیں۔ ان کارکنوں نے اس مٹی کو اپنے خون سے سینچا ہے۔ دنیا کا پہلا بے لوث شخص سیاسی کارکن ہوتا ہے جو اپنی ذات کے مفاد سے اٹھ کر دیگر کے مفاد کی بات کرتا ہے۔ یہ مقام بڑی ریاضت کے بعد نصیب ہوتا ہے۔ سیاسی کارکن سماج میں فلاح کی پہلی اکائی کا نام ہے۔ یہ ہمارے اجتماعی شعور کا حوالہ ہے۔ سیاست کیجیے، حکومت کیجیے، ہارس ٹریڈنگ کیجیے کہ یہی طاقت کے کھیل میں چلتا آ رہا ہے، مگر سیاسی کارکن کی کردار کشی نہ کیجیے۔ سماج کو ڈی پولیٹسائز مت کیجیے۔ سیاسی کارکن کے بغیر سماج بانجھ اور افلاس زدہ ہو جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 181 posts and counting.See all posts by zafarullah