قومے فروختند: سانگلہ ہل والوں نے چوک چوراہا کا نام سکندر اعظم چوک رکھ دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ خطہ جس کا نام سانگلہ ہے، سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں سالوں سے موجود ہے. لوگ محنتی، جفاکش، بہادر، امن، محبت اور رواداری کا مظہر تھے۔ یہ لوگ سکندر یونانی سے لڑے، اس کے سامنے سینہ سپر رہے۔ جنگ تو سکندر جیت گیا مگر اس کی فوج اس جنگ کے بعد حوصلہ اور ہمت ہار گئی تھی اس کے بعد کسی اور سے لڑنے کے قابل نہی رہی تھی۔ سانگلہ قبیلہ پہاڑی کے ساتھ اس سے نبرد آ زما ہوا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سانگلہ کے ساتھ ہل کا اضافہ کر دیا گیا تو یہ سانگلہ ہل کہلایا جو ریلوے کا ایک بڑا جنکشن بھی ہے۔

بڑے افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ سکندر جس نے سانگلہ کے لوگوں کا قتل کیا، خواتین کی عصمت دری کی، بچوں پر ظلم ڈھائے اس کے نام پر سانگلہ ہل کے لوگوں نے اپنے چوک چوراہے کا نام سکندر اعظم رکھ دیا ہے کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم قاتل اور مقتول میں فرق نہی سمجھتے ہماری اس دھرتی کا فخر وہ لوگ تھے جنہوں نے سکندر کا راستہ روکا تھا اس کے بعد سانگلہ قبیلہ لڑا تھا۔ سانگلہ ہل کے لوگوں نے اپنے بچوں کے قاتل کے نام پہ ا پنے چوک اور چوراہے کا نام کیوں رکھا یہ میری سمجھ سے باہر ہے۔

یہ شہر اور علاقہ قالین بافی کی صنعت اور مٹی کے برتن بنانے کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور رہا ہے۔ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں سالوں کی تاریخ سینے میں سمیٹے یہ علاقہ اپنی پوری ٓب و تاب سے موجود ہے اس کے روز و شب کے متعلق جانکاری کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ کچھ وقت کے لئے تاریخ کے سفر پر نکلا جائے۔ یہ 1857 ہے۔ غدر کے بعد جب برطانوی حکومت نے ملک کا انتظام و انصرام براہ راست اپنے ہاتھ میں لیا جو اب تک ایسٹ انڈیا کمپنی کے پاس تھا انگریز سرکار نے یہاں نہروں کا جال بچھایا تاکہ زیادہ سے زیادہ گندم پیدا کی جا سکے جو کہ ہندوستان کی ضرورت پوری کرنے کے بعد بچائی بھی جا سکے اس مقصد کے لئے 1857 سے 1885 تک پنجاب کی غیرآباد زرعی زمین جسے پنجابی میں بار بھی کہتے ہیں کے ایک کروڑ دس لاکھ ایکڑ رقبے کو قابل کاشت بنایا گیا اس سے پہلے کل 37 لاکھ ایکڑ رقبے پر کاشت کاری کی جاتی تھی 1907 میں جب انگریز سرکار نے مشترکہ پنجاب میں پنجاب کلونوئزیشن بل اسمبلی میں منظوری کے لئے پیش کیا تو ہر طرف غم و غصے کی لہر دوڑ گئی یہ بل دراصل بار کے کسانوں کے لئے کئی قسم کی پابندیاں لگانے کا بل تھا۔

یہ شہر سانگلہ ہل ہے تاریخ 12 جنوری 1907 ہے۔ یہاں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کسانوں کا اجتماع ہوتا ہے۔ یہاں سیاسی کارکنوں اور لیڈروں نے حکومت کے خلاف تقریریں کی مومن، ڈھابان سنگھ، خانقاہ ڈوگراں سے کسان یہاں پہنچے تھے یہاں بڑا اجتماع منعقد کیا گیا اس کے بعد لائل پور میں جو اجتماع کیا گیا اس میں بھی یہاں کے کسانوں کی شرکت لازوال تھی اس اجتماع سے لالہ لاجپت رائے، سردار اجیت سنگھ جو بھگت سنگھ کا چچا تھا نے تقریریں کیں اور جلوس کی قیادت کی تھی۔

پنجاب کے اس علاقے سے ایسے لوگوں نے بھی یہاں قیادت کی تھی جنہیں بعد میں بڑی شہرت ملی کرتار سنگھ سرابھا انقلابی نشے میں سرشار ہو کر اپنی زندگی سے بے نیاز ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں پروپیگنڈہ کرتا رہا اسے انگریز سرکار کے حکم سے گرفتار کیا گیا اور سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ جب اس کی گردن میں پھانسی کا پھندہ ڈالا گیا اس وقت کرتار سنگھ سرابھا کی عمر صرف انیس سال تھی آج بھی اس کے اشعار انقلابیوں کے لئے مشعل راہ ہیں

سیوا دیس دی جندڑئیے بڑی اوکھی

گلاں کرنیاں ڈھیر سوکھالیاں نے

جنھاں دیس سیوا وچ پیر پایا

اونہاں لکھ مصیبتاں جالیا نیں

کرتار سنگھ سرابھا کے ساتھ کئی انقلابی تھے جنہیں سزائے موت کا حکم سنایا گیا تھا۔ انگریز نے پنجاب کو کنٹرول کرنے کے لئے وہ جاگیر دار بھی پیدا کیے جن کی آل اولاد آج بھی ہماری سیاست پر سانپ کی طرح پھن پھیلائے بیٹھی ہے ان جاگیر داروں نے فوج میں جبری بھرتیاں کروائیں آزادی کی تحریک کو توڑنے کے لئے انگریزوں کا ساتھ دیا نرم، گرم، زندہ گوشت انگریزوں کو سپلائی کیا انگریزوں کی حمایتی سیاسی پارٹیاں بنائیں بدلے میں انعام و کرام اور جاگیریں وصول کیں۔

انگریز تو جہاں سے آئے تھے وہاں وآپس چلے گئے مگر ان کا طریقہ آج بھی جوں کا توں جاری و ساری ہے آمروں کے قصیدہ گو آج بھی اس ملک میں وہی کام کر رہے ہیں جو ان کے بڑے کرتے اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔ 3581 برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کا پہلا دن ہے جس دن ریل نے اپنا سفر شروع کیا اس کے بعد یہاں جگہ جگہ ریلوے اسٹیشن اور لائن بچھنا شروع ہوئے۔ لائل پور سے سانگلاہل پھر سانگلاہل سے وزیرآباد تک ریلوے لائن بچھائی گئی تو یہاں کے لوگوں کو آمد ورفت کی سہولت میسر ٓئی تھی سانگلہ ہل ریلوے اسٹیشن پر بننے والا سموسہ ملک بھر میں مشہور رہا ہے بعد میں جب شاہدرہ سے شیخوپورہ پھر شیخوپورہ سے سانگلہ ہل تک ریلوے لائن بچھائی گئی تو اس اسٹیشن کو جنکشن اسٹیشن کا درجہ ملا تھا۔

کبھی یہ اسٹیشن زندگی کی علامت تھے انسانوں کی چہل پہل رہتی تھی مگر آج ریل اور ٹرین تباہی کے دھانے پر پہنچ چکے ہیں یہ سب ہمارا اپنا کیا دھرا ہے۔ سانگلہ ہل اسٹیشن سے پہاڑی تک ریلوے لائن بچھائی گئی تھی وہ پہاڑی تک بچھائی گئی ریلوے لائن تو نجانے کہاں چلی گئی مگر وہ پہاڑی اپنی پوری آن اور شان سے قائم اور دائم ہے پہاڑی کا پتھر ریل کی پٹری کے کام آتا تھا۔ سانگلہ کی یہ پہاڑی اگرچہ میدانی علاقے میں سر اٹھائے تنہا کھڑی ہے لیکن یہ بھی قراقرم کے پہاڑی سلسلوں کی ہی ایک شام کا حصہ ہے جو سرگودھا اور چنیوٹ سے ہوتے ہوئے یہاں تک پہنچتے ہیں اس طرح کی چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں اور بھی سانگلہ کے قرب و جوار میں واقع ہیں۔

یہ چوک چوراہا ہے جسے اب سکندر اعظم چوک کا نام دیا گیا ہے

یہ پہاڑی تاریخ کے کئی انمٹ واقعات کی تن تنہا گواہ ہے۔ اشوکا کے عہد میں اس علاقے کو بڑی اہمیت حاصل تھی پہاڑی کے ساتھ جھیل اور جھیل کے ساتھ بدھ مت کے پیروکاروں کا بہت بڑا مرکز تھا یہ شہر بڑا بارونق تھا جس کے گردا گرد بلند و بالا فصیل موجود تھی فصیل تو اب ایک قصہ کہانی کے طور پر جبکہ پہاڑی اپنی پوری گواہی کے طور پر موجود ہے کی سانگلہ قبیلہ نے بڑی دلیری کے ساتھ اپنی دھرتی کا دفاع کرتے ہوئے جان جان آفرین کے سپرد کی تھی۔

حضرت عیسی کی پیدائش سے 623 سال پہلے سکندر یونانی نے ایران کے دارا اعظم کو تہہ بالا کرتے ہوئے یہاں کا رخ کیا تھا یہی وہ سرزمین ہے جس کے لوگوں نے سکندر یونانی کو دیوتائی سنگھاسن سے اتار کے انسان بنا دیا تھا۔ پہاڑی گواہ ہے کہ سانگلہ اور اس کے اتحادیوں نے جنگ کا نقشہ پلٹ دیا تھا۔ جہلم کنارے پورس سے جنگ کے بعد سکندر آگے بڑھا جس جگہ سے دریائے چناب کو عبور کیا وہاں آج بھی سکندریہ پل موجود ہے جو انگریز دور میں تعمیر کیا گیا ہے اپنے لاوُلشکر کے ساتھ وہ آگے بڑھ رہے تھے آگے سانگلہ اور کاٹھیا قبیلے کے لوگ اپنی دھرتی پر جنگ کا طبل بجا کر اس کے استقبال کے لئے تیار کھڑے تھے۔

جنگ جہلم سے پہلے پشکلاوتی کے لوگ بھی بڑی بہادری سے لڑے تھے پشکلاوتی کا موجودہ نام چارسدہ ہے۔ آج اس کے سامنے سانگلہ کھڑے تھے جو سینہ تانے اپنی دھرتی کے دفاع کے لئے جان لینے اور جان دینے کے لئے اپنے اتحادیوں کے ساتھ موجود تھے۔ سانگلہ اور کاٹھیا قبیلے کے یہ لوگ بیل گاڑیوں اور جنگی بگھیوں کی فصیل کے پیچھے مورچہ زن تھے ان کے پیچھے پہاڑی تھی جس سے ان کی پوزیشن مستحکم ہو گئی تھی۔ سکندر نے اپنے ہلکے ہتھیاروں سے لیس دستے (فالینکس) کو پیش قدمی کا حکم دیا مگر سانگلہ نے اسی شدت سے جوابی کارروائی کر کے انہیں پسپا کر دیا اس کے بعد سکندر اپنے جرنیل، بھاری توپ خانے، منجبیق اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ آور ہوئے توپخانے سے گولے اور منجبیق سے پتھر برسائے گئے حتی کہ انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا گیا سکندر کی فوج کے مقابلے میں سانگلہ کے پاس لڑنے کے لئے کچھ نہ ہونے کے برابر تھا اس کے باوجود وہ اپنی دھرتی کے دفاع کے لئے بڑی بہادری سے لڑے ان کے جیتے جی سکندر اور اس کی فوج فصیل پار نہ کر سکے جب سب کے سب لڑائی میں کام آگئے تو سکندر نے غضبناک ہو کر شہر کو آگ لگا دی اس شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔

سکندر اور اس کی فوج کا راستہ جس طرح سے سانگلہ اور اس کے اتحادیوں نے روکا کسی اورنے نہیں روکا سکندر کی فوج کے بارہ سو سپاہی اس جنگ میں بری طرح زخمی ہوئے۔ جنگیں تباہ کن ہوتی ہیں جنگوں میں سب سے زیادہ تکلیف عورتوں اور بچوں کو اٹھانا پڑتی ہے یہاں بھی ایسے ہی ہوا۔ جنگ تو سکندر جیت گیا مگر اس کی فوج حوصلہ اور ہمت ہار گئی یہی وہ جنگ تھی جس کے بعد اس کے جنرل کوئنوس نے اپنی فوج کی عبرتناک تصویر پیش کی

“دیکھو اے سکندر ہمارے جسم بے جان ہو چکے ہیں ہم جگہ جگہ سے زخم خورد ہ اور لہولہان ہیں ہمارے ہتھیار اب کنند ہو چکے ہیں ہماری زرہیں استعمال کے قابل نہیں رہیں۔ ایرانی سلطنت فتح کرنے کے بعد ہمیں اپنے ملک سے کوئی کمک نہیں پہنچی جس کی وجہ سے ہم غیر ملکی لباس پہننے پر مجبور ہیں ہم میں سے کتنے ہیں جن کے تن پر کپڑا ہے کتنے گھوڑے ہمارے پاس ہیں اور کتنے سپاہیوں کی خدمت کے لئے غلام ہیں۔ ؟ مال غنیمت میں سے اب کیا باقی بچا ہے ہم نے دنیا فتح کر لی ہے ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے تم اپنی فوج جیسی عظیم سپاہ کا تصور کر سکتے ہو یہ سب کھلے آسمان تلے غیرمحفوظ ہیں ہماری زندگیاں جنگلی جانوروں کے رحم وکرم پر ہیں ہمارے لوگ بربریت کا شکار ہو گئے ہیں”

اس جنگ کے بعد سکندر کسی اور سے جنگ کرنے کے قابل نہیں رہا یہاں سے سیدھا وہاں گیا جہاں سے آیا تھا اس کی موت کا معمہ آج تک حل نہیں ہو سکا ہے اس کی قبر کا کوئی نام و نشان نہیں ہے وہ گمنامی کی موت مرا تھا مگر سانگلہ قبیلے کی یہ پہاڑی آج بھی اپنی پوری آن اور شان کے ساتھ کھڑی اپنے قبیلے کی بہادری کی تن تنہا گواہ ہے۔

ہماری اس دھرتی پر سب سے بڑی بدقسمتی یہی رہی ہے کہ ہمارے عوام کی وہ مثالی جدوجہد جو انہوں نے حملہ آوروں کے خلاف کی وہ آج کے دن تک ہماری درسی کتب کا حصہ نہیں بن سکی ہے اور نہ ہی اپنی مقامی آبادی کے مرد جری کے ہیرو تسلیم کیا گیا ہے اور نہ ان کی حملہ آور مخالف جدوجہد کو اس قابل سمجھا گیا کہ اسے اگلی نسل تک پہچایا جائے۔ غیر ملکی حملہ آور، چور، ڈاکو، لیٹرے ہیرو بنا کر ہمارے سر پر تھونپ دیے گئے اور یہ سلسلہ آج کے دن تک جوں کا توں چلا آ رہاہے۔

سانگلہ قبیلے کی عظمت اور بہادری کی گواہ یہ پہاڑی اور یہ چوک جسے سکندر اعظم چوک کا نام دیا گیا اسی بات کا شاخسانہ ہے اس پہاڑی کو ایک یہی دکھ اندر ہی اندر تکلیف سے دوچار کرتا رہے گا کہ سانگلہ نے اپنے چوک چوراہے کا نام ایسے شخص کے نام پر رکھا جس نے ان کے لوگوں کو تہہ تیغ کیا تھا ان کے ہنستے بستے شہر کو آگ لگائی تھی خواتین اور بچوں کو گھوڑوں تلے روندا تھا۔ حق تو یہ تھا کہ اپنے قبیلے کی بہادری کی داستان اپنی آنے والی نسلوں کے سپرد کرتے انہوں نے اپنے اس چوک کا نام سکندر اعظم چوک رکھ دیا ہے۔

سانگلہ ہل کی یہ پہاڑی اپنے آپ میں کتنی دکھی ہو گی اس بات کا اندازہ شاید سانگلہ ہل کے لوگ ناں کر سکیں آج کے لوگ یہ اندازہ کرنے سے قاصر ہیں یا پھر یہ لوگ اپنی تاریخ سے ناواقف ہیں اور یہ بات طے ہے جو لوگ اپنی تاریخ سے ناواقف ہوتے ہیں ان کے لئے قاتل اور مقتول کا فرق کوئی معنی نہیں رکھتا ہے چہ جائیکہ یہی فرق قوموں کی تاریخ کا تعین کرتا ہے نہیں تو پھر یہی چوک اور چوراہے تاریخ کو ازسرنو زندہ کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •