عرفان صدیقی: ایک لکھاڑ کی حکایت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

” بھئی ، یہ شخص تو لکھاڑ ہے لکھاڑ!“

صلاح الدین صاحب نے پڑھتے پڑھتے سر اُٹھایا اور مسکراتے ہوئے کہا۔ صلاح الدین صاحب اسلاف کی وہ یادگار تھے، شخصی صحافت جن سے منسوب ہوتی ہے۔ تکبیر بھی شخصی صحافت ہی کا ایک نمونہ تھا لیکن اس میں جمہوریت کے بھی کچھ جراثیم تھے۔ ہر ہفتے ایک گرینڈ میٹنگ ہوتی جس میں شعبہ ادارت کے تمام سینئر اور جونیئر مل بیٹھتے اور اگلے ہفتے کے شمارے کی منصوبہ بندی ہوتی۔ ٹائٹیل کی تفصیلات حتیٰ کہ سرخیاں تک طے کی جاتیں۔ اپنے وطن کی سیاست کے پیچ و خم کو سمجھنے کا جیسا موقع اِن نشستوں میں ملا، اُس کی بس یاد ہی رہ گئی ہے۔ اہلِ محفل نے صدر محفل کی زبان سے یہ جملہ تحسین سنا تو حیرت سے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور کاندھے اچکا کر خاموش ہوگئے۔

یہ نوے کی دہائی تھی ، سیاست بے نظیر بھٹو اور میاں صاحب کے گرد گھومتی تھی اور اس میں زہر کچھ ایسے گھلا تھا کہ لوگ باگ گھر بیٹھے اِس کی تلخی محسوس کیا کرتے۔ یہ ان ہی دنوں کی بات ہے، ایک صاحب کی تحریر موصول ہوئی، روشنائی والے قلم سے لکھی ، نشست و برخاست سے درست اور جلی و خفی سرخیوں سے مرصع۔ تحریر ایسی کہ دیکھو تو اسی میں کھو جاؤ، پڑھنے کی طرف دھیان ہی نہ جائے (دل میں ہوک سی اٹھتی ہے کہ اب کون روشنائی کے نام سے بھی آگاہ ہوگا اور ایسی قلموں سے لکھنے کا ذوق رکھتا ہو گا؟ رہ گئیں جلی اور خفی جیسی اصطلاحات تو یہ بھی قلمی کتابت کے ساتھ گئیں، اناللہ وانا الیہ راجعون)۔

خیر بات دور جا نکلی۔ یہ جس سوادِ تحریر اور اسلوبِ تحریر کا تذکرہ ہے، اس کے ذمہ دار عرفان صدیقی تھے۔ صلاح الدین صاحب کی تعریف نے ان کے معاونین کو دکھی کیا کیونکہ اب وہ محسوس کرسکتے تھے کہ اِن کی چراہ گاہ میں ایک نئے سوار کی آمد آمد ہے۔ تکبیر کی شہرت کسی نہ کسی جانب جھکاؤ رکھنے والے سیاسی تبصرے و تجزئیے، بدعنوانی کی کہانیوں اور سیاسی شخصیات کے تفصیلی اور گہرے انٹرویوز کے لیے تھی اور ان فنون کا یہاں ایک سے بڑھ کر ایک ماہر موجود تھا لیکن جیسے ہی لکھاڑ یعنی عرفان صدیقی نے سلطنت تکبیر میں قدم رکھا چھاتے چلے گئے۔

زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح صحافت کی دنیا میں بھی بعض کاموں کے لیے بعض لوگ مخصوص ہوتے ہیں، یعنی فلاں کام سینئر کرے گا، فلاں جونیئر کرے گا لیکن عرفان صدیقی کے آمد کے بعد کوئی چھوٹا چھوٹا نہ رہا، بڑا بڑا نہ رہا کیوں اس شخص کو کام کی چھوٹائی بڑائی سے نہیں کام سے مقصد تھا۔ نتیجہ اس تبدیلی کا یہ نکلا کہ تکبیر میں ایک قسم کی مسابقت شروع ہوگئی جس کے دو نتائج برآمد ہوئے۔ پہلا یہ کہ کام کے معیار میں مزید بہتری آگئی۔ سبب اس کا یہ تھا کہ اب ہر ایک کا مقابلہ ان پروئے ہوئے موتیوں سے تھا جو ہر ہفتے کوریئر یا فیکس سے موصول ہوتے اور دیکھنے والا انھیں دیکھتا ہی رہ جاتا۔ خوش خطی عرفان صدیقی کا ایک ایسا شو کیس ہے جس نے ان کی قدر و منزلت میں ہمیشہ اضافہ کیا۔

صلاح الدین صاحب کی میٹنگ میں ایک بار خوش خطی پر بحث ہوگئی۔ دکھ یہ تھا کہ لوگ جان ماریں، ڈھونڈ ڈھونڈ کر اسٹوریاں اور اسکینڈل نکالیں پھر گھنٹوں بیٹھ کر انھیں لکھیں جب لکھ چکیں تو مقابلہ عرفان صدیقی کی خوش خطی سے آ پڑے۔ بس، ایسا ہی کوئی احتجاج تھا۔ صلاح الدین صاحب نے ایک ہی جملے نے بحث کا قصہ تمام کردیا، کہا کہ خوش خطی کوئی خارجی عمل نہیں، یہ اندر سے پھوٹتی ہے اور اندر سے تب پھوٹتی ہے جب لکھنے والے کا ذہن واضح ہو۔ صلاح الدین صاحب کا ووٹ اُس طرف جاتے دیکھ کر سچ پوچھئے تو حقیقت یہی ہے کہ ہم اہل تکبیر اس شخص کے دل سے کبھی حامی نہ بن سکے جس کی عرفانیت اور صدیقیت کے صلاح الدین صاحب قتیل تھے۔

اس زمانے میں اسلام آباد میں مرکز نامی ایک اخبار ہوا کرتا تھا، اسے اداریہ نویس کی ضرورت پڑی تو صلاح الدین صاحب سے مشورہ کیا گیا۔ انھیں کچھ سوچنے کی ضرورت ہی نہ پڑی۔ اس دن سے عرفان صدیقی اداریہ نگار بھی ہو گئے۔ اخبار کے ذمہ داران نے ایسی تحریر دیکھی تو اُ ن تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں لیکن جب معاوضہ دینے کا وقت آیا تو اس پیشے کی پرانی ریت دہرائی گئی جس پر عرفان صاحب نے صلاح الدین صاحب کو خط لکھا اور بتایا کہ ویسے تو روپے پیسے کی بات کرنی معیوب ہی ہے لیکن آپ دو ہزار کو تیس اکتیس سے تقسیم کر کے فیصلہ فرمائیے اور سوچئے کہ اخبار اداریہ نگار سے کیسا سلوک کر رہا ہے؟ اس دن کچھ لوگوں نے جانا کہ اُن کی سلطنت میں گھس آنے والا اجنبی اوپر سے گرنے والا کوئی چھاتہ بردار نہیں ایک محنت کش ہے، کشیدگی میں تھوڑی سی کمی واقع ہوگئی۔

تکبیر میں عرفان صاحب نے بہت کچھ لکھا لیکن وہاں ان کی اصل شہرت انٹرویو بنے۔ انٹرویو کیا ہے، کیسے ہونا چاہئے، اس معاملے میں کئی آرا اور مکاتب فکر ہیں۔ عرفان صدیقی کا تعلق کس مکتبے سے تھا، اس پر لوگوں کی اپنی اپنی رائے ہوگی لیکن میرا خیال ہے کہ انٹرویو کرتے ہوئے بھی وہ اپنی شخصیت کے اصل پہلو یعنی استاد کو کبھی سلا نہیں پائے، وہ جس کے پاس بھی انٹرویو کے لیے گئے، اسے استاد کی نظر سے ہی دیکھا اور پرکھا۔ اچھے استاد کی خوبی یہ ہے کہ وہ نالائق سے نالائق طالب علم کوبھی کھنگال کر اس کی شخصیت میں کوئی نہ خوبی تلاش کرہی لیتا ہے۔ عرفان صاحب کے انٹرویوز کا جائزہ لیا جائے تو ان میں یہ کیفیت بڑی نمایاں ہے۔

سپاہ صحابہ کے مولانا اعظم طارق کے انٹرویو کا تعارف ذہن میں آتا ہے جس میں انھوں نے لکھاکہ موصوف اقبالؒ کے اس شعر کی تصویر دکھائی دیتے ہیں جس میں پلٹنے جھپٹنے اور لہو گرم رکھنے وغیرہ کا ذکر ہے۔ عرفان صاحب کی اس بلند پروازی پر دفتر میں ہنگامہ ہوگیا، لوگوں کو اعتراض تھا کہ ایک فرقہ پرست کو اتنا بلند مرتبہ دینا کیا مناسب ہے؟ صلاح الدین صاحب مسکرائے اور کہاکہ اتفاق تو مجھے بھی نہیں لیکن اللہ نے موقع دیا تو اِس لکھاڑ کی استادی رنگ لائے گی اور جب کوئی بھی فرد اس فرقہ پرست کا ہاتھ روکنے والا نہیں ہو گا، وہ یہ کام کر گزریں گے۔ ایسا موقع تو شاید کبھی نہ آسکا لیکن یہ دلیل کام کرگئی نیز یہ بھی کھلا کہ کوئی صحافی، اگر ضرورت ہوتو اپنے پیشہ ورانہ دائرے سے نکل کر بھی کچھ کرسکتا ہے۔

عرفان صاحب سے پہلی ملاقات تب ہوئی جب وہ صدر مملکت کے ترجمان تھے۔ یہ ایک روکھی پھیکی سی ملاقات تھی جس نے تھوڑا مایوس کیا۔ بدگمانی کہہ لیں یا کچھ اور لیکن سچ یہ ہے کہ وہ کچھ مغرور سے لگے پھر ایک وقت آیا جب اس مغرور آدمی کو اختیار ملا تو اِس نے سول اعزازات کے لیے صرف اُن لوگوں کو منتخب کیا جن کی خدمات شک و شبہے سے بالا تھیں۔ ان میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو انھیں ہمیشہ آڑے ہاتھوں لیتے اور کبھی معاف نہ کرتے۔ عرفان صاحب کے مزاج کا ایک اور پہلو سامنے آگیا اور بدگمانی کو کچھ افاقہ ہوا۔

قصہ مختصر، 78 برس کے اس استاد، ادیب، شاعر اور کالم نگار کو ہمیشہ مخالفت راس آئی، کم از کم صحافت کے شعبے میں تو میں نے یہی دیکھا ہے۔ اب ان کے ساتھ ایک پھر ویسی ہی واردات بہت بڑے پیمانے پر ہو گزری ہے، گویا ستارے کو ابھی مزید عروج پر جانا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •