غیر نظریاتی سیاسی نوجوان!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس بات میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ ہمارے ملک کے سیاسی نوجوانوں کی کثیر تعداد صرف ”ہش میں خوش“ ہے، وہ کسی کے ہش کرنے پر خوشی سے نہال ہوجاتے ہیں، اس بات پر مجھے دو مشہور کہاوتیں اکثر یاد آتی ہیں جیسے ”بیگانے کی شادی میں عبداللہ دیوانہ“ یا پھر ”ڈھول بجے اور دوسو رکے ایسے کیسے ممکن ہے“ میری اس بات سے تو ہر وہ نظریاتی اور سیاسی سوچ رکھنے والا بندہ متفق ہوگا کہ آج کل جو نوجوان سیاست کا حصہ ہیں ان کی کثیر تعداد غیر نظریاتی، لالچی اور امیچور ہو چکی ہے، میرے سیاسی نوجوان بغیر کچھ سوچے سمجھے، بغیر کسی سیاسی سوجھ بوجھ کے کسی نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں۔

ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں میں ورکرز کی عزت اب نہ ہونے کے برابر ہے، صرف وڈیرے، جاگیردار اور بڑے سرمایاداروں کا قبضہ ہے، جبکہ اس کے برعکس چھوٹے سیاسی جماعتوں میں نوجوانوں کی تربیت کی جاتی ہے، اسٹڈی سرکلز منعقد کرکے نوجوانوں کو سیاست، سماجیات، اقتصادیات، عمرانیات، سائنس اور فلسفہ کی تربیت دی جاتی ہے تاہم ملک میں ہونے والے سیاسی اکھاڑ پچھاڑ سے بھی انہیں روشناس کرایا جاتا ہے، اس سلسلے میں بائیں بازو کی جماعتوں نے اپنا کام دکھایا ہے اور کافی حد تک نوجوانوں کو نظریاتی بنایا ہے اور انہیں سیاست کے ساتھ ساتھ پڑھنے لکھنے کا ہنر بھی سکھایا ہے، پر افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں میں اسٹڈی سرکل کا رجحان نہیں، پڑھائی لکھائی اور کتابوں کی باتوں سے انہیں چڑ سی ہو گئی ہے، ان بڑی جماعتوں کے بیشتر نوجوانوں اور کارکنان کو 5 کتابوں کے نام تک یاد نہیں، تاہم لکھنے میں بھی انہیں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور تو اور اپنی مادری زبان تک بیشتر غیر نظریاتی نوجوان لکھنے سے قاصر ہے۔

چونکہ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے، اور ہر کوئی لگا ہوا اپنی اپنی وجودیت ظاہر کرنے کے چکر میں اور اس سلسلے میں ہر چھوٹی سے چھوٹی بات بات سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا جیسے اب فرائض میں شامل ہو گیا ہے، بڑا ہی دکھ ہوتا ہے جب میں نوجوانوں کو سیاسی رہنماؤں کی آؤ بھگت اور چاپلوسی کرتے دیکھتا ہوں، صرف ان رہنماؤں کی ایک تصویر رکھنے کی دیر ہے پھر تو بھائی میرے نوجوان سیاستدان دوست ان کی تعریفوں کے پل باندھ دیتے ہیں، ان کی ہر غلط سے غلط بات پر ”ایگریڈ“ کا کمنٹ کرنا بھی لازمی ہے بات سمجھ آئے نہ آئے پر ”واہ جی واہ“ ضرور کرنی ہے اور ردعمل دے کر اپنی موجودگی کا احساس دلانا لازماً ہے، ایسی عجیب و غریب پوسٹوں سے ان رہنماؤں کی توجہ اپنی طرف مرکوز کرنے کا ہنر بھی میرے غیر نظریاتی سیاسی نوجوان بخوبی جانتے ہیں، پر ایک دن تو حد ہی ہو گئی جب پیپلز پارٹی رہنما اور بینظیر بھٹو شہید کی بیٹی بختاور بھٹو نے اپنے ٹیوٹر پر ایک رونے والی ”ایموجی“ پوسٹ کی پھر تو بھئی میرے نوجوان سیاستدانوں نے اس پر وکٹری کے کمنٹ، ریٹوئٹ اور لائیکس کی برسات ہو شروع کردی، اب مجھے یہ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس نے ایسا کون سا تیر مارا ہے یا ایسی خوشخبری یا کوئی انقلابی بات کہہ دی ہے صرف ایک ”ایموجی“ پر اس طرح ریکٹ کرنا مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا نہ ان نوجوانوں نے کوئی الفاظ نہ چھوڑے جس سے بختاور بھٹو کو نہ نوازا ہو۔

میرے نوجوان سیاستدان دوست پارٹی میں عہدوں کی لالچ میں سوشل میڈیا پر ہر دریا عبور کرنے کو تیار رہتے ہیں اور اس سلسلے میں ایسے ایسے لوگوں کو سائین میاں کرتے ہیں جن کو کوئی اللہ کے نام پر کھانا بھی نہ دے، پر افسوس کے ان لوگوں کے آگے پیچھے گھوم کر میرے نوجوان سیاستدان سمجھتے ہیں کہ انہوں نے بڑا کوئی کارنامہ سرانجام دے دیا ہو ان کے ساتھ سیلفی بنوا کر بڑا فخر محسوس کرتے ہیں، صرف اور صرف سستی شہرت حاصل کرنے کے چکر میں نہ جانے وہ کیا کیا کر جاتے ہیں، سندھ کی مقبول سیاسی جماعت کی نوجوانوں والی تنظیم کے سربراہ کی ذہانت اور دانش کا عالم یہ ہے کہ انہیں اردو بھی ٹھیک سے لکھنا نہیں آتی جبکہ ان کی انگریزی گرامر کی حالت بھی بہت ہی خستہ ہے ان کا ٹیوٹر اکاؤنٹ میری اس بات کی عکاسی کرتا ہے پر نہ جانے کیوں اس مقبول سیاسی جماعت نے ایسے نا اہل بندے کو نوجوانوں کی تنظیم کی سربراہی اس کے ہاتھوں میں دے دی ہے، ایسے ایسے لوگوں کو انہوں نے اپنی جماعت میں بڑے عہدے دیے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں ایک بھی کتاب نہیں پڑھی بس سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے والوں کی فوج بھرتی کردی ہے، ادھر اُدھر سے باتیں سن کر دوسری جگہ تقاریر کرنے والے بھلا کون سا ملک کی خدمت کریں گے؟

پر اس مقبول سیاسی جماعت کا مسئلہ یہیں ختم نہیں ہوتا، ہر طرف ایسے نوجوان دکھائی دیتے ہیں جنہیں کچھ نہ آتے بھی خود کو بہت کچھ آنے والا سمجھتے ہیں، سندھ کی اس مقبول اور برسر اقتدار جماعت کی طلباء تنظیم کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں، صرف اور صرف فوٹو سیشن، اور سستی شہرت کے پیچھے نوجوان دوڑتے دکھائی دیتے، ایسے ایسے لوگوں کو طلباء کی کمان پکڑائی گئی ہے جنہیں طلباء سیاست اور طلباء کے مسائل کی خبر تک نہیں، جبکہ اس کے برعکس اس طلباء تنظیم نے ماضی میں بہت سے نامور سیاستدانوں کو جنم دیا، طلباء کی اس تنظیم کا نام اور کام اتنا مقبول ہوتا تھا کہ ہر طالب علم، ہر نوجوان کو اس تنظیم کے نعرے تک یاد تھے پر افسوس کہ اب غیر نظریاتی لوگوں کی وجہ سے سارا بیڑا غرق ہوچکا ہے۔ ہر نوجوان اپنے انفرادی مفادات کے چکر میں نہ جانے کیا کیا کر بیٹھتا ہے، ایسے مفاد پرست، غیر نظریاتی ٹولے کی وجہ سے سیاست کو بڑا نقصان ہوا ہے۔

میرے کہنا کا بالکل بھی یہ مقصد نہیں کہ ہمارے سارے سیاسی نوجوان ایک جیسے ہیں، ان سیاسی نوجوانوں کی کثیر تعداد غیر نظریاتی ہے جنہیں سیاست کا ”س“ بھی نہیں آتا بس میری اور آپ کی باتیں سن سن کر چلے ہیں سیاست کرنے، اب ان غیر نظریاتی نوجوانوں کی وجہ سے ہمارے نظریاتی اور قابل نوجوان پیچھے رہ جاتے ہیں کیونکہ کوئی بھی قابل اور نظریاتی بندہ کبھی بھی کسی کی چاپلوسی نہیں کرے گا اور نہ ہی اس کے آگے پیچھے گھومے گا کبھی بھی اپنے اصول اور نظریات پر سودے بازی نہیں کرے گا پر افسوس صد افسوس کہ ایسی غیر نظریاتی نوجوانوں کی ایسی گری ہوئی حرکات کے باعث ایسے نا اہل لوگ خود کو ابراھم لنکن اور بینجمن فرینکلن سمجھنے لگے ہیں وہ بس اب اپنی تعریف سننے کے عادی بن چکے ہیں کسی کی تنقید سننے کی بھی ان میں برداشت نہیں رہی، ایسے غیر نظریاتی سیاسی نوجوانوں کو پڑھنے لکھنے سے جیسے ان کو الرجی ہو بس سارا دن سوشل میڈیا پر چارپائی لگا کر بیٹھے اپنے نام نہاد سیاسی رہنماؤں کی آؤ بھگت میں مصروف رہتے ہیں۔

میں اپنے نوجوان سیاستدان دوستوں سے کہتا ہوں کہ ایسے لوگوں کے آگے پیچھے گھومنا بند کرو، ان کی چاپلوسی اور تعریفوں کو بریک لگا کر اپنی محنت اور ذہانت سے اپنا ایک مقام بناؤ ایسے نام نہاد لوگوں کے ارد گرد گھومنے اور ان کی چاپلوسی کر کہ اپنا وقت ضائع نہ کرو، ”اپنی گھوٹو تے نشہ ہووے“

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •