ایک معصوم پاکستانی نے گاڑی کا ٹوکن ٹیکس جمع کروایا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں ہم نے گاڑی کا ٹوکن ٹیکس جمع کروا دیا۔ بس یہ بہت سادہ سا ٹیکس جمع کروانے کے لئے بھی ٹاؤٹ کو سروس فیس دینی پڑی ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ ہم نے اپنے آفس کے ایک اہلکار کو گاڑی کا ٹوکن ٹیکس جمع کروانے بھیجا۔ گزشتہ ٹوکن پنجاب کے مرکزی ڈاکخانے جی پی او میں جمع کروائے تھے۔ وہ فرمانے لگے کہ آپ چونکہ انکم ٹیکس فائلر ہیں تو ایکسائز والوں کے پاس جمع کروائیں ورنہ فلاں فلاں کاغذات لائیں۔ ہمارے انکم ٹیکس فائلر ہونے کے باوجود وہ پہلے جمع کرتے رہے تھے۔ غالباً پانچ چھے سال پہلے صرف ایک مرتبہ اپنا ٹیکس سرٹیفیکیٹ وغیرہ دینا پڑا تھا جب پہلی مرتبہ یہ فائلر اور نان فائلر کے ریٹ کا فرق پڑا تھا۔

اہلکار حسب حکم ادھر پہنچا تو ایکسائز والوں کے کلرک بادشاہ فرمانے لگے کہ ہمارے پاس جی پی او کے گزشتہ جمع کروائے گئے ٹوکنوں کا ریکارڈ نہیں ہے اس لئے جی پی او کے گزشتہ ٹوکنوں کی تصدیق ہو گی جس میں پندرہ دن لگیں گے، آپ کاغذات جمع کروا دیں اور پندرہ دن بعد پتہ کریں۔

یعنی گویا یہ فرمایا کہ کم از کم تین چار دن کے پھیرے لگائیں اور اس کے بعد بھی جان چھڑانے کے لئے پیسے دے کر ہی ٹیکس جمع کروانا پڑے گا ورنہ ہمارے بھائی بند کسی بھی سڑک پر گاڑی بند کر دیں گے اور آپ خود کو گرفتار بلا پائیں گے۔

اب ہمارے آفس کا اہلکار بھی ہماری ہی مانند نہایت سست اور کام چور سا ہے۔ بار بار سرکاری دفتر کے چکر لگانے سے اس کی جان جاتی ہے۔ ایک معاملہ فہم پاکستانی کی طرح اس نے باہر کھڑے ایک نیک دل اور مشکل کشا شخص کو کہ ٹاؤٹ کہلاتا ہے، پیسے دیے اور اس نے پندرہ منٹ میں ٹیکس جمع کروانے کی رسید ہاتھ میں تھما دی۔

اب بعض لوگ معترض ہوں گے کہ اتنا سادہ سا ٹیکس جمع کروانے کے لئے بھی رشوت دینی پڑی ہے۔ جبکہ ہم سیدی شفیق الرحمان کے مرید ہیں جو ”تزک نادری“ میں اسے ہند کی ایک مفید رسم بتا گئے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ


”جہلم کے قریب ایک قلعہ دار نے ہم پر دھاوا بول دیا لیکن فوراً ہی پھرتی سے قلعے میں محصور ہو گیا۔ ارادہ ہوا اس کو اسی طرح محصور چھوڑ کر آگے بڑھ جائیں، لیکن الو شناس ملتمس ہوا کہ نیا ملک ہے، یہاں پھونک پھونک کر قدم رکھنا چاہیے۔ ہم نے فرمایا کہ اس طرح قدم رکھے تو دلی پہنچنے میں دیر لگے گی۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں یہ لوگ عقب سے آ کر تنگ نہ کریں۔ “

”اس روز ہمیں نزلہ سا تھا اور قصد لڑائی بھڑائی کا ہرگز نہ تھا۔ الو شناس کے اصرار پر دو دن تک قیام کیا لیکن کچھ نہ ہوا۔ تنگ آ کر ہم نے پوچھا کہ کوئی ایسی تجویز نہیں ہو سکتی کہ یہ معاملہ یونہی رفع دفع ہو جائے۔ الو شناس گیا اور جب شام کو لوٹا تو اس کے ساتھ ایک ہندی سپاہی تھا۔ الو شناس کے کہنے پر ہم نے سپاہی کو پانچ سو طلائی مہریں دیں۔ ابھی گھنٹہ نہ گزرا ہو گا کہ قلعے کے دروازے کھل گئے۔ ہم بڑے حیران ہوئے۔ “

”ہند میں یہ ایک نہایت مفید رسم ہے۔ جب کٹھن وقت آن پڑے یا مشکل آسان نہ ہو تو متعلقہ لوگوں کو ایک رقم یا نعم البدل پیش کیا جاتا ہے۔ تحفے کی مقدار اور پیشے کرنے کے طریقے مختلف ہوتے ہیں، لیکن مقصد ایک ہے۔ اسے یہاں رشوت کہتے ہیں۔ کس قدر زود اثر اور کارآمد نسخہ ہے۔ اگر لاکھوں کے اٹکے ہوئے کام ہزار پانچ سو سے سنور جائیں، تو اس میں ہرج ہی کیا ہے۔ رشوت دینے دلانے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس عمل سے کرنسی حرکت میں رہتی ہے۔ “


اب آپ خود سوچیں کہ اتنا سادہ سا ٹیکس جمع کروانے سے کرنسی اس طرح حرکت میں آتی ہے تو پیچیدہ والے ٹیکس جمع کروانے کی وجہ سے کرنسی کی نقل و حرکت میں کیسا اضافہ ہوتا ہو گا۔ ویسے بھی اگر ہمارے آفس کا اہلکار ہند کی اس مفید رسم کو بروئے کار نہ لاتا تو اتنے پھیروں پر اس سروس فیس سے کہیں زیادہ پیٹرول اور اس سے کہیں زیادہ چھٹی کرنے کے باعث آمدنی کا نقصان ہو جاتا۔

یہ اچھی بات ہے کہ حکومت نہ صرف خود ٹیکس وصول کر رہی ہے بلکہ معاشرے کے پسے ہوئے طبقات از قسم ٹاؤٹوں اور دفتری اہلکاروں کے گھروں کا چولہا جلانے کا سبب بن رہی ہے، ورنہ اگر اس سسٹم کو سیدھا کر دیا جائے تو صرف حکومت کو ہی پیسہ ملے گا اور ممکن ہے کہ زیادہ لوگ بھی ٹیکس دینے لگیں، مگر پھر ان غریبوں کا کیا ہو گا جو محض سروس فیس سے اپنا گھر چلاتے ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1206 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar