ابن صفی کا ناول اور مولوی صاحب سے مجادلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے جس ماحول میں شعور کی آنکھ کھولی اس میں کتاب کا حصول بہت مشکل کام تھا۔ اس لیے پسند کے بجائے جو میسر آ جائے اس پر اکتفا کرنا پڑتا تھا۔ کتابوں کی کمی سے میرے اندر ایک ہی کتاب کو بار بار پڑھنے کی عادت پیدا ہوئی۔ میٹرک میں پہنچنے تک گھر میں اتنی کتابیں جمع ہو چکی تھیں جن سے لکڑی کا ایک صندوق بھر چکا تھا۔

میں شاید نویں جماعت کا طالب علم تھا جب کسی کتاب کی تلاش میں صندوق کھولا تو ابن صفی کی ایک کتاب پڑی نظر آئی جس کا نام تھا اشاروں کے شکار۔ شاید کالج سے چھٹیوں پر آتے ہوئے بھائی جان وہ کتاب لے کر آئے تھے۔

 ابن صفی کی اس کتاب کو پڑھنا شروع کیا تو کچھ عجیب سی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ میرا جاسوسی ناول پڑھنے کا پہلا تجربہ تھا۔ اس میں بہت سے الفاظ نئے تھے۔ کچھ پتہ نہیں تھا کہ ایبسٹرکٹ آرٹ یا تجریدی مصوری کس بلا کا نام ہے۔ پھر یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی تھی کہ تصویر اس لڑکی کے بیڈ روم میں کیسے پہنچ جاتی تھی۔ لیکن حمید اور قاسم کے کردار بہت دلچسپ دکھائی دیے۔ خیر ناول کو دوبارہ پڑھا تو کچھ تکنیک سمجھ میں آئی۔ چنانچہ اب ابن صفی کے ناولوں کا انتظآر رہنے لگا۔ بھائی جان جب بھی چھٹیوں پر گھر آتے تو دو ایک ناول لے آتے۔ کالج میں پہنچنے کے بعد برسوں تک میرا یہ معمول رہا کہ بس یا ریل کے سفر میں ابن صفی کا کوئی ناول خریدتا اور اس کو پڑھتے ہوئے سفر کی کوفت کو کم کرتا۔

مجھے احساس ہے کہ بہت سے وہ لوگ، جو بزعم خویش سنجیدہ ادب کے قاری ہوتے تھے، ابن صفی کے مطالعے پر ناک بھوں چڑھاتے تھے۔ میرے کچھ سنجیدہ طبع دوست بھی میری اس حرکت پر بہت نالاں رہتے تھے۔ ترقی پسند تو اس کو فراری ادب میں شمار کرتے تھے۔ ایک مقبول عام نظریہ یہ بھی بیان کیا جاتا تھا کہ ان ناولوں کے مطالعے سے مجرمانہ ذہنیت پرورش پاتی ہے اور معاشرے میں جرائم کو فروغ ملتا ہے۔

نقادوں کی بات وہ خود جانیں، مجھے یہ اقرار کرنے میں نہ کوئی شرم ہے نہ باک کہ ابن صفی میرا بہت پسندیدہ ناول نگار رہا ہے۔ مجھے ان لوگوں پر افسوس ہوتا ہے جو مصنوعی سنجیدگی کے بوجھ تلے دب کر مسرت آگیں لمحات سے محروم رہے ہیں۔ میں نے اپنے بچوں کو بھی یہ ناول پڑھوائے ہیں اور اپنے سکول کے زمانے میں وہ بھی محظوظ ہوئے۔

اس کے ناولوں میں شستہ اور شائستہ نثر پڑھنے کو ملتی ہے۔ کیسے کیسے لازوال کردار تخلیق کیے ہیں۔ کردار نگاری بہت اعلا درجے کی ہے۔ انھوں نے شگفتہ نگاری کے بہت عمدہ نمونے بھی پیش کیے ہیں۔ ایک ناول میں تو ایسا جملہ لکھا ہے جو لگتا ہے کہ ہمارا قومی شعار بن گیا ہے۔

جاسوسی دنیا کے سلسلے کے ناول “چاندنی کا دھواں” میں کیپٹن حمید کوانسپکٹر آصف کی ماتحتی میں کام کرنا پڑتا ہے۔ حمید اپنی شرارتی طبیعت کی بنا پر ہوٹل میں کام کرنے والی لڑکی کو آنکھ مارتا ہے اور وہ غصے میں برا بھلا کہہ کر چلی جاتی ہے۔ انسپکٹر آصف اسے کہتا ہے تم بے عزت کرواؤ گے، تم جوتے پڑواؤ گے۔ اس پر کیپٹن حمید ایک شاہ کار جواب دیتا ہے: سو پچاس میں عزت نہیں جاتی، ہزار بارہ سو مارنے کون آتا ہے۔

ابن صفی کی کتابوں کے پیش لفظ بھی بڑے مزے کے ہوتے تھے۔ ایک پیش لفظ بہت کمال کا جملہ لکھا ہے۔ ایک خاتون جب شب برات کا حلوہ اگلے دن تقسیم کرتی ہے تو وصول کرنے والی خاتون کہتی ہے: اے بی بی کیا وہابڑی (وہابی) ہو کہ روزے نماز کے علاوہ کوئی کام وقت پر نہیں کرتیں۔

ابن صفی کی یاد آنے کا سبب ایک واقعہ ہے جو مجھے ٹرین کے ایک سفر میں پیش آیا تھا۔ یہ 1976 کی بات ہے میں گرمیوں کی تعطیلات کے اختتام پر رحیم یار خان جا رہا تھا جہاں کالج میں بطور لیکچرر تعینات تھا۔ ملتان کینٹ کے اسٹیشن سے حسب معمول ناول خریدا اور واپس آ کر ڈبے میں اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ ناول کھول کر شاید ابھی پہلا ہی صفحہ پڑھا ہوگا کہ ایک مولوی صاحب آ کر ساتھ بیٹھ گئے۔ ایک منٹ بھی نہیں گزرا ہو گا کہ انھوں نے میرا ہاتھ مروڑا اور یہ دیکھا کہ میں کون سی کتاب پڑھ رہا ہوں۔ جہاں تک مجھے یاد ہے اس کتاب کا نام ڈیڑھ متوالے تھا۔ یہ نام دیکھ کر وہ بہت بدمزہ ہوئے اور کہا ایسی کتابیں نہیں پڑھنی چاہییں۔ میں نے کوئی جواب نہ دیا اور خاموشی سے کتاب پڑھتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد انھوں نے اپنی بات دہراتے ہوئے کہا ایسی کتابیں ذہن کو خراب کرتی ہیں۔ ان کا پڑھنا نقصان دہ ہوتا ہے۔ اب مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ صاحب کتاب نہیں پڑھنے دیں گے اس لیے ان سے دو دو ہاتھ کر ہی لیے جائیں۔ میں پینٹ شرٹ میں ملبوس تھا،، اس وقت سر پر بال گھنے ہوتے تھے جو کافی بڑھے ہوئے تھے۔ زمانے کے فیشن کے مطابق لمبی لمبی قلمیں تھیں۔

جب میں نے کتاب بند کر دی تو مولوی صاحب نے پوچھا نماز پڑھتے ہیں، میں نے کہا نہیں۔ کہنے لگے پڑھنی چاہیے۔ میں نے جواب دیا یہ پتہ ہی نہیں چلتا کس طرح پڑھنی چاہیے۔ کہا جس طرح اللہ کے رسول ﷺ اور ان کے صحابہ نے پڑھی۔ عرض کیا یہی تو پتہ نہیں چلتا انھوں نے کس طرح پڑھی۔ کوئی رفع یدین کرتا ہے کوئی نہیں کرتا۔ کوئی ہاتھ باندھ کر پڑھتا ہے کوئی ہاتھ چھوڑ کر پڑھتا ہے۔ اس پر مولوی صاحب نے فوراً کہا نہیں ہاتھ چھوڑ کر پڑھنا تو غلط ہے۔ اب مجھے اندازہ ہو گیا کہ ان صاحب کا علم بس واجبی سا ہی ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ شاید شیعہ ہی ہاتھ چھوڑ کر پڑھتے ہیں۔ جواباً کہا اہل سنت کے چار آئمہ فقہ سے امام مالک واحد ہیں جن کا تعلق مدینہ سے ہے۔ ان کا اصول یہ ہے کہ اہل مدینہ کے تعامل کو خبر واحد پر ترجیح دی جائے گی۔ اس امام کے پیروکار ہاتھ چھوڑکر نماز پڑھتے ہیں۔ میرا یہ جواب سن کر مولوی صاحب کی حالت عجیب ہوئی اور گھور گھور کر مجھے دیکھنے لگے۔ اس حلیے کے شخص سے انھیں شاید اس جواب کی توقع نہیں تھی۔

خیر وہ اصرار کیے چلے جاتے تھے کہ صحابہ کی پیروی کرنی چاہیے۔ میں نے پوچھا جب صحابہ آپس میں مختلف فیہ ہوتے ہیں تو پھر کس کی پیروی کی جائے۔ بہر حال ڈبے میں کوئی ڈیڑھ دو گھنٹے خوب مجادلے اور کٹ حجتی کا بازار گرم رہا۔ کچھ اور مسافر بھی اس میں شریک ہو گئے۔

اس وقت مولوی صاحب سے ہونے والا مجادلہ بیان کرنے کا مقصود بس یہ بتانا ہے کہ ہمارے معاشرے میں کبھی اتنی برداشت اور تحمل تھا کہ مذہبی باتوں کو بلا خوف و خطر زیر بحث لایا جا سکتا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •