نواز شریف کے مصائب میں مریم نواز کا کردار اور مریم کا مستقبل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”مریم نواز بیٹی ہونے کے باوجود باپ کی مشکلات میں ساتھ کھڑی ہے“
”مشکلات بھی تو اسی نے گھڑی ہیں باپ بچارہ تو جیل بھی اسی لئے گیا کہ جو خاموش رہنے کا معاہدہ ہوا تھا وہ مریم نے اپنی سخت زبان کے استعمال سے ختم کردیا۔ ظاہر ہے دریا میں رہتے مگرمچھ سے کون لڑتا ہے؟ اب بھگتیں“۔

ایسے مکالمے میرے ساتھ ساتھ آپ سب نے بھی سنے ہوں گے۔

اس وقت سیاسی محاذ پر ن لیگ سے مراد صرف مریم نواز ہے۔ اب اگر اس پارٹی کو مریم لیگ کا نام دے دیا جائے تو حرج نہیں کیونکہ اس وقت سیاسی سرگرمیاں سوائے مریم نواز کے کوئی اور کرتا نظر نہیں آتا۔ یقینا مریم نواز کی اس مہم کو ذاتی مقاصد کے حصول کی مہم بھی کہا جا سکتا ہے لیکن یہ بھی ہے کہ ایک بیٹی بھائیوں کی طرح بھاگی نہیں بلکہ اپنے باپ کے ساتھ کھڑی اپنے اور باپ کے لئے کچھ تو کرتی نظر آرہی ہے جبکہ بھائی باپ کے مشکل وقت میں تو کیا کام آتے، ماں کے جنازے کو کندھادینے بھی نہ آئے کہ ان کی جائیداد ضبط ہو جائے گی، ان کو مال و دولت کے جانے کے ساتھ ساتھ سزا ہوجانے کا بھی اندیشہ ہے۔

گزشتہ دنوں دیکھا کہ مریم نواز نے فریسٹریشن کا شکار ہوکر کچھ غلط ٹیویٹس کردیں۔ بعد میں ڈلیٹ کردینے سے مزید سبکی کا سامنا رہا۔ ایسا ہوجانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ مریم نواز نے اپنے قد سے بہت اونچی دیوار پھلانگنے کی کوشش کی ہے یہ چوٹیں تو لگنی ہی تھیں۔

گو کہ میں اس وقت کسی بھی ایسے شخص کو سپورٹ نہیں کرتی جو اختیارات رکھنے کے باوجود عوام کو نظر انداز کرتا رہا یا کررہا ہے۔ ارباب اختیار نے اس ملک کے غریبوں کا بھلا کرنا ہوتا تو 72 سال میں کچھ نہ کچھ کر ہی جاتے۔ بس جو آیا اپنے خاندان اور آنے والی نسلوں کے لئے مال جمع کرگیا۔

اس میں صرف سیاستدان نہیں بلکہ وہ جنرلز بھی شمار ہیں جو وردی میں تو حب الوطنی کی قسمیں کھاتے رہے اور ”پاکستان کی قدر کرو“ کے بھاشن دیتے رہے لیکن جب ریٹائر ہوئے تو پاکستان کو بھی اپنی زندگی سے ریٹائر کرکے ایک طرف رکھ دیا اور بیرون ملک جا بسے، بچے تو ان ظالموں نے پہلے ہی سروس کے دوران باہر شفٹ کردیے۔ عالی شان گھر خرید لیا، بیرون ممالک بنکوں میں اپنا پیسہ رکھا لیکن کبھی کسی نے غدار نہ کہا۔ کیوں؟

میری نگاہ میں ہر وہ شخص ملک دشمن ہے، غدار ہے جو اس ملک کا سرمایہ کسی بھی صورت باہر لے گیا۔ جو یہاں رہتے ہوئے باہر پراپرٹی بنا لے اس کا احتساب ضروری ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ ایسا ہوگا۔ کوئی نہ کوئی مائی کا لعل ضرور ان سب کا احتساب کرے گا جنہوں نے ذاتی فائدے کی خاطر ملک کو نقصان پہنچایا۔ اب خدا را مائی کے لعل کا مطلب اپنے عمران خان کو نہ لیجیے گا کہ یہ بات محض عمل سے متعلق ہے۔ لعل وہی کہلائے گا جو عملی طور پر احتساب کرے گا جو نہیں کرے گا وہ نونہال کہلائے گا جسے انگلی پکڑ کر چلایا جاتا ہے۔

مریم نواز کی جنگ میں بھائیوں کی عدم موجودگی سے مجھے دکھ ہوتا ہے کہ باپ کو بیٹوں کا سہارا چاہیے ہوتا ہے جو باپ کے بڑھاپے کا بوجھ اٹھا سکیں۔ یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہے۔ سارا بوجھ بیٹی کے کندھوں پہ آگرا۔

آج میری دوست کے نوجوان بیٹے، جو ابھی حال ہی میں پاس آؤٹ کرکے باقاعدہ فوجی بن گیا، کو دور ٹریننگ کے لئے بھجوا دیا گیا تو اسے رخصت کرتے ہوئے دل بہت اداس ہوا اور سوچنے لگی کہ بیٹیاں رخصت کرنے سے زیادہ مشکل کام بیٹوں کو رخصت کرنا ہے خصوصا وہ بیٹے جو محاذ پہ جارہے ہوں۔

میں سوچ رہی تھی کہ بیٹیاں تو رخصت ہوکر بھی پاس ہی رہتی ہیں۔ ایک گھر سے دوسرے گھر چلی جاتی ہیں لیکن بیٹے جب گھر سے باہر جاتے ہیں تو ان کا گھر پیچھے رہ جاتا ہے اور سامنے ایک طویل سفر جو انہیں تنہا کاٹنا ہوتا ہے۔ اپنے زور بازو پہ حالات سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے، مشکلات سے لڑنا پڑتا ہے۔ وہ حالات سے لڑتے لڑتے اپنے آپ بڑے ہوجاتے ہیں اور وہ بچے نہیں رہتے جنہیں گھروں سے رخصت کیا جاتا ہے۔ مجھے لگا کہ بچے جب ایک بار گھر چھوڑ دیں تو واپس نہیں پلٹتے پھر ان کی جگہ مرد واپس لوٹتے ہیں۔ اور مائیں ان مردوں میں اپنے بچے تلاش کرتی رہتی ہیں لیکن وہاں ان کے بچے کم ہی انہیں ملا کرتے ہیں۔

بس یونہی سوچتی رہی کہ ایک باپ کا سہارا بیٹا ہوتا ہے۔ لیکن نواز شریف کی بدقسمتی دیکھئے کہ ان کے بیٹے اس مشکل میں ان کا سہارا نہ بنے۔ آج کل ٹویٹر پہ نظر آتے ہیں صرف ٹویٹس کرکے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ بھی مریم کی طرح اس لڑائی کا حصہ ہیں جبکہ ایسا نہیں۔

مریم کے اندر تکبر اور غصہ نہ ہوتا تو شاید معاملات ایسے خراب نہ ہوتے۔ نواز شریف ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے فیورٹ رہے اور اسی لئے بہت وقت دیا گیا کہ سرینڈر کردیں۔ نواز شریف تو شاید سرینڈر کر بھی دیتے لیکن مریم نے ایسا نہ ہونے دیا۔ یہ فرق ہوتا ہے ایک عوامی لیڈر اور امپورٹڈ لیڈر کے مابین۔ عوامی آدمی خواہ مخواہ خود کو غیر ضروری معاملات اور فسادات میں الجھاتا نہیں بلکہ وہ بچ بچا کر اپنے مقاصد کی طرف متوجہ رہتا ہے۔

مریم نے جس ماحول میں پرورش پائی وہاں ارد گرد صرف حکم ماننے والے اور سر جھکا کے تابعداری کرنے والے لوگ تھے۔ اس لیے ہر کسی کو انگلی کے اشارے پہ نچانے کی خواہش نے مریم کو بہت نقصان دیا۔ اب جو لوگ آج مریم نواز کے جلسوں کو کامیابی قرار دے کر مستقبل میں کسی نوید کا انتظار کررہے ہیں وہ اس غلط فہمی سے نکل آئیں۔ مریم نواز نے اپنے سارے پتے میز پر غلط وقتوں میں پھینکے ہیں۔ وہ ضائع گئے۔ اب کچھ نہیں ہوسکتا۔ ان کا سیاسی مستقبل بلیک ہول میں جاچکا ہے

26 جولائی 2017 نواز شریف کی نا اہلی سے دو روز قبل بھی میں نے یہی بات لکھی تھی کہ مریم نواز کا سیاسی مستقبل بلیک ہول میں جاچکا اور نواز شریف کو نا صرف نا اہل کردیا جائے گا بلکہ ان کو بہت طویل مقدمات کا بھی سامنا رہے گا۔

میں آج بھی اسی طرح دیکھتی ہوں کہ اگر کوئی بہت انہونی بات نہ ہوئی تو مریم نواز اور ن لیگ دونوں اب ماضی کا حصہ بن جائیں گے۔ اگر ابھی بھی سمجھداری کی جائے تو مسلم لیگ سے ن ہٹا کر تمام مخلص اور سینئرز کو جمع کیا جائے اور کوئی متحدہ مسلم لیگ جیسا ٹائٹل دے کر نئے سرے سے پارٹی تشکیل دی جائے جس میں میرٹ اور اخلاص کی بنیاد پر عہدے دیے جائیں۔ البتہ مریم نواز کا مستقبل اب سیاست نہیں بلکہ مقدمات ہیں۔ نیب اور عدالتوں کے چکر کاٹنے کے سوا مزید کچھ نظر نہیں آتا۔ بس ان کے چاہنے والوں کو یہ تسلی رہے گی کہ بیٹی بھائیوں کی طرح بھاگی نہیں!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •