سیکھیں، کمائیں اور خیرات دیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"naseer خیرات عربی کے لفظ خیر کی جمع ہے جس کے معنی ہیں نیکیاں، بھلائیاں اور اچھائیاں۔ یہ لفظ برکت، سلامتی، تندرستی اور درست و بجا کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں اس کے معانی صدقہ، دان، پُن وغیرہ لیے جاتے ہیں اور ان معنوں میں یہ واحد مستعمل ہے۔ جیسے خیرات دافع آفات ہے یعنی صدقہ بلاؤں کو دور کرتا ہے۔ انگریزی میں اس کے لیے \”چیرٹی\” کا لفظ ہے۔ انگریزی کے اس لفظ کی تاریخ پرانی ہے اور ماخذ ایک یونانی لفظ ہے جس کے معانی ہیں \”دوسروں کے لیے غیر مشروط محبت\”َ۔ یونانی سے یہ لفظ لاطینی اور فرانسیسی سے ہوتا ہوا انگریزی زبان میں آ گیا اور اب اردو میں بھی زبان زدِ عام ہے۔ اردو میں لفظ چیرٹی کے ہم معانی بہت سے الفاظ ہیں۔ مثال کے طور پر صدقہ، خیرات، احسان، دان، پُن، نکو کاری، اخلاص، انسانی محبت و ہمدردی، نیک خیالی، مہربانی، نرم دلی، خوش نیتی، شفقت، فیاضی، کریم النفسی، غریب پروری، غریبوں اور ضرورت مندوں کی مشکلیں دور کرنے کی نجی و سرکاری کوششیں، خیراتی کام یا عمل، محتاج خانہ، دار الامان، وقف یا خیراتی ادارہ وغیرہ وغیرہ۔

ہر انسان، معاشرہ، سماج اور مذہب کسی نہ کسی طور خیرات یا چیرٹی کے کسی نہ کسی تصور سے وابستہ ہوتا ہے۔ نجی یا اجتماعی، خیرات کے بہت سے طریقے اور شکلیں ہیں۔ جن میں رقم، خوراک، کپڑے اور طبی امداد زیادہ مقبول و مستحسن سمجھے جاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو دوسروں کی مدد اور خدمت کر کے روحانی خوشی ملتی ہے۔ کچھ بہتر دنیا، بہتر انسانی معاشرے کی تشکیل کے لیے رضاکارانہ طور پر \"quratulانسانی فلاح و بہبود کے کام کرتے ہیں اور کچھ اپنی عاقبت سنوارنے کے لیے صدقہ خیرات کرتے ہیں۔ مقصد سب کا نیکی اور بھلائی ہوتا ہے۔ فی زمانہ خیراتی کاموں کا دائرہ کار بہت وسیع اور انفرادی تگ و دو کی سطح سے اٹھ کر ادارہ جاتی کاوشوں سے مربوط ہو گیا ہے جو نہ صرف بنیادی انسانی ضرورتوں بلکہ زلزلوں، سیلاب، مہاجرت، اور جنگوں کی تباہ کاریوں جیسی ہنگامی آفات و مشکلات کا بھی احاطہ کرتا ہے۔ آج دنیا بھر میں بڑے بڑے خیراتی ادارے ہیں جو طب و صحت، غربت و افلاس اور جہالت و ناخواندگی کے خلاف دن رات مصروفِ کار ہیں۔ کچھ تنظیمی انتداب و تولیت کی بنیاد پر، کچھ نیم کاروباری اور کچھ کسی بدلہ، جزا، صلہ، ادائیگی یا جوابی حاصل کے بغیر خالص خدمتِ خلق کی بنیاد پر قائم ہیں۔ بہر صورت خیرات کرنے اور خیرات پانے والوں کی کمی نہیں۔ جس کا ثبوت جگہ جگہ کھلے ہوئے خیراتی اسپتال، خیراتی ریستوران،  خیراتی تعلیمی ادارے اور بے شمار چھوٹی بڑی خیراتی تنظیمیں ہیں۔ ظاہر ہوئے بغیر خیرات کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔

خیرات و عطیہ کی اصل روح لوگوں کو محتاج بنانا نہیں بلکہ بوقت ضرورت اور حسبِ ضرورت ان کی مطلوبہ مدد کرنا اور انہیں مستقل بنیادوں پر خود انحصاری کی طرف مائل کرنا ہے۔ اس کے لیے ضرورت مندوں اور تنگ حالوں کو عملی وسائل، اختصاصی علم اور مہارت فراہم کرنا حصولِ مقاصد کا بہترین طریقہ ہے۔ تاکہ معاشرہ \”خیرات کے ٹکڑے اور بازار میں ڈکار\” کی مثل نہ ہو جائے بلکہ کچھ لو اور کچھ دو اور اپنی مدد آپ کے تحت زیادہ سے زیادہ ہنر مند افراد تیار کیے جائیں جو اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر خیرات لینے کی بجائے خیرات دینے والے یعنی \”سیکھیں، کمائیں اور خیرات دیں\” کے سلوگن کی تفسیر و تصویر بن جائیں۔  \”خاتون فاؤنڈیشن\” اسی نوعیت کا نو عمر مگر بڑے \"naseer\"نصب العین والا فلاحی ادارہ ہے جو خواتین کو متبادل ذرائع آمدنی اور گھریلو صنعت کاری میں مالی اور تکنیکی مدد فراہم کرنے اور چیرٹی اور ڈونیشن کے مروجہ رجحان کو ایک صحت مند معاشی سرگرمی میں بدلنے کا عزم رکھتا ہے۔ اس مقصد کو پانے کے لیے ادارے نے \”لَرن، اَرن اینڈ ڈونیٹ\” کے نام سے سکلز ڈویلپمنٹ ورکشاپس کا پائلٹ پروگرام شروع کیا ہے اور اس سلسلے کی پہلی ورکشاپ لاہور میں منعقد کی جارہی ہے۔ ان ورکشاپس میں بیگ میکنگ، جیولری میکنگ، وُڈ ورک، بلاک پرنٹنگ، فیبرک پینٹنگ اور دیگر آرٹ ورکس عملی طور پر سکھائے جائیں گے۔ اس طرح ایک طرف تو سیکھنے والے ہنر مند بن جائیں گے تو دوسری طرف ان ورکشاپس سے حاصل ہونے والی رقم کو خاتون فاؤنڈیشن سے منسلک خواتین کو ان کے روزگار کے اپنے ذرائع پیدا کرنے میں معاونت کی جائے گی۔ دہری حکمتِ عملی کی حامل ان ورکشاپس کا دائرہ بتدریج ملک کے پس ماندہ علاقوں کی طرف بڑھایا جائے گا۔

خاتون فاؤنڈیشن کی بانی اور چیئر پرسن قرۃ العین فاطمہ ہے۔ بانی اور چیئر پرسن جیسے الفاظ سن یا پڑھ کر کسی این جی او کی تجربہ کار بورژوا قسم کی سربراہ یا عمر رسیدہ خاتون کا تصور ابھرتا  ہے۔ لیکن نوید ہو کہ حقیقت میں ایسا نہیں۔ قرۃ العین فاطمہ نوجوان ہے، اتنی نوجوان کہ ابھی اس کی  منگنی ہوئی ہے شادی نہیں۔ لیکن اس کے وِچار بہت بڑے ہیں۔ عمر کے لحاظ سے گھر میں سب سے چھوٹی لیکن سوچ، ارادے اور وچار دھارا میں سب سے بڑی ہے۔ پہلی بار ملنے پر تو میں بھی چکرا گیا تھا۔ شکر ہے ابھی میں نے اتنا ہی کہا کہ آپ ۔۔۔۔۔۔ \"naseer2\"تو وہ فوراً بول پڑی \”جی میں قرۃ العین فاطمہ ہوں\” ورنہ میں کہنے والا تھا کہ آپ قرۃ العین کی چھوٹی بہن ہیں۔ اس کا منگیتر شعیب طاہر بھی بہت پُر از اشتیاق اور پُر ہنر، توانائی اور تازگی سے بھرپور نوجوان ہے۔ سو کہا جا سکتا ہے کہ جب یہ دو تازہ کار یکجا ہوں گے تو کچھ نہ کچھ مزید اچھا ہو گا۔ بولنے میں قرۃ العین فاطمہ کا کوئی ثانی نہیں، سامنے کوئی چھوٹا ہو یا بڑا یہ بولتی چلی جاتی ہے اور اپنے کردہ نا کردہ اور مستقبل کے سارے منصوبے مخاطب پر عملاً بنا ڈالتی ہے۔ کالم نگار ہے لیکن لکھتی کم اور لکھنے کی کیفیت میں زیادہ رہتی ہے۔ نثری نظموں کی حد تک شاعری کا لمس بھی چکھ چکی ہے اور ایسی چاٹ لگی ہے کہ اب اس کے بغیر رہ نہیں سکتی۔ غنیمت ہے کہ اپنی ہم عمر و ہم عصر شاعرات کی طرح ہجر و وصال کی وارداتیں اور ریسورانوں میں ڈیٹوں کی نظمیں نہیں لکھتی۔ خاتون فاؤنڈیشن کے منصوبوں کی طرح شاعری میں بھی اپنی عمر سے بڑے موضوعات پر ہاتھ ڈالتی ہے اور پھر اداس ہو کر بیٹھ جاتی ہے۔ آدھی مولون ہے اور آدھی لبرل۔

خیر یہ سب باتیں اپنی جگہ لیکن خاتون فاؤنڈیشن کی شکل میں قرۃ العین فاطمہ کا یہ برین چائلڈ حقیقتاً ایک قابلِ عمل سلسلہ فلاح و بہبود ہے جس کے تحت وہ چاہتی ہے کہ لوگوں سے براہ راست چیرٹی کی اپیل کرنے کی بجائے ایسے ذرائع اپنائے جائیں جن سے مفادِ عامہ بالخصوص عورتوں اور نوجوانوں کے لیے آمدنی کے نئے نئے مواقع پیدا ہوں اور حاصل ضرب آمدنی سے مزید لوگوں کی زندگیاں بہتر بنائی جا سکیں۔ اس لیے ہم سب کو چاہیئے کہ اس ارفع مقصد میں اس کا ساتھ دیں اور ان ورکشاپس میں اخلاقاً، لفظاً و عملاً ہر طرح بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ ہنر وری کے شائقین اور طلبا و طالبات کے لیے یہ \”عینی\” ورکشاپس یقیناً بڑی افادہ بخش، دلچسپ اور پُرکشش ثابت ہوں گی۔ پہلا قدم اٹھانا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے لیکن جب کوئی چل پڑتا ہے تو راستہ بنتا جاتا ہے اور پھر اس راستے سے بے شمار لوگ گزرتے اور فیضیاب ہوتے ہیں۔ قرۃ العین فاطمہ! تم نے پہلا قدم اٹھا لیا ہے، مجھے امید ہے کہ تمہاری محنت اورجودت ضائع نہیں جائے گی اور تمہارا خیرات کو فلاحی معیشت میں بدلنے کا خواب پورا ہو گا۔ انسانیت اس راستے سے گزرتے ہوئے تمہاری نیک دلی اور خوش نیتی کو ضرور محسوس کرے گی۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply