کہیں کشمیر کا مسئلہ حل تو نہیں کیا جا رہا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی جے پی کی حکومت نے بھارتی آئین میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی ہے۔ اب غیر کشمیری بھی ریاست میں سیٹل ہو سکیں گے اور اس کی آبادی کا تناسب ویسے ہی تبدیل کیا جا سکے گا جیسا اسرائیل نے فلسطین میں کیا ہے۔ بھارت سے الحاق کے حامی کشمیری سیاست دان بھی اس فیصلے پر شدید ناراض ہو چکے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ”آج کا دن بھارتی جمہوریت کے لئے سیاہ ترین دن ہے۔ جموں اور کشمیر کی لیڈر شپ کا 1947 میں دو قومی نظریے کو مسترد کرنے اور انڈیا کے ساتھ جانے کا فیصلہ الٹا گلے پڑ گیا ہے۔ بھارت سرکار کا یک طرفہ طور پر آرٹیکل 370 ختم کرنے کا فیصلہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے جو انڈیا کو جموں اور کشمیر میں ایک قابض طاقت بنائے گا۔ اس کے نتائج برصغیر کے لئے تباہ کن ثابت ہوں گے۔ بھارت سرکار کی نیت صاف ظاہر ہے۔ وہ جموں اور کشمیر کے باشندوں کو دہشت زدہ کر کے اسے حاصل کرنا چاہتی ہے۔ انڈیا نے اپنے وعدوں کی پاسداری نہ کر کے کشمیر کو مایوس کر دیا ہے“۔

عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ بھارت سرکاری کا یک طرفہ اور شاکنگ فیصلہ جموں اور کشمیر کے لوگوں سے غداری ہے جنہوں نے انڈیا پر اس وقت بھروسا کیا تھا جب ریاست نے 1947 میں انڈیا کے ساتھ الحاق کیا تھا۔ یہ فیصلہ دور رس اور خطرناک نتائج کا باعث ہو گا۔ حالیہ ہفتوں میں بھارت سرکار دھوکے اور فریب پر اتر آئی ہے۔ اس کے جموں کشمیر میں نمائندوں نے ہم سے جھوٹ بولا تھا کہ کچھ بڑا منصوبہ نہیں بنایا جا رہا۔ یہ اعلان پوری ریاست کو ایک چھاؤنی میں تبدیل کرنے کے بعد کیا گیا۔ ایک طویل اور مشکل جنگ آ رہی ہے اور ہم اس کے لئے تیار ہے۔

ہمارے پاس اطلاعات تو کوئی ہوتی نہیں، نہ عمران خان سے کوئی سلام دعا ہے، نہ راولپنڈی سے گزر ہوتا ہے اور نہ ہی کبھی نریندر مودی نے ہمیں فون کیا ہے۔ اس لئے اخباری اطلاعات پر ہی قیاس کے گھوڑے دوڑاتے ہیں جن کے سم زمین پر نہیں ٹکتے اس لئے زمینی حقائق سے ان کا تعلق ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ آئیں اس معاملے پر بھی گھوڑے دوڑاتے ہیں۔

نوٹ کریں کہ نواز دور میں ڈان لیکس کے زمانے سے عالمی پریشر بڑھنا شروع ہوا تھا کہ کشمیر میں کام کرنے والی عسکریت پسند تنظیموں پر پابندی لگائی جائے اور ان کی سپورٹ بند کی جائے۔ یہ تنظیمیں افغانستان میں کام نہیں کر رہی تھِیں جہاں ان سے نیٹو یا امریکہ کو خطرہ ہوتا اس کے باوجود ان پر پابندی لگانے کے لئے پاکستان پر بہت زیادہ دباؤ ڈالا گیا۔ اگر امریکہ کو مذہبی انتہا پسندی سے مسئلہ ہوتا تو وہ پھر مدارس، مساجد اور دیگر مذہبی تنظیموں پر بھی سختی کرتا مگر اس نے صرف کشمیری تنظیموں پر فوکس کیا۔ اسی سلسلے میں جون 2018 میں پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا اور بلیک لسٹ کی تلوار سر پر لٹکا دی گئی۔

وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ سے قبل حافظ سعید کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ دلچسپ معاملہ عمران خان اور ڈانلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے موقعے پر پریس کانفرنس میں دکھائی دیا۔ عموماً میٹنگ کے بعد اعلان وغیرہ کیا جاتا ہے مگر اس مرتبہ میٹنگ سے پہلے ہی اعلانات کر دیے گئے۔ کیا سب کچھ پہلے ہی پس پردہ سفارت کاری کے ذریعے طے پا گیا تھا اور پھر یہ دورہ کیا گیا؟ اس پریس کانفرنس میں اہم بات صدر ٹرمپ کا یہ انکشاف تھا کہ نریندر مودی نے ان سے کشمیر پر ثالثی کرنے کا کہا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے تو اس کی تردید کی مگر نریندر مودی خود چپ رہے۔

بھارت سرکار کے اب ہفتے دس دن سے طرح طرح کے نوٹیفیکیشن آ رہے تھے۔ فوجیوں کو کہا گیا کہ مہینے بھر کا راشن ذخیرہ کر لیں۔ یاتریوں اور سیاحوں کو خصوصی انتظامات کر کے کشمیر سے باہر نکالا گیا۔ تعلیمی اداروں کے ہوسٹل بند کر کے طلبہ کو گھر بھیج دیا گیا۔ فوج کی تعداد بڑھا دی گئی۔ اندازہ تو تھا کہ کچھ بڑا ہونے جا رہا ہے۔ آج وہ کچھ بڑا ہو گیا۔

سوال یہ ہے کہ کیا عالمی طاقتیں کشمیر کے مسئلے کو ہمیشہ کے لئے حل کرنے پر تل گئی ہیں؟ کشمیری عسکریت پسند تنظیموں کو ناکارہ کرنا، ایف اے ٹی ایف، پاکستان پر دباؤ بڑھانا اور ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش، کیا یہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے مراحل ہیں؟

کشمیر کا جو حل بی جے پی پیش کر رہی ہے شاید وہی واحد حل ہے۔ جنگ دونوں ایٹمی ممالک جیت نہیں سکتے پھر کچھ لے دے کر ہی معاملہ ہو گا۔ لداخ بھارت لے، وادی کو ایک نیم خودمختار یونٹ بنا دیا جائے اور کشمیریوں کے آپسی میل جول پر پابندیوں کو ختم کر دیا جائے۔ اس طرح بھارتی ریاست کے لئے فیس سیونگ ہو جائے گی۔ لیکن کیا یہ حل کشمیری قبول کریں گے؟ کیا ان کی قبولیت کے بغیر عالمی طاقتیں ایک حل نافذ کر سکتی ہیں؟ کیا کشمیر کے حریت پسند باشندوں کو زبردستی اس طرح غلام بنانا ممکن ہے؟

ایک بڑا سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعی ایک عالمی منصوبہ ہے تو کیا اس منصوبے میں پاکستانی ریاست کی رضامندی لی گئی ہے یا اسے بزور طاقت دیوار سے لگایا جا رہا ہے؟ بڑے مسائل حل کرنے کے لئے انہیں عوام سے پوشیدہ رکھا جاتا ہے۔ حکومتیں بیک چینل ڈپلومیسی سے کام لیتی ہیں اور کسی قابل قبول سمجھوتے پر پہنچتی ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ دونوں ممالک کے عوام کے لئے جذبات برانگیختہ کرنے والا ہے۔ کیا عوام سے دور رکھنے کے لئے اس طرح سب کیا جا رہا ہے یا پاکستان واقعی دنیا میں تنہا رہ گیا ہے؟ یا پھر بھارت تمام دنیا کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی طاقت ثابت کرنے کے جنون میں مبتلا ہو چکا ہے؟ ایسی صورت میں یہ خطہ ایک جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے جو پوری دنیا کے لئے تباہ کن ہو گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1156 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar