رحمت ہے تو نعمت ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے معاشرے میں جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کی جنس کے مطابق ان سے برتاؤ شروع کردیا جاتا ہے۔ لڑکی ہے تو اسے گلابی رنگ کے کپڑے پہنائے جاتے ہیں اور لڑکے کو نیلے رنگ کا لباس پہنایا جاتا ہے۔ ان کے کھلونوں کا انتخاب ان کی صنف کے مطابق کیا جاتا ہے کہ اگر لڑکی ہے تو گڑیا اور گھریلو کھلونے دیے جاتے ہیں۔ اس کے ناز اور نخرے اٹھائے جاتے ہیں اور لڑکے کے لئے گاڑیاں، کرکٹ اور دیگر اقسام کے کھلونے لے کر دیے جاتے ہیں۔ تھوڑے لڑکپن میں داخل ہوتے ہی ان کو مستقبل کے لئے تیار کرنا شروع کر دیا جاتا ہے۔ لڑکی کو گھریلو امور میں دلچسپی پیدا کرائی جاتی ہے اور اسے بتایا جاتا ہے کہ تعلیم مکمل ہونے کے ساتھ ہی تم اپنی اگلی ازدواجی زندگی کے لئے تیار ہوجاؤ اوراس تربیت میں سب سے بڑا ہاتھ ماں کا ہوتا ہے۔

ہمارے ہاں لڑکی کے ہر اچھے، برے، سیاہ، سفید کی ذمہ دار ماں ہی ہوتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف معاملہ بالکل الٹ ہے بیٹوں کی تربیت میں ماں باپ دونوں ہی تھوڑا سست ہوتے ہیں۔ بیٹوں کو نا تو شادی کے لئے تربیت دی جاتی ہے اور نہ ہی انہیں کسی قسم کی خاص پابندی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں بس بتایا جاتا ہے کہ تم نے پڑھ لکھ کے افسر بننا ہے اور اس کے اندر حکمرانی کی سوچ پیدا کی جاتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف بیٹی کو ماتحتی کے تحت زندگی گزارنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ اگر بھائی اس کی پسندیدہ چیز زبردستی اس سے چھین لے تو اس کو صبر کرنے کا درس دیا جاتا ہے۔ حقیقت میں اس کو اپنی پسند سے دستبرداری سکھائی جاتی ہے۔ بیٹی کو بار بار یہی تعلیم دی جاتی ہے کہ تم نے بیاہ کر اگلے گھر جانا ہے، تاکہ وہ اپنے آپکو پرایا محسوس کرے اور اپنی عادات کو بدلے۔

بیٹے کو ہمارے ہاں یہ نہیں سکھایا جاتا کہ وہ بھی کبھی اپنی پسند سے دستبردار ہو اوریہ بھی کوئی نہیں بتاتا کہ کی کسی کی بیٹی کو تم نے اپنے گھرلانا ہے اس لئے تم بھی خود اپنی عادات کو بدلو۔ بیٹیوں سے امتیازی سلوک کے پیچھے ہمارے معاشرے کی ایک ہی سوچ کار فرما ہے کہ مرد کو ہمیشہ اعلی درجے پر رکھا جاتا ہے۔ اس کو یہی بات باور کروائی جاتی ہے کہ تم عورت سے بلند اور محترم ہو جبکہ دوسری طرف لڑکی کو بتایا جاتا ہے کہ شادی سے پہلے تمہارا باپ اور بھائی تمہارے حاکم ہیں اور شادی کے بعد تمہارا شوہر ہی تمہارا ولی وارث ہوگا۔ گھر کی عزت کا سارا ذمہ بیٹی پر ڈال دیا جاتا ہے۔ بیٹی کو ہی نصیحت کی جاتی ہے کہ گھر کی عزت اور باپ کے شملے کو بلند رکھنا تمہاری ذمہ داری ہے، جبکہ بیٹے کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ گھر کی عزت صرف بیٹی نہیں قائم رکھ سکتی گھر کی عزت قائم رکھنے کے لئے تم بھی برابرکے ذمہ دار ہو۔

بات تو تلخ ہے مگر سچ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بیٹوں کو پیار محبت اور عشق کی تو اجازت مل سکتی ہے مگر بیٹی ایسا کچھ سوچے بھی تو خاندان کی عزت خطرے میں پڑجاتی ہے۔ حالانکہ ہمارا مذہب بھی دونوں کو پسند کی شادی کی اجازت دیتا ہے مگر ہمارے ہاں صرف بیٹے ہی اپنی پسند کی ساتھی چننے میں آزاد ہیں۔ بیٹیوں کے لئے تو ایسا کر نا ہی ایک مشکل عمل ہے اور اگر وہ ایسا کر بھی لیتی ہیں تو ان کو ساری زندگی طعنے دیے جاتے ہیں۔ ان کی سرعام کردار کشی کی جاتی ہے کہ ’یہ تو بے لگام ہے اس نے اپنی پسند کی شادی کی ہے‘، ’اس کو تو اپنے خاندان کی عزت کا لحاظ نہیں ہے‘ اور اسی لئے ہمارے ہاں غیرت کے نام پر روز کہیں نہ کہیں کسی معصوم کی جان لی جاتی ہے اور ایسے واقعات کا کوئی تسلی بخش نتیجہ بھی نہیں نکلتا اور نہ ہی ان قاتلوں کو سزا ہوتی کیونکہ لڑکی کے بھائی یا باپ نے اس کی جان اپنی عزت بچانے کے لیے لی ہوتی ہے اور بعد میں ان کو معاف کردیاجاتا ہے۔

معاشرے کی اس تلخ تفریق کو مٹانے میں والدین ہی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں والدین کو چاہیے کہ لڑکوں کو سمجھائیں اور بتائیں کہ وہ عورتوں کے آقا اور مالک نہیں بلکہ وہ اس صنف نازک کے جذبات، احساسات، خواہشات و ضروریات کے نگہبان ہیں۔ معاشرے میں بیٹے اور بیٹیوں میں جو فرق پیدا کر دیا ہے وہ اسلام اور اخلاق دونوں حوالوں سے غلط ہے۔ مردانگی تو یہ ہے کہ عورت کو بحیثیت ماں، بیٹی، بیوی اور بہن کے اقتدار کے مطابق عزت اور احترام کے ساتھ تحفظ دیا جائے۔

یاد رہے، ظلم کے کھیتوں میں کبھی محبت و شفقت کے پھول نہیں کھلتے۔ اگر ایک مرد اپنی بیوی، بہن اور بیٹی کے ساتھ ظلم یا خود پسندی کا رویہ اختیار کرے گا تو اس سے بیمار معاشرہ ہی پیدا ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •