قلم کو ہتھکڑی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ جمعہ 26 جولائی کی رات کے آسودگی بخش لمحوں کا ذکر ہے۔  سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ میں اپنے بیڈ روم میں، پلنگ پر نیم دراز، کئی برس پرانی کرِم خوردہ سی ڈائری کی ورق گردانی کرتے ہوئے، ایک کورے کاغذ پر نوٹس لے رہا تھا۔ یکایک گھر کے بیرونی دروازے پر لگی گھنٹی بجی۔ یہ اسلام آباد کے سادہ و مسکین سیکٹر، جی ٹین میں واقع کوئی دس بارہ مرلے کا چھوٹا سا گھر ہے جہاں میں اپنی اہلیہ اور چھوٹے بیٹے کی فیملی کے ساتھ گزشتہ بیس برس سے مقیم ہوں۔

رات کے سناٹے میں تیزگھنٹی کی آواز اس تنگ داماں گھر میں دیر تک گونجتی رہی۔ غیر شعوری طور پر میری نگاہ سامنے لگی گھڑی پر پڑی۔ پونے بارہ بجنے کو تھے۔  گھنٹی دوبارہ بجی۔ میں سونے کے کپڑوں میں، رف چپل پہنے، ہاتھ میں قلم لئے باہر نکلا۔ اندرونی دروازہ کھول کر پوچھا ”کون ہے؟ “ آواز آئی آپ باہر آئیں۔  آپ سے ملنا ہے میرے گھر پر کوئی دربان ہے نہ گارڈ نہ چوکیدار۔ خود ہی باہر کا دروازہ کھولا۔ دس بارہ بڑی بڑی گاڑیاں دائیں بائیں کھڑی تھیں جنہیں عرف عام میں ”ڈالے“ کہا جاتا ہے۔

پولیس کے درجنوں مسلح اہلکارچاروں طرف پوزیشنیں سنبھالے کھڑے تھے۔  بہت سے اہلکار سادہ کپڑوں میں بھی تھے۔  سول کپڑوں والوں کے سرخیل نے آگے بڑھ کر میرے کندھے پر اپنا بھاری ہاتھ رکھا اور بولا۔  ”چلئے“ میں نے کہا۔  ”آپ لوگ اپنی شناخت تو بتائیں۔  گرفتار کرنا ہے تو وارنٹ تو دکھائیں۔ ۔ ۔ “ اس نے کندھے پر دباؤ بڑھاتے ہوئے کہا۔  ”ہمارے پاس ان باتوں کا وقت نہیں“۔  اس نے مجھے دھکیلتے ہوئے چلنے کو کہا۔ چند اور مسلح اہلکار بھی شامل ہوگئے۔

میں نے کہا ”اوکے!  میں رات کے کپڑوں میں ہوں۔  رف چپل ہے میرے پاؤں میں۔  مجھے کپڑے بدلنے اور گھروالوں کو تو بتانے دیں۔ “ اب درجنوں مسلح اہلکاروں نے مجھے گھیرے میں لے لیا۔ تلخی سے بولے۔ ۔ ۔  ”چلیں بس“۔  میں نے دھکیلے جانے کے دوران ہی آخری عرضی گزاری۔  ”مجھے اپنی دوائیں تو اٹھا لینے دیں۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد مجھے کچھ اندازہ نہیں کہ کیا ہوا۔ مجھے دھکیل کر ایک پرائیویٹ گاڑی میں ڈال دیا گیا۔ میں نے اتنا دیکھا کہ میری چھوٹی بیٹی روتی بلکتی گاڑی کے دروازے سے لپٹ گئی۔

اُسے دھکا دے کر ایک طرف گرا دیا گیا۔ مجھے اپنی اہلیہ کی آواز بھی آئی لیکن میں ہجوم میں اُسے دیکھ نہ سکا۔ گاڑی کی پچھلی نشست پر ایک مسلح اہلکار میرے دائیں اور دوسرا بائیں بیٹھ گیا۔ خاصی تعداد میں گلی کے لوگ بھی جمع ہوگئے تھے۔  درجنوں چیختی چنگارتی گاڑیاں ایک ساتھ کسی انجان منزل کو روانہ ہوئیں۔  اگلی نشست پر بیٹھے سینئر پولیس اہلکار نے وائرلیس پر پیغام دیا ”مشن ڈن“۔  نصف شب کا خوابیدہ اسلام آباد بے نیازی کی بکل مارے بے خبر پڑاتھا۔

کوئی بیس منٹ بعدپہلے ایک پھر دوسرا آہنی پھاٹک کھلا۔ گاڑی ایک عمارت کے اندر جا رُکی۔ مجھے ایک کمرے میں پہنچا دیا گیا۔ معلوم ہوا کہ یہ اسلام آباد کا ”تھانہ رمنا“ ہے۔  کمرے پر ایڈیشنل ایس ایچ او کی تختی لگی تھی۔ کمرے میں دو میزیں اور تین چار کرسیاں دھری تھیں۔  میں نڈھال سا ہوکر ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ کونے میں ایک چھوٹا سا پلنگ بھی بچھا تھا۔ تھوڑی دیر بعد تفتیش کا آغاز ہوا۔ فلاں مکان کس کا ہے؟ آپ کا بیٹا کیا کرتا ہے؟

کہاں ہوتا ہے؟ کب یہ گھر کرائے پر دیا؟ وغیرہ وغیرہ۔ یہ تفتیش صرف آٹھ دس منٹ تک جاری رہی۔ اسی دوران کمرے میں جاویدا قبال خٹک داخل ہوئے۔  مجھے دیکھتے ہی بولے۔  ”سر آپ کو بھی لے آئے“۔  میں نے کہا۔  ”جی جہاں!  بڑے تزک و احتشام کے ساتھ لے کر آئے، جیسے کسی خوف ناک دہشت گرد، کسی بھارتی جاسوس یا کسی مافیا کے ڈان کو لایا جاتا ہے“۔  تھانے کے عملے کا رویہ عمومی طور پر ہمدر دانہ تھا۔ ایک دو نے کہا۔  ”سر بس ہم مجبور لوگ ہیں۔

یہ سب اوپر کا حکم ہے“۔  وہیں پر مجھے معلوم ہوا کہ مجھ پر چار دن پہلے جاری کیے  گئے دفعہ 144 کے کسی ضابطے کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا ہے۔  الزام یہ ہے کہ میرے بیٹے اور کرائے دار کے درمیان جو کرایہ نامہ طے پایا، میں نے متعلقہ تھانے میں اس کا اندراج نہیں کرایا۔ میں نے بتایا کہ یہ میری ذمہ داری کہاں سے آگئی۔ میں نہ مالک، نہ کرایہ دار، نہ ڈیلر نہ گواہ۔ اور یہ کہ مکان تو 20 تاریخ سے کرائے پر لگا۔ 22 جولائی کو خاموشی سے یہ ضابطہ جاری ہوا اور 26 جولائی کو مجھے اٹھا لیا گیا۔

ہمارے خاندان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ تھا۔ میں گھر والوں کے بارے میں بہت فکرمند تھا۔ انہوں نے میرے اٹھائے جانے کے ساتھ ہی اِدھر اُدھر رابطےکیے ۔  اُنہیں بہت دیر بعد معلوم ہوا کہ میں کہاں ہوں۔  رات ڈھلے تھانے کے باہر عزیزوں، دوستوں، وکیلوں اور صحافیوں کا بڑا مجمع لگ گیا۔ ان میں سے کسی کو اندر آنے کی اجازت نہیں ملی۔ میں باہر کی صورتحال سے مکمل طور پر بے خبر تھا۔ ایک پولیس آفیسر سے میں نے پوچھا کہ میرے جرم کی نوعیت کیا ہے؟

اُس نے کہا۔  ”بس قانونِ کرایہ داری کا ایشو ہے“؟ میں نے کہا ”ایف آئی آر تو دکھا دیں“ وہ معصومیت سے بولا۔  ”ایف آئی آرتو ا بھی لکھی نہیں گئی۔ صبح تک تیار ہوگی“۔ رات پولیس اہلکاروں اور جاوید خٹک سے باتوں میں کٹ گئی۔ جاوید ایک بڑی کاروباری شخصیت ہے۔  تین سال قبل کروڑوں یا شاید اربوں کی سرمایہ کاری لے کر دبئی سے پاکستان آیا۔ ہاؤسنگ کے شعبے میں اپنے تجربے اور مہارت کو کام میں لایا۔ اس وقت بھی اسلام آباد میں سترہ منزلہ ٹاورز کا ایک بڑا منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔

اس منصوبے میں سرکاری ملازمین کے لئے تین ہزار ارزاں گھروں کی تعمیر بھی شامل ہے۔  گزشتہ ماہ وزیراعظم عمران خان نے اسی منصوبے کا افتتاح کیا تھا۔ اس کا تعلق خیبرپختونخوا کے ایک معروف خاندان سے ہے۔  بیس برس بعد وہ 22 جولائی کو اپنی بیوی اور بچوں کو بھی وطن لے آیا اور چار دن بعد گرفتار ہوگیا۔ اب بیوی اور بچے پاکستان میں رہنے سے انکاری ہیں اور وہ انہیں منانے کے جتن کررہا ہے۔

صبح گیارہ بجے کے لگ بھگ ایک سینئر پولیس آفیسر کمرے میں آیا۔ اُس نے بائیں ہاتھ میں ہتھکڑیاں اٹھا رکھی تھیں جو افسرانہ تمکنکت کے ساتھ اُس نے ایک کرسی پر پھینک دیں۔  میں نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا ”اب یہ کام بھی کرنا ہے؟ “ اُس نے میری بات کا کوئی جواب نہ دیا اور میز پر رکھی ایک فائل کی ورق گردانی کرنے لگا۔ (جاری ہے)

(مصنف کا ہم سب کے لئے خصوصی طور پر ارسال کردہ مضمون)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •