بکرا کلچر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں ہیروئن اور کلاشنکوف کے بعد سب سے زیادہ مقبولیت بکرا کلچر کو ملی ہے۔ اس کلچر کی بقا اور ترقی کے لئے لاکھوں بکرے روزانہ اور کروڑوں بکرے سالانہ اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ قصاب کی دکان پر یہ بکرے اپنی کھال اترواکر الٹے لٹکے ہوتے ہیں، ان بکروں کے سپئیر پارٹس ہم خرید کر اپنی ہانڈی کی زینت بناتے ہیں۔

بکرا عید کے موقع پر یہ بکرے ریوڑ کی شکل میں شہر کا رخ کرتے ہیں۔ رنگ برنگے کالے، سفید اور بھورے بکرے، بڑے اور چھوٹے بالوں والے، بڑے اور ٹیڈی بکرے مل کر شہر کے چوراہوں پر بکرا عید کا گیت منمناتے ہیں اور خوب مینگنیاں کرتے ہیں۔ قصاب کی دکان سے کڑاہی گوشت کے ہوٹل تک ان بکروں کی قربانیاں جب رنگ لاتی ہیں تو خوشبو کا ایسا طوفان اٹھتا ہے کہ انسان کی بھوک چمک اٹھتی ہے اور بکرا عید پر تو یہ کلچر عروج پر ہوتا ہے۔ ہر گھر سے بکروں کے منمنانے کی آوازیں آتی ہیں۔ مسلمان بکروں کی قربانی سے اللہ کومناتے ہیں۔ اللہ کو منانے کے لیے بکرے بہت کار آمد ثابت ہوتے ہیں۔ عید آئے، بیماری آئے، شادی ہو یا موت، بکرے کی قربانی کی جاتی ہے۔

آوارہ بکرے آوارہ کتوں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ ان بکروں کے مالک ان کو گھر سے اس لیے نکال دیتے ہیں کہ یہ دوسروں کے گھر سے کھائیں۔ یہ بکرے جس گھر کا دروازہ کھلا دیکھتے ہیں، گھس جاتے ہیں اور بڑی محنت سے تیار کی ہوئی پھلواڑی کا منٹوں میں صفایا کردیتے ہیں۔ کمبخت پھول تو کھاتے ہی ہیں، کانٹے بھی کھا جاتے ہیں۔ گھر کے مالک اور مالی سوائے غصہ پینے کے کچھ نہیں کرسکتے۔

ان بکروں سے کہہ دو کہیں اور جا چریں
اتنے ہرے نہیں ہیں میرے گھر کے لان

سڑکوں پر گھومتے پھرتے اچانک کسی تیز رفتار گاڑی کے سامنے آ جاتے ہیں ڈرائیور کو اتنا زور سے بریک لگانے پڑتے ہیں کہ کوئی بچہ گاڑی کے نیچے آ جاتا ہے۔ ان بکروں کا ستایا کوئی شخص اگر ان کو پکڑ کر باندھ لے تو اس پر چوری کا الزام لگ جاتا ہے۔ ہمارے دیہاتوں میں بکری چور ی کا الزام لگا کر کسی کو تھانے میں بند کروانے کا رواج بہت پرانا ہے۔ بڑے بڑے سیاستدان بکرے چوری کر چکے ہیں۔ اور ان پر بکرے چوری کے کئی مقدمات بن چکے ہیں۔ بکرا چوری کے ایک مدعی پر جب وکیل نے بحث شروع کی تو اس نے جج کو کہا ”جناب میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی، وہ بکرا پالنا تھی جو چوری ہوگیا۔ بکرا میرا چوری ہوا۔ دس دفعہ مجھے تھانے جانا پڑا۔ پانچ مرتبہ تھانے دار میرے گھر تفشیش کرنے آیا اور میری ساری مرغیاں چٹ کر گیا۔ اب پانچویں مرتبہ میں عدالت میں آرہا ہوں۔ ہر بار مجھے دوگواہ لانا پڑتے ہیں۔ جن کا زادِ راہ لازم ہوتا ہے۔ آپ مہربانی فرما کر میرا اور میرے گواہوں کا بیان لکھ لیں۔ فیصلہ بیشک چور کے حق میں کردیں۔“

بکرا عید کے موقع پر بہت خون خرابا ہوتا ہے جبکہ بعد میں خرابا ہی خرابا۔ جگہ جگہ بکروں کے معدے اور انتڑیاں گل سٹر رہی ہوتی ہیں۔ بکروں کی کھالیں اکٹھی کرنے والے ادارے ہوتے ہیں۔ ان کھالوں کی بدبو پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ جی چاہتا ہے شہر چھوڑ کر جنگل کا رخ کر لیں تاکہ تازہ ہوا میں سانس لے سکیں۔ بکرا عید کے بعد ڈاکٹروں کی چاندی ہوتی ہے۔ مسلمان گوشت ایسے کھاتے ہیں جیسے آخری بار کھا رہے ہوں۔ کمزورمعدے طاقتور گوشت کی تاب نہ لاتے ہوئے جواب دے جاتے ہیں اور یوں مریض ہسپتال کا رخ کرتے ہیں۔ کئی کمزور دانتوں کے مالک اپنے دانتوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ پچھلے سال عید پر ہمارا بھی اللہ کو منانے کا ارادہ ہوا۔ بکرا کلچر ہمارے سامنے تھا۔ ہم نے ایک موٹا تازہ جوان بکرا خرید لیا، کئی دن تک اس کاگیت سنتے رہے، ہو اور اس کی مینگنیاں صاف کرتے رہے۔

ایک قصاب کو پابند کیا تاکہ عید کے فورا بعد قربانی کی جا سکے اور بکرے کے سپئیرپارٹس ذرا صاف ستھرے بن جائیں۔ مسجد میں مولوی نے مسئلہ بیان کیا کہ قربانی اپنے ہاتھ سے کرنی چاہیے، زیادہ ثواب ملتا ہے۔ ثواب کے لالچ میں ہم نے خود قربانی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ویسے بھی قصاب کی فطری بے رحمی ہمارے ارادے کو بدلنے میں معاون ثابت ہوئی۔ سوچا اتنے لاڈ پیار سے رکھا ہوا ہے بکرا ہے اور قصاب ظالم، بے دردی سے چھری چلائے گا ہمارا دل دکھائے گا۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم خود بہت پیار سے بکرے کی گردن پر چھری چلائیں گے تاکہ اس کو تکلیف نہ ہو۔ پہلے تو ہم نے جی بھر کے بکرے کو پیار کیا۔ اس کا لمس اتنا پیارا اور جلد اتنی ملائم تھی کہ کافی دیر تک ہم نے اس پر ہاتھ پھیرے۔ ہم نے اپنے ہاتھ اسے چارہ کھلایا، ٹھنڈا پانی پلایا، چھری کو بہت تیز کیا، بکرے کو لٹایا اور چاہا کہ تکبیر پڑھتے ہوئے چھری چلادیں۔ اچانک بکرے نے دردناک چیخ ماری۔ ہمارا دھیان بکرے کی چیخ کی طرف ہوگیا۔ بکرے نے زور سے سر ہلایا تو چھری ہمارے ہاتھ پر چل گئی۔ اب ہمارا دھیان مکمل طور پر بکرے سے ہٹ گیا تھا۔ بکرے نے پورا زور لگا کر ٹانگیں چلائیں اوراٹھ کر بھاگ کھڑا ہوا۔ بکرے کی آدھی گردن کٹی ہوئی تھی۔ خون تیزی سے بہہ رہا تھا اور بکرا چیختا ہوا بھاگ رہا تھا۔ ہم اپنے خون آلود ہاتھ کے ساتھ اس کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ اور لوگ بھی ہماری مدد کے لیے ساتھ ہو لیے۔ گلی میں دو کتے جو آرام سے لیٹے ہوئے تھے، بھونکتے ہوئے بکرے کا پیچھا کرنے لگے۔ جس سے بکرے کی رفتار اور تیز ہوگی۔ گلی کے بچے ڈر کے مارے ادھر ادھر چھپ رہے تھے اس افراتفری میں ہمارا پاؤں جو پھسلا تو نالی میں جا گرے ہمارے کپڑے جو پہلے ہی خون آلود تھے، گندی نالی کے گند سے بھی لتھڑ گئے۔ اتنی دیر میں بکرے کا خون نچڑ چکا تھا۔ وہ بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ ہم نے اپنے زخم اور خون آلود کپڑوں کی پروا کیے بغیر اس کی بقا یا گردن پر چھری پھیر دی۔ یوں ہماری قربانی کا ثواب ہمارے اپنے خون سے سرخ اور گلی کی نالی سے گندآلودہ ہو گیا۔

پچھلے سال جب قربانی کا وقت آیا تو ہم نے سوچا: بکرا خریدا تو اس کی خدمت کرنا کرنا پڑے گی۔ ہمارے پڑوسی ہر سال گائے کی قربانی کیا کرتے تھے۔ ہم نے سوچا اس بار اُن کے ساتھ شامل ہوجائیں۔ ہم نے اس کے ساتھ حصہ ملالیا۔ متحدہ ہندوستان میں گائے کی قربانی کرنا جان جوکھوں کا کام تھا۔ اکثر گائے کی قربانی بڑے فساد کا باعث بنتی۔ ہندو گائے کو متبرک سمجھتے ہیں۔ گائے کی پوجا کی جاتی ہے۔ شرافت میں گائے کو مثال بنایا جاتا ہے۔ کسی شریف آدمی کی تعریف کرنا ہو تو اسے اللہ میاں کی گائے کہہ دیتے ہیں۔ پاکستان بننے سے پہلے ایک بار ابا حضور کے جذبہ ایمانی نے جوش مارا تو گائے کی قربانی کا فیصلہ کرلیا۔ سارے شہر نے روکا لیکن وہ نہ مانے، تلوار نکالی اور اعلان کردیا ’جس کی ہمت ہے آجائے‘۔ ابا حضور چھ فٹ کے کڑیل جوان تھے، کسرتی جسم کے مالک، نڈر، اور تلوار اور نیزابازی کے ماہر۔ شہر کے وسط میں مندر کے سامنے قربانی کر ڈالی۔ انگریز فوج کی آمد ہوئی مگر ابا حضور اپنا کام کر چکے تھے۔

قربانی میں حصہ ملاتے وقت ہمارا خیال تھاکہ ہمیں کام نہیں کرنا پڑے گا۔ سات حصے دار ہیں اور سب ثواب کے لالچی، شاید ہمیں زحمت نہ دیں۔ مگر قربانی کے وقت ہمیں بلا لیاگیا۔ سب نے مل کر گائے کو زمین پر گرا دیا۔ ہمارے ذمے گائے کی پچھلی ٹانگ کو قابو کرنا تھا۔ گائے طاقتور اور موٹی تازی تھی۔ جیسے ہی قصائی نے چھری چلائی۔ گائے نے خوفناک آوازنکالی اور ٹانگوں کو زور سے گھمایا۔ اس کی ٹانگوں کے ساتھ ہم نے بھی ہوا میں قلا بازی کھائی۔ گائے کی ٹانگ اتنے زور سے ہمارے منہ پر لگی کہ منہ سے خون کا فوارہ بل پڑا۔ کئی دانت ہل گئے۔ ہم نے شکر کیا کہ اللہ تعالی نے ہاتھی اور گینڈا حلال نہیں کیا۔ ہاتھی کی قربانی کرنا پڑجاتی تو کیا کرتے؟ ہم گائے کو چھوڑ چھاڑکربھاگے۔

آئندہ سال ہم نے فیصلہ کیا، بھیڑ کی قربانی کریں گے۔ بھیڑ شریف جانور ہے بھیڑ کی خوبی یہ ہے کہ وہ بھیڑ ہوتی ہے عید کی آمد آمد ہوتی ہے۔ بازاروں میں جگہ جگہ بھیڑوں نے ٹریفک بلاک کی ہوتی ہے۔ بھیڑوں کو سرخ اور سبز رنگ لگایا گیا تھا۔ کسی کا کان لال اور کسی کی دم سبز۔ ان کے مالک خریداروں کی تلاش میں سر گرداں اور قیمتیں آسمان پر۔ خریداروں کی پریشانیاں عروج پر تھیں۔ ہم نے جیسے تیسے ایک بھیڑخرید ہی لی۔ اس کی رسی کو پکڑ کر چلے گھرکی طرف۔ بھیڑ اتنی طاقتور اور موٹی نہیں تھی اور ہمیں ملی بھی سستی ہی تھی۔ ہم اس بات پر مطمئن تھے کہ اس کو حلال کرنے میں آسانی ہوگی۔ کمزور سی بھیڑ پر چھری چلانا کیا مشکل ہوگا۔

دو منٹ میں ہی ہمیں بھیڑ کی شرافت کا اندازہ ہوگیا۔ ہم بھیڑ کو آگے کی طرف کھینچتے وہ ہمیں پیچھے۔ ہم چار قدم آگے جاتے بھیڑ دو قدم پیچھے لے جاتی۔ بھیڑ جتنی کمزور تھی اتنی ہی ضدی۔ اس کے ساتھ کھینچا تانی میں دو گھنٹے گزر گئے۔ ہم نے ابھی تک ایک گلی کا سفر طے کیا تھا۔ ہمارا سارا جسم پسینے سے تر تھا۔ کمر اور بازو میں شدید درد، اوپر سے بھیڑ کی آواز۔ لگتاتھا کان کے پردے پھٹ جائیں گے۔ بھیڑ جتنی نرم مزاج ہے اس کی آواز اتنی ہی کھردری اور خوفناک ہے۔ اس کی بھاں بھاں نے اس کی شرافت کا سارا امپریشن ہمارے دماغ سے نکال دیا۔ مزیدبرآں اس کی ضد نے نڈھال کر دیا۔ تنگ آکر ہم نے بھیڑ کو اٹھا یا اور تانگے میں ڈال کر گھر لے آئے۔

ساری رات بھیڑ چیختی رہی۔ اس کی خوفناک آواز نے ہمارا سونا محال کردیا۔ صبح ہماری پہلی خواہش یہ تھی کہ بھیڑ پر کوئی تیز سی چھری چلا دیں مگر مجبوری تھی قصاب کا انتظار کرنا پڑا۔ سچ یہ ہے کہ جب تک کسی سے ”راہ“ یا ”واہ“ نہ پڑے اس کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔ سنی سنائی باتیں تو ویسے ہی دلکش ہوتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •