سوشل میڈیا کی آڈیوز اور ویڈیوز بھی ہمارا کچھ نہ بگاڑ سکیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوشل میڈیا پر عوام الناس اور اب تو خواص کی جانب سے بھی آئے دن ایسی آڈیوز اور ویڈیوز اپ لوڈ ہوتی رہتی ہیں جس میں جہاں معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں کو اجاگر کیا جاتا ہے، وہیں ایسی آڈیوز اور ویڈیوز بھی منظر عام پر آتی رہتی ہیں جس میں ریاست کے اہم اداروں کے اعلی عہدوں پر فائز عہدے دار اپنے اختیارات کا نا جائز استعمال کرتے ہوئے، سنے اور دیکھے جا سکتے ہیں۔

پانامہ اسکینڈل کے لیے تشکیل دی جانے والی جے آئی ٹی کے وقت بھی واٹس ایپ کے ذریعے اعلی عدلیہ اور مقتدر حلقوں کے افراد کے درمیان پیغامات کے تبادلے کی مبینہ باز گشت سامنے آئی اور خوب چرچا بھی ہوا لیکن کسی کے کان پر جوں نہ رینگی۔ اسی طرح جے آئی ٹی نے جن افراد کو تفشیش کے لیے طلب کیا، ان کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی رہیں۔ صولت مرزا تک کی اعترافی اور انکشافات سے بھرپور ویڈیو جیل سے باہر آ گئی لیکن اس وقت کے وزیر داخلہ آئیں بائیں شائیں کے علاوہ کچھ نہ کر سکے۔ چونکہ ان کے ہاتھ میں کچھ ہوتا تو ذمے داران کے خلاف کوئی کارروائی کرتے۔

نیب کے موجودہ سربراہ کی آڈیو اور ویڈیو تو وطن عزیز کے ٹی وی چینلز نے بھی نشر کی۔ لیکن غصہ وزیر اعظم کے مشیر پر اترا کیونکہ جس چینل نے سب سے پہلے خبر نشر کی، وہ اس کے مالک تھے۔ چیئرمین نیب کی آڈیو اور ویڈیو کی ابھی دھول چھٹی بھی نہ تھی کہ محترمہ مریم نواز نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ویڈیو ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کی خدمت میں پیش کر دی۔ گو کہ ارشد ملک صاحب کو تو ان کے فرائض سے سبکدوش کر دیا گیا لیکن ان کے فیصلے سے متاثر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف ابھی تک پابند سلاسل ہیں۔

جناب ارشد ملک نے بھی اپنے بیان حلفی میں ایک ایسی ویڈیو کا تذکرہ کیا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے فرائض انجام دینے کے دوران دباوُ کا شکار ہوئے۔ اور اس چکر میں اپنی صفائی پیش کرنے میاں نواز کی شریف کی خدمت میں جا پہنچے اور مدینہ شریف میں جناب حسن نواز سے بھی ملاقات کر بیٹھے۔ جناب ارشد ملک کے بیان حلفی کا بھی سوشل میڈیا پر خوب چرچا ہوا۔ لیکن معاملہ کس سمت جائے گا، با شعور عوام اس سے بخوبی واقف ہے۔ چونکہ یہ آڈیو اور ویڈیو ریاست کے وہ افراد منظر عام پر لائے ہیں جن کو ریاست اور ریاستی ادارے قیام پاکستان سے لے کر اب تک چور اورغدار سمجھتے آئے ہیں اور بوقت ضرورت اخبار میں اشتہار کی صورت میں غدار وطن اور را کا ایجنٹ بھی قرار دیتے آئے ہیں۔

مدارس اور سکولوں میں طلبا کے ساتھ مار پیٹ کی ویڈیوز ہوں یا لب سڑک خواتین کے سامنے گھناوُنا جنسی فعل کرتے ہوئے، معاشرے کے گھناوُنے کرداروں کی ویڈیوز ہوں، معاشرہ اور مملکت کا ہر ادارہ بے حسی کا شکار نظر آتا ہے۔ صرف ان آڈیوز اور ویڈیوز پر کارروائی سامنے آتی ہے جو ریاست کے مقتدر اداروں کے ایماء پر بنائی گئی ہوں یا منظر عام پر لائی گئی ہوں۔ ایسی ہی ایک آڈیو ٹیپ کے ذریعے مرحومہ بے نظیر بھٹو کی سزا کالعدم قرار دی گئی اور جناب ملک قیوم کو ان کے عہدے ہٹا دیا گیا۔ لیکن وہی ملک قیوم پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں حیران کن طور پر اٹارنی جنرل کے عہدے پر فائز ہو گئے۔

ان دنوں بھی ایک ایسی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں رینحرز اہل کار ایک چلتے پھرتے منی ٹرک کو رکواتے ہیں اور دو چار اہل کار پھر اس ٹرک کو دھکا لگاتے ہیں۔ ویڈیو میں ایک اہل کار نہایت مہارت سے اس بلا وجہ کے ہمدردانہ فعل کی ویڈیو بناتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ بظاہر تو اس ویڈیو کے بنانے کا مقصد یہی نظر آتا ہے، کہ اس ویڈیو کو اعلی افسران کی خدمت میں پیش کیا جائے گا اور جب بھی رینجرز کی کارکردگی اور شہر میں جواز کے حوالے سے پریس کانفرنس کی ضرورت محسوس کی جائے گی تو صحافی حضرات کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے سکرین پر مذکورہ ویڈیو دکھا کر زور دار تالیاں بجانے پر مجبور کیا جائے گا۔

جس شہری نے یہ ویڈیو بنائی ہے، اس کی ویڈیو دیکھ کر رینجرز افسران ان اہل کاروں کے خلاف جعلی ویڈیو بنانے کی کوئی کارروائی کرتے ہیں، اس کا امکان تو کم ہی نظر آتا ہے۔ ہاں، جس گھر سے رینجرز اہل کاروں کی یہ ویڈیو بنائی گئی ہے، وہاں چھاپے کا قوی امکان نظر آتا ہے۔ حقیقت تو یہی ہے، کہ وہ آڈیوز اور ویڈیوز جو ریاست کے مقتدر حلقوں کی سر پرستی میں بنی ہوں اور منظر عام پر آئی ہوں ان پر کارروائی ہوتی نظر آتی ہے یا ان آڈیوز اور ویڈیوز کو بوقت ضرورت، خصوصاً وزیر اعظم، سپیکر قومی و صوبائی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل حسب منشا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سیاست دان اور عوام الناس کی طرف سے پیش کی جانے والی آڈیوز اور ویڈیوز کی ریاست کے مقتدر حلقوں میں کوئی وقعت نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے، کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی آڈیوز اور ویڈیوز معاشرتی برائیوں کی عکاسی کرتی ہوں یا سیاسی شعبدے بازیوں کی، ان کو دیکھ کر بھی ہمارا کچھ نہیں بگڑتا۔ نہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کے آثار پیدا ہوتے نظر آتے ہیں اور نہ طرز حکومت و سیاست میں میں بہتری کے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •