جمہوریت کا اصطبل: مابعد نوآبادیاتی فلسفے کے تناظر میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں ”مخصوص اسلام“ خطرے میں ہے اور اس کے ذیل میں پنپنے والی جمہوریت کو تو ویسے ہی روز اول سے خطرہ درپیش رہا ہے۔ اس کی بنیاد وہ مابعد نوآبادیاتی سیاسی ڈھانچہ ہے جو پاکستان میں رائج ہوا۔ اس ڈھانچے میں سول بیوروکریسی اور فوجی اداروں کو طاقت بخشی جاتی ہے تاکہ جمہور کم زور رہیں۔ اس کی بنیاد پہلی دستور ساز اسمبلی میں ہی رکھ دی گئی جس کا پہلا مثالی نمونہ ملک کے تیسرے گورنر جنرل بیوروکریٹ غلام محمد کے آمرانہ حکم پر وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو 1953 ء میں جبری فارغ کرنا ہے۔ پھر بعد کے گورنر جنرل اسکندر مرزا نے 1954 ء میں دوسرے وزیر اعظم محمد علی بوگرہ کو بھی عہدے سے فارغ کر دیا۔ گورنر جنرل پاکستان کا عہدہ آمریت کا نشان بن گیا اور جب یہی عہدہ ختم ہوکر صدر کے عہدے میں تبدیل ہوا تو صدر بھی آمریت کی علامت بن گیا۔

گورنر جنرل کا عہدہ چھوڑ کر صدر کا حلف لینے والے پہلے صدر پاکستان اسکندر مرزا نے حسین شہید سہروردی کو وزارت عظمیٰ سے فارغ کر دیا۔ ان کی جگہ آئی آئی چندریگر کو قائم مقام وزیر اعظم بنا کر ان کی بھی صدر نے دو مہینے بعد چھٹی کرا دی۔ وزراء اعظم کا شخصی آمریت کی بھینٹ چڑھنا گویا معمول بن گیا لیکن یہ محض یہیں تک محدود نہ رہا بلکہ ان حقائق نے مستقبل میں کم زور ترین جمہوریت کی بنیادیں کھڑی کر دیں۔ یہی وجہ تھی کہ جنرل یحیٰ خان کی چھتری تلے ہونے والے پہلے عام انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے کی بجائے ملک کی تقسیم کو تسلیم کر لیا گیا۔ سن 47 ء سے لے کر 1971 ء تک کی ملکی و قومی سیاست کے خمیر میں ہی آمریت کی آمیزش رہی۔ یہی وجہ تھی کہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے اقتدار سے فارغ کر پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا۔

اس کے بعد محمد خان جونیجو کو جب وزارت عظمی کے منصب پر بٹھایا گیا تو صدر ضیاء نے 1985 ء میں ان کے نیچے سے کُرسی کھینچ کر جونیجو کو زمین بوس کر دیا۔ چونکہ صدر کے عہدے نے گورنر جنرل کی کھوکھ سے جنم لیا تھا یہی صدر کا عہدہ پارلیمنٹ پر فوجی پہرہ دیتا رہا۔ صدر غلام اسحاق خان، صدر فاروق لغاری نے نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کو وزارت عظمیٰ سے ہٹا کر اسمبلیوں کو توڑنے میں کوئی ہچکچاہٹ تک محسوس نہیں کی۔ ہمارا نوجوان سوچتا ہے کہ صرف ”میرے عزیز ہم وطنو“ کا خطاب وردی میں ہی ممکن ہے جب کہ ملکی سیاسی تاریخ بتلاتی ہے کہ دونوں صدور نے اگست 1990 ء اور جولائی 1993 ء میں میرے عزیز ہم وطنو کی شروعات سے ریڈیو اور پی ٹی وی پر تقاریر کیں تھیں۔ اور آج کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے لیڈرز جمہوریت کشی کی منصوبہ بندی کا حصہ رہے ہیں۔

چونکہ مابعد نوآبادیاتی سیاسی ڈھانچے میں غیر جمہوری ادارے طاقت ور ہوتے ہیں لہذا ملکی سیاست میں آخری بار جناب پرویز مشرف نے اسی طاقت کے تحت نواز شریف کو فارغ کر دیا اور پھر نواز شریف امریکی و سعودی مداخلت پر بذریعہ معاہدہ پاکستان کو اس کے حال پر چھوڑ کر نو سال کی چھٹیوں پر بیرون ملک چلے گئے۔ یہ تاریخ اس لیے دہرائی ہے کہ یہ ملکی سیاست کی بد قسمتی نہیں ہے بلکہ اُس سیاسی ڈھانچے کے نتائج ہیں جس کی بنیاد 15 اگست 1947 ء میں رکھی گئی تھی۔ کبھی اسٹیبلشمنٹ کی گود میں سیاسی پرورش ہوتی ہے تو کبھی سیاست کرنے کے لیے جمہوری غسل دینے کو ترجیح دی جاتی ہے، جو کبھی ووٹ کی پرچی کے برعکس مارشل لاء کے کوڑے کو اقتدار کا سرچشمہ تصور کرتے تھے وہ اب ووٹ کی عزت کا نعرہ لگاتے ہیں، جو عدلیہ پر حملہ آور ہوتے تھے وہی عدالت میں کالا کوٹ پہن کر منتخب وزیر اعظم کو نا اہل کرا دیتے ہیں۔ اس پورے سیاسی و معاشی نظام کو پراگندہ کرنے کے بعد اب اُصول و ضمیر کی آوازیں کسی جارہی ہیں۔

جن الیکشن کو دھاندلی زدہ کہا جاتا ہے اسی کے تحت کبھی حزب اقتدار میں بیٹھ کر عوام کی سودے بازی کی جاتی تو کبھی حزب اختلاف میں رہ کر ذاتی و گروہی مفاد کو جمہوری مفاد گردانا جاتا ہے۔ الیکشن لڑنے کے لیے ٹکٹوں کی تقسیم ہی جب سرمایہ داریت و جاگیرداریت کے اُصولوں پر کی جاتی ہے تو پھر جمہوریت یا جمہور کا نعرہ لگانے کا گورکھ دھندہ کب تک چلے گا؟ سینیٹ الیکشن میں جس اُصول کے تحت گھوڑے اصطبل میں باندھے گئے تھے تو پھر اسی اُصول کے تحت گھوڑے میدان میں دوڑ لگائیں گے۔ اس سیاسی میدان میں ہارس ٹریڈنگ کا کیچڑ بھی تو خود انھی سیاستدانوں کے ہاتھوں پیدا کیا گیا تھا تو اپنا ماضی جب حال میں منہ چڑاتا ہے تو پھر جادو، ضمیر فروشی ضمیر فروشی کا شور شرابہ کیسا ہے؟

سقوط ڈھاکہ کے بعد 1973 ء میں جب سینیٹ وجود میں آیا تو ضیائی آمریت میں جب 1977 ء میں سینیٹ کو توڑ کر 1985 ء تک اسے قومی سیاست میں مفلوج رکھا گیا تو اُس وقت آمریت کی نرسری میں پرورش پانے والے یہی سیاستدان اسے درست فیصلہ تصور کرتے رہے۔ حزب مخالف کی جماعتوں کو سینیٹ کا چیئرمین تبدیل کرنے میں شکست اُسی اُصول پر ہوئی ہے جس کی بنیادیں خود انھوں نے حزب اقتدار کے عہد میں رکھی تھیں۔ پھر اب جمہوریت پر ڈاکہ زنی کا نعرہ کیسا ہے؟ سینیٹرز کا چناؤ کرنے والی سیاسی جماعتیں کیا جمہوری اُصولوں کو افضل تصور کرتی ہیں یا پھر کیپٹل ازم کو نجات دہندہ سمجھتی ہیں؟ اس کا جواب سینیٹرز کے زمان و مکان سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

جب ایوان بالا کے نمائندگان کو منتخب کرتے وقت جمہوریت کا قتل عام ہوتا ہے تو پھر اسی سسٹم میں اپنی گردن پھنسنے پر چیخیں کیوں نکالتے ہو؟ جب مسلم لیگ کو یہ معلوم تھا کہ ایوان بالا میں حزب اختلاف کی ایک اور جماعت کے تعاون سے چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے تھے جس پر میاں نواز شریف نے بھی خوب غصہ کیا تھا لیکن اب پھر اسی جماعت کے ساتھ مل کر چیئرمین کو ہٹانے کا کھیل کیوں کھیلا گیا۔ شکست ہونے پر پھر اپنے مفاد کو جمہوریت کی پیکنگ میں عوام کے سامنے فروخت کیاجارہا ہے۔ جس مابعد نوآبادیاتی سیاسی ڈھانچے کی رکھوالی گزشتہ 72 سالوں سے کی جارہی ہے یہ اُسی کا نتیجہ ہے کہ جب جی چاہے استعمار اور غیر جمہوری قوتیں مل کر سیاسی ڈرائیور تبدیل کر لیتی ہیں۔ افغانستان میں جہاد کرانا ہوتو اس کے مطابق ڈرائیور رکھ لیا جاتا ہے اور جب افغانستان کا مسئلہ حل کرانا ہو تو پاکستان میں ڈرائیور بھی اسی ضرورت کے مطابق بھرتی کر لیا جاتا ہے۔

شاہ عبد القادر رحمتہ اللہ علیہ نے 1950 ء میں ہی کہہ دیا تھا کہ پاکستان میں مسئلہ افغانستان پیدا ہو گیا ہے جس سے اندازہ ہے کہ پاکستان میں کبھی امن نہیں ہوگا، یہ مسئلہ گزشتہ 70 سالوں سے حل نہیں ہو رہا کیونکہ یہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کا پیدا کردہ ہے۔ استعماری مداخلت اور سیاستدانوں کی ضمیر فروشی کی تاریخ کے باعث پاکستان کے سیاسی نظام کو آزادی کی بنیاد پر استوار نہیں ہونے دیا جاتا۔ سیاستدان اپنی گردنیں بچانے کے لیے قوم کی گردنیں پیش کرتے آئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں ہر دس سال بعد سیاسی پالیسی تبدیل کرا دی جاتی ہے اور جمہور کے سامنے جمہوریت جمہوریت کا کھیل بہترین ملمع کاری سے کھیلا جاتا ہے۔

چنانچہ پاکستان کی معاشی پالیسیاں، خارجہ پالیسیاں عالمی سرمایہ داریت سے جُڑی ہیں۔ عوام کو غیر سیاسی رکھنے کے لیے بنیاد پرستی، نظریاتی سرحدوں، عسکری سوچ اور مخصوص جہادی و اسلامی تصورات پھیلائے جاتے ہیں۔ جس کے لیے ریاست کے مخصوص ادارے ہر عہد میں مابعد نوآبادیاتی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے دانش وروں اور مذہبی نمائندوں کا چناؤ کر کے عوام کے سامنے نئے انداز میں پیش کر دیتے ہیں۔ اس سیاسی کاروبار کو سمجھنے سے ہی ہمیں ان سیاستدان کے پیش کردہ جمہوری تصورات کا محاسبہ کرنے میں آسانی ہوگی وگرنہ غلامی کا طوق آئندہ کئی سال تک اُٹھائے پھرنا قومی مقدر رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •