کشمیر کی بدلتی صورتحال میں اسلام آباد کی ذمہ داری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد کو بلا تاخیر کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور میڈیا پر پابندیوں کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے اور سیاسی و سفارتی میدان میں ہندوستان کے خلاف سرگرم ہونا چاہیے۔

دیگر اقدامات سمیت فوری طور پر پارلیمان کا مشترکہ خصوصی اجلاس بلا کر اس مسئلے پر بحث کرنی چاہیے۔ ہندوستان سمیت دنیا کو پیغام دینا چاہیے کہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کی سیاسی قوتیں کسی تقسیم کا شکار نہیں۔ مشترکہ اجلاس کے ذریعے پاکستان ایک بار پھر اپنے سرکاری مؤقف کا بھرپور طریقے سے اعادہ کر سکے گا کہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر حل طلب مسئلہ ہے جو ہندوستان اور پاکستان کی جوہری صلاحیت اور تناؤ کے تناظر میں فوری حل کا متقاضی ہے۔ اس سے صرف نظر یا اس پر پیش رفت میں سستی نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی غیر مطلوبہ نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔

اس اجلاس سے حکومت کو یہ ممکنہ فائدہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر ہندوستان کی آمادگی کی صورت میں کوئی بین الاقوامی ثالث سودے بازی کی غرض سے پاکستان سے کسی لچک کی توقع رکھے تو اسلام آباد پارلیمان کے مشترکہ مؤقف کی آڑ میں ایسی کسی ڈیمانڈ کو باسہولت رد کر سکتا ہے۔ (ویسے یہ بھی جمہوریت کی عطا ہوتی ہے جو مطلق العنان حکمران کو دستیاب نہیں ہوتی اور اسے ایک رن وے مانگنے پر پورے ملک کے فضائی اڈے دینے پڑ جاتے ہیں ) ۔

انسانی حقوق اور میڈیا پر پابندیوں کے حوالے سے ہمارا اپنا ریکارڈ قابل رشک نہیں بلکہ افسوسناک ہے۔ اور ہماری اپنی جمہوری، معاشی اور سماجی ضرورت ہے کہ اس صورت حال کو فوراً درست کیا جائے۔ اس حوالے سے پاکستانی شہریوں کا پاکستانی ریاست پر اعتراض جائز اور ضروری ہے لیکن ہمارے ہاں پابندیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ہندوستانی حکومت کشمیر میں ایسے ہی اقدامات کے جواز کے طور پر نہیں پیش کر سکتی۔

کشمیر بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں، اخلاقی اصولوں اور تاریخی حوالوں کی رو سے ایک تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے۔ اس کے مستقبل کا فیصلہ صرف اور صرف کشمیریوں کا حق ہے۔ عمومی حوالے سے پاکستان انسانی بنیادوں پر ہندوستان کے دیگر علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کر سکتا ہے، ہندوستان پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی پر بات کر سکتا ہے، جیسا کہ حریف ملک ایک دوسرے کے خلاف کرتے رہتے ہیں۔ امریکہ چین پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے میں انگلی اٹھاتا رہتا ہے۔ ہر ملک سیاسی فوائد کے لیے ایسا کرتا ہے۔ لیکن کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہندوستان کا داخلی معاملہ نہیں۔ کشمیر خود مختار ہو گا، پاکستان کا حصہ ہو گا یا ہندوستان کا حصہ بنے گا اس کا فیصلہ ابھی ہونا ہے۔ اسلام آباد کو سوئے ہوئے عالمی ضمیر کو جگانے کے لیے آواز اٹھانی ہو گی، فوراً اٹھانی ہو گی۔ اس کے لیے خود کو سیاسی، جمہوری اور معاشی حوالوں سے مضبوط کرنا ہو گا۔

کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے عسکریت کی درپردہ حمایت بدلے ہوئے عالمی ماحول میں بالکل ناقابل قبول ہو گی۔ نائن الیون کے بعد تو ایسا سوچنا بھی ممکن نہیں رہا۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسے عناصر کو دیگر مفید سرگرمیوں میں کھپا کر معاشرے کے مفید افراد بننے میں مدد فراہم کرے۔ غیر ریاستی عناصر کو ہتھیار دے کر صرف پاکستان استعمال نہیں کرتا، ساری دنیا ایسا کرتی ہے۔ ہندوستان کی اپنے ہمسایہ ممالک میں ایسی ہی کارروائیوں کی پوری تاریخ ہے۔ افغان مجاہدین بھی کبھی سوویت یونین کے خلاف ایسے ہی امریکی اثاثے تھے۔ تاہم بیدار قومیں اور قیادتیں بدلتے وقت کے ساتھ بدلتی ہیں۔ ہمارے ہاں ان عناصر کو اب بھی جہاد پر اصرار ہو تو ان کو تعلیم اور ماحول کے تحفظ کے اہم کاموں پر لگایا جائے۔ البتہ تعلیم کا کام ان کے حوالے کرتے ہوئے ان کی مؤثر نگرانی بھی کی جائے۔ جرائم کے خلاف جہاد کے لیے پولیس میں بھرتی کیا جائے۔ نیشنل ایکشن پلان پر کسی کنفیوژن کے بغیر عمل ہمارے ملکی مفاد میں ہے۔ اور کشمیر کی پرزور، مسلسل اور جاندار حمایت بھی ہمارے مفاد میں اور اخلاقی حوالوں سے سو فیصد درست عمل ہے۔

اور اگر کسی کو غلط فہمی ہے تو ٹرمپ اب کشمیر کا حل نکال کر ہمیں فون کرے گا کہ آؤ بھائیو معاہدے پر گھگھی مارو، بات مکائیں اور آگے چلیں تو انہیں ایسی غلط فہمی پالنے سے کوئی باز نہیں رکھ سکتا، نہ ہی ایسی کوئی ضرورت ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ایسی کوئی غلط فہمی سیاسی اور عسکری قیادت کو بالکل نہیں۔ حکومتی پارٹی یا ورکروں کو اس تاثر سے تسکین ملتی اور ساکھ بہتر کرنے کا فائدہ ہوتا ہے تو کیا برا ہے۔ بلکہ اعلی ترین سطح پر یہ سوچ ہو سکتی ہے کہ اچھا ہے عوامی سطح پر حکمران کا تاثر بہتر ہونے سے بگڑتی معاشی صورتحال کے حوالے سے بڑھتے دباؤ میں شاید کچھ افاقہ ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •