آرٹیکل 370 کا خاتمہ اور مودی کا پلان!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نظر بند کشمیری قیادت، موبائل سروس، انٹرنیٹ سروس، لینڈ لائن سروس، کیبل اور مواصلات کے دیگر تمام دستیاب وسائل پر ہندوتوا کی چھری پھیرنے کے ساتھ ساتھ 38 ہزار مزید فوجی مقبوضہ وادی میں تعینات کر کے مودی سرکار نے ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو نیم خود مختار حیثیت اور خصوصی اختیارات حاصل تھے۔ اب ریاست کی بجائے دو علاقے مرکز کے زیر انتظام تصور ہوں گے ؛ ایک کا نام جمو ں و کشمیر اور دوسرے کا لداخ ہو گا۔ دونوں کا نظم لیفٹیننٹ گورنر کے ہاتھ میں ہو گا۔ محبوبہ مفتی کو بھی کہنا پڑا کہ ”47 ء میں دو قومی نظریے کو رد کرنا اور بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ آج غلط ثابت ہوا، آرٹیکل 370 کا خاتمہ غیر آئینی ہے، جس سے بھارت، جموں و کشمیر میں قابض قوت بن جائے گا“۔

مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کی یہ گھناونی سازش دراصل ایک طویل منصوبے کا حصہ ہے، جس کے تحت ہندوتوا وادی میں سرایت کرنے کا پلان ہے۔ خدشہ ہے کہ مودی سرکار وادی میں مسلم نسل کشی کا ارادہ لئے یہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ بھارتی ہندوتوا کی مقبوضہ وادی کے حوالے سے تاریخ تو کم از کم یہی بتاتی ہے، کیونکہ تقسیم کے وقت جموں میں وہ سب ہوچکا جو، اب وادی میں ہونے کا خدشہ ہے۔

تاریخ کے اوراق پر ہمیشہ ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے کھیلی گئی خون کی ہولی سرخ شبدوں کے ساتھ زندہ رہے گی۔ ستم ظریفی کہ جموں کے مسلمانوں کے ساتھ ہوئی بربریت کسی ریکارڈ کا حصہ نہ بن سکی، لیکن ”بینگ دی ادر، دی مسلم ان انڈیا“ نامی کتاب نے ہوشربا حقائق کے ساتھ اس قتل عام سے پردہ اٹھایا ہے۔ یہ کتاب بھارت کے نامور صحافی اور کئی جانے مانے اخباروں کے ایڈیٹر رہنے والے مصنف سعید نقوی نے لکھی ہے۔

اس کتاب کے ایک باب میں مصنف نے تاریخی حوالہ جات کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ کیسے جموں میں مسلمانوں کا لسانی بنیادوں پر بہیمانہ طریقے سے صفایا کیا گیا۔ یہی نہیں، بلکہ کشمیر کے پنڈت بھی اس وحشیانہ قتل ِعام کا نشانہ بنے۔ مصنف نے اس بربریت کی تفصیلات کے لئے برطانوی اخبار دی سٹیٹسمین کے اس وقت کے ایڈیٹر این سٹیفن کے کئی مضامین کا حوالہ دیا ہے۔ این سٹیفن 1942 ء سے 1952 ء تک اخبار کے ایڈیٹر رہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جموں میں مسلمان اکثریت میں تھے اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مہاراجہ ہری سنگھ کی آشیر باد سے مسلمانوں کا قتل ِعام کیا گیا۔ یہاں مسلمانوں کو اس قدر بڑی تعداد میں قتل کیا گیا کہ سرکار اس خون کی ہولی کا ریکارڈ رکھنے کی بھی متحمل نہ ہوسکی۔

دی سپیکٹیٹر نامی اخبار میں 16 جنوری 1948 ء کو ہوریس ایلگزنڈر نے لکھا کہ کہ صرف جموں ریجن میں دو لاکھ مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔ اگست 1948 ء کو لندن سے شائع ہونے والے اخبار ”دی ٹائمز“ نے یہ تعداد 2 لاکھ 37 ہزار سے زائد لکھی۔ ان برطانوی اخباروں نے اس وقت کے اپنے مضامین میں لکھا کہ مسلمانوں کا اس وقت تک قتل ِعام کیا گیا، جب تک وہ ختم نہ ہوگئے یا جموں سے پاکستان ہجرت نہ کر گئے۔ اس قتل ِعام میں ڈوگرا فوج کو سکھوں کی بھر پور عملی حمایت حاصل رہی۔ یہ قتل ِعام اکتوبر 1947 ء میں بھارت کے ساتھ مہاراجہ کے خود ساختہ الحاق سے صرف 9 دن پہلے کیا گیا۔

سعید نقوی کی تحقیق کے مطابق، مہاراجہ زونل استصواب ِرائے سے خوفزدہ تھا، کیونکہ جموں میں 61 فیصد آبادی مسلمانوں کی تھی اور یہی وجہ ہے کہ اس نے سکھوں کے ساتھ مل کر محض 9 دنوں میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل ِعام کیا۔ بچنے والے کسی نہ کسی طریقے سے سیالکوٹ اور آزاد کشمیر ہجرت کر گئے۔ مصنف کا ماننا ہے کہ انڈیا کا پہلا گورنر جنرل لارڈ ماونٹ بیٹن، مہاراجہ کی جانب سے مسلمانوں کے نسل کشی کے پلان سے آگاہ تھا اور اس نے دانستہ اس نسل کشی کوخبروں سے اوجل رکھا۔ کتاب میں اس بابت مہاتما گاندہی کا انتہائی اہم بیان بھی شامل کیا گیا ہے، جو گاندھی جی پر چھپے مجموعوں کے والیم نمبر 90 کا حصہ ہے۔ گاندھی جی نے کہا تھا ”باہر سے جانے والے سکھوں اور ہندوں نے خطے کے سکھوں اور ہندوؤں کے ساتھ مل کر جموں کے مسلمانوں کا قتل کیا، جس کا ذمہ دار کشمیر کا مہاراجہ ہے“۔

یہ حقائق صرف سعید نقوی ہی منظر عام پر نہیں لے کر آئے، بلکہ گزرے برس سوامی ناتھ ایس آئیر نے بھی کشمیر میں نسل کشی پر ایک اہم کتاب لکھی تھی، جسے انتہا پسندوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ”رائٹرز“ کے ساتھ ایک انٹرویو میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے بھی ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس اور مہاراجہ کشمیر کومسلمانوں کی نشل کشی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ستمبر 1947 ء میں انڈین نیشنل آرمی اور آر ایس ایس نے امرتسر سے اپنے ہیڈ کواٹرز جموں منتقل کیے تھے، جس کا مقصد مسلمانوں کا بے دریغ قتل ِعام تھا۔

تاریخی حوالے بتاتے ہیں کہ پاکستانی علاقوں کے قریب بشنا، آر ایس پورہ اور اکھنور کے علاقوں میں بسنے والے بچے کھچے جموں کے غیر مسلح مسلمانوں نے کسی نہ کسی طرح سیالکوٹ اور اس سے متصل علاقوں میں ہجرت کرکے اپنی جان بچائی۔ جموں کے علاوہ وادی کشمیر میں ادھم پور، چھنانی، رام نگر، ریاسی اور بھدرواہ کے علاقوں میں بھی مسلمانوں کو اسی منصوبے کے تحت قتل کیا گیا۔ مذکورہ بالاکتاب پڑھ کر یقین کیسے نہ آتا کہ میرے مرحوم دادا، جو جموں کی تحصیل آر ایس پورہ سے ہجرت کر کے پاکستان آئے، ہندوؤں کے ظلم و ستم کی داستان عمر بھر سناتے سناتے اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ دادا حضور کے علاوہ ان کے خاندان کے سبھی بڑھے بوڑھے آر ایس پورہ میں ہندو بلوائیوں نے کاٹ ڈالے تھے۔

مختصر کہانی بیان کرنے کا ایک مقصد تو یہ تھا کہ قارئین کو آگاہ کیا جائے کہ کیسے 47 ء کے پرُ ہنگام حالات میں جموں کے مسلمانوں پر قیامت برپا کی گئی اور پھر کیسے ان حقائق کو بھارتی نیتاوں نے ہمیشہ دباکر رکھا ہے۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے سے خدشہ ہے کہ مودی سرکار مقبوضہ وادی میں بھی وہی خون کی ہولی کھیلنا چاہتی ہے، جو ان کے بڑوں نے جموں ریجن میں کھیلی، لیکن بھارت شاید بھول جاتا ہے کہ اہل ِکشمیر کبھی گن پوائنٹ پر بھارت کے نہیں ہوسکتے۔ یہ کشمیری تھے، کشمیری ہیں، کشمیری رہیں گے۔ بقول فیض احمد فیض ؔ:

دل نا امید تو نہیں، ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کی یہ گھناونی سازش دراصل ایک طویل منصوبے کا حصہ ہے، جس کے تحت ہندوتوا وادی میں سرایت کرنے کا پلان ہے۔ خدشہ ہے کہ مودی سرکار وادی میں مسلم نسل کشی کا ارادہ لئے یہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔
(بشکریہ روزنامہ دُنیا)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اجمل جامی

اجمل جامی پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں، آج کل دنیا ٹی وی کے لئے لائیو ٹالک شو کرتے ہیں، خود کو پارٹ ٹائم لکھاری اور لیکچرار کے علاوہ فل ٹائم ملنگ مانتے ہیں، دوسری بار ملا جائے تو زیادہ پسند آسکتے ہیں۔ دل میں اترنے کے لئے ٹویٹر کا پتہ @ajmaljami ہے۔

ajmal-jami has 55 posts and counting.See all posts by ajmal-jami