مودی کی جارحیت اور اس میں ٹرمپ کا کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نفسیاتی جنگ کے تمام حربوں کے استعمال کی بدولت پھیلائی افواہوں کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں سراسیمگی پھیلانے کے بعد مودی حکومت نے بالآخر پیر کی صبح وہ فیصلہ کرلیا جس کے لئے ذہن تیار کیے جارہے تھے۔ اتوار کی رات دیگر سیاسی قیادت کے علاوہ ماضی میں کٹھ پتلی رہے دو وزرائے اعلیٰ۔ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی۔ کو بھی ان کے گھروں میں نظر بند کردیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ ہی نہیں بلکہ لینڈ لائن والے فون بھی بند کردیے گئے ہیں۔

دفعہ 144 کا نفاذ ہوچکا ہے۔ خدشہ ہے کہ جلد ہی واد ئی کشمیر میں طویل المدتی کرفیو بھی لگادیا جائے گا۔ یہ تمام اقدامات اٹھانے کے بعد پیر کی صبح بھارتی کابینہ کی خصوصی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس ہوا۔ اس اجلاس کے ختم ہوتے ہی بھارتی وزیر داخلہ راجیہ سبھا پہنچ گیا۔ اس کی آمد کے بعد کانگریس کے غلام نبی آزاد نے جس کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہے سوالات اٹھاتے ہوئے ہنگامہ آرائی کرنا چاہی۔ اس کے سوالات کو نظرانداز کرتے ہوئے امیت شا نے صدارتی حکم پڑھ کر سنادیا۔

اس حکم کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کو برسوں سے حاصل ”خصوصی خودمختاری“ کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان کردیا گیا ہے۔ دعویٰ ہے کہ اس خودمختاری کو یقینی بنانے والے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کی ”تجویز“ مقبوضہ کشمیر کی ”حکومت“ کی جانب سے آئی ہے۔ المیہ یہ بھی ہے کہ ان دنوں وہاں کوئی منتخب حکومت موجود ہی نہیں ہے۔ گورنر راج کے ذریعے سرکارچلائی جارہی ہے۔ آرٹیکل 370 کی تجویز دستاویزی اعتبار سے گورنر کی جانب سے آئی۔

بھارتی کابینہ نے اسے فی الفور منظور کرلیا اور صدارتی حکم جاری ہوگیا۔ اب اس حکم کو پارلیمان سے منظور کروانا ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہ بھارت کے راجیہ سبھا سے جو ہمارے سینٹ جیسا ہے اس کی منظوری میں مودی حکومت کو کسی دِقت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ شاید اپنی جیت کو یقینی تصور کرتے ہوئے مودی نے اگست کی سات تاریخ کو ”قوم سے خطاب“ کا اعلان بھی کردیا ہے۔ ہم بآسانی یہ تصور کرسکتے ہیں کہ ”قوم سے خطاب“ کے ذریعے وہ ایسی فضا تیار کرنے میں کامیاب ہوجائے گا جس کی وجہ سے اپوزیشن کی اکثریت بھارت کی لوک سبھا یعنی قومی اسمبلی میں بھی 370 کے خاتمے کی حمایت میں ووٹ دینے کو مجبور ہوجائے گی۔

15 اگست کے روز لہذا بھارتی وزیر اعظم سینہ پھلاکر یہ اعلان کرسکتا ہے کہ بالآخر اس نے اپنے ”انتخابی وعدے کے مطابق“ آرٹیکل 370 کو ختم کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا ”اٹوٹ انگ“ بنادیا۔ کشمیر کا 70 سالہ مسئلہ ”حل“ ہوگیا۔ میری ناقص رائے میں وحشیانہ دھونس کے ذریعے مسلط کیے اس فیصلے کے ذریعے مسئلہ کشمیر ہرگز ”حل“ نہیں ہوا ہے۔ پیر کے روز جو پیش قدمی ہوئی ہے وہ پاک۔ بھارت کشیدگی کو ممکنہ طورپر ایک اور جنگ کی طرف دھکیلنے کے علاوہ اس خطے میں ایسا طوفان کھڑا کرے گی جس کے اثرات آنے والی نسلوں کو کئی دہائیوں تک بھگتنا ہوں گے۔

میری رائے کو ایک ”متعصب پاکستانی“ کی رائے ٹھہراتے ہوئے یقیناً نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔ فیض احمد فیض کے ”بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے“ کہتے ہوئے فی الوقت اپنے ذہن میں اٹکے ایک اور خیال کے اظہار کی جانب چلاجاتا ہوں۔ بہت سوچ بچار کے بعد میں یہ دعویٰ کرنے کو مجبور ہورہا ہوں کہ ٹرمپ نے 22 جولائی کے روز وائٹ ہاؤس میں پاکستانی وزیر اعظم سے ملاقات کے ذریعے مودی کو یہ فیصلہ کرنے کی طرف دھکیلا ہے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ بھارتی وزیر اعظم امریکہ سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کررہا ہے۔

بھارتی وزارت ِ خارجہ نے فی الفور اس کے دعویٰ کی تردید کردی۔ مودی مگر ڈھٹائی کی حد تک خاموش رہا۔ بھارتی وزیر اعظم کی پراسرار خاموشی کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں اس کالم میں تواتر کے ساتھ یہ لکھنے کو مجبور ہوا کہ ٹرمپ کو ”جھوٹا“ پکارنے کے بجائے نریندر مودی اب مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کی زندگی مزیداجیرن بنانے پر تل جائے گا۔ دُکھی دل سے یہ بھی اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ میرے خدشات درست ثابت ہوئے۔ سفارت کاری کی پیچیدگیوں سے خارجہ امور کے بارے میں برسوں سے رپورٹنگ کے تجربے کی بدولت آشنا ہونے کی وجہ سے میں اس شک کا اظہار کرنے کو مجبور ہوں کہ ٹرمپ کو بخوبی اندازہ تھا کہ مودی مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے کیا کرنے جارہا ہے۔

ٹرمپ نے مودی کے ساتھ جاپان کے شہر اوساکامیں ہوئی جس گفتگو کا ذکر کیا غالباً اس کے دوران بھارتی وزیر اعظم نے اسے کہا ہوگا کہ حالیہ انتخابی مہم کے دوران اس نے کشمیر کی ”خصوصی حیثیت“ ختم کرنے کا وعدہ کررکھا ہے۔ اس وعدے کو وہ نبھانے کے لئے دوسری بار بھارتی وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد اب آرٹیکل 370 ختم کرنے کو تیار ہے۔ پاکستان کے لئے یقینا یہ فیصلہ قبول کرنا ناممکن ہوگا۔ امریکی صدر کو لہذا تیار رہنا چاہیے کہ مودی کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد پاکستان اور بھارت کے مابین جو کشیدگی رونما ہوگی اسے ”ٹھنڈا“ کرنے کے لئے اسے ”ثالثی“ کا کردار ادا کرنا ہوگا۔

پاکستان کے وزیر اعظم کو اپنے دائیں ہاتھ بٹھا کر امریکی صدر نے لیکن محض ”ثالثی“ کی خواہش کا اظہار کیا۔ اصل حقیقت بیان نہیں کی۔ مجھ جیسے سادہ لوح پاکستانی اس کے بیان سے خوش ہوگئے۔ ٹھوس حقائق تک رسائی کے بغیر میں نے جس شک کا اظہار کیا ہے اس کی تصدیق اس امر سے تقریباً ہوجاتی ہے کہ ٹرمپ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کشمیر کے حوالے سے قطعاً خاموش رہا۔ بھارتی حکومت نے آج سے دس دن قبل سری نگر ایئرپورٹ پر خصوصی طیاروں کے ذریعے تازہ دم فوجی دستے اُتارنے شروع کردیے تھے۔

تازہ دم فوجی دستوں کی آمد کے بعد گزشتہ جمعہ کے دن مقبوضہ کشمیر میں تعینات قابض افواج کے کور کمانڈر نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے یہ دعویٰ کیا کہ امرناتھ یاترا پر ایک خوفناک دہشت گرد حملے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ ان اطلاعات کو ذہن میں رکھتے ہوئے 20 ہزار یاتریوں کو مقبوضہ کشمیر سے ہنگامی بنیادوں پر باہر نکال لیا گیا۔ غیر ملکی سیاح بھی وہاں موجو د نہ رہے۔ جان بوجھ کر ”ہنگامی“ بنائی صورت حال کے تناظر میں مقبوضہ کشمیر کا ہر شہری ٹویٹروغیرہ کے ذریعے دہائی مچانا شروع ہوگیا کہ مودی ”کچھ بڑا“ کرنا چاہ رہا ہے۔

تواتر سے آرٹیکل 370 اور 35۔ Aکے خاتمے کی بات بھی ہوئی۔ وائٹ ہاؤس یا امریکی وزارتِ خارجہ کی جانب سے اس دوران کوئی ایک بیا ن بھی نہیں آیاجس کے ذریعے بھارتی حکومت کو متنبہ کیا جاتا کہ آرٹیکل 370 کا خاتمہ پاک۔ بھارت کشیدگی کو بھڑکادے گا۔ جنوبی ایشیاء میں امن کو یقینی بنانے کے لئے لہذا یہ فیصلہ لینے سے اجتناب برتا جائے۔ کسی ”حساس“ موضوع پر بیان دینا ضروری تصور نہ ہو تو امریکہ جیسی سپرطاقتیں ”خاموش“ سفارت کاری کو بروئے کار لاتی ہیں۔ چند ہی روز قبل بھارتی وزیر خارجہ کی امریکی وزیر خارجہ سے تھائی لینڈ میں ایک ملاقات ہوئی ہے۔ اس ملاقات کے دوران بھارت کو سختی سے یہ بتایا جاسکتا تھا کہ اس کی جانب سے آرٹیکل 370 کا خاتمہ خطے میں آگ لگادے گا۔

بھارتی حکومت کو 370 ختم کرنے کی عجلت میں یہ حقیقت بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ”مودی کا یار“ ٹرمپ افغانستان سے اپنی افواج نکالنا چاہ رہا ہے۔ زلمے خلیل زاد کے اس ضمن میں طالبان کے ساتھ مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ امریکہ اور طالبان کے مابین جو معاہدہ ہوگا اس کا بھرپور اطلاق پاکستان کے تعاون کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ پاکستان کو لہذا کم از کم اس وقت تک مقبوضہ کشمیر کے بارے میں کوئی تازہ قدم اٹھاکر ایک اور معاملہ میں نہ الجھایا جائے جب تک امریکی افواج کی افغانستان سے ”باعزت“ اور ”محفوظ“ واپسی مکمل نہیں ہوجاتی۔

امریکہ نے کمال رعونت اور بے اعتنائی سے ایسا پیغام دینے کا کسی صورت تردد ہی نہیں کیا اور مودی نے بالآخر وہ کردیا جس کے لئے اپنا ذہن بنائے بیٹھا تھا۔ ٹرمپ نے مودی کو آرٹیکل 370 کے خاتمے سے نہیں روکا۔ اس کی ”ثالثی“ اب محض ایک اور پاک۔ بھارت جنگ کے روکنے کے لئے استعمال ہوگی۔ مسئلہ کشمیر کے ”حل“ کے لئے نہیں۔
بشکریہ نوائے وقت۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •