نئی منزلوں کی پرواز پر پرندے اور خالی ہوتا گھونسلا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خدا حافظ !

ایک چھوٹا سا لفظ لیکن کرب سے بھرا ہوا، جدائی کا درد، بچھڑنے کی نارسائی، فاصلوں کے سمندر اور وقت کےصحرا کا ہجر !

کہنے کو لمحہ لگا پر ہونٹوں تک پہنچنے میں قیامت !

دو لوگ گلے ملے، دو ہاتھ ہلے اور کچھ آنسو آنکھوں کو نم کر گئے۔ دل میں جذبات کا تلاطم دھڑکن تیز کرتا تھا اور ماں بلائیں لیتی تھی اس چہرے کی جو جدا ہونے کو تھا!

بہت سال پہلے کی یاد آ گئی!

لاہور سے اطلاع آ چکی تھی کہ ہم میڈیکل کالج کے لئے منتخب ہو چکے ہیں۔اب انتظار تھا کہ کلاس شروع ہونے کی اطلاع ملے تو ہم رخت سفر باندھیں۔ نئی منزل پہ پہنچنے کی بے تابی اس قدر تھی کہ گھر سے جدائی کا خیال ہی نہ آتا تھااور نہ ہی اماں کے اداس چہرہ پہ دھیان جاتا۔

 ہماری اپنی اماں سے بہت بے تکلفی تھی۔ گھر میں ہلا گلا کرنے کے بھی ہم ہی شوقین تھے اور اماں کے بازاروں میں چکر لگانے میں ہم ہی ان کے ساتھی۔ آپا اور چھوٹی بہن سے اماں اس سلسلے میں مایوس ہی رہتیں۔ اور اب ہم انہیں چھوڑ کے جانے والے تھے پانچ سے چھ سال کے طویل عرصے کے لئے۔ اماں ایک ٹھنڈی سانس بھرتیں اور کہتیں ‘اب گئی تو ہمیشہ کے لئے گئی’ کہ پڑھائی کے بعد تو لڑکیاں ویسے ہی رخصت ہو جایا کرتی ہیں۔ آپا کی صورت حال ان کے سامنے تھی جو پڑھائی کے فوراَ بعد سسرال سدھار گئی تھیں۔ (اماں صحیح سمجھی تھیں میڈیکل کالج سے فراغت کے ٹھیک تین ماہ بعد ہماری شادی ہو گئی تھی۔)

اماں بھاری دل اور نم آنکھوں سے ہماری ضرورت کی ہر چیز اکٹھی کر رہی تھیں۔ نیا بستر، مگ، پلیٹ، چمچ، صابن، شیمپو، تولیہ۔ بہت سے کپڑے سل رہے تھے کہ وہاں اب ہم یونیفارم کےجنجھٹ سے آزاد تھے۔

اواخر مئی کے دن کی یاد آج بھی در دل سے لپٹی ہے جب ہم نے رخصت ہونا تھا۔ ابا چپ چپ تھے اور اماں کی آنکھ نم ہوتی تھی۔ چھوٹے بہن بھائی بار بار لپٹتے تھے، اور ہمیں نئى منزلوں کا فسوں بے تاب کرتا تھا۔

ہم جانتے ہی نہیں تھے زندگی کی کہانی کا یہ باب ختم ہونے کو ہے۔ ہم احساس کی ان منزلوں سے کوسوں دور تھے کہ اس گھر کی چھت آنے والے برسوں میں ہماری عارضی قیام گاہ ہو گی اور ان مہربان چہروں کے درمیان ہمیشہ وقت کے فاصلے حائل ہوں گے۔ مگر وہ سمجھتے تھے جن کے گھونسلے سے ایک پرندہ پرواز کرنے کو تھا اور وہ اداس ہونے کے ساتھ ساتھ اس پہ نازاں بھی تھے۔

وقت کے پلوں سے بہت پانی بہہ چکا، زندگی کی ایک اور کینچلی اتر چکی!

گردش دوراں ہمیں ہماری ماں کی مسند پہ بٹھا چکی، جہاں محنت اور محبت سے بنا ہوا گھونسلا بھی ہے اور خون جگر دے کے پروان چڑھائے ہوئے پرندے بھی۔ گزرے ہوۓ لمحے اور ساعتیں ان پرندوں کو طاقت پرواز عطا کر چکیں۔ پہلا پرندہ کچھ سال ہوۓ، نئے آسمانوں میں روشن افق تلاش کر چکا، اجنبی دنیائیں وطن بن چکیں اور ہجرکے فاصلے حائل ہو چکے۔

اور اب وقت ہے ایک اور ضبط کے مرحلے سے گزرنے کا ! جیسے ہماری ماں نے صبر و شوق سے اپنا گھونسلا خالی کیا تھا اور ہر جانے والے کے دامن میں محبت کا تحفہ ڈالا تھا، ہم بھی اسی پل صراط پہ کھڑے ہیں۔

کچھ دن سے ہمارے گھر میں ایک نامانوس سی فضا ہے، کچھ بے چینی، کچھ اداسی اور کچھ خوف۔ ایک مکین نئی اور اجنبی مسافتوں کی تیاری میں ہے۔ بچپن کی ساتھی گڑیاں اور بھالو پیک ہو کے الماری کے اوپر والے خانے میں رکھے جا رہے ہیں۔ تصویروں کی چھانٹی ہو رہی ہے۔ ہوسٹل کے کمرے کی دیوار پہ ماما پاپا کی کونسی تصویر لگائی جائے گی؟ وہ والی جب پہلی سالگرہ پہ وہ ہماری گود میں ہمکتی تھی یا وہ جب ہماری انگلی پکڑ کے چلنا سیکھتی تھی۔

کتابیں، سکریپ بکس، میڈل، ٹرافیاں اور کارڈز خاموشی سے تکتے ہیں۔ ان کا برسوں سے محیط ساتھ چھوٹنے کو ہے، وہ لمحے ماضی ہونے کو ہیں، جب وہ اور ان کی ہمدم و ساتھی زندگی میں اکھٹے جیتے تھے۔

اسباب بندھ چکا، کپڑے، جوتے، بستر کی چادریں، کتابیں! ہاں، ایک گٹھڑی علیحدہ سے باندھی گئی ہے جس میں ماں باپ کی دعائیں، بے لوث محبت، بے تابی، آنسو، ہمت اور اعتماد کے تحفے تو ہیں ہی، وہ یادیں وہ لمحے بھی شامل ہیں جو آنے والے وقتوں میں ہمارا زاد راہ ہوں گے۔

وہ دن جب وہ ہماری گود میں آئی اور اپنی کالی گھور آنکھیں کھول کے ہمیں دیکھتے ہوئے مسکرائی اور ہم نے اسے پکارا، شہر بانو !

وہ بچپن، جب وہ ٹی وی پہ آتے میوزک پہ ڈانس کرتے نہ تھکتی، پھر پوز بنا بنا کے آئینے میں دیکھتی۔ میں ہسپتال سے آتی تو ہمک کے گود میں آتی، امی امی کہہ کے میرے پیچھے پیچھے چلتی۔

اور وہ دن جب صوفے سے چھلانگ لگانے پہ بازو توڑ بیٹھی، آپریشن تھیٹر میں میرے بغیر جانے پہ راضی نہ ہوئی اور پھر چشم فلک نے ماں کو بھی بیٹی کی طرح روتے دیکھا۔

اور وہ دن جب وہ پہلی دفعہ سکول گئی اور سکول کی محبت میں ایسی گرفتار ہوئی کہ بیمار ہونے پہ بھی سکول سے ناغہ کرنے پہ تیار نہ ہوتی۔

اور وہ دن جب بیکن ہاؤس پنڈی نے بچوں کے تقریری مقابلے میں پہلے آنے والے مہمان کو مہمان خصوصی بنا کے سٹیج پہ بٹھایا تو انعام بٹنے کے دوران وہ پھوٹ پھوٹ کے رو دی کہ میری نانی دوسرے بچوں کو کیوں انعام دے رہی ہیں، مجھے کیوں نہیں!

شہر بانو نے کتاب سے محبت اوائل عمری میں پال لی اور رفتہ رفتہ کتابیں زندگی بن گئیں اور پھر اس نے پہلی نظم لکھ کے تخلیق کا سفر شروع کیا۔ فکشن لکھتے لکھتے ڈرامیٹک سوسائٹی تک آن پہنچی اور وہ دن کیسے بھولوں، جب وہ سٹیج پہ لیڈی میکبتھ بنی ڈائیلاگ بولتی تھی اور صاحب مجھ سے پوچھتے تھے “شیری نے کیسے سیکھ لیا یہ سب “

جدائی کی اداسی تو ہے ہی مگر احساس تفاخر بھی ہے۔ ہم نے زمانے میں دو بیٹیوں کو سر اٹھا کے چلنے کا اعتماد بخشا ہے،علم کی طلب کی جوت جگائی ہے، حق اور انصاف کی خاطر آواز بلند کرنا سکھائی ہےاور یہ جہاں تیرا جہاں ہے کہہ کے ان کے پر کھول دیئے ہیں۔

لیکن یہ کوئی انہونی نہیں! ہمارا دل کہتا ہے کہ ہم نے تو قرض چکایا ہے ، اپنے ابا کا قرض! جو آزادی اور اعتماد انہوں نے اپنی بیٹیوں کو عطا کیا، ہم نے اسے اگلی نسل کو منتقل کیا ہے۔ یہ آگہی کا سفر ہے عورت کا مقام پہچاننے کی آگہی! اور اس راہ پہ چلنے کی ہمت دیوانے ہی کیا کرتے ہیں

ہمارا گھونسلا خالی ہونے کو ہے مگر دل نہیں!

خدا حافظ شہر بانو! اس کائنات کی وسعتیں تمہاری ہیں بیٹا اور ہم بھی تمہارے ہیں!

پابلو نیرودا کی چند سطریں سنتی جاؤ

پرندے ہجرتوں میں تھے

مگر ان گھاس کے تنکوں کو پھر بھی گھر سمجھتے تھے

جہاں پر سینت کے رکھے تھے بچوں کے کھلونے

آنے والے دن کے خواب

آنسوؤں میں بھیگتا چہرہ کسی کا

مرے پیچھے سمندر تھا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •