کیا اپوزیشن اتحاد بکھر رہا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


یوں تو یہ چلن ہے کہ جیسے ہی الیکشن ختم ہوا ایک یا ایک سے زائد جماعتیں مل جل کر دھاندلی کا شور مچانا شروع کردیتی ہیں۔ حسن اتفاق یہ ہے کہ ہمیشہ ہارنے والی جماعت کو دھاندلی نظر آتی ہے۔ 2018 ء کے الیکشنز کے فوراً بعد شکست خوردہ تمام جماعتوں کوحسب معمول اور حسب توفیق دھاندلی نظر آنا شروع ہوگئی۔ جبکہ دوسری طرف حکومت میں آنے والی جماعت کو ملکی تاریخ کے شفاف ترین انتخابات والا راگ الاپنا پڑا۔

اپنے حجم اور لیڈران کے قد کاٹھ کے سبب اپوزیشن اتحاد خاصا وزنی نظر آتا ہے۔ تاہم اس اتحاد میں اتفاق کی کمی سب سے زیادہ ہے۔ ابھی تک یہ اتحاد اپنا لائحہ عمل طے نہیں کرپایا۔ ایک سے زیادہ مواقع پر یہ اتحاد نا اتفاقی کا مظاہرہ کر چکا ہے۔ صدارتی الیکشن کے وقت مولانا فضل الرحمان کی بھرپور کوششوں کے باوجود اتحاد کے دو بڑے، ن لیگ اور پیپلزپارٹی ایک صدارتی امیدوار پر اتفاق نہیں کر پائے۔

دوسری جانب حکومت (یہاں حکومت سے مراد تمام با اختیار قوتیں ہیں) نے بھی کچھ نرمی دکھائی۔ تاہم مبینہ طور پر احتساب کے تیز عمل، پکڑ دھکڑ اور پابندیوں نے ایک مرتبہ پھر اپوزیشن کو مجبور کیا کہ مل جل کر اس آفت کا مقابلہ کیا جائے۔

گزشتہ تین ماہ کے دوران جس شدت کے ساتھ مشہور و معروف احتساب نے رفتار پکڑی اتنی تیزی کے ساتھ ایک مرتبہ پھر اپوزیشن قریب آگئی۔ 25 جولائی کو ہمہ وقت یوم سیاہ اور یوم تشکر منایا گیا۔ اتفاق میں برکت غالب رہی اور عددی برتری کے اعتبار سے اپوزیشن کے جلسے اور ریلیاں متاثر کن تھیں۔

شاید اسی تاثر کو مزید مضبوط کرنے کے لیے صادق سنجرانی کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اپوزیشن کے پاس موجود ممبران کی تعداد مطلوبہ ووٹس سے زیادہ تھی۔ حکومت کے اراکین خاصے کم تھے۔ لیکن اپوزیشن اتحاد کو شکست ہوئی۔ بلکہ یوں کہیے کہ خاصی ذلت آمیز شکست ہوئی۔

اس شکست کی وجوہات، کس کا کتنا اثر و رسوخ استعمال ہوا، چھڑی اور گاجر میں سے کون سا ٹوٹکا سود مند رہا، کیا تحریک عدم اعتماد پیش کی جانی چاہیے تھی؟ کس جماعت نے دھوکہ دیا ان سب معاملات پر سینکڑوں صفحے سیاہ ہوچکے ہیں۔ شاید کبھی بزنجو صاحب کہہ دیں کہ یہ سارا میلہ میرا کمبل چرانے کے لیے رچایا گیا۔ لیکن بزنجو صاحب کے پاس کمبل تھا ہی نہیں تو چوری کا سوال کیسا۔

اس تحریک عدم اعتماد کا فوری نتیجہ یہ نکلا کہ الزامات، شکوک و شبہات اور دبی دبی سرگوشیوں نے ایک مرتبہ پھر اپوزیشن کو ایک دوسرے سے متنفر کردیا ہے۔ طرفین کی جانب سے ہلکی گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے۔ خواجہ آصف نے شہری آبادی پر بھی شیلنگ کی جس کا منہ توڑ جواب دیا گیا اور ن لیگ کی توپیں خاموش ہوگئیں۔

اب یہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہی باہمی عدم اعتماد کی فضا جو تحریک عدم اعتماد کے باعث پیدا ہوئی شاید اپوزیشن کو کمزور کردے گی۔ لیکن ایسا ممکن نہیں ہے۔ اپوزیشن اتحاد کی موجودہ قربت اور رہبر کمیٹی وغیرہ کا قیام ”احتساب“ (یہاں احتساب سے مراد مجموعی حکومتی فعل ہیں) کے نتیجے میں پیش آیا۔ احتساب کا یہ سلسلہ رکتا نظر نہیں آرہا۔ اس لیے اپوزیشن چاہ کر بھی دور نہیں رہ سکتی۔ کیونکہ یہ کسی کی خواہش ہو سکتی ہے کہ یہ چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں بٹ جائیں اور انہیں چن چن کر مارا جائے۔

یہاں ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس مرتبہ کسی قسم کی ڈیل کا امکان موجود ہے۔ کون سا فریق زیادہ آسانی سے ڈیل حاصل کرسکتا ہے۔ اس سوال سے قطع نظر کہ ایسی ڈیل کا اختیار کس کے پاس ہے۔ دونوں بڑے برج ڈیل کے معاملے میں ہلکا کردار رکھتے ہیں۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں مشرف سے ڈیل حاصل کرچکی ہیں۔ میاں صاحبان نے ڈیل کے ذریعے راہ فرار ہموار کی۔ بینظیر بھٹو نے ملک واپسی کا حل ڈیل سے ڈھونڈا۔

اب اگر اپوزیشن نے اتفاق کا مظاہرہ کیا تو ڈیل خارج از امکان اور ”احتساب“ مشکوک اور کمزور ہوگا۔ اگر ناتفاقی اور الزام تراشی جاری رہی تو کسی ایک کو ڈیل مل سکتی ہے۔ یا ملنے کا امکان دوریاں بڑھا سکتا ہے۔ کچھ عرصہ سے ڈیل والا آپشن ختم کرکے پیکج سسٹم متعارف کروایا گیا ہے۔ بالکل موبائل پیکج جیسا کہ اتنی رقم کے بدلے اتنے جی بی، اتنے منٹس اور اتنے میسج میسر آئیں گے۔ یعنی بالکل معافی کی بجائے محدود مدت کے لیے چند مخصوص آسائشوں کی فراہمی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •