زنانہ کمزوری: مایوسی گناہ ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب نرس نے باہر آکر بتایا مبارک ہوآپ کے لڑکی پیدا ہوئی ہے تو نرس کو باہر نکلتے دیکھ کر جو گھر والوں کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی تھی بجھ سی گئی۔ کوئی مانے یا نا مانے کہ لڑکی کی پیدائش پہ وہ خوشی نہیں ہوتی جوایک لڑکے کی پیدائش پہ ہوتی ہے۔ اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ لڑکی کی پیدائش صرف ماں کے لئے خوشی کاباعث ہوتی ہے جبکہ لڑکے کی پیدائش پہ پوراخاندان خوشیاں مناتا ہے۔ کیا خوب تضاد ہے معاشرے کا جس طرف دیکھو، مرد کو برا بھلا کہاجاتاہے وہی مرد جس کی پیدائش میں خوشیاں منائی جاتی ہیں اسے بڑے ہونے پہ بھیڑیا گردانا جانے لگتا ہے۔

کئی مضامین پڑھے جو مردانہ کمزوریوں پہ لکھے گئے تھے ان سے تقریباً متفق ہوں۔ لیکن کہتے ہیں نا تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔

جس طرح معاشرے میں مرد آزادانہ گھومتا ہے اس طرح عورت نہیں گھوم بھر سکتی جس کی بنیادی وجہ اس کی جسامت ہے۔ اب اگر یہ کہیں کہ پردے میں نکلناچاہیے خواتین کو تو یہ ایک غلط فہمی ہے جنہیں راہ چلتے عورتوں کو ہاتھ مارنے کی عادت ہوتی ہے ان کے لئے باپردہ خواتین آسان شکار ہوتی ہیں۔ بے چاری لحاظ میں چپ رہ جاتی ہیں۔

آج اپنے کمزور قلم سے سوچا کہ مردانہ کمزوری پہ تو بہت لکھاگیا چلو ذرا زنانہ کمزوری پہ لکھا جائے۔

جنسی اعضا کے علاوہ جسم کا ہر آرگن ایک جیسا ہی ہے یعنی دل اور دماغ اب ایسا کیسے ممکن ہے کہ عورت کا دل ودماغ اور مرد کا دل ودماغ الگ الگ کام کرے۔

بچی جب آہستہ آہستہ بڑی ہوتی ہے تو ہارمونز کی تبدیلی اس کا دماغ محسوس کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ میں پیدا ہونے والی خوش گوار تبدیلی کے ساتھ ساتھ اپنی شخصیت سنوارتی ہے۔ اسے چست کپڑے پہننا اچھا لگنے لگتاہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مخالف جنس میں دلچسپی پیدا ہوتی ہے۔ وہ چاہتی ہے اسے دیکھاجائے اس کی تعریف کی جائے۔ وہ اپنے اندر آنے والی تبدیلی دوسروں سے سننا چاہتی ہے یہ سب اس کی تسکین کاباعث ہوتا ہے۔ یہ فطرت خداکی دین ہے۔

اب اس دور سے نکلنے کے بعدعورت جب مکمل ہوتی ہے تو اپنے حصے میں آنے والے مردانہ رشتوں پہ حکمرانی کرتی ہے۔

سب سے پہلے اس کے نشانے پہ اپنی ہی ماں ہوتی ہے۔ وہ اپنے باپ پہ صرف اپنا حق جتانا قبول کرتی ہے اس سے یہ برداشت نہیں ہوتا کہ باپ اس کی ماں پہ توجہ دے یا اس کا خیال رکھے۔ باپ بیٹی کے اس رویہ کو محبت کا نام ہی دیتا ہے لیکن یہ عورت ذات کے اندر دوسری عورت کو نہ برداشت کرنے کی ہلکی سی اٹھان ہوتی ہے۔ اپنی بہنوں سے لڑائی جھگڑا بھی ایک فطری سی بات سمجھی جاتی ہے لیکن غور کیا جائے تویہاں بھی دوسری عورت کوبرداشت نہ کرنے کا عنصر آتا ہے۔ اب چونکہ رشتے اتنے قریب کے ہیں لہذا منفی سوچ ذہن میں نہیں آتی۔

اب تک دو زنانہ کمزوریاں جن کا ذکرکیا لیکن یہ اتنی غیرمحسوس ہیں کہ ہم انہیں اہمیت نہیں دیتے ایک توخود نمائی اور دوسری اپنی ہی ذات سے حسد۔۔

حسد جو بچپن سے ہی نمو پا رہا ہوتا ہے شادی کے بعد اپنے سسرال میں کھل کر پنپتا ہے۔ ماں کی جگہ ساس لے لیتی ہے۔ ساس بیٹی کی جگہ بہو کو برداشت نہیں کرتی۔ یوں ہمارے معاشرے کا ایک اور فساد شروع ہوتا ہے جو گھر کے سکون کو تباہ کر دیتا ہے۔ مرد گھر سے نکلتے وقت جس تشنہ ماحول کو چھوڑ کر نکلتا ہے باہر سکون ڈھونڈتا ہے، گھر لوٹ کر چہروں پہ تلخیاں شکائتیں سننے کے بعد اگلی صبح وہ پھر گھر سے باہر ہی سکون ڈھونڈتا ہے۔ اسے باہر وہ خواتین اپنی طرف باآسانی کھینچ لیتی ہیں جن کے اندر خود نمائی نے جڑیں گاڑ رکھی ہوتی ہیں۔ وہ ایسے مردوں کوہدف بناتی ہیں، وقتی تعریفیں ان کی روح کی غذا ہوتی ہیں۔ انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ جس مرد سے وہ اپنی ضرورت پوری کررہی ہیں اس کا بیک گراونڈ کیا ہے۔ ایسے مرد اپنا وقت اچھا گزارنے کے چکر میں اپنی کمزوریاں عورتوں کے ہاتھ سونپ دیتے ہیں۔

معاشرتی برائیاں صرف مرد کو برا کہہ دینے سے ختم نہیں ہوں گی۔ انہیں ختم کرنے کے لئے ایک عورت کو دوسری عورت کا درد محسوس کرنا ہو گا۔ مرد تو وہ سکون ڈھونڈے گا جو اسے گھر میں نہیں مل رہا اسی طرح عورت بھی ہروہ کمی پورے کرنے کی کوشش کرتی ہے جواسے حاصل نہیں۔

معاشرے میں اگر زنانہ کمزوریوں کا سدباب کر دیا جائے تو شاید مردانہ کمزوریاں خودبخود ختم ہو جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •