انسانی حقوق کا فراڈ اور سائیں بابا


\"ajmalبابا بلھے شاہ سے ملاقات کے بعد سائیں بابا سے الحمرا آرٹ کونسل میں ملاقات ہوئی۔ الحمرا ہال نمبر ایک میں ہیومن رائیٹس والوں کا کوئی جلسہ وغیرہ ہو رہا تھا۔ میں نے کہا بابا چلیئے کچھ ہیومن رائیٹس والوں کی باتیں انجوائے کرتے ہیں۔ بابا کہنے لگے یار دفع کرو ان فراڈیوں کو۔۔۔ یہ سب منافق لوگ ہیں۔ میں نے کہا بابا آپ یہ کیسی باتیں کررہے ہیں۔ یہی تو انسان ہیں جو انسانی حقوق کے لئے آواز بلند کرتے ہیں اور آپ ان عظیم انسانوں کو گالیوں سے نواز رہے ہیں۔ بابا مسکرائے اور کہنے لگے آرٹ کونسل کی کنٹین چلتے ہیں اور آج انسانی حقوق پر بحث و مباحثہ کرتے ہیں۔ میں اور بابا آرٹ کونسل کی کنٹین کے باہر پڑی کرسیوں پر براجمان ہو گئے۔ بابا نے کولڈ ڈرنکس کا آرڈر دیا اور پھر کہنے لگے میاں، یہ انسانی حقوق کا واویلا کرنے والے ہمیشہ یہ کہتے رہتے ہیں کہ تمام انسان برابر ہیں۔ اس قسم کی باتیں کرکے یہ صرف انسانوں کی انا کو مطمئن کرتے ہیں، اس کے علاوہ یہ کچھ نہیں کرتے۔ سب سے بڑا جھوٹ ہی یہ ہے کہ تمام انسان برابر ہیں۔ اور یہ خطرناک جھوٹ بھی ہے۔

اس دنیا میں دو انسان بھی ایسے نہیں ہو سکتے جو برابر ہوں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان ہی منفرد فرد ہے۔ کسی ایک انسان کا دوسرے انسان کے ساتھ مقابلہ کرنا یا انہیں برابری کا درجہ دینا احمقانہ بات ہے۔ برابر تو مسجد، مندر یا گرجا گھر کے مینار ہوتے ہیں، یہ انسان کس طرح برابری کے درجے پر آ سکتے ہیں۔ مینار خوبصورت ہو سکتے ہیں، لیکن مینار مینار ہیں اور انسان انسان ہیں۔ ہر انسان دوسرے انسان سے منفرد ہے اور ہر انسان کی انفرادیت دوسرے انسان کی انفرادیت سے مختلف اور دلچسپ ہوتی ہے۔ میں نے بابا سے پوچھا پھر ہیومن رائیٹس کا کیا مقصد ہے؟ بابا نے کہا، انسانی حقوق کا بنیادی مطلب تو یہی سامنے آتا ہے کہ انسان اور انسانیت ابھی تک غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔ اگر انسان غلامانہ زندگی نہیں گزار رہا تو پھر اسے انسانی حقوق کی کیا ضرورت ہے؟ ہیومن رائیٹس ڈکلریشن کا کیا مقصد ہے؟ اس کا مقصد ہے انسان انسانیت سے اونچی پرواز نہ کرسکے۔ میاں، یہ بتاؤ، انسان کیا اپنی مرضی سے زندگی انجوائے کرنے کا حق رکھتا ہے۔ ہر انسان کی عزت اس کا بنیادی حق ہے، کیا یہ حق اسے نصیب ہورہا ہے؟ کیا اس معاشرے میں صحت کے حقوق انسان کو مل رہے ہیں؟ کیا انسان کو اپنی مرضی اور منشا کے مطابق نشوونما پانے کا حق ہے۔ کیا انسان کو خوش رہنے کا حق مل رہا ہے؟

یہ معاشرہ، یہ ہیومن رائیٹس کے ٹھیکیدار برابری کی نام نہاد باتیں تو کرتے ہیں لیکن انسان کو ایسی زمین مہیا کیوں نہیں، جہاں وہ کھل کر مرضی سے زندگی کو انجوائے کرسکے۔ یہ کیا معاشرہ اور کیا انسانیت ہے جہاں انسان کو محبت سے بھرپور ماحول ہی نہیں مل رہا۔ یہ معاشرہ تو انسان کو زہر سے بھرپور ماحول فراہم کرتا ہے۔ ہر طرف نفرت، تشدد، تعصب اور جنگ و جدل ہے اور یہ انسانی حقوق کے ٹھیکیدار جمہوریت جمہوریت کی آوازیں بلند کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کر رہے۔ زندگی کے حق کا مطلب ہے ایسا ماحول انسان کو فراہم کیا جائے جہاں جنگ و جدل نہ ہو۔ کوئی کسی کو مجبور نہ کرے۔ ہر انسان جو کرنا چاہے وہ کرسکے۔ کیا ایسا ہے؟انسانی حقوق کسی چیز کا نام نہیں ہے۔ انسان کا کائناتی ارتقاء اس کا بنیادی حق ہے۔ لیکن مذہب، سیاست، سوشلزم، سیکولرزم اور فاشزم وغیرہ کے نام پر انسان کو انسانی حقوق کے نام پر قربان کیا جارہا ہے۔ انسان ان تمام نطریات اور وجوہات سے بلند ہے۔ جانور قتل ہو رہے ہیں، انسان قتل ہورہے ہیں، پرندے قتل ہورہے ہیں اور پھر انسانی حقوق کے گیم باز انسان اور انسانیت کو بے وقوف بھی بنا رہے ہیں۔ زندگی کا کوئی نعم البدل نہیں، چاہے وہ انسان کی ہو یا کسی اور مخلوق کی۔ یہ سب سیاسی چالبازیاں ہیں۔ انسان اب بھی جسمانی اور نفسیاتی طور پر غلام ہے۔ زندگی کا حق ایک پیچیدہ ایشو ہے۔ یہاں اس دنیا میں لاکھوں انسان مذاہب، ںظریات اور خدا کے نام پر قتل کئے جاچکے اور نہ جانے کتنے قتل ہوں گے۔ انسان اس دنیا میں بے عزت ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ صرف ایک ہتھیار بن کر رہ گیا ہے جس کا مقصد صرف تباہی پھیلانا ہے۔ بابا نے کہا بیٹا، محبت انسان کا بنیادی حق ہے۔ کیا اس حق کو آج تک تسلیم کیا گیا ہے ؟کیا کبھی کسی ہیومن رائیٹس والے نے آج تک انسان کے اس حق کے بارے میں بات کی؟کیا یہاں مرد اور عورت اپنے پارٹنرز کا انتخاب کرنے میں آزاد ہیں۔ کیا وہ اپنی مرضی سے علیحدہ ہونے کا حق رکھتے ہیں ؟کیا انسان ایسا کوئی عمل اس معاشرے میں کرسکتا ہے جو وہ محسوس کرتا ہے۔ حکومت اور مولویانہ نظام انسان کے ذاتی معاملات میں مداخلت کیوں کرے، کیا حق ہے ان دونوں کو ؟اگر دو انسان اکھٹے رہنا چاہتے ہیں یا ایک دوسرے سے علیحدہ ہونا چاہتے ہیں، وہ کیوں کسی سے اجازت لیتے پھریں؟ان کی مرضی جب چاہیں اکھٹے رہیں جب چاہیں ایک دوسرے کو آزاد کردیں۔ یہ ان کا دل ہے، یہ ان کا جسم ہے۔ مرد اور عورت کو اکھٹے رہنے یا علیحدہ ہونے کے لئے کسی رسم و رواج کی ضروت نہیں۔ محبت ہی وہ راستہ ہے جس کی بنیاد پر انہیں فیصلہ کرنے کی آزادی ہے۔

جس معاشرے میں تم انسان رہ رہے ہو یہاں تو سچائی کی تلاش کا حق بھی تمہارے پاس نہیں ہے۔ سچ کی تلاش کے لئے بھی شرائط عائد کی جاتی ہیں۔ انسان کی پیدائش سے ہی یہ پابندیاں عائد کردی جاتی ہیں کہ اس نے یہ مذہب اختیار کرنا ہے، یہ فلاسفی ساتھ لے کر چلنی ہے۔ ہم عیسائی، ہندو، مسلم بننے پر مجبور ہیں۔ انکوائری کا حق انسان کے پاس نہیں، شک کرنے کا بنیادی حق انسان کے پاس نہیں۔ جس نے شک کیا وہ مارا گیا، یہ ہیں ہیومن رائیٹس؟ میں نے پوچھا، بابا ہم انسان کس حد تک آزاد ہیں ؟بابا نے کہا بھائی جی آپ انسان لوگ اتنے بھی آزاد نہیں جتنے جانور اور پرندے آزاد ہیں۔ کیا کبھی کسی پرندے کو پاسپورٹ آفس جانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ وہ جب چاہتا ہے اڑتا ہوا بھارت چلا جاتا ہے۔ اسے کسی سرحد، کسی ویزے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ کسی قسم کی سرحدوں کا محتاج نہیں۔ لیکن کیا تم اگر چاہو کہ کل بھارت یا امریکہ جانا چاہتے ہو تو کیا جا سکتے ہو؟ تمام زمین انسان کے لئے قید خانہ بنا دی گئی ہے۔ آزادی کا مطلب ہے انسان جہاں بھی پیدا ہو وہ اب انسانیت کا حصہ ہے اس لئے جہاں چاہے وہ جاسکتا ہے اور زندگی انجوائے کرسکتا ہے، لیکن کیا ایسا ہو رہا ہے؟ اور کیا یہ انسانی حقوق کے بونے بالشتیے اس پر آواز اٹھاتے ہیں؟ حقیقت یہی ہے کہ انسان پابندیوں کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ ہر انسان کی اپنی منفرد انفرادیت ہے۔ انسانی حقوق جیسے خوبصورت لفظوں کو دھوکہ دہی کے انداز میں استعمال کیا جارہا ہے۔ انسان اگر صرف برابر ہیں تو اس کا مطلب ہے وہ ہجوم ہیں، وہ مجمع ہیں، وہ افراد نہیں۔ جب تمام انسان برابر ہوں تو پھر انفرادیت کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے؟ بابا نے کہا بیٹا جی، تم انسان لوگ ایسے معاشرے میں زندہ ہو یا زندہ لاش ہو جہاں منافقت ہے۔ یہ سب طاقتور انسان تم انسانوں کے ارتقاء میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔ یہ طاقتور حلقے تم انسانوں کو برابر دیکھنا چاہتے ہیں، ہجوم دیکھنا چاہتے ہیں، یہ تم انسانوں کو افراد دیکھنا نہیں چاہتے اس لئے ہیومن رائیٹس کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے۔

نام نہاد ہیومن رئیٹس کچھ نہیں سوائے منافقت کے۔ یہ انسانوں کو دھوکہ دینے کا سکرپٹ ہے۔ کیسی یہ دنیا ہے جہاں کوئی اپنی مرضی سے مذہب تبدیل نہیں کرسکتا، عقیدہ تبدیل نہیں کرسکتا۔ اپنی انفرادی سچائی کی تلاش نہیں کرسکتا۔ مرضی سے انفرادی سوچ سوچنے کا حق نہیں اس انسان کے پاس۔ بابا کی کڑوی کسیلی باتیں جاری تھی۔ رات کا اندھیرا گہرا ہو رہا تھا۔ کنٹین والا کنٹین بند کرنا شروع ہو گیا تھا۔ ہجوم افراد میں بدل چکا تھا۔ تمام کرسیاں خالی ہو چکی تھی۔ میں اور بابا صرف دو انسان اپنی اپنی کرسیوں پر براجمان تھے۔ اسی کیفیت کو دیکھتے ہوئے میں نے کہا بابا اب ہمیں بھی اٹھ جانا چاہیئے۔ بابا اور میں دونوں وہاں سے الحمرا ہال نمبر ایک کے راستے سے جانے لگے تو وہاں بھی خاموشی تھی۔ ہیومن رائیٹس والوں کا ڈرامہ بند ہو چکا تھا۔ ہال نمبر ایک کے سامنے آتے ہی میں نے بابا کی طرف دیکھا تو وہ بھی غائب ہو گئے تھے۔

Facebook Comments HS