بھارت کی جارحیت اور کشمیر!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1974 ء میں جب لاہور کے مقام پر اسلامی ممالک کی سربراہ کانفرنس ہوئی تھی تب امریکہ ’بھارت اور سوویت یونیں میں شدید بے چینی پائی جا رہی تھی کہ اگر خطے میں اسلامی بلاک وجود میں آگیا تو وسائل کے معاملے میں پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک سے امریکہ اور مغرب کا انحصار ختم ہو جائے گا یہی وجہ تھی اس کانفرنس کے چار ماہ بعد ہی بھارت نے جوہری دھماکہ کر کے اسلامی ممالک کو یہ پیغام دیا تھا کہ جس پاکستان پر اسلامی ممالک انحصار کرنے جا رہے ہیں اس کا ہمسایہ ملک بھارت ایٹمی طاقت ہے۔

لیکن 1974 ء کی صورتحال کے بر عکس آج کا پاکستان نہ صرف عالم اسلام کی نمائندگی کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے بلکہ ایٹمی قوت بھی ہے اگر موجودہ حالات میں عالم اسلام اور پاکستان کی اہمیت کو دیکھا جائے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت ملک عزیز بجا طور پر عالم اسلام کی نمائندگی کا منصب سنبھال چکا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی بہترین خارجہ پالیسی کے باعث عالم اسلام سمیت پورے جنوبی ایشیاء میں ایک ایسا ماحول تشکیل پا چکا ہے جس کے تناظر میں یہ پیشین گوئیاں کی جا رہی ہیں کہ شاید جنوبی ایشیاء میں ایک نیا بلاک بننے جا رہا ہے۔

جب سے پاکستان ایٹمی قوت بنا ہے پاکستان دشمن ممالک سمیت بھارت کے خطے میں چوہدراہٹ کے خواب کو شدید دھچکا لگا ہے پاکستان دشمن ممالک درپردہ بھارت کی پشت پر کھڑے ہو کر پاکستان کے امن کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ اب بھارت مسلسل پاکستان پر دراندازی کے الزامات لگا کر بدنام کرنے کی مذموم سازشوں میں مصروف عمل ہے۔ جبکہ پاکستان کی بہترین سفارت کاری کے باعث بھارت عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے اس وقت بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث جو تشویشناک صورتحال جنم لے چکی ہے اس صورتحال کے پیش نظر ایک بار پھر پاک ’بھارت کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

دشمن ملک بھارت نے ہمیشہ پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کے لئے دہشتگردی کا سہارا لیا جبکہ پاکستان نے ہمیشہ دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں امن کو برقرار رکھنے کے لئے بھارت کو معاملات سلجھانے کے لئے مذاکرات کی دعوت دی جسے بھارت نے ہمیشہ اسے پاکستان کی کمزوری سمجھا۔ پاکستان کے ساتھ بھارت اگر اپنی ہٹ دھرمی کے باعث جنگ کا آغاز کرتا ہے تو بھارت کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان کے پاس اسلامی ممالک سمیت خطے میں چین جیسے طاقتور اتحادی موجود ہیں اگر بھارت پاکستان پر جنگ مسلط کرتا ہے تو ہو سکتا ہے یہ جنگ محدود سے لا محدود ہو جائے جو خطے میں بڑی تباہی کا باعث بنے گی۔

پاکستان کی جانب سے مشترکہ دہشت گردی ’پلوامہ شواہد اور دیگر معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی پیشکش کی جا چکی ہے لیکن اس کے باوجود مودی یہ سمجھتا ہے کہ یہ پاکستان کی کمزوری ہے تو پاکستان ایک بار پھر وقت اور جگہ کا تعین کر کے یہ ثابت ضرور کرے گا کہ پاکستان کی امن کی خواہش ہر گز کمزوری نہیں ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ جنرل آصف غفور نے اپنے حالیہ ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر لائن آف کنٹرول کے پار کارروائی اور لاشیں قبضے میں لینے کے الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں بھارت اس قسم کے ڈرامے کر کے دنیا کی توجہ بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے کیے جانیوالے مظالم میں اضافے سے ہٹانا چاہتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارت نے پاکستان پر لائن آف کنٹرول کے پار بارڈر ایکشن ٹیم کے استعمال کا الزام لگایا اس سے پہلے 2017 ء میں بھارت یہ بے بنیاد دعویٰ کر چکا ہے کہ پاکستان کی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو کر کشمیر میں گشت کرنیوالی بھارتی فوج کی پارٹی پر حملہ کر کے دو فوجیوں کو ہلاک اور ان کی لاشیں مسخ کر دی ہیں جس پر پاکستان کی جانب سے بھارت کے اس دعویٰ کو جھوٹ پر مبنی قرار دیا گیا۔ بھارت جھوٹ اور مکروفریب کے ساتھ دنیا سے اپنا دہشتگردانہ مکروہ چہرہ چھپانے کی ناکام کو شش کر رہا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے کہ بھارتی فوج نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں شہریوں پر گولہ باری کرتے ہوئے کلسٹر بموں کا استعمال کیا جو عالمی انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی ہے جنیوا معاہدے کے مطابق جنگ میں زخمیوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ کوئی بھی رکن ملک کسی دوسرے ملک کے ساتھ لڑائی کے دوران سفاکانہ طریقے استعمال نہیں کر سکتا لیکن اس کے باوجود بھارت انسانی حقوق کے قوانین کو اپنی انا ’ضد اور تکبر کے زور پر روندھتا چلا جا رہا ہے بھارت کا یہ دہشتگردانہ رویہ جہاں انسانی حقوق کے آئین کی عملداری کو چیلنج کر رہا ہے وہیں ذمہ داروں کی غفلت و لا پرواہی کا بھی تعین کر رہا ہے۔

وزیراعظم عمران کان کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف سمیت مسلح افواج کے تینوں سربراہوں نے اس اجلاس میں شرکت کی اجلاس میں بھارتی فوج کی جانب سے ایل او سی پر جارحیت ’کلسٹر بموں کے استعمال اور کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے علاؤہ قومی سلامتی امور پر مشاورت کی گئی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر یوسف احمد سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے کشمیر میں بڑھتی ہوئی بھارتی جارحیت اور امن وامان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جس پر او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے وزیر خارجہ کو صورتحال کا نوٹس لینے اور ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

کشمیر کی چوتھی نسل تحریک آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے اور بھارت ظلم و بربریت کے ذریعے بے گناہ کشمیری مسلمانوں کی شہہ رگ سے لہو نچوڑ کر ان کی نسل کشی پر تلا ہوا ہے بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے جو اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے یقینا اس اقدام سے بھارت نے خطے کے امن اور سلامتی کو داؤ پر لگا دیا وزیراعظم عمران خان نے دنیا سے رابطے کرنا شروع کر دیے ہیں تاکہ کشمیر میں بدلتی صورتحال کے تناظر میں اسلامی ممالک اور عالمی دنیا کے سامنے بھارت کا بھیانک چہرہ بے نقاب ہو سکے۔

کشمیر کی بدلتی صورتحال نے ایک بار پھر کشمیر کی تحریک کو بام عروج پر پہنچا دیا ہے۔ پاک بھارت کشیدگی سے پوری دنیا واقف ہے کہ ان دونوں ممالک کا امن مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ بندھا ہوا ہے بھارت میں جمہوریت بغل میں چھری منہ میں رام رام کے مصداق ہے۔ بھارتی پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق کشمیر کی تحریک آزادی میں جو نوجوان شامل ہو رہے ہیں وہ 2018 ء میں اکتیس فیصد سے بڑھ کر چھیاسٹھ فیصد تک جا پہنچا ہے اس صورتحال کے تناظر میں عالمی میڈیا نے بھی زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے تبصرے میں سوال اٹھادیا کہ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔

بھارت کشمیر میں جو ظلم و بربریت کی سفاکانہ تاریخ رقم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور جس طرح کشمیری مسلمانوں کی تحریک آزادی کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے اس سے اس کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے بری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کا میڈیا اور دانشور طبقہ کشمیر کی اصل صورتحال دنیا کے سامنے لانے میں اپنا کردار ادا کرے اور حکومت کو بھی چاہیے کہ تحریک آزادی کے حق میں رائے عامہ ہموار کرے تاکہ بھارت اقوام متحدہ میں کیے گئے وعدوں کی پاسداری کرنے پر مجبور ہو جائے اور سب سے زیادہ ضرورت ہے کہ اقوام متحدہ جیسے انسانی حقوق کے ادارے کشمیر میں ہونیوالی انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لیتے ہوئے غیر جانبدار تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے تاکہ جمہوری تقاضوں کے مطابق کشمیری مسلمانوں کو استصواب رائے کا حق دیا جائے اور کشمیری مسلمان آزاد اور خود مختار حیثیت میں اپنے مستقبل کافیصلہ کر سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •