1947 ء کی جنگ کشمیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارت اپنی خباثت کا مظاہرہ کرتے ہوئے لداخ، جموں اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے اسے اپنی اکائی بنا چکا ہے، 15 اگست تک اور خطرناک خبریں بھی سامنے آ سکتی ہیں، خدشہ یہ ہے کہ دوسرے مرحلے میں کشمیر سے کشمیریوں کو بے وطن کر دیا جائے گا، کشمیر کی جنگجو، دلیر بچیوں کے اغوا اور انہیں غائب کرنے کا عمل شروع ہوگا، بچوں، بوڑھوں اور جوانوں کا قتل عام ہوگا، جو بچ جائیں گے انہیں دیس نکالا دے دیا جائے گا، مجھے اس ساری صورتحال میں شہباز شریف کی یہ بات انتہائی معنی خیز لگی کہ امریکی صدر کی جانب سے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش ”ٹرمپ کارڈ“ اور ایک ٹریپ تھا، میں بھی یہی سمجھتا ہوں کہ امریکہ بالآخر کار اس عیارانہ اقدام کو بھارت کا اندرونی مسئلہ قرار دے دیگا، چین جو پوزیشن بھی لے وہ بھی اب فوری طور پر بھارت کے اس شرمناک ایکٹ کو واپس نہیں کرا سکے گا، عملی طور پرآج تک صرف ایک طاقت کشمیریوں کا دامے، درمے، سخنے ساتھ دیتی رہی اور اس عظیم طاقت کا نام ہے پاکستان۔

اسلام آباد اپنے موقف پر قائم رہیگا، اپنے موقف پر ڈٹا رہے گا، چاہے اس مقصد عظیم کے لئے اسے کوئی بھی قربانی دینا پڑے۔ کشمیریوں کی آزادی اور خود مختاری پاکستان کا عالمی موٹو رہا ہے۔ اس ایشو پر چاہے جتنی مرضی گردنیں کٹ جائیں، پاکستان اپنے اصولی موقف سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ آج کا اہم ترین ایشو سوال یہ ہے کہ کیا 73 سال بعدآزادی کشمیر کے لئے ایک اور جنگ لڑی جائی گی؟ کیا پاکستان مظلوم و محکوم کشمیریوں کو بھارت کے رحم و کرم پر چھوڑ سکتا ہے؟

اس سوال کا جواب ہم ماضی کی تاریخ میں ڈھونڈتے ہیں۔ بھارت عملی طور پر پاکستان کے خلاف یک طرفہ ”اعلان جنگ“ کر چکا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں غیرآئینی جغرافیائی تبدیلی لانے سے تین دن پہلے لائن آف کنٹرول کے پار وادی نیلم کے شہری علاقوں میں کلسٹر بموں کی بارش کی گئی، ایک بچے سمیت کئی شہادتیں ہوئیں، بہت سارے لوگ اس وحشیانہ بھارتی حملے میں زخمی ہوئے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ اسی جنگ کشمیر کا تسلسل ہے جو بھارت 73 سال پہلے پاکستان کے ہاتھوں ہارا تھا، اگر اس وقت اقوام متحدہ جنگ بندی نہ کراتی تو، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی طرح آج لداخ، جموں اور مشرقی کشمیر بھی پاکستان کا حصہ ہوتے اورآج بھارت کو کشمیر کے پرچم کو کالعدم قرار دینے کی جرأت نہ ہوتی۔

٭٭٭٭٭ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت کشمیری عوام کو حاصل نیم خود مختاری سلب کرنے سے پہلے سری نگر میں کرفیو اور مقبوضہ وادی کے دوسرے شہروں میں دفعہ 144 نافذ کی گئی، کشمیریوں کی ساری قیادت تہاڑ جیل میں بند کردی گئی، جہاں انہیں موت کی کوٹھڑیوں میں رکھا گیا۔ بھارت نے تہتر سال سے رٹ لگائے رکھی کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے، اٹوٹ انگ کا مطلب ہوتا ہے جزو لازم۔ کیا دنیا کا کوئی ملک، دنیا کا کوئی شخص کبھی اپنے جزو لازم کو خود خنجروں، بندوقوں اور بموں سے برباد کرتا ہے؟

بھارت کے لئے کشمیر کی زمین تو ”جزو لازم“ ہو سکتی ہے مگر وہ اس وادی بے نظیر کے اصل وارثوں اور اصل باسیوں کو ہمیشہ زندگی سے محروم کرتا چلا آیا ہے، اور اب اس نے اپنے ”ظلم“ کا کلائمیکس کرنے کی کوشش کی ہے لیکن بھارت کو یاد رکھنا ہوگا کہ ظلم کا کلائمیکس ہمیشہ آزادی ہوتا ہے۔ تنازعہ کشمیر پر پہلی جنگ تقسیم ہند کے دو ماہ بعد ہی چھڑ گئی تھی، 22 اکتوبر 1947 ء کو شروع ہونے والی اس جنگ کا دورانیہ ایک سال دو ماہ دس دن تھا، پاکستان فوج اور اسلحہ کی کمی کے باوجود فتح مند رہا تھا، بھارت کے دس ہزار سے زیادہ فوجی مارے گئے تھے، یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کی فوج ابھی منظم بھی نہیں ہوئی تھی، پاکستانی فوجی لڑ بھی رہے تھے اور بارود بھی تیار کرتے تھے۔

٭٭٭٭٭ ہماری موجودہ حکومت صورتحال کا پوری طرح ادراک تو رکھتی ہے اور یہاں تک سوچ رہی ہے کہ بھارت اس وقت کوئی بھی پر خطرآپشن اختیار کر سکتا ہے، قومی میڈیا بھی حالات کی سنگینی سے واقف ہے۔ میں تو یہاں تک سوچ رہا ہوں کہ جب تک میری لکھی ہوئی سطور قارئین تک پہنچیں گی، کہیں بھارت کوئی اور غلطی نہ کر چکا ہو، بے شک قوم کو اپنی مسلح افواج کی کارکردگی اور جنگی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے۔ وہ کبھی کسی دشمن سے خوفزدہ نہیں ہو سکتے ’قوم چین کی نیند سو سکتی ہے۔

ایک ہفتے بعد ہمارا یوم آزادی بھی ہے، اس یوم آزادی پر دشمن کو یہ واضح پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ ساری قوم نے اپنی نظریں تم پر گاڑھ دی ہیں۔ ٭٭٭٭٭ اب تنازعہ کشمیر پر 1947 ء کی پہلی پاک بھارت جنگ سے جڑی ہوئی ایک کہانی کشمیر کے محاذ پر شدت سے لڑائی جاری تھی، پاکستان بنے ابھی دو مہینے ہی گزرے تھے، ہندوستان سے نقل مکانی کرکے آنے والے ابھی سنبھلے ہی نہیں تھے، سب کے زخم تازہ تھے، کوئی خاندان اپنے بچوں سے محروم ہو چکا تھا تو کسی خاندان کے بزرگ راستے میں قتل ہو گئے تھے، سینکڑوں ہزاروں بیٹیوں کی عصمتیں لوٹ کر انہیں قتل کر دیا گیا تھا۔

لاکھوں لوگ کیمپوں میں بے سروسامانی کی حالت میں پڑے ہوئے تھے، پاکستان سے واپس جانے والے ہندو کپڑے سینے والی سوئیاں تک اپنے ساتھ لے گئے تھے، ذہین بنیوں نے پارٹیشن کی صورتحال کو پہلے ہی بھانپ رکھا تھا، وہ اپنا سب کچھ سمیٹ چکے تھے، انہی مخدوش حالات کا شکار ہماری فلم انڈسٹری بھی بنی، پارٹیشن سے پہلے لاہور کلکتہ اور ممبئی کی طرح فلمسازی کا تیسرا بڑا مرکز بن چکا تھا، لیکن ساری سرمایہ کاری ہندوؤں نے کر رکھی تھی، یہ ہندو فلمساز کلپ بورڈز سے کیمروں تک سب کچھ ساتھ لے گئے تھے، نگار خانوں میں الو بولنے لگے تھے، جب کشمیر کے محاذ پر جنگ شروع ہوئی تو لاہور میں موجود کچھ سر پھرے محب وطن فنکاروں اور ہنر مندوں نے محاذ جنگ پر جا کر فلم بنانے کا سوچا، کہیں سے ٹوٹے پھوٹے سامان فلم بندی کا انتظام کیا گیا اور یہ لوگ گروپ بنا کر چکوٹھی پہنچ گئے، فن کاروں کے اس گروپ میں بڑے بڑے نام والے لوگ بھی شامل تھے جیسے ایم اسماعیل، فدا یزدانی، زرینہ (سلمیٰ آغا کی والدہ) شاکر مرحوم، علاؤالدین، نعیم ہاشمی، ایم اے رشید، اے زیڈ بیگ، پیارے خان، زینت بیگم اور حفیظ قندھاری۔

کشمیر میں اس فلمی یونٹ کی دیکھ بھال کی آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم سردار ابراہیم نے کی، انہوں نے مختصر دورانیہ کی اس فیچر فلم میں اداکاری کے جوہر بھی دکھائے تھے۔ کشمیر کے محاذ پر ایک سر بلند جہاد میں مصروف پاکستانی فوج کے افسروں نے بھی فنکاروں سے بھرپور تعاون کیا، ان پاکستانی جانبازوں نے وسائل کم ہونے کے باعث کامیابی سے گوریلا جنگ بھی لڑی تھی، اور یوں یہ یونٹ فلمبندی مکمل کرکے واپس لوٹا، اس فلم کا نام تھا ”انقلاب کشمیر“ احمد اللہ اجمیری نے اس کی عکاسی کی تھی، فلم کا باقی ماندہ تکنیکی کام پنچولی آرٹ اسٹوڈیو اور سنے لیبارٹری میں کیا گیا، 1947 ء میں بنائی گئی اس فلم میں کشمیری خواتین کو یہ نعرے بلند کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا تھا جوآج تک مقبوضہ وادی میں گونج رہے ہیں۔

معصوم بچوں کے خون کا حساب لینا ہوگا۔ بیٹیوں کی لٹی عصمتوں کا انتقام لینا ہوگا۔ ظلم اور ظالموں کو دفن کرنا ہوگا۔ کشمیر کوآزاد کرانا ہوگا۔ یہ وہ وقت تھا جب کشمیر پر قابض ڈوگرے سردار کشمیر کی بیٹیوں کو اغواکرکے یا زبردستی اٹھا کر اپنے سامراجی آقاؤں کو پیش کیا کرتے تھے تاکہ ان کی سرداریاں قائم رہیں، اقوام متحدہ کی جانب سے کرائی گئی جنگ بندی کا ایک فائدہ ضرور ہوا تھا کہ وادی کشمیر سے ڈوگرہ راج کا خاتمہ ہو گیا تھا، فلم ”انقلاب کشمیر“ تکمیل کے بعد لاہور کے رٹز سینما میں نمائش کے لئے پیش ہوئی۔ اس فلم کے پہلے شو کے بعد ہی حکومت وقت نے اس کے ڈبے اٹھوا لئے اور اس پر پابندی لگادی۔ کیوں؟ اس مصلحت کوشی کا میرے پاس کوئی جواب نہیں، اگر ایسا نہ ہوا ہوتا تو کشمیر میں بھارت کے 73 سالہ ظلم کے تسلسل کا ہمارے پاس ایک اور ڈاکو منٹڈ ثبوت موجود ہوتا۔
بشکریہ روزنامہ 92۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •