چالیس سفید ریشوں کی خلیفہ کے دربار میں شہادت!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسلمانوں کی اکثریت بالعموم چار خلفائے راشدین کے نام سے واقف ہے۔ تاہم مسلم اکابرین کی ایک بڑی تعداد بنو امیّہ خاندان کے آٹھویں خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کو بھی راشد خلیفہ کے طور پر دیکھتی ہے۔ آپ کی والدہ حضرت عمر بن خطابؓ کی پوتی تھیں۔ فاروقِ اعظمؓ اکثر فرماتے کہ میری اولاد میں سے ایک شخص ابھرے گا جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ بنی امیّہ کے بانوے سالہ دورِملوکیت میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کا دور، آمریت کی طویل صدی میں ڈھائی سالہ فقرو درویشی پر مبنی خلافت کا ایسا زمانہ سمجھا جاتا ہے کہ جس نے خلفائے راشدین کی یاد تازہ کر دی ہو۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز اپنی جوانی میں بنو امیہّ کے مقتدر شاہزادوں کی سی پر تکلف اور شاہانہ زندگی بسر کرتے تھے۔ زرق برق لباس اور سونے کے زیورات پہنتے۔ مدینہ میں آپ جب گورنر تعینات تھے تو خلیفہ وقت کے حکم کے مطابق آپ کی عملداری میں حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کے صاحبزادے کو کوڑے لگوانے کے بعد سخت سردی میں ٹھنڈے پانی کی مشک سر پر انڈیل دی گئی، جس کے نتیجے میں آپ انتقال کر گئے۔ دردناک واقعے نے عمر بن عبدالعزیز کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا۔ آپ نے گورنری سے استعفٰی دیا اور ساری عمر سخت رنج اور خوفِ خدا میں مبتلا رہ کر گزاری۔

سال 99 ہجری میں سلیمان بن عبدالملک کی وصیت پر مسلمانوں کے خلیفہ نامزد ہوئے۔ بیعتِ خلافت کے بعد گھر لوٹے تو آپ کی حالت غیر تھی۔ بیوی نے گھبراکر خیریت دریافت کی تو فرمایا، ’میری گردن میں امتِ محمدیؐ کا بوجھ ڈال دیا گیاہے۔ ڈرتا ہوں ننگے، بھوکے، بیماروں غلاموں، مسافروں، قیدیوں، یتیم بچوں، بوڑھوں اور کم حیثیت کے عیال داروں کی بابت قیامت کے روز مجھ سے پرسش ہوگی تو کیا جواب دوں گا!‘

خلیفہ بننے کے بعد آپ نے سب سے پہلے اپنی بیوی فاطمہ بنتِ عبدالملک کو اپنے تمام زیورات بیت المال میں واپس لوٹانے کا حکم دیا۔ کہا مجھے گوارا نہیں کہ تم اور تمھارے زیورات اور میں ایک گھر میں رہیں۔ حجاج بن یوسف کو ظالم جانتے تھے لہذا اس کے تمام عاملوں کو معزول کر دیا۔ بنی امیّہ کے دور میں روا، نو مسلموں سے جبری جزیہ وصول کیے جانے کی ظالمانہ رسم کو بیک جنبشِ قلم منسوخ کر دیا۔ آپ کے ایک عامل نے اس ظالمانہ آمدن کی تنسیخ میں پس وپیش سے کام لیتے ہوئے نو مسلموں کے قبولِ اسلام کو ختنہ سے جانچنے کا پیمانہ مقرر کیا تو آپ نے اس شخص کے ساتھ سختی کا معاملہ کیا۔ آپ نے شاہی امراء و روسا اور ان کے خاندانوں کی بود و باش کے لیے عوام سے نچوڑے جانے والے کئی ایک ٹیکس بھی معاف کرنے کا حکم جاری کیا۔ آپ نے افواج کے وظائف اور مالِ غنیمت کی مبنی بر انصاف تقسیم اور خمس کو پورے کا پورا بیت المال میں داخل کرنے کے نظام کو بحال کیا۔

اپنے دورِ اقتدار میں بنی امیّہ کے حکمرانوں نے تمام اچھی جاگیریں بزورِ شمشیر حقداروں سے ہتھیا کر اپنے عزیز و اقربا میں باہم رضا ورغبت بانٹ رکھیں تھیں۔ حکومت سنبھالتے ہی آپ نے ایسی تمام جائیدادیں حقداروں کو لوٹانے کا حکم دیا۔ رسول اللہؐ کی حیاتِ طیّبہ کے دور میں باغِ فدک آپؐ کے زیرِ تصرف تھا کہ جس کی آمدن سے آپؐ بنو ہاشم کی بیواؤں اور یتیم بچوں کی خبر گیری فرماتے۔ آپؐ کی رحلت کے بعد باغِ فدک امت کی ملکیت میں رہا۔

مروان بن حکم خلیفہ بنا تو باغ اپنے ذاتی قبضے میں لے لیا۔ وراثت میں ہتھیائی گئی تمام جائیدادیں خلیفہ وقت عمر بن عبدالعزیز تک پہنچیں تو آپ نے باغِ فدک سمیت ایسی تمام جائیدادیں کہ جن سے سالانہ ہزاروں درہم کی آمدن شاہی خاندان کووصول ہوتی تھی، واپس بیت المال کو لوٹانے کا حکم جاری کرتے ہوئے اپنے لیے نہایت حقیر تنخواہ مقرر کی۔ آپ نے عنانِ خلافت سنبھالتے ہی سب سے پہلے خود اپنا حساب اللہ اور امت سے صاف کرنے کے اعلان کے بعد عام منادی کروائی کہ شاہی خاندان اور دیگر امراء کے خلاف ریاست کے کسی بھی فرد کا کوئی حقِ دعویٰ ہو تو اپنی شکایت پیش کرے۔

اس اعلان کے ساتھ ہی بنی امیّہ کے گھروں میں کہرام مچ گیا۔ آپ کی پھوپھی آپ کے پاس آئیں اور کہا کہ ’تمھارے خاندان کے لوگ تمہیں متنبّہ کرتے ہیں کہ اپنی اس روش کا تم کو خمیازہ بھگتنا ہو گا۔‘ آپ نے جواب میں کہا ’جب فرمانروا کے اپنے عزیز و اقارب ظلم کریں، اور فرما نروا اس کا ازالہ نہ کرے تو پھر وہ ظلم سے کسی اور کو کیوں کر روک سکے گا‘ ۔

بنو امیّہ کے شاہی قبیلے اور ان سے فیض یاب ہونے والے دیگر امراء اور سرداروں کے مفادات کو جہاں آپ کے ان اقدامات سے بہت نقصان پہنچا، وہیں اسلامی مملکت میں ایک بار پھر مساوات کا دور دورہ ہونے لگا۔ اندریں حالات مملکت کے روساء وامراء کا وفد حضرت عمر بن عبدالعزیزکے دروازے پر آکر ان کے صاحبزادے سے مخاطب ہوا کہ اپنے والد سے کہو کہ آج سے قبل جتنے خلیفہ ہوئے وہ سب ہمارے لیے کچھ عطا یا اور جاگیر یں مخصوص کرتے رہے لیکن آپ نے خلیفہ بنتے ہی ہم پرسب مال حرام کردیا۔ بیٹے نے پیغام خلیفہ وقت تک پہنچایا تو آپ نے جواب میں اللہ کی کتاب کا حوالہ دے کر بیٹے کو جواب دیا کہ ’اگر میں اپنے رب کا حکم نہ مانوں تومجھے بڑے دن کے عذاب سے ڈر لگتا ہے‘ ۔

مملکتِ اسلامیہ کے اکابرین و روساء آپ کو سدھارنے کی تمام ترکوششوں کے بعد آپ سے سخت ناراض تھے۔ کیونکہ ان کی جاگیریں، جائیدادیں اور اموال جو عوام کے ہی حقوق مغصوبہ تھے، چھن گئے تھے۔ اور اب وہ کوئی ناجائز فائدہ حکومت سے اٹھا نہیں سکتے تھے۔ لہذا آپ کو قتل کرنے کی ٹھانی گئی۔ آپ کو کھانے پینے میں احتیاط برتنے کو کہا گیا۔ آپ کو شاہی دربانوں اور مسلح محافظوں کے پر شکوہ بندوبست کو بحال کرنے کا بھی مشورہ دیا گیا جسے آپ نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

بالآخر آپ کے غلام کے ہاتھوں آپ کو زہردے دیا گیا۔ 101 ہجری میں دو برس اور پانچ مہینے کے دورِ خلافت کے بعد آپ کی وفات ہوئی۔ آپ خلفاء کے استبداد اور قہرو جبر کو سخت نا پسند کرتے، اور دنیا میں آزادی وامن کے داعی تھے۔ آپ کے دورِخلافت میں غیر مسلموں کو مکمل امان اور پوری مذہبی آزادی حاصل رہی۔ آپ کے انتقال پر ناصرف عام مسلمان بلکہ یہودی اور عیسائی بھی اپنے اپنے گھروں میں غمگین پائے گئے۔

خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کی وصیت کے مطابق آپ کی وفات کے بعد اسی کا بھائی یزید بن عبدالملک تختِ خلافت پر جلوہ افروز ہوا۔ روایت ہے کہ چار ماہ تک وہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے نقشِ قدم پر چلا۔ اس دوران بنو امیّہ کے شاہی خاندان اور اس کے حواریوں نے یزید کو اپنی منشاء کے موافق طرزِ عمل اختیار کرنے کی ہر ممکن ترغیب دی۔ اور بالآخر ناکام ہونے پر چالیس سفید ریشوں کاجلوس خلیفہ کے پاس بھیجا۔ مورخ ہمیں بتاتے ہیں کہ چالیس سفید ریشوں نے دربار میں حاضر ہو کر اس امر کی شہادت دی کہ ’خلیفہ وقت کے قول و فعل کا اس سے حساب نہ لیا جائے گا۔ اور یہ کہ نا ہی اس پر اس کے لئے کوئی عذاب ہو گا‘ ۔

تفصیل اس اجمال کی ہمیں دستیاب نہیں۔ یہ بھی ہمیں معلوم نہیں کہ چالیس سفید ریشوں کے جلوس میں کون کون شامل تھا۔ تاہم ایک اندازہ ہے جو کہ غلط بھی ہو سکتا ہے کہ چالیس سفید ریشوں کے اس جلوس کی درج بالا شہادت کو اس دور کے ان تمام داناؤں اور دانشوروں، رؤسا اور سرداروں، سرکاری عمّال اور سالاروں کے علاوہ زندگی کے ہر شعبے سے وابستہ طاقتور افراد کی تائید و تصدیق دستیاب رہی ہو گی کہ جن کے مفادات کسی نا کسی طرح بنو امیّہ کے شاہی خاندان سے جڑے ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •