جدید سائنس اور ٹکنالوجی سے مسیحائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا آپ کسی چھوٹے سے گاؤں میں رہتی ہیں؟
کیا آپ کا قریب ترین ہسپتال آپ سے سینکڑوں میل دور ہے؟

اگر آپ ڈیرپیشن کا شکار ہو جائیں تو کیا کرتی ہیں؟
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جدید سائنس اور ٹکنالوجی سے مسیحائی میں کیا تبدیلی آئی ہے؟

میں جب اپنے ماضی کی طرف نگاہ اٹھاتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ جب میں بچہ تھا تو ہمارے گھر میں ریڈیو تو تھا لیکن نہ فون تھا نہ ٹیلیویژن۔ میں جب جوان تھا تو نہ توانٹرنیٹ تھا نہ فیس بک نہ مسنجر نہ وٹس ایپ۔

میں نے جدید سائنس اور ٹکنالوجی کے راز اگلی نسل کی نمائندہ اپنی بھانجی وردہ میر سے سیکھے ہیں۔ اب وہ میرے نفسیاتی کلینک میں میری مدد بھی کرتی ہیں۔ میری نسل کے بزرگ اپنے بچوں اور پھر بچوں کے بچوں سے بہت کچھ سیکھ رہے ہیں۔ میری بہن عنبر نے اپنی نواسی نیہا سے انٹرنیٹ کے اتنے راز سیکھے کہ انہوں نے نیہا کو LITTLE MASTER کا خطاب دے رکھا ہے۔ یہ ہمارے لیے خوشی، مسرت اور فخر کی بات ہے کہ ہمارے بچے ہمارے استاد بن رہے ہیں۔

آج سے چند سال پیشتر تک میں صرف ان نفسیاتی مریضوں کا علاج کر سکتا تھا جو میرے کلینک میں مجھ سے ملنے آتے تھے۔ پھر ایک وقت آیا جب میرے مریض مجھے اپنے مسائل ای میل سے بھیجنے لگے اور چند مریض فون پر مشورہ کرنے لگے۔

اب کینیڈا کی حکومت نے ایک نیا پروگرام متعارف کروایا ہے جس سے ماہرینِ نفسیات اپنے مریضوں کا علاج انٹرنیٹ کی مدد سے کر سکتے ہیں۔ میں بھی اس پروگرام کا حصہ بن گیا ہوں۔ ہمارے صوبے اونٹاریو میں اس پرگرام کا نام او ٹی این جو ONTARIO TELE MEDICINE NETWORK کا مخفف ہے۔

اب میرے چند مریض او ٹی این سے رابطہ قائم کرتے ہیں۔ میری سیکرٹری مارسیلینا انہیں ای میل سے اپائنٹمنٹ دیتی ہیں۔ مریض مقررہ وقت پر اپنے لیپ ٹاپ سے رجوع کرتے ہیں اور کیمرے اور انٹرنیٹ کی مدد سے مجھ سے رابطہ قائم کرتے ہیں۔ مجھے اپنے مسائل بتاتے ہیں اور میں انہیں مشورے دیتا ہوں۔ اب میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی مدد سے ان لوگوں کی مدد کر سکتا ہوں جو مجھ سے سینکڑوں میل دور رہتے ہیں، جن سے میں کبھی ملا بھی نہیں ہوتا، جو نفسیاتی مسائل کی وجہ سے سفر نہیں کر سکتے، جو انزائٹی اور PANIC DISORDER کی وجہ سے گھر سے باہر نہیں نکل سکتے، جو اپنی ویل چیر کی وجہ سے کلینک کی سیڑھیاں نہیں اتر سکتے۔

جب سے میں نے ”ہم سب“ پر کالم لکھنے شروع کیے ہیں نجانے کتنے مرد اور عورتیں انٹرنیٹ، فیس بک اور مسنجر پر اپنے نفسیاتی مسائل کے حوالے سے مجھ سے مشورہ کر چکے ہیں۔ میں نے ایک دفعہ مسکراتے ہوئے وجاہت مسعود اور عدنان کاکڑ سے کہا کہ میں آہستہ آہستہ، ہم سب، کے قارئین کا نفسیاتی معالج بنتا جا رہا ہوں۔

آج کی جدید سائنس اور ٹکنالوجی میری مسیحائی میں میری اور میرے مریضوں کی ایسی مدد کرتی ہے جو چند دہائیاں پہلے ممکن نہ تھی۔ پچھلے دنوں جرمنی کی ایک خاتون نے مسنجر پر مجھ سے رابطہ اور مشورہ کیا اور انہیں یقین نہ آیا کہ میں نے فیس لیے بغیر ان کی مدد کی۔

اب کینیڈا میں کئی ڈاکٹر انٹرنیٹ کے کیمرے سے ایک دوسرے سے مشورہ کرتے ہیں، بیماریوں کی تشخیص کرتے ہی حتیٰ کہ ایک دوسرے کی آپریشن کرنے میں مدد بھی کرتے ہیں۔ یہ سب ٹیلی میڈیسن کی کرامات ہیں۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم ایسے دور میں زندہ ہیں جب جدید سائنس اور ٹکنالوجی مسیحائی میں مدد کر سکتی ہے۔

میں ایک انسان دوست ہونے کے ساتھ ساتھ سوشلزم کے فلسفے کو بھی دل کے قریب رکھتا ہوں۔ میری نگاہ میں روٹی، کپڑا اور مکان کے ساتھ ساتھ مفت تعلیم اور علاج بھی ہر انسان کا پیدائشی حق ہے اور ہر حکومت کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ کینیڈا میں مفت علاج ہر شہری کا بنیادی حق سمجھا جاتا ہے۔ میرے مریض جب میرے کلینک میں آتے ہیں تو اپنا ہیلتھ کارڈ میری سیکرٹری کو دیتے ہیں اور وہ اس کارڈ کا نمبر لکھ لیتی ہیں۔ میرے مریض اپنا علاج مفت کرواتے ہیں۔ ان کے علاج کی فیس کینیڈا کی حکومت مجھے دو ہفتے بعد دیتی ہے۔

کینیڈا میں مریضوں کے مفت علاج میں امیر اور غریب کا کوئی فرق نہیں۔ سب شہری قانون اور انسانی حقوق کی نگاہ میں برابر ہیں۔

میری امریکہ کی بجائے کینیڈا میں رہنے کی ایک وجہ اس کا ایک حد تک سوشلسٹ نظام بھی ہے۔ امریکہ میں کینیڈا کے مقابلے میں کیپیٹلسٹ نظام کا اثر و رسوخ زیادہ ہے اسی لیے وہاں لاکھوں امریکی ایسے ہیں جن کے پاس ہیلتھ انشورنس نہیں ہے۔ اسی لیے وہ بیمار ہو جائیں تو ہسپتال جاتے ڈرتے ہیں۔ امریکہ میں کئی غریب حاملہ عورتیں ہسپتال جاتے گھبراتی ہیں۔ امریکی حکومت اپنی تمام تر دولت کے باوجود اپنے بہت سے غریب شہریوں کا مفت علاج نہیں کرتی۔ امریکہ کی تاریخ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ممبر اور صدر ریپبلکن پارٹی کی نسبت غریبوں اور اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں زیادہ ہمدرد رہے ہیں۔

ایک انسان دوست ڈاکٹر ہونے کے ناتے میری خواہش ہے کہ دنیا کے ہر ملک اور معاشرے میں طب کا ایسا نظام ہو جہاں جدید سائنس، ٹکنالوجی اور مفت علاج کی سہولتیں تمام شہریوں کے لیے برابر ہوں اور ان سے مرد عورتیں بچے اور اقلیتیں بلا تفریق رنگ نسل اور مذہب استفادہ کر سکیں۔ بدقسمتی سے آج بھی دنیا میں بہت سے ایسے ممالک موجود ہیں جہاں امیر تو اپنا علاج کروا سکتے ہیں لیکن غریب اس علاج سے محروم رہتے ہیں۔

ہماری یہ بھی بد بختی ہے کہ اکیسویں صدی میں ایسے مرد اور عورتیں پائے جاتے ہیں جو جدید سائنس اور ٹکنالوجی، طب اور سرجری سے استفادہ کرنے کی بجائے جعلی پیروں فقیروں اور روحانی پیشواؤں کے پاس جا کر گنڈا تعویز کرواتے ۃیں۔ ؎ فکرِ ہر کس بقدرِ ہمت اوست

یہ ہم سب کی سماجی ذمہ داری ہے کہ ہم عوام کو جدید سائنس، طب اور نفسیات کی تعلیمات سے متعارف کروائیں تا کہ وہ جسمانی بیماریوں اور ذہنی مسائل کی صحیح تشخیص اور بروقت علاج کروا سکیں۔ اس طرح ہم بہت سی قیمتی جانوں کو بچا سکیں گے، انفرادی اور اجتماعی طور پر صحتمند زندگی گزار سکیں گے اور ایک صحتمند اور پرسکون معاشرہ تعمیر کر سکیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 249 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail