جنت، ابلیس اور آدم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وادئی کشمیر اپنی خوبصورتی کی بناء پہ جنت نظیر کہلاتی ہے اور ہم تذکرہ ء جنت کے دوران اس ابلیس کو نظر انداز کر دیتے ہیں جس نے جنت سے آدم کو نکال باہر کیا یا کرایا۔ کیا فرق پڑتا ہے ہر دو صورتوں میں آدم کا جنت سے نکلنا ہی ثابت ہے۔ علی عباس جلالپوری نے اپنے عام فکری مغالطوں میں ثابت کرنے کی کوشش بھی کی کہ تاریخ اپنے آپ کو نہیں دہراتی ہے لیکن پھر بھی کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جن کی نظیر تاریخ کے اوراق میں رقم ہوتی ہے (یہاں نظیر سے مراد precedent ہے )

کشمیر کے حالیہ تناظر میں ہمیں فلسطین کی نظیر یاد آ رہی ہے کہ کس طرح مسلمانوں کے علاقوں میں یہودی آبادکاری کر کے مسلمانوں کو بے وطن کر دیا گیا۔ کہیں ہندوستان بھی کشمیر کے ساتھ یہی کچھ تو نہیں کرنے والا۔ اگر ہندوستان کچھ ایسا کرنے والا ہے تو ہمارے پاس اس کا کیا حل ہے؟ کیا ہم جنگ کی طرف جائیں گے؟ ممکنہ جواب تو نہیں ہے کیونکہ اس وقت ہم اس قدر اندرونی بحرانوں کا شکار ہیں کہ جنگ جیسا آپشن سوچ بھی نہیں سکتے۔ ہم معاشی طور پہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں اور اس ممکنہ جنگ میں کوئی ایسا قریبی دوست بھی دکھائی نہیں دیتا جو واقعی ہماری مدد کرنے میں دلچسپی رکھتا ہو۔

تو پھر سوال یہ ابھرتا ہے کہ ہم کریں گے کیا؟ صرف شور، دکھ کا اظہار، یکجہتی ء کشمیر ریلیاں اور بھارتی اقدام کی مذمت۔ مگر اس سے ہم حاصل کیا کریں گے۔ چینل ریٹنگ اور کچھ سیاسی جماعتیں عوامی ہمدردیاں۔ ہندوستان پہ ہماری آہ و فغاں کا کچھ اثر نہیں ہو گا۔ ہمیں اس وقت کشمیر کا کیس عالمی برادری کے سامنے اجاگر کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے عالمی برادری کو اس کیس میں دلچسپی لینے پہ مجبور کرنا چاہیے۔

ہندوستان اس صدارتی آرڈینیس کے ذریعے جہاں کشمیر کو ہتھیانے کی سازش کر رہا ہے وہیں اس سے ایک فاش غلطی یہ بھی ہوئی ہے کہ آئین کا جو آرٹیکل کشمیر کو ہندوستان سے جوڑتا تھا وہ اس سے دستبردار ہو چکا ہے۔ ایسے وقت میں آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کو فوری طور پہ اقوام متحدہ کے دروازے پر دستک دینا چاہیے تھی کیونکہ ان سب معاملات کا سرجیکل سٹرائیک کے دعوے کے زمانے سے ہمیں علم تھا لیکن ہماری تیاری صفر تھی۔ ہم میڈیا، اپوزیشن اور سینیٹ کو فتح کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے اور کشمیر جسے ہم اپنی شہ رگ کہتے ہیں اس پہ وار بھی ہو گیا۔

ابھی بھی ہمیں جنگ کے آپشن کو علیحدہ رکھ کر اس مسئلے کے منطقی پہلوؤں پر غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ صدارتی آرڈیننس کو کشمیری لیڈران سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ بھارتی اپوزیشن پارٹیاں بھی مودی کے اس اقدام کو آڑے ہاتھوں لے رہی ہیں۔ کرفیو کا دورانیہ کیا ہو گا کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ ہمارے پاس کچھ وقت ہے ہمارے وزیر اعظم صاحب گورنر سرور اور جمائما گولڈ سمتھ کی مدد سے برطانوی پارلیمنٹ اور اپنے فین برطانوی وزیر اعظم کو مسئلہ کشمیر کے حل میں کردار ادا کرنے کے حوالے سے تیار کریں۔ ٹرمپ کو اس کی ثالثی کی پیشکش پہ عملدرامد کرانے کے لیے قائل کریں۔

ہمارے وزیر اعظم کا دنیا میں بہرحال ایک سوفٹ امیج ہے اس سے فائدہ اٹھائیں۔ دوست ممالک کے دورے کریں اور پوری دنیا کو اس مسئلے کی حساسیت سے آگاہ کریں۔ وزیر خارجہ بھی حج اگر اگلے سال پہ ملتوی کر سکتے ہوں یعنی اس میں کوئی شرعی عذر نہ ہو تو انہیں موقع کی مناسبت سے سب سے اہم مسئلہ پہ فوکس کرنا چاہیے۔ خیر

جنت سے جب آدم کو نکالا گیا تھا اس کے بعد سے ابلیس بھی جنت میں داخل نہیں ہو پایا اس بار اگرچہ معاملہ تھوڑا پیچیدہ ہے لیکن کوشش میں کمی نہ چھوڑی جائے۔ اگر آدم کو اپنی قربانی دے کر بھی ابلیس کو جنت سے باہر نکالنا پڑے تو یہ سودا مہنگا نہیں ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •