کشمیر: داستان ختم ہونے والی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم پاکستان عمران خان کے دورہ امریکہ کے بعد سے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہونا شروع ہوئی۔ بھارتی فورسز کی اضافی نفری، نقل و حرکت، حریت پسند قیادت کی گرفتاریاں اور نظر بندی سے کرفیو تک اور سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ اطلاعات اور افواہوں سے لے کر بھارتی مقبوضہ کشمیر میں مواصلات کے نظام کی بندش تک ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ساتھ تشویش میں اضافہ ہوا کہ آخر ہونے کیا جارہا ہے کوئی بھی بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی تھی۔

بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ نے جب راجیا سبھا میں جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 35 A اور آرٹیکل 370 کی منسوخی کے لیے بل پیش کیے تو صورتحال کچھ واضح ہونا شروع ہوئی کہ کیا ہونے جارہا ہے اور کس کی منصوبہ بندی کی جارہی تھی۔ بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ نے راجیہ سبھا میں مذکورہ آرٹیکل کی منسوخی کے لیے بل پیش کیے جسے اکثریت رائے سے منظور کر لیا گیا، بل کے حق میں 125 جبکہ 61 ووٹ مخالفت میں آئے، لوک سبھا میں مذکورہ بل پاس کروانے کے لیے کارروائی بھی رسمی ہی ہوگی۔

مذکورہ آرٹیکلز کی منسوخی سے کیا اثرات مرتب ہونے والے ہیں؟

آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد جموں و کشمیر کا درجہ ریاست کا نہیں رہا بلکہ وہ تقسیم ہو ہندوستان کے زیر انتظام دو علاقے بن گئے ہیں جن میں ایک لداخ اور دوسرا جموں کشمیر۔

دونوں علاقوں کا انتظامی والی وارث ایک لیفٹیننٹ گورنر ہوگا۔

داخلہ امور اب وزیر اعلیٰ کی بجائے ہندوستان کا وزیر داخلہ چلائے گا۔

تمام روایتی قانون ختم ہوگے ہیں اور ہندوستانی قانون نافذالعمل ہوگیا۔

ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل 360 کا اطلاق جموں و کشمیر اور لداخ پر بھی ہوگیا ہے۔

آرٹیکل 35 اے جو کشمیریوں کو خصوصی شہریت کے حقوق دیتا تھا وہ قوانین جو مہاراجہ ہری سنگھ نے 1927 میں جموں کشمیر کی خصوصی شہریت کے حوالے سے بنائے تھے آرٹیکل کے خاتمے سے وہ ختم ہو گئے ہیں۔

غیر کشمیری جموں و کشمیر میں جائیداد کی خرید و فروخت، سرکاری نوکری اور مستقل سکونت اختیار کرسکیں گے۔

اب ریاست جموں و کشمیر (جو اب ریاست نہیں رہی) آہستہ آہستہ غیر مسلم اکثریتی علاقہ بن جائے گی۔ اور کشمیریوں کے وسائل پر غیر کشمیری قابض ہوں گے اور دوسرے فلسطین کی نمایاں جھلک نظر آئے گی۔

یہاں قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ ہندوستان نے ان آرٹیکل کو ختم کرکے مہاراجہ کا ہندوستان کے ساتھ الحاق بھی ختم کر دیا ہے اور ہندوستان کا جموں کشمیر کے ساتھ اب قانونی اور آئینی تعلق بھی ان آرٹیکل کے خاتمے کے ساتھ ختم ہوگیا۔ چونکہ اقوام متحدہ میں جموں و کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور اس پر سیکیورٹی کونسل کی متعدد قراردادیں موجود ہیں اس لیے ہندوستان کی حیثیت مقبوضہ کشمیر میں اب ایک قابض کی رہ گئی ہے، اٹوٹ انگ کا دعویٰ بھی زمین بوس ہوگیا۔

مذکورہ آرٹیکلز کے خاتمے کے بعد کشمیریوں کے وکیل اور بیس کیمپ کی قیادت کے پاس کیا بچا؟

مذکورہ آرٹیکل کے خاتمے کے بعد کشمیریوں کے وکیل اور بیس کیمپ کی قیادت کے پاس اس پر بات کرنے کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں بچا کیونکہ جواز ”معاہدہ کراچی“ اور ”گلگت بلتستان ایگزیکٹو آرڈر“ کے ساتھ ہی ختم ہوجاتا ہے، بیس کیمپ کی قیادت ہوس اقتدار میں معاہدہ کراچی اور گلگت بلتستان ایگزیگٹو آرڈر کے وقت زبان دانتوں تلے دبا کر پہلے ہی اپنی حیثیت دنیا کو دکھا چکی ہے۔ رہی بات کشمیریوں کے وکیل کی تو وہ اگر یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر جاتا ہے تو وہاں سوائے شرمندگی کے کچھ نہیں ملے گا کیونکہ وہاں بھی سوال گلگت بلتستان کا ہوگا جس کا کوئی جواب نہیں ہوگا غرضیکہ کسی بھی انٹریشنل فورم پر وکیل کے پاس اس مسئلے کو اٹھانے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔

آگے کیا ہوگا؟ 

ہوگا یہ کہ مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان پہلے ہی فوجی چھاؤنی میں بدل چکا ہے۔ کشمیری سراپا احتجاج ہوں گے تو غلام دھرتی تازہ خون سے پھر سیراب ہوگی اور یہاں سے روایتی بیانات جاری ہوں گے۔ کچھ دن کچھ مہینے یہ مسئلہ خبروں کی زینت بنا رہے گا، سوشل میڈیا پر جنگ جاری رہے گی۔ بیس کیمپ کی قیادت غیر ملکی دوروں کے مزے لوٹے گی اور پھر معاملہ ٹھنڈا ہوجائے گا۔ چورن بیچنے والوں کو نیا چورن مل جائے گا اور وکیل کو دلہن پاس رکھنے کا لائسنس۔

اس صورتحال میں کشمیری قوم کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ قیادت اور وکیل کی آواز کا انتظار کرنے کی بجائے اپنی آواز خود بنیں۔ متحد ہوکر ریاست کی وحدت بچانے کی کوشش کریں۔ سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کریں ذمہ داری کا ثبوت دیں، گھروں سے نکلیں۔ ہر دروازہ کھٹکھائیں، ہر فورم پر یک زبان ہوکر بات کریں اور آخری ہچکی لیتی ریاست کو بچانے کی آخری کوشش کریں۔ اگر ایسا نہیں کرسکتے تو یہ سمجھ لو تمہاری داستان ختم ہوگئی اور یاد رکھیں کہ مورخ کو تمھیں مردہ ضمیر اور بزدل لکھنے میں کبھی عار محسوس نہیں ہو گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •