کرپشن کی آکاس بیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سینیٹ میں کیا ہوا، کیوں ہوا، کس نے کیا؟ ہر سینیٹ انتخابات کے بعدایک بار پھر کھل کر بحث و قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ سینیٹ کی تاریخ میں جو کچھ ہوا، ایسا پہلی بار بھی نہیں ہوا کہ ہم حیرت میں مبتلا ہیں۔ اچھی طرح جانتے ہیں کہ دونوں ایوانوں میں یہ سب کچھ ہوتا رہتا ہے۔ اس کی کئی بنیادی وجوہات پر ذرائع ابلاغ میں مباحثہ بھی ہوچکے ہیں۔ جہاں دو بنیادی نکات سامنے آئے ہیں۔ پہلا یہ کہ سیاسی جماعتیں ایوانوں کے لئے نظریاتی کارکنان کو انتخابی ٹکٹ دینے کے بجائے ایسی شخصیات کو چنتی ہیں جو اپنے حلقہ انتخاب میں با اثر شخصی قوت کا مالک ہوتا ہے اور عوام کا ووٹ وہیں جاتا ہے جہاں یہ الیکٹیبلز جاتے ہیں۔

ان میں وڈیرے، سردار، جاگیردار، سرمایہ دار اور خوانین سمیت انتہائی رسوخ کے حامل بیورو کریٹس بھی شامل ہیں۔ لہذا جب سیاسی جماعتیں اپنے حقیقی نمائندوں کو نظر انداز کرکے نمبر گیم حاصل کرنے کے لئے الیکٹیبلزکا انتخابات کریں گی، تو نتائج ایسے ہی آتے رہیں گے۔ دوسرا اہم نکتہ جو سامنے آیا وہ خفیہ رائے شماری کا متنازع طریقہ کار ہے۔ خفیہ رائے شماری کو تبدیل کرنے کے لئے کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے سنجیدہ کوشش نہ کرنے کی وجہ یہی نظر آتی ہے کہ من پسندنمبر گیم کھیلا نہیں جاسکے گا۔

اگر سیاسی جماعتیں ’اپنے‘ جمہوری نظام کو حقیقی معنوں میں مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں تو کھلے خزانوں کا منہ بند کرکے سب سے پہلے رائے شماری کے طریقے کو تبدیل کریں۔ قانون ساز ادارے کے بعض کرپٹ اراکین جب بیلٹ پیپر پر دوہری مہر لگاتے ہیں تو اُن کا ضمیر ملال نہیں کرتا۔ لہذایہ سوال ہی نہیں اٹھتاکہ کون کیوں جیتا اور کون کیوں ہارا۔

الیکٹیبلز کا یہ کھیل نیا نہیں ہے۔ لیاقت علی خان کے قتل کے بعد مسلم لیگ میں تھوڑ پھوڑ کا عمل شروع ہوا۔ راتوں رات ’تانگا پارٹی‘ بنی، اقتدار کے حصول کا کھیل شروع ہوا۔ جو بڑھتے بڑھتے مارشل لاء کی راہ ہموار کرگیا۔ کئی معروف سیاست دان غیر معروف سیاسی جماعت میں داخل ہوکر اقتدار کی کرسی پر بیٹھے۔ یہ عمل آج تک جاری ہے۔ قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی پہلی تحریک میں وفاداریوں کی خرید و فروخت ہوئی۔ اقتدار کی رسہ کشی میں سیاسی اتحاد مختلف ناموں سے بنتے، ٹوٹتے رہے، الیکٹیبلز کا ضمیر کبھی سوتا اور کبھی جاگتا نظر آئے گا۔

پاکستانی قوم یہ تماشا کئی عشروں سے دیکھ رہی ہے۔ اراکین ہی نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کی بھی وفاداریاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں اورہر ایک نئے دور اقتدارمیں نئی تانگا پارٹی وجود میں آتی رہی ہے۔ بیشتر حکومتوں کے بننے میں چھوٹی جماعتوں کا کلیدی کردار رہا ہے۔ چھوٹی جماعتیں کنگ میکر بن کر بڑی سیاسی جماعتوں سے فوائد حاصل کرتی ہیں۔ موجودہ حکومت اس کی بڑی واضح مثال ہے کہ اگر چھوٹی سیاسی جماعتیں تحریک انصاف کو ووٹ نہیں دیتیں تو آج عمران خان وزیر اعظم نہ ہوتے۔

تمام سیاسی جماعتوں کو ہمیشہ یہی مشورہ دیا جاتا رہا ہے کہ پہلے وہ اپنی صفوں کو منظم و کالی بھیڑوں سے پاک کریں، پارٹی منشور کے مطابق نظریاتی کارکنان کو اہمیت دیں اور کابینہ میں منتخب اہل اراکین کو حصہ دار بنائیں۔ کرائے پر مشیر لینا بندکریں۔ اگر سب کچھ کرائے پرلینا ہے تو پارلیمنٹ، کابینہ اورانتخابی عمل سب فضول ہیں۔ راقم کے نزدیک عوام کے ووٹوں کو دھوکا دینے کے مترادف ہیں۔ سیاسی وفاداری تبدیل کرنے والوں اور کرائے کے مشیروں کا مستقبل صرف اقتدار ہوتا ہے۔

ان کا رخ ہمیشہ اقتدار کا ’ہما‘ سر رکھنے والی جماعت کی جانب جھکا ہوتا ہے۔ اگر سیاسی جماعتوں میں کوئی ’جمہوری روح‘ زندہ ہے تو سب سے پہلے انہیں اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا۔ کیونکہ نمبر گیم میں کوئی کامیا ب ہوتا ہے توبدنامی کا سہرا بھی ازخود سر پر سجا تے ہیں۔ ضمیر، خمیر وغیرہ نام کی کوئی چیز سیاسی نصاب میں نہیں ہوتی۔ کیونکہ سیاست میں حرف آخرکا نہ ہونا، پہلا اور آخری اصول ہے۔ جس کے مظاہر ہم تواتر سے دیکھتے چلے آرہے ہیں۔

ایک نیا طرفہ تماشا بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ اخلاقیات کا معیار کیا رہ گیا ہے، کبھی دراقتدار سے ایک مذہبی جماعت کے سربراہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے کہ ان کی جماعت کے ووٹ مسترد شدہ ووٹ کے برابر تھے، تو کبھی ایک لسٹ سوشل میڈیا میں گھوما دی جاتی، یہاں تک کہ پراپرٹی ڈیلر اور بڑی سیاسی جماعت کے چیئرمین کی ملاقات و بڑی سطح پر نمبر گیم بدلنے کی بات سامنے لائی جاتی ہے۔ اب آئیں اُن کی جانب جو ریاستی و حساس اداروں کے خلاف بیان بازی کررہے ہیں۔ تو کیا اس سے وہ دنیا کو کوئی اچھا پیغام دے رہے ہیں۔ یقینی طور پر نہیں۔ اس سے وہ اپنے ریاستی اداروں کو عالمی بدنامی کا شکار کررہے ہیں۔ اپنی کوتاہی و غلطیوں کا ملبہ کسی اور پر ڈالنا مناسب نہیں۔

یہاں سب سے اہم ذمے داری اُن ضمیر خوانوں پر بنتی ہے جنہوں نے ”ضمیر“ کے مطابق فیصلہ دیا تھا تو پھرمنافقت کے لبادے میں چھپے کیوں بیٹھے ہیں۔ سچے ہیں تو سینہ ٹھونک کر سامنے آئیں۔ آخر کیوں قرارداد پر کھڑے ہوکر بیلٹ بکس میں غائب ہوجاتے ہیں اور جب دوبارہ حکومت مخالف حکمت عملی باز گشت سنائی دیتی ہے تو ڈھٹائی کے ساتھ اُن اجلاسوں میں شریک بھی ہوتے ہیں بقول اپوزیشن لیڈر کے انہیں صبح ہی پتہ چل گیا تھا کہ کون کون بکا ہے۔

تو پھر دیر کس بات کی ہے۔ ابھی تو ان کی پارٹی شروع بھی نہیں ہوئی۔ اگر انہوں نے کوئی سیاسی دنگل کرنا ہے اور انہوں پتوں پر تکیہ کرنا ہے تو خدارا یہ دھرنا، احتجاج، جلسے جلوسوں اور ملین مارچ کے اعلانات کو واپس جیب میں ڈال لیں اور سیاسی ماحول میں جب تک تبدیلی نہیں لاتے عوام کو مزید مشکلات کا شکار نہ کریں۔ بلاشبہ عوام مہنگائی، بے روزگاری سمیت کئی دیرینہ مسائل میں الجھی ہوئی ہے اور انہیں کوئی نجات دہندہ نظر نہیں آتا۔

ان حالات میں کہ جب سیاسی جماعتوں کی اپنے اونٹ کے بیٹھنے والی کروٹ کا علم نہ ہو۔ ملک کو انتشار و فروعی مفادات کی سیاست سے گریز کرنا چاہیے۔ اس وقت سیاسی جماعتوں کے پاس دو راستے ہیں۔ پہلا راستہ تو یہ ہے کہ اگر پارلیمنٹ میں رہ کر انہوں نے احتجاجی سیاست کرنی ہے تو سڑکوں پر سیاست کرنا انتخابات تک کے لئے چھوڑ دیں۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ انہیں سڑکوں پر سیاست کرنی ہے تو پارلیمنٹ میں بیٹھنا چھوڑ کر مستعفی ہوجائیں۔

اگر ان کے بیانئے سے عوام متفق ہوئی تو حکومت کو اپنی سمت درست کرنا ہوگی۔ اگر عوام اپوزیشن جماعتوں کے دوہرے معیار سے متفق نہیں ہوتے تو انہیں اپنا بیانیہ ازسر نو ترتیب دینا ہوگا۔ یہ سیاسی جماعتوں کا دوہرا معیار ہوگا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر تبدیلی نہیں لاسکتے اور خود اپنی صفوں میں اتحاد نہیں، اتفاق نہیں ضمیر فروش غالب ہیں تو پھر پارلیمنٹ میں بیٹھ کر قومی خزانے پر بوجھ کیوں بن رہے ہیں۔ ریاست کو سب کچھ کرنے دیں۔ تاکہ اچھے اور بُرے تمام حالات کی ذمے داری کسی ایک فریق پر عاید ہو۔

موجودہ نظام یا کوئی دوسرا نظام ہو، ماسوائے دین اسلام و قرآن کے کوئی نظام خامیوں سے پاک نہیں ہے۔ ہر نظام میں انسانی غلطی کا شامل ہونا خارج ازامکان نہیں ہے۔ لہذا اس بات کی توقع نہیں کی جاسکتی کہ جمہوری پارلیمان نظام سے ہٹ کر صدارتی یا کوئی دوسرا جدید نظام لانے سے معاشرے میں پائی جانے والی خرابیوں کا ناس ہوجائے گا۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کرپشن ایک آکاس بیل کی طرح پروان چڑھ چکی ہے۔ یہ ایک ایسا ناسور ہے جس کی کوئی جڑ ہی نہیں ہے جسے اکھاڑ کر پھینکا جا سکے۔

جو یہ دعوے کرتے ہیں کہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ کردیں گے تو ناممکنات کے خواب دکھا کر فریب دینے کی بات کرتے ہیں۔ کرپشن کی آکاس بیل ہمارے معاشرے کا جز لانیفک بن چکی ہے جو ہرشعبہ حیات میں رچ بس گئی ہے۔ کرپشن کو ختم نہیں لیکن کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کے لئے خونی انقلاب کے بجائے روحانی انقلاب کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتوں سمیت تمام اداروں کو پاکستان کی بقا و سلامتی کے لئے صدق دلی سے ایک پیمانہ مقرر کرنا ہوگا۔ آئین سازی میں کرپشن کرتے پکڑو جاؤ تو رشوت دے کر چھوٹ جائے، جیسے چور راستے ختم کرنا ہوں گے۔ اب یہ کوئی بھی کرے، کوئی سیاسی جماعت، کوئی سرکاری ادارہ، کوئی ریاستی محکمہ یا کوئی مذہبی گروہ۔ بہرصورت گر پاکستان کو بچانا ہے تو کرپشن کی آکاس بیل سے مملکت کو آزاد کرنا ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •