کشمیر: شہ رگ سے ہی نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشمیر کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر میں خود کشمیر سرے سے فریق ہی نہیں ہے۔ کشمیر کے فریق ہمیشہ سے ہندوستان اور پاکستان ہیں۔ تیسری کوئی چیز اگر ہے تو وہ عالمی طاقت ہے جس نے کشمیر کے معاملے میں اپنا قلمی نام ”ثالث“ رکھا ہوا ہے۔ خطے میں اُس نے کوئی چال چلنی ہو تو ثالثی کے عنوان سے چلتا ہے۔ خود کشمیریوں کے حصے میں جو کردار آتا ہے اسے فلم کی زبان میں سائیڈ رول کہتے ہیں۔ ہدایت کاروں کے لیے سائیڈ رول نبھانے والوں کی کچھ ایسی حیثیت بھی نہیں ہوتی مگر ان کے بغیر فلم پوری بھی نہیں ہوتی۔ کشمیر کی فلم میں کشمیری صرف نعرے لگاسکتے ہیں، ہڑتال کرسکتے ہیں، بکتر گاڑیوں پر پتھراؤ کرسکتے ہیں اور انجامِ کار اپنی قیادت کو گرفتار یا نظربند ہوتا ہوا دیکھ سکتے ہیں۔

جس خطے میں کشمیر کی لکڑی رکھ کر جلائی گئی ہے اُس خطے کے سیاسی اور جغرافیائی تصورات منطقی ہوتے تو نتیجے تک پہنچنا آسان ہوتا۔ ہمارے تصورات چونکہ جغرافیائی عصبیت پر کھڑے ہیں اس لیے کشمیر کا معاملہ کبھی نتیجہ خیز نہیں ہوسکا۔ ہماری جغرافیائی سرحد کے کندھے سے کندھا ملا کر سرحد کی ایک پٹی اور چل رہی ہے۔ معاشرتی علوم کی اصطلاح میں ہم اسے نظریاتی سرحد کہتے ہیں۔ ماننے والے مانتے ہیں کہ یہی پٹی ہماری جغرافیائی سرحد کی محافظ ہے مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ اس واہمے کو ستر کے اوائل میں خلیج بنگال کے پانیوں نے دھو دیا ہے۔

نظریاتی سرحدوں کی تازہ حقیقت یہ ہے کہ ”برادر اسلامی ملک“ ہوتے ہوئے بھی افغانستان بھارت پر تخت بخت فدا ہوا جاتا ہے۔ افغانستان کے قوم پرست اور کمیونسٹ تو رکھیے ایک طرف، وہاں کی مذہبی قوتیں بھی بھارت پر واری واری جاتی ہیں۔ ہمارے نصیب میں کُل ملا کے ایک طالبان آئے تھے اوراب طالبان بھی کہاں۔ ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے رفتہ رفتہ سبھی ہمیں ناہنجار کہہ رہے ہیں اور جواباً نمک حرام قراردے کر ہم انہیں مسترد کررہے ہیں۔

چین ”برادر اسلامی ملک“ نہیں ہے مگر گوادر کے ساحل سے تابخاکِ کاشغر حرم کی پاسبانی کے سارے پراجکٹ ہم اسی کے ساتھ مل کر کررہے ہیں۔ ایران اسلامی ملک ہے مگر ہم ایسے سکہ بند مسلمانوں کو چھوڑ کر ہندوؤں کے ساتھ چاہ بہارکے معاہدے کررہا ہے۔ سعودیہ بھی برادر اسلامی ملک ہے مگر وہ کشمیر کے باب میں ہم مسلمانوں کے نقطہ نظر کو مسترد اور ہندووں کے نقطہ نظر کو تسلیم کرچکا ہے۔ شیخ و شاہ ہمارے پاس آتے ہیں تو مغل بادشاہوں کی طرح دربار سجا کر خیرات لٹاتے ہیں۔ کافر ہندو وں کے پاس جاتے ہیں تو ٹھوس تجارتی معاہدے کرتے ہیں۔ ہمیں کہتے ہیں جنت میں ہم ساتھ ہوں گے اور کفار سے کہتے ہیں ہم ہر فورم پر ساتھ ہیں۔ جنت کی ہمرکابی کا لارا دیتے ہوئے یہ واضح کرنا بھی ضروری نہیں سمجھتے ہیں کہ وہاں بھی ہماری عزت ذلت کے فیصلے کفیل کرے گا یا ہم خودمختار ہوں گے۔

طیب اردگان یہودیوں کے سینے پر دلنے والا مونگ کا آخری دانہ ہے مگر اسرائیلی سیاحوں کو استنبول میں سب سے زیادہ انہی کے عہدِ ذوالجلال میں پناہ ملی ہے۔ شاہ سعود بھی اسرائیل کے ساتھ اپنے خفیہ تعلقات کو منظر پر لانے کے لیے راہیں تلاش کررہا ہے مگر ترکی اور مصر جیسے اسلامی ممالک کے ساتھ پنجے لڑارہا ہے۔ ان ساری حقیقتوں کے باوجود ہم نے اس خیال سے وابستہ رہنا ہوتا ہے کہ بین المالک تعلقات میں مذہب کا کوئی کلیدی کردار ہوتا ہے۔

کشمیر کے معاملے میں بھی ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ اور دانشوروں کا ایک معقول حصہ اسی وہمِ لادوا کا باقاعدہ شکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر کی فضاؤں سے انہیں دم بدم صدائے کن فیکون تو سنائی دیتی ہے، مگر کشمیر کی زمین سے زمین زادوں کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ اگر سنائی دے بھی تو اس لیے در خور ِ اعتنا نہیں سمجھتے کہ ہمیں یہ پڑھایا گیا ہے کہ لڑائی زمین کی نہیں ہے۔ لڑائی تو زمین پر خدا کا کوئی نظام نافذ کرنے کی ہے۔ تبھی تو جب کہا منہ بھر کے اس ماراماری کو جہاد ہی کہا، جنگ نہ کہا۔

افغانستان میں روس کے خلاف جب جنگ زوروں پر تھی ہمیں بتایا جاتا تھا کہ احمد شاہ مسعود افغانستان کے چی گویرا ہیں۔ کراچی کے ایک اخبار کے رپورٹر تو احمد شاہ مسعود کے لیے آسمان سے قطار اندرقطار فرشتوں کو اترتا بھی دیکھ لیتے تھے۔ تب تصویر لینا کارِ حرام تھا ورنہ وہ ضرور قدسیوں کے اس نزول کی عکس بندی بھی کرلیتے۔ روسی افواج نے واپسی کی راہ لی تو احمد شاہ مسعود نے کہا، ہمارے ملک کا اگلا منظرنامہ کیا ہوگا یہ ہم خود طے کریں گے۔ باہر سے آنے والی قوتیں اب ساتھ خیریت کے واپس جاسکتی ہیں۔

منظرنامے کی اس تبدیلی کے ساتھ ہی ہمیں بتایا گیا کہ احمد شاہ مسعود اب چی گویرا نہیں رہے۔ وہ اب افغانستان کے راسپوتین ہیں جس پر صبح شام دو دو بار چار حرف کرنا ہم پر لازم ہے۔ اخبار کے جو خبریال کبھی فرشتوں کو اترتا دیکھتے تھے انہوں نے ملا عمر کی آنکھ میں اتر کر کچھ خواب دیکھنا شروع کر دیے۔ خوابوں کی پہلی سیریز اس عنوان کے ساتھ شائع ہوئی، رسول اللہ ﷺ نے ملا عمر کو خواب میں بشارت دی ہے کہ احمد شاہ مسعود کا علاقہ پنج شیر اگلی جمعرات تک فتح ہوجائے گا۔ آنے والی جمعرات سے پہلے تھی خبر گرم کہ اڑیں گے غالب کے پرزے۔ دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •