کیا کشمیر کو بھول جائیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشمیر کے ساتھ ہماری جذباتی اور مثالی وابستگی کی بات الگ ہے مگر راقم نے جب بھی مسئلہ کشمیر کو اس کے مذہبی، تاریخی، روایتی اور جغرافیائی مباحث کی روشنی میں دیانتداری اور حقیقت پسندی سے دیکھنے کی کوشش کی ہے بقول منیر نیازی یہ قابل رحم، مخدوش اور تلخ صورت حال ہی سامنے آئی ہے کہ

تھا منیر آغاز ہی سے راستہ اپنا غلط
اس کا اندازہ سفر کی رائگانی سے ہوا

کشمیر میں جو کچھ ہوا اس پر دو تین دن سے اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ اگر سب مواد جمع کیا جائے تو کئی ضخیم کتابیں مرتب ہو سکتی ہیں۔ ستم یہ ہے کہ کشمیر کے جغرافیے، تاریخ اور تاریخی شعور سے نا بلد لوگ بھی اس مسئلے پر خامہ فرسائی کر رہے ہیں۔ قوم کو معقولیت اور استدلالیت کے بجائے صرف جذباتی پہلو دکھا کر فکری طور پر گمراہ کیا جارہا ہے۔ کچھ لوگ اس واقعے کی آڑ میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور وزیر اعظم کو لتاڑ رہے ہیں کہ انہوں نے کشمیر کا سودا کر لیا ہے۔

کوئی اسے ہماری خارجہ پالیسی کی مکمل ناکامی قرار دے رہا ہے۔ کوئی مودی کے اس اقدام کے جواب میں بھارت پر ایٹم بموں کی بارش کرنا چاہتا ہے۔ کوئی اس سانحے کو سقوط کشمیر سے تعبیر کر کے ہماری سفارت کاری اور سیاست بازی کی بے توقیری گردان رہا ہے۔ کوئی مودی کی اس حرکت کو دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ہولناک جنگ کا پیش خیمہ قرار دے رہا ہے۔ کوئی اسے خفیہ والوں کی ناکامی بتا رہا ہے۔ آج کے پارلیمنٹ کے اجلاس اور کور کمانڈر کانفرنس کی طرف سے بھی کوئی خو شگوار جھونکا نہیں آیا۔

وزیر اعظم کی تقریر ہمیشہ کی طرح بے ربط، مبہم اور ناقابل عمل باتوں کا خام ملغوبہ دکھائی دی۔ قائد حزب اختلاف بھی جذبات کی رو میں بہہ کر غیر حقیقت پسندی کا ڈھول پیٹتے رہے۔ ہمارے سپہ سالار اور فوج کی طرف سے دیگر باتوں کے علاوہ یہ قول زریں بھی سننے کو ملا کہ کشمیریوں کی جائز جدوجہد کی اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھیں گے۔ گویا اہل کشمیر کی کوئی نا جائز جدوجہد بھی ہے۔ مجھے تو ہر طرف بوکھلاہٹ، حواس باختگی، لایعنی و طولانی باتوں کا طومار اور ذہن کی چٹنی بنانے والی صورت حال ہی نظر آئی۔ غالب نے شاید ایسے ہی موقع کے بارے میں کہا تھا

آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا

اگر کچھ ہوش مند، صائب الرائے اور وقت کے نبّاض سمجھ سکیں تو عرض یہ ہے کہ ہم ہر سطح پر کشمیر اور اہل کشمیر کا مقدمہ ہار چکے ہیں۔ معاہدہ لاہور، معاہدہ امرتسر، معاہدہ شملہ، معاہدہ تاشقند، معاہدہ آگرہ، یو این او کی قراردادوں اور کشمیر کے حوالے سے سیکڑوں دوسری تاریخی دستاویزات کا ذکر اپنی جگہ مگر دنیا کی سب سے بڑی حقیقت اپنی جگہ کہ دلیل کمزور کی مجبوری اور طاقتور کی مرضی ہوتی ہے۔ مشرقی تیمور اور آزادی کی چند دوسری تحریکوں کی کامیابی کی مثالیں دینے والوں کی خوش فہمی اپنی جگہ مگر مذکورہ تحریکیں زیادہ تر سیاسی جدوجہد پر مبنی تھیں۔

پُر تشدد اور ریاست کے خلاف عسکری و مسلح جدوجہد کرنے والی تامل ناڈو کی تحریک اسی لیے لیے ناکامی سے دوچار ہوئی کہ اسے برپا کرنے والے بھی ہمارے مثالیت پسند وزیر اعظم کی طرح اکثر معاملات کے حوالے سے دو تین صدیاں پیچھے ماضی میں رہ رہے تھے۔ ہمارے وزیر اعظم بھی تاریخی شعور، زمینی حقائق اور معاصر سیاسی و سفارتی حالات سے بے خبر قوم کے سستے جذبات کی تسکین کا سامان کرنے کے لیے جب دو ہزار انیس میں ایک مسلم ایٹمی ملک کے سربراہ کے طور پر دو ڈھائی سو سال قبل فتوحات کے دور کے ایک جانباز اور سرفروش مجاہد ٹیپو سلطان کے تتبع کا حوالہ دیتے ہیں تو ان کی ذہنی حالت پر شک ہونے لگتا ہے۔ وہ اگر تھوڑا سا بھی غور کر لیتے تو انہیں پتہ چلتا کہ انیس سو اٹھائیس کے بعد کسی ملک پر حملہ آور ہو کر اس پر قبضہ برقرار رکھنا ناممکن ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو انیس سو اکیانوے میں عراق کو اپنے ”مفتوحہ“ ملک کویت سے محض پانچ ماہ بعد ہی واپس نہ آنا پڑتا۔

ہم بات کو مختصر کرتے ہوئے ان حالات میں کشمیر کی آزادی کے ممکنہ اور قابل عمل حل کی طرف آتے ہیں۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ ہم آبادی، رقبے اور وسائل میں پانچ گنا بڑے ملک پر فوج کشی کر دیں اور اسلاف کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کشمیر سمیت لال قلعے پر بھی سبز ہلالی پرچم لہرا دیں مگر ایسا ہر گز ممکن نہیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہم مسئلہ کشمیر کو سفارتی سطح پر حل کر وائیں۔ اس میدان میں ہماری تہی دامنی کا یہ عالم ہے کہ آج ابو ظہبی، سعودی عرب اور چین جیسے دوست ممالک بھی ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔

مسئلہ کشمیر ہمیں خود سمجھ آئے گا تو کسی کو کچھ سمجھائیں گے۔ بھارت کی سفارت کاری ہم سے اس قدر آگے اور مٶثر ہے کہ وہ کشمیر کو انڈین یونین کا حصہ بنانے سے پہلے پاکستان کو سفارتی حوالے سے تنہا کرتا ہے، امریکہ اور اسرائیل سمیت دوسرے دوست ممالک کو اعتماد میں لیتا ہے اور دنیا کو کشمیر میں پاکستانی دراندازوں کے واضح ثبوت دکھاتا ہے۔ سو سفارتی محاذ پر ہماری پسپائی اور ہزیمت تو مسلمہ ہو چکی۔ تیسرا ممکنہ طریقہ اہل کشمیر کی سیاسی جدوجہد تھا مگر اس میدان میں بھی بد قسمتی سے اہل کشمیر بری طرح ناکام رہے۔

سیاسی جدوجہد کو جب عسکری اور مسلح کارروائیوں سے مہمیز دینے کی بچگانہ کوشش کی گئی تو جنرل مشرف اور ان کی حکومت نے خود کشمیری حریت پسندوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کی رہی سہی ساکھ بھی گاڑ لی۔ سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ ہمارے فیصلہ سازوں نے جہاد کو پرائیوٹائز کر کے اسے نجی جیشوں اور لشکروں کے سپرد کر دیا۔ اس کا نتیجہ کبھی کارگل کی ناکام مہم جوئی اور کبھی بمبئی حملوں اور کبھی کپواڑہ، پلوامہ اور پٹھان کوٹ یلغاروں کی شکل میں سامنے آیا۔

مہذب دنیا کے سامنے ہم بار بار رنگے ہاتھوں پکڑے گئے اور یوں ہمیں دنیا بھر میں دہشت گردوں کی سر پرستی کرنے والی ریاست کا سرٹیفکیٹ ملا۔ دوسری طرف آل پارٹیز حریت کانفرنس کی غیر منطقی پالیسیوں کی وجہ سے سرحد کے دونوں طرف کے کشمیری نوجوانوں نے قلم کتاب کی جگہ بندوق اٹھا لی۔ سیاسی شعور مسلح کارروائیوں کی نذر ہوا اور کشمیری جگہ جگہ ریاستی طاقت کا مظلومانہ رزق بننے لگے۔ ان تین طریقوں کے علاوہ چوتھا طریقہ یو این او کی قراردادوں پر عملدرآمد کروانا ہے مگر اس منزل تک پہنچنے والا راستہ بھی سفارت کاری اور سیاسی سوجھ بوجھ کی سنگلاخ چٹانوں سے ہو کر گزرتا ہے جس میں ہم بالکل کورے ہیں۔

ہمیں آج تک یہ بھی معلوم نہ ہو سکا کہ یو این او فرمائشی اور نمائشی قراردادوں پر عملدرآمد کروانے کا پابند ہی نہیں۔ ان قراردادوں کے بعد کشمیر میں بیسیوں مرتبہ الیکشن ہو چکے اور حکومتیں بن چکی ہیں۔ اندریں حالات کوئی ذی شعور انسان ان ازکار رفتہ قراردادوں کو عملی شکل دینے کی ضد نہیں کر سکتا۔ کشمیر اب دوسرا فلسطین بن چکا ہے۔ آٹھ دس سال بعد وہاں آبادی کا تناسب متوازن ہو جائے گا۔ ہندوستانی سرمایہ کار وہاں بھاری سرمایہ کاری کریں گے۔

رفتہ رفتہ آزادی کے غبارے سے ہوا نکل جائے گی اور انڈیا کے پیر سے کشمیر کا کانٹا نکل جائے گا۔ آج مقبوضہ کشمیر پر خون کے آنسو بہانے والے ڈریں اس وقت سے جب مودی کا یار ٹرمپ دوسری بار صدر منتخب ہونے کے بعد آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مسئلے پر اسی طرح ثالثی کروانے بیٹھے گا۔ گلگت بلتسان سے یاد آیا کہ جو کام آج بھارت نے کشمیر میں کیا ہے تقریباً یہی کام آپ انیس سو اکہتر میں یہاں بھی کر چکے ہیں۔ زمینی حقائق کو تسلیم کریں۔ آج ہمیں ٹیپو سلطان کی نہیں کشمیر کے لیے ایک اور قائد اعظم کی ضرورت ہے ورنہ خاکم بدہن کشمیر کو بھول جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •