پاکستان میں عوامی تحریکیں کیسے اٹھتی ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے ستر سال میں دیکھا جائے توپاکستان میں کچھ حکومتیں انتہائی طاقتور آئی ہیں۔ ایوب خان، ضیا الحق اور پرویز مشرف کی فوجی حکومتیں تقریباً ایک ایک دہائی چلیں۔ یہ تینوں سخت قسم کے آمر تھے اور تینوں نے اپنی پسندکے مطابق سختی سے اپنے اپنے نظریات لاگو کیے جو کہ ایک دوسرے سے متضا د اور متصادم بھی تھے۔ تینوں کو ان کی خوش قسمتی سے اس وقت کے بین الاقوامی حالا ت کی مجبوریوں کی وجہ سے غیر مشروط امریکی پشت پناہی بھی حاصل رہی۔ ان کے علاوہ چوتھی مضبوط آمریت آغا یحیٰ خان کی تھی جو کہ بہت تھوڑا عرصہ چل سکی۔

اگر ہم سیاسی حکومتوں کو دیکھیں تو واحد ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت تھی جس کو مضبوط اور طاقتور کہا جا سکتا ہے۔ یہ تقریباً ساڑھے پانچ سال چل سکی۔ بھٹو انتہائی مقبول سیاست دان تھے، وہ کسی اندرونی یا بیرونی طاقت کی آشیر باد کے بھی محتاج نہ تھے۔ ان کو ملک بھی اس حالت میں ملا تھا کہ ان کی مرئی اور غیر مرئی اپوزیشن انتہائی کمزور تھی۔

ہر حکومت جب اپنے عروج پر ہوتی ہے تو اس کو کسی کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ بات مذہب کی ہو یا دنیا داری کی، سیاست کی ہو یا حکومت کی، اتحادی ہوں یا اپوزیشن، معاہدے ہوں یا وعدے، سیاسی نعرے ہوں یا حقیقتیں، غیر ملکی حکمرانوں سے دوستیاں ہوں یا مخالفتیں، سب کے ساتھ ایک جیسا ہی رویہ رکھا۔

خواہ کعبہ ہو کہ بت خانہ، غرض ہم سے سن
جس طرف دل کی طبیعت ہو ادھر کو چلئے

ان حکومتوں کا سورج جب نصف النہار پر جگمگا رہا ہوتا ہے تو یہ سب کہہ رہے ہوتے ہیں کہ میری کرسی بہت مضبوط ہے۔ ان کے مکے ہوا میں لہرا رہے ہوتے ہیں۔ پچاس نہتے سیاسی کارکن کراچی کی سڑکوں پر قتل کر کے کہتے ہیں، یہ ہے ریاستی طاقت۔

ان تمام طاقتور حکومتوں کے خلاف عوامی تحریکیں اٹھیں۔ فاطمہ جناح اور مشترکہ اپوزیشن کو ہرا کر ایوب خان، نواب آف کالا باغ جیسے مضبوط اور ظالم گورنروں کی مدد سے مطلق العنان حکومت کے مزے لے رہے تھے۔ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ آداب شہنشاہی سے ناواقفوں کو زنجیر پہنا کر رقص کرنے پر مجبور کردیا جاتا تھا۔ مضبوط کابینہ میں سے ہی ان کا دست راست، بھٹو ان کی ایک غلطی کو لے کر اٹھا اور عوام جو آمریت کے زیراثر انجام گلستاں دیکھ رہے تھے اس کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے نکل کھڑے ہوئے۔ اور زندان زندان سے اٹھتا ہوا شور انالحق، محفل محفل قلقل مے کوخاموش کر گیا۔

پھر آیا وائن، وار اینڈ ویمن کا کھلاڑی۔ عوامی دباؤجاری رہا اور کچھ برسوں میں ہی اتنا بڑھ گیا کہ ملک کے مضبوط حکمران کا گھر بھی محفوظ نہ رہا۔ وہ تو دعائیں دیں، بی ٹیم، جماعت اسلامی کو جس نے جلوس، جو اس کی رہائش گاہ کی طرف جا رہا تھا، کا رخ شراب کی دکان کی طرف موڑ دیا۔ لیکن بالآخر اس کوبھی استعفیٰ دینا پڑا۔

یہ انجام تھا پہلے دو مارشل لاؤں کا۔ عوامی تحریکیں ان کی رخصتی کا باعث بنیں۔

بھٹو کی مضبوط حکومت، عوام کی مقبول ترین حکومت۔ نوے ہزار قیدی۔ ملک بکھرا ہوا، ادارے کمزور۔ اچھے کام کیے۔ اکیلا اور صرف ایک بھٹو۔ بہت سے ماورائے عقل کارنامے انجام دیے۔ ملک کو پھر پاؤ ں پر کھڑا کیا۔ شکست خوردہ فوج کو پھر مضبوط کیا۔ لیکن اپوزیشن ہو یا ناراض ساتھی۔ سب کو رگڑا۔ 77 کا الیکشن، خالد کھرل، ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ، مخالف جماعت اسلامی کا کمزور ترین امیدوار کاغذات جمع کروانے ہی نہ پہنچ سکا۔ ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو۔

الیکشن دھاندلی زدہ۔ عوام تحریک استقلال اور عوامی نیشنل پارٹی جیسی لبرل اور جماعت اسلامی و جمعیت علمائے اسلام جیسی مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے زیر سایہ سڑکوں پر، شہروں میں مخالف پارٹی کارکنان کے درمیان لڑائیاں، منی مارشل لا، مکمل کی راہ ہموار کر گیا۔ اگر چہ اس تحر یک میں غیر ملکی اور نادیدہ ہاتھوں کی مداخلت بھی موجود تھی لیکن عوام نے ہی اس مضبوط لیڈر کی کرسی کو کمزور کیا۔

ان کے بعد کے ادوار بھی دیکھیں تو نظر ہی نہیں آتا تھا کہ ضیا الحق اور مشرف کو بھی زوال ہو سکتا ہے۔ ایم آرڈی کی تحریک ایک کو کمزور تو 9 مارچ 2007 کی غلطی دوسرے کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر گئی اور اسلام آباد سے چلا ہوا عوامی ریلا براستہ جی ٹی روڈ جب دو دن کے بعد لاہور ہائیکورٹ پہنچا تووہ سیلاب ساری حکومتی طاقت بہا لے گیا۔

پاکستان کے یہ سب مضبوط حکمران ایسی طاقت کے ساتھ سنگھاسن پر جلوہ فرما تھے کہ سب طاقتیں ایک پیج پر نہیں بلکہ ان کے ایک ہاتھ میں موجود تھیں۔ عوامی دباؤ ایسے آئے کہ ایک ایک کر سب مٹھی سے ریت کی طرح پھسل گئیں۔ کسی بھی حکومت کو بظاہر کوئی اپوزیشن دکھائی نہیں دے رہی ہوتی کہ ایک دم اس کی کوئی غلطی عوام کو بہانہ فراہم کر دیتی ہے۔ حکمران اس کو بہت توجہ بھی نہیں دیتا لیکن عوام آہستہ آہستہ اس کو نعرہ بنا لیتے ہیں اور پھر اس نعرہ مستانہ کے گرد تمام سیاسی پارٹیاں بھی جمع ہو جاتی ہیں۔

پاکستانی سیاسی پارٹیاں کمزور ہیں اور سیاستدان مقبولیت کی اس معراج تک نہیں پہنچے کہ وہ عوام کی یا عوام ان کی ڈھال بن سکیں۔ اس لئے مسائل کے مارے ہوے عوام پہلے سڑکوں پر نکلتے ہیں، یہ سیاسی پارٹیاں ان کو بعد میں قیادت مہیا کرتی ہیں۔ مسائل تہ خاک سلگ رہے ہوتے ہیں کوئی ایک چنگاری ان کو بھڑکا دیتی ہے اور آگ پھیل جاتی ہے۔ ایوب خان کو چینی کی قیمت میں اضافہ لے ڈوبا۔ یحیٰ خان ڈھاکہ کے ساتھ ہی ڈوب گیا تھا، پھر بھی وہ جانے کو تیار نہ ہوا تو عوام نے چڑھائی کر دی۔ بھٹو الیکشن میں دھاندلی کی نذر ہو گیا۔ اورمشرف تو موجودہ دور کی بات ہے، ہمیشہ کی تابع فرمان اعلیٰ عدلیہ کے ایک کمزور جج کا انکار عوام کے لئے بہانہ بن گیا۔ اور سیلاب امڈ آیا۔

دنیا کے ان تمام ممالک میں جہاں جمہوریت کو پھلنے پھولنے کو موقع نہیں ملتا حکومتوں کو ایسی ہی عوامی تحاریک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سوڈان میں روٹی کی قیمت میں اضافہ عوام کوسڑکوں پر لے آیا اور ان کو قیادت ڈاکٹرز، انجینئرز اور دودسرے پروفیشنل لوگوں نے مہیا کی، بعد میں سیاسی پارٹیاں شامل ہوئیں۔ تھائی لینڈ میں فو ج کے زیر سایہ حکمران سیاسی پارٹی کے خلاف طلبا سڑکوں پر نکلے اور پھر اپوزیشن ان ساتھ مل گئی۔ تیونس کی حکومت کے خلاف مہم کا آغاز ایک نوجوان کی خودسوزی کے بعد ہوا جس کے سبزی کے ٹھیلے کو پولیس نے پرمٹ نہ ہونے کی وجہ سے ضبط کر لیا تھا۔

اس کی یہ حرکت پورے شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک میں ’عرب بہار‘ کی بنیاد بن گئی۔ جو لیبیا میں کرنل قذافی اور مصر میں حسنی مبارک کی حکومت کو بھی لے ڈوبی۔ 1986 میں فلپائین کے آمر مارکوس کے خلاف فوجی بغاوت ناکام ہوگئی لیکن ملک میں بد امنی نے عوام کو موقع فراہم کر دیا اور اس کے فوراً بعد اسی طرح کی ایک سیاسی تحریک نے اس کو اٹھا باہر پھینکا۔

ہماری موجودہ حکومت بھی طاقت اور مضبوطی کے زعم میں مبتلا ہے اور اس کا ہر موقع پر ایک ہی نعرہ ہے کہ طا قت کے تمام مراکز اس کے ساتھ ایک پیج پر ہیں۔ انانیت اور گھمنڈ کی اس منطق کے ساتھ وہ عوام کی امیدوں اور امنگوں کا خون کرتے جا رہے ہیں۔ معاشی اور سفارتی محاذ پر ناکامیاں ان کا منہ چڑا رہی ہیں۔ ٹرمپ کی طرف سے ان کو دیا گیا ثالثی کا دھوکا انڈیا نے کشمیر کو جیل بنا کر دریاے جہلم میں بہا دیا ہے۔ اب ملک کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں اور ان کو کوئی پروا نہیں کیونکہ ساری اپوزیشن جیل میں ہے یا پیشیاں بھگت رہی ہے۔

ان کو خبر ہونی چاہیے کہ عوام احتجاج کے لئے لیڈروں اور سیاسی پارٹیوں کے محتاج نہیں ہیں۔ ان کے بازو ہی ان کی اصل طاقت ہیں اور یہی بغاوت کے لئے ضروری ہیں۔ ان کے سامنے کوئی طاقتور خود نہیں ٹک سکا تو کسی کی طاقت پر اترانے والے کیا کھڑے ہوں گے۔ کسی ایک مظلوم کا خاک اور خون میں لتھڑا ہوا ایک آنسو اصل سونامی بن کر کسی بھی وقت ان کو بہا لے جاے گا اور ان کا کوئی بھی مدد گار کچھ بھی نہیں کر سکے گا۔

احتجاج اور دعاؤں کی فضا کے مابین
دشت آفاق میں پھیلے ہوے بازو برحق
خیمہ گرد میں سہمی ہوئی آنکھیں سچی
خاک اور خون میں لتھڑے ہوئے آنسو برحق
(بیدل حیدری)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •