کیا کشمیر پر ڈیل ہو چکی ہے ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پانچ اگست سے دو ہفتے قبل بھارت کے زیر قبضہ مقبوضہ کشمیر میں فوجیوں کی تعداد اچانک بڑھنے لگی۔ یہ تعداد ہزاروں سے بڑھتے ہوئے ایک لاکھ کا مجموعہ عبور کر گئی۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر سمیت آزاد کشمیر و پاکستان میں اس عمل کو لے کر تشویش کی لہر دوڑگئی۔ یہی نہیں وزیر اعظم پاکستان جو اس سارے عمل سے ٹھیک دو ہفتے پہلے امریکہ کا دورہ کر کے آئے تھے اور انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس بات کا عندیہ دیا گیا کہ وہ کشمیر کے مسلے پر ثالثی کے لیے تیار ہیں، اور اس سے پہلے انہیں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے بھی اس مسئلے پر ثالثی کے لیے درخواست کی گئی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے دوران ٹرمپ کی اس پیش کش کو پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا تھا۔ پاکستانی قوم میں ایک جذبہ قومیت بیدار ہوا کہ ان کا لیڈر بڑا معرکہ مار آیا ہے۔ لیکن اس سب کے پس پشت کیا چل رہا تھا کسی کو کوئی خبر نہیں تھی۔ وزیر اعظم کے دورہ امریکہ سے پہلے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان گرفتاریوں کا کھیل چلتا رہا۔ نیب کرپشن اور تو چور میں پاک صاف کی گیم بڑی دلچسبی سے ٹیلی ویژن سکرینوں کی زینت بنتی رہی۔ اخباروں میں اداریے چھپتے رہے۔ اور سوشل میدیا پر سبب کارکن اپنے اپنے آقاؤں کو لیے جزا و سزا کا میدان سجائے اپنا اپنا منجن بیچ رہے تھے۔

کہانی میں زہر اس وقت بھرا جب وادی کشمیر مکمل فوجی چھاونی میں تبدیل ہو گئی۔ ”کچھ بڑا ہونے والا ہے۔ آپ نے یہ کیا تو ہم وہ کر دیں گے“ جیسی باتیں گردش کرنے لگیں۔ پاکستان میں جمہوریت کے مقدس ایوانو ں میں چوہے بلی کا کھیل کھیلنے والے حکومتی اور اپوزیشن کے رہنما اس بات سے بے خبر تھے کہ پچھلے ایک ماہ سے بھارتی میڈیا میں کیا ڈھول پیٹے جا رہے ہیں۔ اخبار کیا لکھ رہے ہیں ان سب کو اس سے کوئی غرض نہیں تھی۔ کیونکہ کسی کی ابو بچاؤ مہم چل رہی تھی اور کوئی تبدیلی کے صفحے ٹٹول رہا تھا۔

یہ سب تو چلو درکنار، جناب وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ سے واپسی کے ساتھ ہی کنٹرول لائین پر فائرنگ و گولہ باری کا تبادلہ شروع ہوا۔ کشمیریوں کی شہادتیں ہونے لگیں اس وقت تک یہاں اسلام آباد والوں کو خطرہ کی نوعیت معلوم نہیں ہو سکی تھی۔ پھر 4 سے 5 اگست کا د ن آگیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پانچ اگست کو جو کچھ دہلی میں ہونے والا تھا یہاں اسلام آباد میں موجود کچھ جمہوروں اور غیر جمہوروں کو اس کا علم تھا۔

نریندر مودی پانچ اگست کوبھارتی اسمبلی کے اجلاس سے پہلے اپنی کابینہ میٹنگ میں کیا بات کرے گا؟ کشمیر میں یہ ایک لاکھ اور کچھ ہزارسے اوپر جو تازہ فوج تعینات ہے یہ کیوں لائی گئی ہے؟ اور پانچ اگست کی شام تک بھارتی سینیٹ کس بل کی منظوری دینے والا ہے؟ یہ سب یہاں اسلام آباد والوں کے علم میں تھا لیکن یہ رازداری اورر اس پر کچھ نہ کرنا شاید ان کے اُن بیانات کی تائید تھی جو یہ اپنے دور کنٹینر میں فرمایا کرتے تھے یا یہ سب واشنگٹن ڈیل کا حصہ تھا؟

جناب نے اک بار فرمایا تھا کہ ”کشمیر کا بہترین حل اس کی تین حصوں میں تقسیم ہے۔“ جناب کا شاید مطلب یہی تھا بالکل اسی طرح تقسیم جس طرح جناب مودی نے فرمائی ہے۔ لداخ الگ جموں و کشمیر الگ الگ انتظامی اکائیاں بنادی گئیں اور یوں کشمیر کامسئلہ کاغذ پر دھری چند سطروں میں حل کرنے کی نا ممکن کوشش کی گئی۔ یہ بھول کر کہ اس ریاست کے جغرافیے میں ستر سالوں سے خون، اس کی جغرافیائی حد بندی کی لکیروں کو دوبارہ اپنے رنگ سے روشنائی دے کر تازہ کرتا رہتاہے۔

ناقدین کہتے ہیں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے لیے کئی برسوں سے بر سر پیکار تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا آئین اس بات کی تشریح کرتا ہے کہ ایک اکھنڈ بھارت کاقیام اور ریاست جمو ں کشمیرکو بھارت میں ضم کرنا ان کا مشن ہے۔ اب کی بار نریندر مودی نے الیکشن جیتنے کے فوری بعد پہلا کام اپنی فاشسٹ جماعت کے آئین کی تکمیل تھا۔ اور ہم کسی خدائی معجزے کے انتظار میں ہیں۔ اسلام آباد میں جمہوریت کے معزز ایوانوں میں تو معجزے ہو سکتے ہیں جیسے حالیہ سینیٹ انتخابت میں جن اور پریاں چئیرمین سینیٹ کا انتخاب کر گئے۔

لیکن کشمیریوں کی تاریخ کے ساتھ کوئی معجزہ نہ پہلے کبھی ہوا نہ اب ہو رہا ہے اور نہ ہو سکے گا۔ اب ہم او آئی سی کی جانب دیکھ رہے ہیں عالمی برادری اقوام متحدہ سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ اس اقوام متحدہ سے امیدیں لگائی جا رہی ہیں جس کی پیش کردہ قرارداوں کے ساتھ ایک بار پھر بڑے پیمانے پر کھلواڑ ہو گیا۔ وہ اقوام متحدہ جو فلسطین کو ابھی تک انصاف نہ دلوا سکی۔ وہ او آئی اسی جونائیجیریا شام اور فلسطین کے مسلمانوں کے لیے کچھ نہ کر سکی، جو ایران و عرب کی نفرت نہ مٹا سکی اور دنیا کے دیگر مسلم علاقوں سے مسلم کشی نہ رکوا سکی۔ اور یہاں کشمیر تو انڈسٹری ہے۔۔۔ یہاں کے تاجر اور کاروبار۔۔۔ اور پھر صنعت کاری کسی اور کی۔

6 اگست کو پارلیمنٹ کا ایک مشترکہ اجلاس ہوتا ہے وہاں آپ کی زباں آپ کے جسم کا ساتھ نہیں دیتی۔ آپ حواس باختہ نظر آتے ہیں اور سوال کرنے پر کہتے ہیں کہ ”کیا کروں میں؟ جنگ کروں؟“ گویا آپ بے بس ہیں۔ اچھا یہ تو ہم جانتے ہی ہیں لیکن خان صاحب آپ نے بھارتی وزیر اعظم کے دوبارہ انتخابات جیتنے پر انہیں مبارکباد کے ساتھ لکھ بھیجا تھا کہ امید کی جاسکتی ہے کہ اب کشمیر کا مسئلہ حل ہو گا۔ ہم کو معلوم نہیں تھا کہ آپ یہ حل پہلے سے طے کر چکے ہیں۔ آپ کا ایک بیان جو کشمیر کی تقسیم سے متعلق تھا اخباروں کی سرخیوں کی زینت بنا اور پانچ اگست کو جب کشمیر کی ناقابل قبول تقسیم ہوئی تو آپ کا وہی بیان ایک بار پھر نہ چاہتے ہوئے بھی آپ کی نظروں کے سامنے سے گزرا۔ یہ جو تقسیم کی بات آپ نے اک برس پہلے کی تھی کہیں یہ موجودہ تقسیم آپ کے اس بیان کا تسلسل تو نہیں کہیں آپ اس ڈیل کے بارے میں پہلے سے جانتے تھے یا آپ اس کا حصہ بھی ہیں؟

افسوس، شرم اور خطرے کی بات یہ ہے کہ جس ثالثی کی پیش کش امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کر چکے ہیں وہ ممکنہ طور پر پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر ثالثی ہے۔ جو 1947 والی ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے۔ اور اس حصہ پر بھی اقوام متحدہ کی قراردادیں لاگو ہوتی ہیں۔ بھارتی صحافیوں نے کچھ اخبارات میں لکھا ہے کہ نریندر مودی ریاست جموں کشمیر کی متنازعہ حثیت آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بارے میں امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کو پہلے ہی آگاہ کر چکے تھے۔

اسی کے تناظر میں امریکی صدر نے آپ سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کی۔ اب یہ ثالثی ممکنہ طور پر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر تو نہیں ہونے والی؟ خان صاحب آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر شہیدوں کی بیوائیں یتیموں کی آہیں او ر نامعلوم گولیوں بموں سے متاثرہ انسانی جانیں مایوس ہو چکی ہیں۔ ابھی تک کوئی بھی ٹھوس پالیسی بیان سامنے نہیں آسکا۔ آزاد کشمیر سمیت پاکستان سے بھی کشمیر سازش جیسی باتیں بحث و مباحثہ میں سنی جا رہی ہیں۔ کیا یہ سچ ہے خان صاحب؟ کیا کشمیر پر ڈیل ہو چکی ہے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •