اگست میں آسمان پر شہابیوں کی برسات آ رہی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ پچھلے سال اگست کی بات ہے۔ آدھی رات گزر چکی تھی اور ماحول شدید گرمی اور حبس والا تھا۔ گھڑی نے بارہ بجائے تو میں لیپ ٹاپ بند کر کے صحن کے درمیان میں کرسی ڈال کر بیٹھ گیا اور آسمان کو تکنے لگا۔ ہلکے ہلکے بادل تھے اور شہر کی روشنیوں کی وجہ سے آسمان خاصا روشن اور سرخی مائل نظر آ رہا تھا۔ بادل چھٹتے تو کوئی کوئی تارا نظر آ جاتا تھا۔

تقریبا 15 منٹ بعد میری ڈھائی سالہ بیٹی کو احساس ہوا کہ میں کمرے میں نہیں ہوں تو وہ بھی باہر آ گئی اور سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھنے لگی۔ اس کو دیکھ کر میں نے بھی اپنے بازو پھیلائے اور وہ میرے سینے سے لگ گئی۔ ابھی چند لمحے ہی گزرے ہوں گے کہ آسمان پر ایک سیکنڈ سے بھی کم وقفے کے لئے ایک شعلہ سا چمکا اور ہم دونوں حیران پریشان ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ اس کے چہرے پر حیرت کے آثار دیکھ کر میرے ہونٹوں پر بر اختیار مسکراہٹ پھیل گئی اور میری مسکراہٹ کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ دانتوں میں انگلی دبا کر شرمانے لگی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا ہوا تو وہ اور زیادہ شرما گئی۔ میری بیٹی نے زندگی میں پہلی دفعہ ٹوٹتا تارا (شہابِ ثاقب) دیکھا تھا اور یہ منظر دیکھنے کے بعد اس کے چہرے پر حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات میں شاید ساری زندگی نہیں بھول سکوں گا۔

سوئفٹ ٹٹل ایک دمدار سیارہ ہے جو سورج کے گرد تقریبا 133 سال میں اپنا چکر پورا کرتا ہے۔ پچھلی دفعہ یہ سیارہ 1992 میں زمین کے انتہائی نزدیک سے گزرا تھا اور اب 2126 میں دوبارہ دیکھا جا سکے گا۔ یہ سیارہ اپنے پیچھے بے شمار پتھر اور گرد کے ذرات چھوڑ جاتا ہے جو عموما مٹر کے دانے سے بھی چھوٹے ہوتے ہیں۔ ہر سال اگست میں زمین گرد کے ان بادلوں میں سے تقریبا ایک لاکھ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گزرتی ہے۔ ان میں سے کچھ پتھر زمین کی کشش ثقل کی وجہ سے تیزی سے زمین کی طرف گرتے ہیں اور ہوا سے رگڑ کھا کر جلنے لگتے ہیں۔ اس طرح سال کا سب سے خوبصورت قدرتی آتش بازی کا شو تشکیل پاتا ہے جس کو پرسیئڈ میٹیور شاور کہتے ہیں۔

شہاب ثاقب کی بارش کا یہ سلسلہ تقریبا سترہ جولائی سے شروع ہوتا ہے اور چوبیس اگست تک جاری رہتا ہے تاہم سب سے زیادہ شہاب ثاقب بارہ اور تیرہ اگست کی درمیانی رات کو گرتے ہیں۔ اگر مطلع ابر آلود نہ ہو، ہوا صاف ہو، چاند کی روشنی نہ ہو اور آپ شہر سے دور کسی کم روشن علاقے میں ہوں تو فی گھنٹہ آپ تقریبا 200 شہابِ ثاقب دیکھ سکتے ہیں۔ اس سال چونکہ ان دنوں چاند خاصا بڑا ہو چکا ہو گا اس لئے چاند کی روشنی میں بہت زیادہ شہاب ثاقب نظر آنے کی امید نہیں کی جا سکتی تاہم پھر بھی آپ فی گھنٹہ 50 کے قریب بڑے شہاب ثاقب دیکھ سکیں گے۔ تاہم گیارہ اگست کو ڈیڑھ بجے اور بارہ اگست کو فجر سے کچھ پہلے ساڑھے تین بجے چاند غروب ہو جائے گا اور چاند کی غیر موجودگی میں آپ اس سالانہ آتش بازی سے پوری طرح لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

مجھے تقریبا بیس سال پہلے اگست کی وہ شام ابھی بھی نہیں بھولتی جب میں اور میرے والد صحن میں بیٹھے تھے۔ مغرب کی اذان ہوئے ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے جب ہم دونوں کی نظر مغرب کی طرف افق پر ایک بڑے سے شہابیے پر پڑی۔ ہم دونوں نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا اور والد صاحب نے مجھ سے پوچھا یہ کیا تھا؟ میں سکول میں پڑھتاتھا اور شاید اس سے پہلے میں نے کبھی ٹوٹتا تارا نہیں دیکھا تھا۔ میں نے ان کو جواب دیا کہ یہ شہاب ثاقب تھا۔

ہم دونوں حیران تھے کہ اتنا بڑا اور واضح شہاب ثاقب بھی ہوتا ہے؟ بچپن سے لڑکپن اور پھر جوانی آتے آتے وہ ”لذت آشنائی“ کسی وجہ سے ماند پڑ جاتی ہے اور نئی چیزوں کی کھوج کی خواہش ”ضروری کاموں“ کے بوجھ تلے کہیں دب کر رہ جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک ایسا وقت بھی آتا ہے جب انسان کو اتنی بھی فرصت نہیں ملتی کہ چند لمحے سر اٹھا کر اوپر ہی دیکھ لے۔

بچوں میں شوق اور تجسس قدرتی طور پر پائے جاتے ہیں۔ لیکن ہم چونکہ ایک ترقی پذیر ملک کے باسی ہیں جہاں شوق اور خواہش جیسی آسائش ہر کوئی افورڈ نہیں کر سکتا اس لیے بہت جلد ہمیں شوق کا لبادہ اتار کر ذمہ داریوں کا طوق پہننا پڑتا ہے۔ اسی لئے ہم میں نہ کوئی آئن سٹائن پیدا ہوتا ہے نہ کوئی موزارٹ۔ تاہم آج انٹرنیٹ، انفارمیشن، مقابلے اور سائنس کا دور ہے اور مجھے امید ہے کہ آج کے والدین اپنے بچوں میں قدرت اور سائنس کا تجسس بیدار کرنے کی پھر پور کوشش کرتے ہوں گے۔

ایسے میں شہابیوں کی بارش کا یہ قدرتی شو ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ آپ نے کرنا صرف یہ ہے کہ شام سے ہی گھر کی سب روشنیاں بجھا دینی ہیں، اپنی آنکھوں کو موبائل یا لیپ ٹاپ کی سکرین سے دور رکھنا ہے تاکہ آنکھیں اندھیرے سے مانوس ہو جائیں اور اپنی نظر آسمان کی طرف رکھنی ہے تاکہ خدائے لم یزل کی قدرت کا یہ حسین مظہر اپنا جادو آپ پر اور آپ کے بچوں پر چلا سکے۔ اگر آپ کو نیچر فوٹوگرافی کا شوق ہے تو آپ کو اس سے اچھا موقع مل ہی نہیں سکتا۔

کھولی ہیں ذوقِ دید نے آنکھیں تیری اگر
ہر راہ گزر پہ نقشِ کفِ پائے یار دیکھ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد بلال، لاہور کی دیگر تحریریں
محمد بلال، لاہور کی دیگر تحریریں