مسئلہ کشمیر کا فوری حل کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چوری ہونے کے بعد چور کو فورا پکڑ کر چھترول کرنا اور اپنا سامان برآمد کروانا تھانے میں ایف آئی آر درج کروانے سے زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ پاکستان کی شہ رگ پر چوری ہو چکی ہے۔ اب شور مچانے اور ایف آئی آر درج کروانے سے بہتر ہے کہ چور کو پکڑا جائے، چھترول کی جائے اور اپنے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔

لیکن بھارت کی جانب سے کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کے فیصلے کے بعد پاکستان چور پر حملہ کرکے نقصان کا ازالہ کرنے کی بجائے پوری دنیا میں بھارت کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو کہ بھارت کو صرف بیانات کی حد تک شرمندہ کرنے کا باعث بنے گا۔ پاکستان اگر یہ معاملہ بین الاقوامی عدالت میں لے جاتا ہے اور عدالت ہندوستان کے خلاف فیصلہ دے بھی دیتی ہے تو ہندوستان اس پر عمل نہیں کرے گا کیونکہ ہندوستان نے کشمیر کے معاملے میں آج تک اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہیں کیا تو عالمی عدالت کے فیصلے پر کیسے عمل کرے گا۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ نہ تو اقوام متحدہ آج تک بھارت کا کچھ بگاڑ سکا ہے اور نہ ہی دیگر عالمی ادارے کچھ کر سکے ہیں۔

ایک خیال یہ ہے کہ ہندوستان نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑا مارا ہے۔ جو معاملہ صرف دو ممالک کے مابین تھا وہ آج پوری دنیا کے درمیان ہے۔ بھارت نے صرف اس حد تک تو پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے کہ دنیا ہندوستان کو برا بھلا کہے گی، غیر جمہوری ہونے کا طعنہ دے گی، انسانی حقوق کی تنظیمیں ہندوستان کے خلاف مورچہ نکالیں گی، مہذب دنیا میں نریندر مودی کے خلاف احتجاج ہوں گے اور او آئی سی کے اجلاس میں ہندوستان کو برا بھلا کہ کر قرارداد منظور کر لی جائے گی۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سے ہندوستان کی صحت پر کیا اثر پڑے گا؟ کیا ہندوستان ان اقدام سے پریشر میں آ جائے گا؟ کیا ہندوستان آرٹیکل 370 کے خاتمے کا فیصلہ واپس لے گا؟ کیا ہندوستان اپنی دھونس جمانے سے باز آ جائے گا؟

میری رائے کے مطابق ان اقدامات سے ہندوستان کے عمل پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ کیونکہ ماضی قریب میں جو فلسطین کے ساتھ ہوا اس پر پوری دنیا کا سرد رویہ سب کے سامنے ہے۔ حتیٰ کہ جب امریکہ نے اپنا قونصلیٹ یروشلم منتقل کیا تھا تب بھی ماہرین کا خیال تھا کہ ایک کہرام مچ جائے گا۔ مسلم دنیا اٹھ کھڑی ہو گی۔ امریکہ کے اس فیصلے کو پوری دنیا رد کر دے گی۔ لیکن سب نے دیکھا کہ کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ روایتی مذمتی بیان دیے گئے اور گونگلوں پر سے مٹی جھاڑ دی گئی۔ جس میں او آئی سی کا کردار سب سے زیادہ کمزور رہا۔ بھارت نے یہ فیصلہ کرنے سے پہلے فلسطین کے معاملے کا بغور جائزہ ضرور لیا ہو گا۔ فلسطین کے معاملے پر پوری دنیا کی خاموشی نے بھارت کی ہمت بڑھائی ہے۔ ماضی میں دنیا کے کتنے ممالک کشمیر کے معاملے میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں یہ دنیا بھی جانتی ہے اور بھارت بھی اس سے بخوبی واقف ہے۔ لہذا ہندوستان کا اپنا فیصلہ واپس لینا بظاہر ناممکن نظر آتا ہے۔

بھارت آرٹیکل 370 کو صرف اس صورت میں واپس لے سکتا ہے جب کشمیر کے اندر سے ایسا ردعمل سامنے آئے جو براعظم ایشیا کے سکون کو غارت کر دے۔ کشمیر کے اندر بھارت کے خلاف ایسی آگ لگے جو بجھانے سے مزید بھڑکنے لگے۔ بھارتی فوج کی ساتھ ایسی قیامت برپا ہو جو دنیا کو ہلا کر رکھ دے۔ کشمیر کے اندر سے ایسی مزاحمت آئے کہ دنیا ماضی کی مزاحمتوں کو بھول جائے۔ یاد رکھیں کہ یہ مزاحمت پاکستان کے تعاون کے بغیر ناممکن ہے۔ ہندوستان یہ فیصلہ واپس لینے پر اس وقت غور کرے گا جب پاکستان کشمیر میں دراندازی کرے، بارڈر پر حالات کشیدہ ہوں، پاکستان اور ہندوستان کی باقاعدہ جنگ شروع ہو اور اس روایتی جنگ کو ایٹمی جنگ میں بدلنے سے روکنے کے لیے امریکہ، برطانیہ، روس اور چائنا سمیت تمام بڑی طاقتیں مداخلت کریں اور ہندوستان کو اپنا فیصلہ واپس لینے کے لیے مجبور کریں۔ اس کے علاوہ کوئی موثر حل نہیں ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •