کاش میں آپ کی بیٹی ہوتی !

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک خیال میں گندھی یہ خواہش ہوا کے دوش پہ تیرتی ہوئی ہم تک آن پہنچی اور ہماری آنکھ سے آنسو ٹپک پڑے۔ نہ جانے اس معصوم خواہش کے پیچھے کرب تھا یا کوئی ناتمام حسرت، جبر یا کوئی سسکی، ایک کراہ، ایک نالہ جو ہمارا جگر چیر گیا۔ ہمارے معاشرے میں عورت کے مقام کی سچی اور تلخ حقیقت!

ہم متضاد کیفیات کا شکار ہوئے، خوش کہ ہم مردانہ بالادستی کے اسیر معاشرے میں عورت کے حقوق کے علمبردار کے طور پہ جانے گئے اور یہ ہماری پہچان آج سے نہیں بلکہ اس دن سے جب شعور کی سرحد پہ قدم رکھا۔ ہمیں فخر محسوس ہوا کہ کسی معصوم دل نے ہمیں اپنی ماں کا مقام دینے کی خواہش کی اور اداس کیا کہ جانے وہ کیا تشنہ لبی ہے جو اس بیٹی کو مضطرب کرتی ہے!

زندگی کی کہانیاں سن سن کے جانتے ہیں کہ ہمارا پدرسری معاشرہ لڑکی ذات کو ایک ادنیٰ شہری قرار دیتا ہے۔ برہمن ذہنیت رکھنے والے لوگ لڑکی کو شودر سمجھنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے اور یہ سلوک اس دن سے شروع ہوتا ہے جس دن سے حمل ٹھہرتا ہے۔

حمل کی خبر سنتے ہی ساس پوتے کی آس لگائے مصلے پہ بیٹھ جاتی ہے۔ شوہر بیٹا پیدا کرنے کا فرمائشی پروگرام سنا دیتا ہے۔ خاندان کی بڑی بوڑھیاں اپنی ذات کی نفی کرتے ہوئے بیٹا پیدا ہونے کی دعائیں بانٹنا شروع کر دیتی ہیں۔

پہلے الٹرا ساؤنڈ پہ ہی ڈاکٹر سے جنس جاننے کی فرمائش کی جاتی ہے۔ بیٹے کی صورت میں سب کے چہرے کھل اٹھتے ہیں۔ بیٹی کی صورت میں ایک مرجھائی سی مسکراہٹ چہرے پہ دوڑتی ہے اور ٹھنڈی سانس بھر کے کہا جاتا ہے، اللہ کی مرضی! اور کہیں کہیں تو حمل گرانے کے منصوبے ترتیب دے دیئے جاتے ہیں۔

یہ ہے حوا کی بیٹی جو پیدا ہونے سے پہلے ہی رانده درگاہ قرار دی جاتی ہے۔ جس کی آمد کسی کے دل میں خوشی کی جوت نہیں جگاتی۔ بیٹا پیدا ہونے کی صورت میں ہسپتال میں لڈو بٹتے ہیں، بیٹی ہونے کی صورت میں آہیں۔ کوئی بھرے منہ مبارک بھی نہیں دیتا۔ اگر کچھ پوچھ لیا جائے تو برا سا منہ بنا کے کہا جا تا ہے، کیا کریں؟ بیٹی کےنصیب سے ڈر لگتا ہے!

چلیے بیٹی پیدا ہو گئی اور اب بچپن سے ہی بوجھ سمجھی جا رہی ہے۔ باپ بھائی گھر ہوں تو اونچا نہیں بولنا، ان سے لاڈ نہیں کرنا، کسی چیز سے اختلاف نہیں کرنا، کسی بات کا جواب نہیں دینا، کوئی سوال نہیں کرنا، اپنی جائز خواہشات کا اظہار نہیں کرنا۔ جو بات بیٹے کے لئے صحیح ہے وہی بات بیٹی کے لئے غلط۔ گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں، سہیلیوں سے ملنے کا رواج نہیں۔ رنگ، روشنی، خوشبو، ہنسی اور آزادی پہ اختیار نہیں۔

تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی بجائے جہیز جمع کرنے کی فکر ہے۔ بوجھ سمجھ کے سر سے اتارنے کی جلدی ہے۔ دن مہینے گنے جا رہے ہیں کہ کب بچپن کی سرحد پار کرے اور بیٹی کو ٹھکانے لگایا جائے۔ اچھے خاصے باشعور لوگ یہ کہتے نطر آتے ہیں کہ وہ دن جلد آئے جب ہم اس فرض سے فارغ ہوں، بیٹی کو کسی اور کے سر منڈھنے کا فرض! ایک مالک سے دوسرے مالک کے حوالے کرنے کی سبک دوشی!

حق تو یہ ہے کہ جس لڑکی کو آپ اپنی مرضی سے اس دنیا میں لے کر آئے، اسے معاشرے میں سر اٹھا کے کھڑا کرنے کے قابل بنانا آپ کا خواب ہونا چاہیے۔ علم کی دولت اس کی جھولی میں ڈالنےکا ارمان ہو، جہیز جمع کرنے کی بجائے اس کی مالی خود مختاری کا بندوبست کیا جائے۔ اسے اپنا حق لینے کی تربیت دی جائے۔ زمانے سے ٹکر لینے کا اعتماد بخشا جائے۔ جس مقدر کو سوچ کے آہ بھری جاتی ہے اس کا علاج تعلیم اور کھلی پرواز میں ڈھونڈا جائے نہ کہ ایک اور پنجرے میں ڈال کے مطمئن ہوا جائے کہ یہی نصیب ہے۔

حق یہ ہے کہ وراثت میں حق معاف کرانے کی بجائے اسے ساتھ کھڑا کیا جائے۔ شادی میں اس کی رائے مقدم جانی جائے اور یہ کہہ کے رخصت مت کیا جائے کہ جہاں ڈولی جا رہی ہے وہاں سے جنازہ نکلے۔ وہ ظلم کی چکی میں پستی رہے لیکن طلاق کا مت سوچے اور طلاق کی صورت میں گھر کے دروازے اس پر تو کھلیں مگر اس شرط پہ کہ وہ اپنے جگر گوشے چھوڑ کے واپس آئے۔

یاد رکھیے، عورت کے دل کا خمیر ایسی مٹی سے اٹھا ہے جس پہ اگر محبت کی بارش کی پھوار نہیں گرے تو وہ بنجر زمین بن کے چٹخ جایا کرتی ہے۔ سب ارمانوں اور آرزوؤں کو دفنا کے جیتی جاگتی عورت حنوط زدہ لاش بن جایا کرتی ہے جو سانس تو لیتی ہے مگر کسی اور کی مرضی سے۔

ان تمام لڑکیوں اور عورتوں سے، جو ہمیں پڑھتی ہیں اور ہمیں اپنی آواز سمجھتی ہیں، سے یہ کہنا ہے کہ ہمارا دل آپ کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ وقت اور زمانہ ہمارے درمیان حائل ضرور ہے لیکن ہم آپ کی ان کہی سنتے ہیں اور اس کا کرب ہمارے احساس پہ اترتا ہے۔

ہماری یہ تمنا ہے کہ ایک دن وہ صبح طلوع ہو جب ہر عورت آزاد ہو، اپنی خواہش کی مالک ہو، اس کا ٹھکانہ قوس وقزح سے بھرا آسمان ٹھہرے، معاشرے کا قفس نہیں!

اور یاد رکھیے عورت ہونا اعزاز ہے، شرمندگی نہیں!

اک دن رہیں بسنت میں

اک دن جئیں بہار میں

اک دن پھریں بے انت میں

اک دن چلیں خمار میں

دو دن رکیں گرہست میں

اک دن کسی دیار میں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •