لڑکی کو تعلیم دینا قوم کو تعلیم دینے کے مترادف ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تمام افراد کے لیے عالمگیر، جامع، مساوی اورشمولیتی تعلیم پائیدارترقی کا ایک انتہائی اہم ہدف ہے۔ اس چیزپرناقابل تردید اتفاق رائے ہے کہ عالمی وقومی سطح پر تمام افراد کو مساوی و معیاری تعلیم اوراستعداد سازی کے مواقع کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ تعلیم ایک بنیادی انسانی حق ہے اوراسے کسی بھی قوم کی پائیدارنمو اورترقی سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا بھر میں اس بات کو یقینی بنانے کی اجتماعی کوششیں کی جارہی ہیں کہ 2030 تک دنیا کی تمام لڑکیاں اورلڑکے مفت، مساوی اورمعیاری پرائمری و سیکنڈری تعلیم حاصل کرلیں جس سے بلاشبہ ضروری اورمؤثرلرننگ آؤٹ کم کی راہ ہموارہوگی۔

اگرکوئی بھی ملک یہ ہدف حاصل کرنا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ وہاں لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے تمام فریقین اجتماعی جدوجہد کریں۔ نوعمرلڑکی کو تعلیم دینا ایک خاندان کو تعلیم دینے کے مترادف ہے۔ کوئی قوم صرف تعلیم کے ذریعے ہی معیارزندگی اورعورتوں کی خودمختاری کو فروغ دے سکتی ہے اوردنیا میں انتہاپسندی، غربت، موسمیاتی تبدیلی اورعدم مساوات کا مقابلہ کرسکتی ہے۔ پاکستان کی اپنی منفرد مشکلات ہیں اوربدقسمتی سے اس کا شماران ممالک میں ہوتا ہے جومؤثراورمعیاری تعلیم کے لحاظ سے بدترین حالات کا شکارہیں۔ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 25۔ الف تمام افراد کو تعلیم تک رسائی کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔ آئینی دفعات کے باوجود، تقریبا اڑھائی کروڑبچے اب بھی سکول نہیں جاتے جن میں سے 55 فیصد لڑکیاں ہیں۔

پاکستان میں ایسی مشکلات کی کئی پرتیں ہیں جوکسی بھی لڑکی کے مفت و لازمی تعلیم کے حق سے مستفید ہونے کی صلاحیت اورموقع پراثرانداز ہوتی ہیں۔ ان میں سے زیادہ ترایسی کمیونٹیوں میں والدین کے سماجی و ثقافتی رویے ہیں جہاں لڑکیوں کے ساتھ امتیاز برتا جاتا ہے، اورمضبوط پدرسری نظام میں ان کی تعلیم کو قابل قدرنہیں سمجھا جاتا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم کوقابل ترجیح نہیں سمجھا جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ تعلیم کا مجموعی ڈھانچہ کئی لحاظ سے صنفی تعصب پرمبنی ہے اوراسے سرایت پزیردقیانوسی خیالات، سماجی رسوم ورواجات کی حمایت حاصل ہے جس کے باعث لڑکیوں کے خلاف امتیاز کو مزید تقویت ملتی ہے۔

دوسرا مسئلہ تعلیمی اخراجات کا ہے۔ ناکافی سرکاری تعلیمی بجٹ، شفافیت اورجوابدہی کا فقدان بھی تعلیم اورشرح خواندگی میں کمی کا سبب ہے۔ یونیسکو نے سفارش کی تھی کہ قومی بجٹ کا کم ازکم 20 فیصد ( اور۔ یا جی ڈی پی کا چھ فیصد) تعلیم پرخرچ کیا جائے۔ مجموعی طورپر، کم آمدنی والے ملکوں میں ریاستی آمدنی کا صرف 17 فیصد (یا جی ڈی پی کا 3.7 فیصد) خرچ ہوتا ہے۔ پاکستان میں یہ ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ تعلیم پرسرکاری خرچ جی ڈی پی کے 2.5 فیصد سے کم ہے جو، جی ڈی پی کے 7 فیصد، جس کا قومی تعلیمی پالیسی میں عہد کیا گیا تھا، سے کم ہے۔ مزید یہ کہ صنفی تفاوت منصوبہ بندی اوربجٹ سازی میں بھی نظرآتی ہے۔ مناسب وسائل کی تخصیص میں ناکامی سے سرکاری تعلیم پرلوگوں کا اعتماد اٹھتا جارہا ہے جس کے باعث تعلیم کی نجکاری کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ نجی تعلیم مہنگی اورلوگوں کی استطاعت سے باہرہے اوریہ معاشرے میں ناہمواریوں کو جنم دیتی ہے۔

مشکلات کی ان مختلف انواع سے نبٹنے کے لیے کئی ملکی و عالمی تنظیمیں کام کررہی ہیں جو مؤثرتعلیمی پالیساں وضع کرنے کے حوالے سے حکومت کو سفارشات پیش کرتی اوراس کی مدد کرتی ہیں۔ ان میں سے ایک معروف تنظیم ہیومن ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن (ایچ ڈی ایف) ہے جو علم کی غربت پرکام کررہی ہے۔ ایچ ڈی ایف تمام افراد کے لیے مساوی و معیاری تعلیم کے لیے کوشاں ہے تاکہ تمام بچے خاص کرلڑکیاں اپنی تمام صلاحیتوں کا ادراک کرسکیں۔ ایچ ڈی ایف مقامی اقداراورثقافت کو مدنظررکھتے ہوئے صنفی مساوات اورکمیونٹی کی شمولیت کے لیے سرگرم عمل ہے۔ والدین۔ اساتذہ ایسوسی ایشن (پی ٹی ایز) کمیونٹی کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اوروالدین کو اپنے بچوں کی تعلیم کے عمل میں شریک کرتی ہے۔

گذشتہ چند برسوں میں آکسفیم نے ایچ ڈی ایف کے تعاون سے سول سوسائٹی کی دیگرتنظیموں کے ساتھ مل کرلڑکیوں کی تعلیم کے حق میں ایک اجتماعی مہم چلائی ہے، پالیسی سازی اوراس کے نفاذ، دونوں سطحوں پر۔ اس اجتماعی سوچ کی بنیاد اتحاد سازی، مہم سازی، اورشہادت اکٹھا کرنے پرہے تاکہ وسائل کی بہتراورمساوی تقسیم کے لیے جدوجہد کی جاسکے۔

ایچ ڈی ایف نے حالیہ برسوں میں شہریوں کوعملی سرگرمیوں کا حصہ بنانے کے لیے نہ صرف آکسفیم اوردیگرساتھی تنظیموں کی مدد کی ہے بلکہ لڑکیوں کی تعلیم کی حالت میں بھی بہتری لائی ہے۔ مطلوبہ آوازاور جوابدہی کو مضبوط بنانے اوروالدین اوردیگرفریقین کو اپنی بچیوں کو سکول بھیجنے پرآمادہ کرنے اورلڑکیوں کی تعلیم کے لیے مزید وسائل دینے کے لیے اداروں کو قائل کرنے کے عمل میں مدد کی گئی۔ اسی طرح، یہ کوشش بھی کی گئی کہ بجٹ سازی کرتے وقت صنف کے عنصرکو مدنظررکھا جائے اورتعلیمی نظام کے اندرمنصوبہ بندی سیاسی قوت ارادی کے ذریعے ہو اوراس مقصد کے لیے پنجاب اورسندھ میں دوتعلیمی کوکس قائم کیے گئے۔ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے سیاسی قوت ارادی پیدا کرنے اورپالیسی سازی کے اداروں میں بحث تیزکرنے کے لیے پالیسی پیپرزتیارکیے جاتے ہیں۔

ایچ ڈی ایف۔ آکسفم کے تجربے اور سرگرمیوں کی بنیاد پر، اس بات کے بلاشبہ خاطرخواہ شواہد موجود ہیں کہ تعلیم کے بحران پر قابو پانے کے کئی متبادل طریقے موجود ہیں، خاص کر پاکستان جیسے ملک میں جو انسانی ترقی کے لحاظ سے نچلے درجے میں شمار کیا جاتا ہے۔ چند اہم اقدامات میں ملکی وسائل کے بہتر انصرام کے ذریعے تعلیمی سرمائے میں اضافہ کرنا، بہتر تعلیمی منصوبہ بندی اور بجٹ کی تخصیص، بالخصوص صنف کے لحاظ سے حساس بجٹ کی تخصیص اوررجعت پسندانہ ٹیکس کی بجائے ٹیکس کا ترقی پسندانہ غریب حامی نظام شامل ہیں۔

تمام سطحوں پر جدید منصوبے اور شمولیت کی بدولت ان حکمت عملیوں کے ذریعے لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی میں اضافہ کرنے میں مدد ملے گی جو طلباء، والدین، کمیونٹی کے اراکین کی استعداد میں اضافہ کرتی ہیں، تاکہ حکومتی عہدے داروں کو ترغیب دی جاسکے کہ وہ اپنی معیاری تعلیم کی فراہمی کی ذمہ داری کو پورا کریں۔ ان اقدامات کے علاوہ، اسکولوں میں سہولیات کو بہتربنانے اور اسکولوں میں داخلے کی شرح کو بڑھانے کی بھی اشد ضرورت ہے۔

اس حوالے سے ایک اقدام یہ ہوسکتا ہے کہ ان طلباء کو وظائف دیے جائیں جو تعلیم کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے۔ آکسفم جیسی بین الاقوامی تنظیمیں اس ماڈل کا تجربہ کرچکی ہیں جس سے نہ صرف اسکولوں میں داخلے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اسکول چھوڑنے کا تناسب بھی کم ہوا ہے۔ وظیفے اوراس سے جڑے فوائد کی بدولت طلباء کے والدین کے رویوں میں بھی تبدیلی آئی ہے اور وہ تعلیم کو پہلے سے زیادہ اہمیت دینے لگے ہیں۔ چونکہ خاندانی معاملات میں ہر اقدام اورفیصلے کا تعلق معاشیات سے ہوتا ہے، اس لیے تعلیم کا تعلق بھی ہنر میں اضافے کے پروگرام سے جوڑنا ہوگا۔

اس سے نہ صرف معاشی مواقع میں اضافہ ہوگا بلکہ اس سے خواتین بھی اس قابل ہوسکیں گی کہ وہ گھریلو اخراجات کا انصرام کرسکیں اور اس میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ اس سے خواتین گھریلو معاملات میں اپنی رائے دینے کے بھی قابل ہوسکیں گی، اور یوں وہ اپنی بیٹیوں کو اس بات کا اختیار دے سکیں گی اور ان کی حمایت کرسکیں گی کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھیں۔ اس سے خاندانوں میں استحکام اور خوشحالی آئے گی۔ اگر ان خواتین کو اپنی آمدن کے مواقع میں اضافہ کرنے والی سرگرمیوں کے حوالے سے مالی اداروں اور مقامی منڈی کے کرداروں سے منسلک کیا جائے تو وہ اپنے ہنر، مصنوعات اور خدمات کے ذریعے ملک کی مجموعی معاشی بہبود میں بہت بڑا کردار ادا کرسکتی ہیں۔

پاکستان میں مقامی سطح پر لڑکیوں کی تعلیم کو درپیش مختلف قسم کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، اور حکومت کی بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ شراکت داری اور مقامی حکومت کے ساتھ گہرے روابط اس مسئلے کے حل کی کنجی ہیں۔ با اختیار خواتین تعلیم کی داعی اور ممکنہ طور پر مستقبل کی قائد بن جاتی ہیں۔ اپنے حقوق سے آگاہی حاصل کرکے، وہ اپنی اجتماعی زندگیوں کے مستقبل کی راہ متعین کرسکتی ہیں۔ تعلیم کے لوازمات جن میں دستیابی، رسائی، قبولیت اور موافقت شامل ہیں، صرف اس وقت حاصل ہوسکتے ہیں جب مقامی، ضلعی، قومی اور بین الاقوامی شراکت دار آپس میں اشتراک کریں اور تمام سطحوں پر جوابدہی کا مضبوط نظام موجود ہو۔ رجائیت اور عاجزانہ اقدامات اور ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اشتراک کی بدولت معاشرے کی ذہنیت تبدیل کرنے اور کمیونٹی اور ادارتی سطح پر صنفی عدم مساوات کے حوالے سے دائمی ترقی دیکھنے کو ملے گی۔

٭

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سجاد حسین، اسلام آباد کی دیگر تحریریں
سجاد حسین، اسلام آباد کی دیگر تحریریں