مردان میں مشال خان کا بے گنہ لاشہ آج بھی غیر مستور ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آبادی کے اعتبار سے ضلع مردان صوبے کا دوسرا جب کہ پاکستان کا انیسواں بڑا ضلع ہے۔ ضلع مردان کا نام ایک مذہبی پیشوا ”پیرمردان شاہ“ کے نام سے منسوب ہے۔ ضلع مردان کے گردونواح میں مشہور تاریخی اور ثقافتی مقامات، جیسا کہ تخت بھایی، شہباز گڑہ، جمال گڑھی اور اشوکہ کا کچھ ترکہ موجود ہیں، جو اس ضلع کو دلکش اور تاریخی بناتا ہے۔ مردان ایک زرعی ضلع ہے، لیکن یہاں کے اکثر باشندے تعلیم یافتہ اور نوکر پیشہ ہیں۔ اعداد شمار کی ایک تحقیق کیمطابق یہاں شرح تعلیم 48 فیصد ہے۔

یہاں یونیورسٹیز، کالجز، انسٹیٹیوٹس، کھیل کھود کے میدان، ہسپتال، جم خانہ، عجائب گھر، شیخ ملتون جیسی رہایشی سوسایٹیز، میکڈونلڈ، پیزا ہٹ اور ٹکالہ جیسا ریسٹورنٹ بھی موجود ہیں۔ یہاں کے رہائشی اپنی فیملیز کے ساتھ کھانا کھانے کے لیے ہوٹلنگ کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ مردان شہر نے تاریخ میں بہت سارے ابواب رقم کیے ہیں۔

جیسے ہی رشکی انٹرچینج سے اتر کر مردان میں داخل ہوا تو ایک بڑے سائن بورڈ پہ نظرپڑی۔ ”مسکرائیے، آپ مردان میں ہو“، ایک لمحے کے لیے سوچا، بھائی کیوں مسکراؤں، کیونکہ آگے سڑک موٹر وے سے اچھی ہے؟ کیوں مسکراؤں بھائی؟ اس مردان سے تب سے ڈر لگنے لگا ہے جب سے اس نے ایک بے قصور انسان سے زندگی کا حق چھینا ہے۔ جی میں مشال خان شہید کی بات کررہا ہوں۔ پھر سوچا شاید اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ جن ظالموں نے مشال خان کو شہید کیا تھا، انہیں سزا مل گئی ہے، اس لیے مسکرانے کو کہہ رہا ہے۔ پھر بھی نہیں مسکرا سکا کیونکہ بہت سارے قاتلین تو اب بھی آزاد پنچھی ہیں۔ اس کشمکش میں سفر کرتا رہا کہ مسکراؤں یا مسکراتے ہوئے رو پڑوں۔ اتنے میں دوست نے کہا، ”چلیں بھائی شیخ ملتون پہنچ گئے ہیں۔“ اترا لیکن مسکرایا پھر بھی نہیں۔

13 اپریل 2017 سے لیکرآج تک مشال خان کیس میں اتنی ڈویلپمنٹ ہوئی ہے کہ اب مذہبی ٹولے کے علاوہ، یونیورسٹی اور کالج کے طلباء سب یہ سمجتھے ہیں کہ ”جی مشال خان واجب القتل تھا۔“ حالانکہ مشال خان کو قتل بھی یونیورسٹی کے طلباء نے کیا تھا لیکن قتل کی حجت مذہبی ٹولے نے دی تھی۔ اور بعد میں بھی وہی مذہبی ٹولہ قتل کو عین شرعی عمل سمجھتے رہے۔ مشال خان شہید کے قتل کو شرعی قرار دینے کے لیے ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ کچھ دلیلیں وضع ہوتی رہیں، مثلاً ”کچھ کیا ہوگا، اس لیے تو قتل ہوا ہے، ورنہ میں اور آپ کیوں نہیں قتل ہوتے۔“

جی صحیح کہہ رہے ہیں۔ کچھ کیا ہوگا اس لیے تو قتل ہوا ہے اور ہم اس لیے قتل نہیں ہوئے کیونکہ ہم نے کچھ نہیں کیا۔ چلیں کچھ کیا بھی نہیں لیکن پھر بھی یہ حق کس کو پہنچتا ہے کہ لوگوں کو قتل کرتا پھرے؟ مشال خان شہید کے قتل کو جائز قرار دینے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ ”مشال خان چونکہ اسلام سے منکر اور ایک کمیونسٹ انسان تھا، جس کی تربیت روس میں ہوئی تھی۔ اگر مشال خان قتل نہ ہوتا تو اب تک اس سماج میں الحاد، کیمونزم اور روسی نظام رائج ہوچکا ہوتا۔“

کہانی کچھ یوں ہے۔ پچھلے ہفتے ایک دوست کے ساتھ ایک امن ورکشاپ کے سلسلے سے مردان جانا پڑا۔ ورکشاپ میں مدرسے کے طلباء کے ساتھ یونیورسٹی، سکول اور کالج کے طلباء بھی موجود تھے۔ امن کی تعریف سے بات شروع ہوئی اور تشدد اور تشدد کی وجوہات سے ہوتے ہوئے مکالمہ آکر مشال خان کے قتل پر ٹھہرا۔ اب چونکہ میرے من یہ بات تھی کہ یہ مجمع دو فریقین یعنی حزب اختلاف اور حزب اتفاق میں تقسیم ہوجایے گا۔ لیکن ایسا سوچنا میری غلطی نہیں گناہ کبیرہ تھا۔

میں تب حیران ہوا، جب علی الکل نے مشال خان کے قتل کو جائز قرار دے دیا۔ مجھے ایک مولوی صاحب کی طاقت کا اندازہ تب ہوا جب میرا سوال ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ مولوی نے پھٹ سے جواب دیا، ”نہ قتل کرتے تو کیا مذہب کو قتل کرتے؟“ میں حیران رہ گیا۔ یا کریم، یا رحیم مجھ پہ رحم کر۔ میں گناہگار ہوں، خطا کار ہوں، بے بس اور لاچار ہوں، جاہل ہوں لیکن انسانیت کے قتل کا منکر ہوں۔ میں تو محمد بلال کے قتل کو بھی حرام سمجھتا ہوں حالانکہ موصوف نے میرے دوست پہ شرابی کا الزام لگا کر سنگسار کرنا چاہا تھا تو مشال خان کے قتل کو تو علی الاتم حرام سمجھتا ہوں۔

شرکاء میں سے ایک نے تو حد کردی۔ جب مکالمہ ختم ہوا، میرے پاس آیا اور بولا کہ ”کیا تم نے ہمیں اس لیے بلایا ہے کہ مشال خان کو معصوم ثابت کرو۔“ ڈر اور خوف کس چیز کا نام، یہ مجھ سے کوئی پوچھے۔ اس موقع پہ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ میں ایسا پھنس گیا تھا جسیا کہ آگے کھوہ پیچھے شیر۔ کچھ کر کرا کے حالات کو سنبھال لیا اور اس سوچ کے ساتھ وہاں سے چلا کہ شکر ہے کہ اپنے دوست اختر خان کو اپنے ساتھ نہیں لایا ورنہ آج اسے قتل ہوئے دوسرا ہفتہ ہوتا۔

چلیں ایک لمحے کے لیے مان لیتے ہیں کہ وہ کیمیونسٹ تھا، مارکسسٹ تھا، لبرل تھا لیکن اس کو اس طریقے سے قتل کرنا کیا جائز تھا؟ عبید اللہ سندھی نے بھی تو کچھ عرصہ روس میں گزار تھا تو کیا وہ بھی واجب القتل تھا؟ اسفندیار ولی خان سے لے کر مملکت خداد کے بیشتر وزیر روس کے دوروں پہ جاتے ہیں، تو کیا ہم بن جائیں جلاد، نکالیں تلوار میان سے، کریں قتل وغارت؟ شعور آجائے گا، سدھر جائے گا سماج؟

انسان ہوں، مایوس ہوجاتا ہوں، امن چاہتا ہوں حتی کہ وہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں ہو، مردان یا گجرات میں کیوں نہ ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •