یو ایس ایڈ کے کاغذی رول ماڈل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے والد صاحب بہت امیر آدمی تھے۔ مجھے تعلیم کے حصول سے لے کر بزنس تک مکمل تعاون ملا البتہ ہمارے ہاں جاب کرنامعیوب سمجھا جاتا تھا اس لیے جب میں نے اپنی این جی او بنانے کا سوچا تو یہ ذرا مشکل تھا۔ ہم امیر گھرانوں کی خواتین کا کام کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن میرے ابو بہت کھلے دل و دماغ کے مالک تھے اس لیے ناصرف میں نے اس میں خوب نام بنایا بلکہ یو ایس ایڈ نے میرے پروجیکٹ کو فنڈ بھی کیا۔

یہ گفتگو اس ایونٹ میں کی گئی جس کی مہمان خصوصی امریکی ڈپلومیٹک اور فارمر ایمبیسیڈر ایلس ویلز تھیں اس کا انعقاد امریکی ایمبیسی اسلام آباد کے اکنامک افیئرز ڈیپارٹمنٹ نے کیا تھا۔ یہ پروگرام ”ویمن ان لیڈر شپ رول“ کی سیریز کا پہلا پروگرام تھا۔

تو ایک مالدار سیاستدان کی بیوی یہ کہانی سنا رہی تھیں جنہوں نے اس غریب ملک کی غریب خواتین کو انسپائر کرنا تھا اور بقول ایمبیسیڈر ایلس ویلز پاکستانی خواتین کا رول ماڈل بننا تھا۔

دوسری مہمان شخصیت نے بھی اپنے تعارف میں اپنے اعلی تعلیم یافتہ گھرانے اور امیرخاندان کی سپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے اپنی مسائل اور حالات سے لڑنے کی جنگ کا تذکرہ کیا البتہ وہ ساتھ ساتھ بتاتی رہیں کہ کس طرح انہوں مردوں کے معاشرے میں اپنی جگہ بنائی اور ہاں میرا ایک بھائی فلاں عہدے پر ہے اور دوسرا فلاں پوزیشن پر۔

مجھے لگا کہ یہ ایونٹ پاکستان کی اکثریت خواتین کے منہ پہ امریکی ایمبیسی کی طرف سے ایک زور دار طمانچہ تھا کہ پاکستان میں عورت کی کامیابی کے لئے اس کا باپ امیر آدمی ہو، شوہر سیاستدان ہو، بھائی کسی اعلی عہدے پر براجمان ہو اور وہ خود کو امریکیوں کی امداد کے بنا ادھورا تصور کرتی ہو۔ تب یہ امریکی ایمبیسی کی نگاہ میں رول ماڈل کی بہترین خصوصیات ہیں، غریب عورت کے مسائل ان کا مسئلہ نہیں وہ تو صرف ان طاقت ور خاندانوں سے تعلق رکھنے والی کامیاب خواتین کو ہی رول ماڈل سمجھتے ہیں جو جنڈر ڈسکریمینیشن کی بات ضرور کرتی ہیں لیکن اپنی کامیابی کی کہانی میں مردوں کو ہی بنیادی سہارا بھی بتاتی ہیں۔

مجھے اکثر دعوت ملتی ہے لیکن کم ہی جاتی ہوں۔ یہی سوچتی ہوں کہ یہ کاغذی چہروں کی کاغذی کہانیوں کے ایونٹ سے احتراز کرنا چاہیے۔ کیونکہ میں نے ایسے ایونٹس میں کبھی غریب خواتین کو نہیں دیکھا نہ ہی متوسط گھرانے کی کوئی نمائندگی ہوتی ہے۔ نہ کوئی عام سی عورت رول ماڈل ہوتی ہے جس نے اپنی غربت کے باوجود حالات سے لڑتے ہوئے کوئی نام بنایا ہو۔

اس پروگرام میں شمولیت کرنے کا خیال محض اس لئے آیا کہ دیکھئے ابکہ امریکی ہمیں کیا بیچتے ہیں؟

اسی روز صبح میرے گھر کام کرنے والی مائی سکینہ اپنے ساتھ عورتوں کا ایک عدد جتھہ لے کر گھر میں داخل ہوئی۔ پوچھا اللہ کی بندی یہ کون ہیں؟

کہنے لگی۔ باجی ای سوانڑیاں کن کوئی نوکری تے ڈھونڈ دے (ان عورتوں کو کام ڈھونڈ دیں)

میں نے مائی کی طرف دیکھا اور ہنستے ہوئے کہا میری اپنی نوکری نہیں ہے تو ان کو کدھر لگاؤں؟

مائی بھی کہاں جان چھوڑنے والی تھی مجھے قومی اسمبلی کا جوائنٹ سیشن بھی کور کرنا تھا لیکن یہ عورتوں کی فوج جو گھر بیٹھی تھی ان کا کیا کرتی؟ بہرحال کچھ دوستوں کو فون کیے اور ان عورتوں کے کام کا بندوبست کیا۔ دوپہر کا کھانا کھلا کر جب رخصت کیا تو اب کشمیر والے معاملے پر بلایا گیا سیشن تو آدھا گزر چکا تھا۔ تو بس ایمبیسی ایونٹ میں شرکت کا ارادہ کیا۔

ہم جیسے آنکھوں دیکھی مکھی نہی نگل سکتے اس لیے وہاں موجود خواتین رول ماڈلز کی سلیکشن کا معیار دیکھ کر سوچنے پر مجبور ہوئی کہ یہ زیادتی ہے۔ کامیابی کا معیار امارت کو رکھنا اور ایسی خواتین کو زندگیاں متاثر کرنے کا اعزاز بھی بخش دینا جو وہاں موجود خواتین کو احساس کمتری میں مبتلا کر دیں اور وہ سوچنے لگیں کہ ہمارے نصیب میں تو امیر باپ یا مالدار شوہر قدرت نے لکھے ہی نہیں تو اب کیا کریں؟ ہم کس طرح اس معیار کے مطابق رول ماڈل بن سکتے ہیں؟

میرے نزدیک کامیاب عورت تو وہ ہے جو اپنی زندگی کی مشکلات کے باوجود دوسری عورتوں کے لئے جائے پناہ بن جائے۔ دوسری عورتوں کے مسائل کے حل تلاش کرنے میں اس کی اپنی کٹھن زندگی حائل نہ ہو۔ ایسی خواتین کی بیشمار مثالیں اسی معاشرے میں موجود ہیں جو اپنی مصائب زدہ زندگی کے باوجود سینکڑوں گھرانوں کے لئے حقیقی معنوں میں رول ماڈل ہیں۔

بہرحال جب کامیابیوں کی دلکش کہانیاں ختم ہوئیں تو سوال جواب کے لئے چند منٹ دیے گئے کہ کسی خاتون کو کامیابی کے سفر کو کیسے طے کرنا ہے سے متعلق سوال کرنا ہے یا مشکلات سے متعلق کچھ پوچھنا ہے کہ مردوں کے معاشرے میں عورت کی مشکلات کا حل کیا ہے؟ تو پوچھئے۔

میں نے ہمیشہ کی طرح ان کے نازک مزاج کے خلاف وہ سوال داغا جو ان کے ایجنڈے میں کبھی بھی شامل نہیں ہوتا۔ سوال تھا کہ ایک عام عورت جب ملازمت اختیار کرتی ہے تو جہاں جنڈر ڈسکرمینیش اور پے گیپ ( مرد و زن کی تنخواہوں میں نامنصفانہ تقیسم ) کا مسئلہ ہوتا ہے وہیں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ جو عورت اپنے افسران بالا سے زیادہ پڑھی لکھی ہو، ذہین ہو، اس کے کام کرنے استعداد زیادہ ہو اور وہ ان سے زیادہ پر اعتماد ہو تو اس کو جو مسائل کا سامنا ہوتا ہے ان میں سب سے پہلے مرد اس کی شخصیت سے فضیلت کا پہلو نکالنا چاہتے ہیں تاکہ وہ کام کرتے ہوئے خود کو کمتر تصور کرے چاہے جتنی بھی قابل ہو۔

مرد اس کی برتری کو کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں اور اگر عورت سرینڈر نہ کرنا چاہیے تو جاب مشکل بنا دی جاتی ہے۔ بہانے بہانے سے اس کی عزت نفس مجبور کی جاتی ہے اور اگر پھر بھی وہ ڈٹی رہے تو کوئی نامعقول بہانہ بنا کر اسے جاب سے فارغ کردیا جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں ایک عورت کو کیا کرنا چاہیے؟ کس پلیٹ فارم سے مدد لینی چاہیے جو معاملے کی انکوائری کرکے اسے انصاف دلوا سکے؟

مجھے ان خواتین میں ایسی رول ماڈل نظر نہ آئی جو اس کا جواب دے سکتی۔ لہذا میرے سوال کے جواب میں سوال آیا : کبھی خواتین خود ہی سوچ لیتی ہیں کہ ان کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ حقیقت میں ایسا نہ ہوتا ہو۔ آپ بتائیے کہ اگر ایسا ہوا تو، کیوں ہوا؟

یہ ایسا سوال تھا کہ جس نے وہاں موجود دیگر خواتین میں بے چینی پیدا کردی کہ رول ماڈلز ہمیں گائیڈ کرنے کی بجائے ہمیں ہی الزام دے رہی ہیں۔ بہرحال ڈپلومیٹک ایلس ویلز کو ایسے دوٹوک سوال کی شاید عادت نہیں تھی اور وجہ یہی تھی کہ ہمارے یہاں امریکی مخالف نعرے ضرور لگتے ہیں لیکن ڈالر کی خوشبو جب بہت قریب سے آرہی ہو تو لالچی میزبانوں کی غیرت بہہ جاتی ہے۔ ان امریکیوں کو اتنے خوشامدی مل جاتے ہیں کہ وہ اس طرح کے کاغذی ایونٹ کرکے اپنی امداد کا ڈھونڈورا خوب اچھے سے پیٹ لیتے ہیں۔

دوسری بات یہ ہے وہ مختار مائی اور ملالہ جیسے کرداروں کی تلاش میں رہتے ہیں جو اپنے ملک کی ساکھ پر ذاتی مفاد کو ترجیح دے۔ میری رائے سے آپ کو اختلاف ہوسکتا ہے لیکن سچ یہ ہے کہ غیرت کا تقاضا تو یہ ہوتا ہے کہ آپ سینے پہ زخم کھا کر بھی غیر کے سامنے تن سے کپڑا نہ اٹھائیں۔ ایسی بات نہ کریں جو ملک کی عزت پہ حرف کا سبب بن جائے۔

بہرحال مجھے ان کی ناگواری کا احساس نہ صرف ان کے جملوں سے ہوا بلکہ بعد میں چائے پر جب بہت سی خواتین میرے گرد جمع ہوگئیں اور میرے سوال اور موقف کی تائید کرتے ہوئے کہنے لگیں کہ یہ مسئلہ ہر جگہ عورتوں کو پیش آتا ہے اور اس کا کوئی حل نہیں ماسوائے یہ کہ عورت پسپائی اختیار کرلے۔ ایمبیسیڈر اس ماحول کو محسوس کر چکی تھیں اور مجھ سے کترا کر گزر گئیں تو ایک نوجوان خاتون نے مجھے اشارہ کیا۔ لگتا ہے آج انہیں تبدیلی کا احساس ہوگیا۔ یہ کہاں عادی ہیں ایسے رویوں کے۔

بہت سی خواتین یہی بات دہراتی نظر آئیں کہ یو ایس پروگرامز ایک خاص طبقہ کو نوازنے کے لئے بنائے جاتے ہیں اور اس طبقے میں ہم جیسے محنت کش نہیں آتے۔ مجھے جہاں اپنے سو کالڈ رول ماڈلز پر افسوس ہوا وہیں اس بات کی خوشی بھی ہوئی کہ اب خواتین نقلی دعووں اور اصلی ایجنڈے کا فرق سمجھنے لگی ہیں اور عنقریب ڈالر بانٹنے والے ملکوں کو ایسے بہت سے سوالات کا سامنا کرنا پڑے جو ان کی طبیعت کو ناگوار گزر سکتے ہیں۔

(محترمہ مصنفہ نے ایک اہم مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ البتہ ضمناً انہوں نے ایک جملہ محترمہ مختار اور محترمہ ملالہ کی طرف بھی اچھال دیا۔ ان میں سے ایک خاتون پدرانہ معاشرے کی بدترین ذلت کا شکار ہوئی۔ دوسری کو بچیوں کی تعلیم کے لئے آواز اٹھانے پر طالبان کی دہشت گردی کا نشانہ بننا پڑا۔ کیونکہ محترم مصنفہ کی تحریر لفظ بلفظ شائع کر دی گئی ہے اس لئے ان سے درخواست ہے کہ آئندہ تحریر میں ہماری رہنمائی فرمائیں کہ ان کی نشان زد دونوں خواتین نے ملک کی ساکھ کو کیا نقصان پہنچایا نیز یہ کہ متعلقہ صورت حال میں انہیں کیا کرنا چاہیے تھا؟ اگر یہ نشان دہی بھی کر دی جائے کہ ڈاکٹر شازیہ خالد کو کن حالات میں ملک چھوڑنا پڑا اور کیوں تو اس سے ہماری آگہی مزید بڑھ جائے گی۔ مدیر)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •